New Age Islam
Wed Oct 21 2020, 03:34 PM

Urdu Section ( 11 Jun 2017, NewAgeIslam.Com)

Shariat Act: A Useless Law of British Rule شریعت ایکٹ، برطانوی عہد کا ایک نا کارہ قانون

 

 

 

پروفیسر طاہر محمود

5جون،2017

ہم نے اپنے دوگزشتہ مضامین میں آزادی سے پہلے کے انفساخ نکاح مسلمین ایکٹ 1939او رپھر نکاح وطلاق کی رجسٹری وغیرہ سے متعلق قدیم تر علاقائی اور مرکزی قوانین کی کچھ تفصیل نذر قارئین کی تھی۔ مسلم پرسنل لا سے متعلق ہندوستان کے سرکاری قوانین میں سے جس قانون کے بارے میں لوگوں کو سب سے زیادہ غلط فہمیاں ہیں وہ عوام میں شریعت ایکٹ کے نام سے مشہور ہے جو اس کے پورے انگریزی عنوان ’’مسلم پرسنل لا( شریعت) ایپلی کیشن ایکٹ ‘‘ کا ایک گمراہ کن مخفف ہے۔ اس ایکٹ کو برطانوی دور حکومت میں مرکزی مجلس قانون سازنے اب سے 80سال پہلے 1937میں پاس کیا تھا اور جیسا کہ اس کے اصل نام سے ظاہر ہے اس میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ملکی عدالتیں اس میں مذکورہ موضوعات والے مقدمات کا فیصلہ فریقین کے مسلمان ہونے کی صورت میں مسلم قانون کے مطابق کریں گی۔ چار دفعات پر مشتمل اس مختصر سے ایکٹ میں عوامی تأثر کے بر عکس نہ تو یہ بتا یا گیا ہے کہ ’’مسلم پرسنل لا ‘‘ یا ’’ شریعت‘‘ کے الفاظ سے مراد کیا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی چھوٹا سے چھوٹا مسئلہ بھی بیان کیاگیا ۔ او ر یہ ایکٹ ایک نہایت ناقص قانون ہے جو اپنی ابتدا میں بھی قطعاً نا کارہ اور بے اثرتھا اور آج بھی ہے۔

انیسویں صدی میں جب انگریزوں نے عدالتی کام کاج کومنضبط کرنے کی خاطر ملک کے مختلف حصوں کے لئے وضعی قوانین بنائے تو ان میں یہ بھی لکھ دیا کہ اگر کسی معاملے میں مذہبی مسائل او رمقامی رسم ورواج کے درمیان فرق پایا جاے تو عدالتیں رسم و رواج کو ترجیح دیں۔ اصل مسئلہ خاندانی جائدادوں کی تقسیم کا تھا ورنہ شادی بیاہ کے معاملات میں تو لوگ عموماً اپنے اپنے مذہبی قوانین پر ہی عمل کرتے تھے۔ مقامی رسم ورواج کے تحت عورتوں کو حق وراثت حاصل نہیں تھااو ر ملک کے کچھ علاقوں میں بعض مسلمان بھی انہیں پر عمل کرتے تھے جن میں مغربی ہند کے خوجہ، بوہرہ اور میمن فرقوں کے علاوہ پنجاب ،سرحد او رکشمیر وغیرہ کے اکثر مسلمان شامل تھے ۔ جب ملکی عدالتوں نے کئی مشہور مقدمات میں مسلمانوں پر وراثت اورو صیت کے شریعت مخالف رواجوں کا اطلاق کر کے مسلم عورتوں کو شرعی حقوق وراثت سے محروم قرار دیا تو یہ بات کھل کر سامنے آئی اور دینی رہنماؤں نے اس پر اعتراض کرنا شر وع کیا۔ پنجاب کے ایک عالمی مولوی عبدالکریم کمتھلوی نے ’’غصب المیرات ‘‘ کے عنوان سے ایک کتا ب لکھی ۔ بالآخر 1935میں صوبہ سرحد کی اسمبلی میں ’’شریعت بل‘‘ پیش ہوا جس کے تحت عدالتوں کو مسلمانوں کے جائداد سے متعلق مقدمات کا فیصلہ مقامی رسم و رواج کے بجائے شرعی قانون کے مطابق کرنے کا پابند کئے جانے کی تجویز تھی ۔ اس بل میں وراثت و صیت کے علاوہ احتیاطاً نکاح و طلاق اور ہبہ و اوقاف جیسے دیگر معاملات کوبھی شامل کیا گیا تھا۔ حکومت نے ’’شریعت‘‘ کے لفظ کیلئے انگریزی متبادل طلب کیا تو پہلی بار ’’مسلم پرسنل لا‘‘ کی اصطلاح سامنے آئی ۔ یہ بل ’’ NWFPمسلم پرسنل لا ایپلی کیشن ایکٹ‘‘ کے نام سے پاس ہوگیا مگر دینی رہنماؤں کے مطالبے پر اس کے عنوان میں ’’مسلم پرسنل لا‘‘ کے آگے قوسین میں (شریعت) بھی لکھا گیا ۔ پھر جلد ہی اسی نام سے ایک بل مرکزی اسمبلی میں پیش ہوا تاکہ تمام صوبوں میں مسلمانوں کے وراثت اور دیگر عائلی معاملات سے متعلق مقدمات شرعی قانون کے مطابق طے ہونے کا نظام قائم ہو سکے ۔

یہ بل 1937میں پاس تو ہوگیا نہایت کٹی پٹی شکل میں جس سے اس کا مقصد ہی فوت ہوگیا۔ اس کے تحت زرعی آراضی کو تو شرعی قانون وراثت سے بالکل ہی مستثنیٰ رکھا گیا، وصیت اور تبنیت یعنی بچہ گود لینے کے معاملات میں بھی عدالتوں کو شرعی قانون صرف انہیں مسلمانوں پر نافذ کرنے کا پابند کیا گیاجو صوبائی حکومتوں کے متعینہ افسروں کو اس امر کیلئے وضع کئے گئے ضابطوں کے مطابق یہ اقرار نامہ جمع کریں کہ وہ ان معاملات میں بھی شرعی مسائل کے اطلاق کے خواہاں ہیں ۔ جو لوگ اس تلخ حقیقت سے واقف نہیں انہیں یہ معلوم کر کے حیرت ہوگی کہ شریعت ایکٹ میں شرعی مسائل سے بچنے کی یہ سب گنجائشیں بانی پاکستان (جی ہاں اسلامی مملکت خداداد کے قائد اعظم محمد علی جناح) کی تحریک پر رکھی گئی تھیں جو اس وقت مرکزی مجلس ساز کے رکن تھے ۔جناح صاحب اللہ بخشے خوجہ اسماعیلی فرقے کے تھے اور ان مسلمانوں کے نواب اور زمیندار طبقوں کے پیروکار بھی جوبیٹوں کو عاق کر کے اوروں کو گود لینے اور شرعی مسئلے کے خلاف انہیں بذریعہ وصیت اپنی پوری جائداد کا وارث بنانے کی روش پر قائم تھے ۔ بہر حال وصیت اور تبنیت پر شرعی قانون اختیار کر نے کیلئے ایکٹ کے تحت جو اقرار نامے لازمی کئے گئے تھے ان کیلئے کسی بھی صوبائی حکومت نے نہ تو افسران کی نشاندہی کی او رنہ اس کے لیے درکار ضابطے بنائے ۔ ہمارے ہندوستان میں یہ صورت آج 80برس بعدبھی جو ں کی توں برقرار ہے کیونکہ ملک میں کہیں بھی ملّی تنظیموں نے ایکٹ کے تحت ضروری ضابطے بنوانے کے لئے کبھی بھی نہ مطالبہ کیا نہ تحریک چلائی۔ چنانچہ ملکی عدالتیں آج بھی مسلمانوں کے وصیت اورتبنیت کے معاملات شرعی قانون کے مطابق طے کرنے کی پابند نہیں ہیں او رمسلمان چاہیں تو مقامی رسم و رواج یاملکی قوانین کاسہارا لے کر اپنی پوری جائداد کی وصیت کرکے شرعی قانون وراثت کویکسر خارج کرسکتے ہیں ۔

نصف صدی سے متجاوز اپنے پورے علمی سفر میں ہم اس ناقص وناکارہ ایکٹ میں ترمیم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے آئے ہیں۔ 2007میں ہمارے کچھ کشمیری دوستوں نے کوشش کر کے صوبائی اسمبلی سے ’’جمو ں کشمیر مسلم پرسنل لا (شریعت) ایپلی کیشن ایکٹ‘‘ پاس کروالیا جو مرکزی ایکٹ کے نقائص سے پاک ہے۔ اسی سال لا کمیشن آف انڈیا کارکن بنائے جانے پر ہمیں اس معاملے کو سرکاری سطح پر اٹھانے کاموقع ہاتھ آیا تو ہم نے مرکزی ایکٹ کے پس منظر اور نقائص پر ایک جامع رپو رٹ تیار کرکے قانونی دلائل کے ساتھ سفارش کی کہ پرانے ایکٹ کی جگہ ایک نیامرکزی شریعت ایکٹ پاس کیاجائے جس کا اطلاق پورے ملک میں ہو اور اس کے تحت ملکی عدالتوں کومسلمان فریقین کے درمیان بلا استثناء سبھی وراثتی اورعائلی مقدمات کافیصلہ مسلم لاکے مطابق کرنے کا پابند کیا جائے ۔ جیسے ہی اس رپورٹ کی خبرمیڈیا میں آئی لاکمیشن کے دفتر یا ہم نے ذاتی طور پر کوئی تصدیق کئے بغیر اس پر واویلا شروع ہوا او رمداخلت فی الدین کے جرم میں لاکمیشن سے ہمارے اخراج کا مطالبہ کیا جانے لگا ۔ غلط فہمی کے ازالے کی خاطر ہم نے اپنی رپورٹ مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذمہ داروں کو بھیجی مگر وہاں سے اسے ’’ یکساں سول کوڈ کاپیش خیمہ‘‘ ہونے کی سند عطا ہوئی تو ہم نے اسے واپس لے لیا اور حکومت تک نہیں پہنچنے دیا۔ بعد میں ہم نے اپنی رپورٹ اور اس کی سفارشات ملی گزٹ کے ایڈیٹر ظفر الاسلام خاں کو بھیجیں جنہوں نے انہیں بالتفصیل شائع کر کے ان کی بھر پور حمایت کی ۔ نتیجہ بہر حال وہی ڈھاک کے تین پات رہا اور پھر جلد ہی لا کمیشن میں ہماری مدّت کاربھی ختم ہوگئی اللہ اللہ خیر صلاً

اپنی سیاسی مصلحتوں کی غرض سے شریعت ایکٹ کو ناقص و ناکارہ بنوالے جناح صاحب مرحوم کے اپنے ملک میں تو آزادی کے فوراً بعد ہی سے اسے منسوخ کرکے تمام عائلی معاملات میں بلا استثناء مسلم فریقین پر مسلم لا کے اطلاق کا قانون بن گیا تھا مگر ہمارے یہاں یہ ماشاء اللہ آج آزادی کے 70سال بعد بھی من و عن اپنی اصل شکل میں نافذ ہے۔ لاکمیشن کی ہماری مذکورہ رپورٹ کی تیاری کے وقت ملک ہمارے محب محترم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں کانگریسی حکومت قائم تھی، اسے پیش ہوجاتی تو شاید اس کی سفارشات کے مطابق نیا جامع ایکٹ بن بھی جاتا، مگراب تو پرانا والا ناقص ایکٹ ہی باری رہ جائے تو ملّی رہنماؤں کو محترم سربراہان ملک کا مشکور ہونا چاہیے ۔

5جون،2017 بشکریہ : روز نامہ راشٹریہ سہارا ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/prof-tahir-mahmood/shariat-act--a-useless-law-of-british-rule--شریعت-ایکٹ،-برطانوی-عہد-کا-ایک-نا-کارہ-قانون/d/111499

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..