New Age Islam
Mon Jan 17 2022, 03:40 AM

Urdu Section ( 30 Dec 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Parveen Shakir: Her Poems and Ghazals, Part-1 پروین شاکر کی نظمیں اور غزلیں

 پروفیسر مکھن لال، نیو ایج اسلام

 حصہ 1

23 دسمبر 2021

پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے ستائیس برس بیت گئے۔ 26 دسمبر 1994 کو صبح دفتر جاتے ہوئے ایک سڑک حادثے نے انہیں ہم سے چھین لیا۔ صرف ایک ماہ قبل انہوں نے اپنی 42 ویں سالگرہ منائی تھی۔ اس حادثے کے بعد سے آج تک کوئی ایسا سال نہیں گزرا جب ان کی یاد میں کوئی بڑا جلسہ، مشاعرہ، سیمینار، کانفرنس، ایوارڈ وغیرہ کا انعقاد نہ کیا گیا ہو اور اخبارات، رسائل، جرائد اور اب ویب سائیٹس پر بھی انگریزی ہندی، اردو، فارسی اور تمام یورپی زبانوں میں مضامین نہ لکھے جاتے ہوں۔ ان کی کئی سوانح عمری لکھی جا چکی ہے اور سینکڑوں تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی نظموں کا فارسی، انگریزی، اطالوی، جرمن، جاپانی، سندھی، ہندی وغیرہ زبانوں میں ترجمہ بھی کیا جا چکا ہے۔ پروین شاکر کی شاعرانہ شخصیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1981 میں جب وہ سپریم ایڈمنسٹریٹو سروس آف پاکستان (سی ایس ایس) کے امتحان میں شامل ہوئیں تو سوالیہ پرچے میں انہیں کے اردو ادب کی اہمیت پر ایک سوال تھا۔

پروین شاکر کے صرف 25 سال کے مختصر سے عرصے میں چار مجموعے شائع ہوئے۔ پانچواں مجموعہ ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد دوستوں نے مرتب کر کے شائع کیا۔ اپنی مختصر زندگی میں انہوں نے 600 سے زائد غزلیں اور نظمیں لکھیں۔ پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو پیدا ہوئیں۔ ان کی غزلوں اور نظموں کا پہلا مجموعہ خوشبو 1975 میں شائع ہوا۔ دوسرا مجموعہ 'صدبرگ' 1980 میں، تیسرا مجموعہ 'خدکلامی' 1985 میں اور چوتھا مجموعہ 'انکار' 1990 میں اور 1995 میں 'کف آئینہ' ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔

اگر ان پانچوں مجموعوں کو ترتیب وار پڑھا جائے تو نہ صرف زمانے اور معاشرے پر روشنی پڑتی ہے بلکہ ان کی اپنی زندگی کا سفر بھی واضح طور پر سامنے آتا ہے۔ جوں جوں ہم ان کی غزلوں اور نظموں کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، نہ صرف ان کی شاعری میں تبدیلی آتی ہے بلکہ ان کی اپنی زندگی بھی مختلف رنگوں میں صاف نظر آتی ہے۔ ان کی غزلوں اور نظموں میں لڑکی سے عاشق، محبوبہ، بیوی، ماں اور عورت تک کا سفر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ بیوی کے ساتھ ایک ماں بھی ہیں، شاعرہ بھی اور روزی کمانے والی عورت بھی۔ غیر شادی شدہ اور شادی شدہ زندگی میں انہوں نے محبت کی جتنی جہتوں کو چھوا ہے اتنا کوئی بھی مرد شاعر چاہ کر بھی نہیں پایا؛ کسی شاعرہ کی بات ہی چھوڑ دیں۔

پروین شاکر ایسی ہی ایک شاعرہ ہیں جنہوں نے روایات سے انحراف کیا اور غزل اور نظم میں اپنے تجربات اور یقین کا اظہار کیا۔ شاکر نے اپنی ذاتی زندگی کے حالات کو نظر انداز کرتے ہوئے معاشرے اور ملک کی قدامت پسند روایات اور خواتین پر ان کے اثرات کو وسیع پیمانے پر پیش کیا۔ شاکر نے اپنی نظموں کے ذریعے معاشرے میں خواتین کی اندرونی آواز کو بے نقاب کیا اور منافقانہ مروجہ پدرسری سماج کی مضبوط چاردیواری میں ہمیشہ کے لئے ایک چوڑی درار بنا دی۔ پروین شاکر اپنے خیالات کی اصلیت اور اظہار میں تخلیقی صلاحیتوں کے لیے جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے تقریباً تمام موضوعات پر غزلیں اور نظمیں لکھیں – عورت ہونے کی مجبوری، بدعنوانی، سیاست، راسخ العقیدہ خیالات اور سماجی رسومات، ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل وغیرہ۔ یہاں تک کہ ادب کے میدان میں مروجہ خیمہ بندی پر بھی۔

پروین شاکر کی تفصیلی تحریروں کا احاطہ کسی ایک مضمون میں کر پانا ناممکن ہے۔ اس لیے مناسب ہو گا کہ ہم ان کی چند منتخب تصانیف کو اسی ترتیب سے پڑھیں جس ترتیب سے وہ شائع ہوئی ہیں۔ اس سے ہم ان کی زندگی کے سفر کو بھی آسانی اور واضح طور پر سمجھ سکیں گے۔ تخلیق کا انتخاب ایک بڑا پرخطر کام ہے کیونکہ ہر ایک کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ یہاں دی گئی غزلیں اور نظمیں میری تدوین کردہ دو کتابوں سے لی گئی ہیں --- اشک خوشبو: پروین شاکر کی غزلیں اور نظمیں اور پروین شاکر کی نظمیں---

حصہ اول: خوشبو

خوشبو میں پروین شاکر کی نوعمری سے لے کر 24 سال کی عمر تک کی غزلیں اور نظمیں ہیں۔ یہ سب خالصتاً محبت سے متاثر غزلیں اور نظمیں ہیں۔ غیر شادی شدہ لڑکی ہونے کے باوجود وہ نہ صرف محبت اور جنسیت کو کھل کر لکھتی ہیں بلکہ انہیں اپنی نسوانیت پر فخر ہے اور انہیں یقین ہے کہ مجھے اپنی محبت کا اظہار کرنے کا پورا حق ہے۔ یہاں ہمیں ایک نوجوان عورت کی محبت، ناراضگی، شرارت، کدورت اور حسد وغیرہ کے تمام رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:

اجنبی

کھوئی کھوئی آنکھیں

بکھرے بال

شکن آلود قبا

لُٹا لُٹا انسان !

سائے کی طرح سے میرے ساتھ رہا کرتا لیکن

کِسی جگہ مل جائے تو

گبھرا کر مُڑ جاتا ہے

اور پھر دور سے جا کر مجھ کو تکنے لگتا ہے

کون ہے یہ

احتیاط

سوتے میں بھی

چہرے کو آنچل سے چُھپائے رہتی ہوں

ڈر لگتا ہے

پلکوں کی ہلکی سی لرزش

ہونٹوں کی موہوم سی جنبش

گالوں پر وہ رہ رہ کے اُترنے والی دھنک

لہومیں چاند رچاتی اِس ننھی سی خوشی کا نام نہ لے لے

نیند میں آئی ہُوئی مُسکان

کِسی سے دل کی بات نہ کہہ دے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گمان

میں کچی نیند میں ہوں

اور اپنے نیم خوابیدہ تنفس میں اترتی

چاندنی کی چاپ سنتی ہوں

گماں ہے

آج بھی شاید

میرے ماتھے پہ تیرے لب

ستارے ثبت کرتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے

وہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے

تری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں

مرا تن مور بن کر ناچتا ہے

مجھے ہر کیفیت میں کیوں نہ سمجھے

وہ میرے سب حوالے جانتا ہے

میں اس کی دسترس میں ہوں مگر وہ

مجھے میری رضا سے مانگتا ہے

کسی کے دھیان میں ڈوبا ہوا دل

بہانے سے مجھے بھی ٹالتا ہے

سڑک کو چھوڑ کر چلنا پڑے گا

کہ میرے گھر کا کچا راستہ ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رقص میں رات ہے بدن کی طرح

بارشوں کی ہوا میں بن کی طرح

چاند بھی میری کروٹوں کا گواہ

میرے بستر کی ہر شکن کی طرح

چاک ہے دامن قبائےِ بہار

میرے خوابوں کے پیرہن کی طرح

زندگی، تجھ سے دور رہ کر، میں

کاٹ لوں گی جلا وطن کی طرح

مجھ کو تسلیم، میرے چاند کہ میں

تیرے ہمراہ ہوں گہن کی طرح

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیار

ابر بہار نے

پھول کا چہرہ

اپنے بنفشی ہاتھ میں لیکر

ایسے چوما

پھول کے سارے دکھ

خوشبو بن کر بہہ نکلے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیشکش

اتنے اچھے موسم میں

رُوٹھنا نہیں اچھا

ہار جیت کی باتیں

کل پہ ہم اُٹھا رکھیں

آج دوستی کر لیں !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اعتراف

جانے کب تک تری تصویر نگاہوں میں رہی

ہو گئی رات ترے عکس کو تکتے تکتے

میں نے پھر تیرے تصّور کے کسی لمحے میں

تیری تصویر پہ لب رکھ دیئے آہستہ سے !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایکٹیسی

سبز مدّھم روشنی میں سُرخ آنچل کی دھنک

سرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہک

بازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن

سلوٹیں ملبوس پر،آنچل بھی کُچھ ڈھلکا ہُوا

گرمی رخسار سے دہکی ہُوئی ٹھنڈی ہوا

نرم زُلفوں سے مُلائم اُنگلیوں کی چھیڑ چھاڑ

سُرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے کا عکس

ریشمیں باہوں میں چُوڑی کی کبھی مدّھم کھنک

شرمگیں لہجوں میں دھیرے سے کبھی چاہت کی بات

دو دلوں کی دھڑکنوں میں گونجتی اِک صدا

کانپتے ہونٹوں پہ تھی اللہ سے صرف اِک دُعا

کاش یہ لمحے ٹھہر جائیں ،ذرا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واہمہ

تمھارا کہنا ہے

تم مجھے بے پناہ شّدت سے چاہتے ہو

تمھاری چاہت

وصال کی آخری حدوں تک

مرے فقط میرے نام ہو گی

مجھے یقین ہے مجھے یقین ہے،

مگر قسم کھانے والے لڑکے !

تمھاری آنکھوں میں ایک تِل ہے !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چاند

ایک سے مُسافر ہیں

ایک سا مقدر ہے

میں زمین پر تنہا!

ور وہ آسمانوں میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو

رات بھر جاگی ہوئی جیسے دُلہن کی خوشبو

پیرہن میرا مگر اُس کے بدن کی خوشبو

اُس کی ترتیب ہے ایک ایک شکن کی خوشبو

موجۂ گُل کو ابھی اِذنِ تکلم نہ ملے

پاس آتی ہے کسی نرم سخن کی خوشبو

قامتِ شعر کی زیبائی کا عالم مت پُوچھ

مہربان جب سے ہے اُس سرد بدن کی خوشبو

ذکر شاید کسی خُورشید بدن کا بھی کرے

کُو بہ کُو پھیلی ہُوئی میرے گہن کی خوشبو

عارضِ گُل کو چھُوا تھا کہ دھنک سی بکھری

کِس قدر شوخ ہے ننھی سی کرن کی خوشبو

کِس نے زنجیر کیا ہے رمِ آہو چشماں

نکہتِ جاں ہے انہیں دشت و دمن کی خوشبو

اِس اسیری میں بھی ہر سانس کے ساتھ آتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی

اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں

میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی

جس طرح خواب مرے ہو گئے ریزہ ریزہ

اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی

میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے

خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی

اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں

اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی

کوئی آہٹ کوئی آواز کوئی چاپ نہیں

دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس وقت

جب آنکھ میں شام اُترے

پلکوں پہ شفق پُھولے

کاجل کی طرح ،میری

آنکھوں کو دھنک چُھولے

اُس وقت کوئی اس کو

آنکھوں سے مری دیکھے

پلکوں سے مری چُومے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر مرے شہر سے گزرا ہے وہ بادل کی طرح

دست گُل پھیلا ہُوا ہے مرے آنچل کی طرح

کہہ رہا ہے کسی موسم کی کہانی اب تک

جسم برسات میں بھیگے ہُوئے جنگل کی طرح

اُونچی آواز میں اُس نے تو کبھی بات نہ کی

خفگیوں میں بھی وہ لہجہ رہا کومل کی طرح

مِل کے اُس شخص سے میں لاکھ خموشی سے چلوں

بول اُٹھتی ہے نظر، پاؤں کی چھاگل کی طرح

پاس جب تک وہ رہے، درد تھما رہتا ہے

پھیلتا جاتا ہے پھر آنکھ کے کاجل کی طرح

اَب کسی طور سے گھر جانے کی صُورت ہی نہیں

راستے میرے لیے ہو گئے دلدل کی طرح

جسم کے تیرہ و آسیب زدہ مندر میں

دل سِر شام سُلگ اُٹھتا ہے صندل کی طرح

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بعد مُدت اُسے دیکھا، لوگو

وہ ذرا بھی نہیں بدلا، لوگو

خُوش نہ تھا مُجھ سے بچھڑ کر وہ بھی

اُس کے چہرے پہ لکھا تھا،لوگو

اُس کی آنکھیں بھی کہے دیتی تھیں

رات بھر وہ بھی نہ سویا،لوگو

اجنبی بن کے جو گزرا ہے ابھی

تھا کِسی وقت میں اپنا ،لوگو

دوست تو خیر کوئی کس کا ہے

اُس نے دشمن بھی نہ سمجھا،لوگو

رات وہ دردمرے دل میں اُٹھا

صبح تک چین نہ آیا ،لوگو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی رسوائی ، ترے نام کا چرچا دیکھوں

اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

نیند آجائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں

آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں

شام بھی ہو گئی ، دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری

بھولنے والے میں کب تک ترا رستا دیکھوں

ایک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں

آج میں خود کو تری یاد میں تنہا دیکھوں

کاش صندل سے مری مانگ اجالے آ کر

اتنے غیروں میں وہی ، ہاتھ جو اپنا دیکھوں

تو مرا کچھ نہیں لگتا ہے مگر جانِ حیات!

جانے کیوں تیرے لئے دل کو دھڑکتا دیکھوں

بند کر کے مری آنکھیں وہ شرارت سے ہنسے

بوجھے جانے کا میں ہر روز تماشا دیکھوں

سب ضدیں اس کی میں پوری کروں ، ہر بات سنوں

ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں

مجھ پہ چھا جائے وہ برسات کی خوشبو کی طرح

انگ انگ اپنا اسی رت میں مہکتا دیکھوں

پھول کی طرح میرے جسم کا ہر لب کھل جائے

پنکھڑی پنکھڑی ان ہونٹوں کا سایہ دیکھوں

میں نے جس لمحے کو پوجا ہے ، اسے بس اک بار

خواب بن کر تری آنکھوں میں اترتا دیکھوں

تو مری طرح سے یکتا ہے، مگر مرے حبیب!

جی میں آتا ہے کوئی اور بھی تجھ سا دیکھوں

ٹوٹ جائیں کہ پگھل جائیں مرے کچے گھڑے

تجھ کو میں دیکھوں کہ آگ کا دریا دیکھوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ

حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بھُول پڑے وہ

بھُولا نہیں دل ، ہجر کے لمحات کڑے وہ

راتیں تو بڑی تھیں ہی، مگر دن بھی بڑے وہ

کیوں جان پہ بن آئی ہے ، بِگڑا ہے اگر وہ

اُس کی تو یہ عادت کہ ہواؤں سے لڑے وہ

الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیامات

خوشبو سی برسنے لگی، یوں پھُول جھڑے وہ

ہر شخص مجھے ، تجھ سے جُدا کرنے کا خواہاں

سُن پائے اگر ایک تو دس جا کے جڑے وہ

بچے کی طرح چاند کو چھونے کی تمنا

دِل کو کوئی شہ دے دے تو کیا کیا نہ اڑے وہ

اغوا برائے تاوان کے مقدمہ میں گرفتار پولیس اہلکار حوالات سے فرار ہوگیا

طوفاں ہے تو کیا غم، مجھے آواز تو دیجے

کیا بھول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ غنیمت ہے کہ اُن آنکھوں نے پہچانا ہمیں

کوئی تو سمجھا دیارِ غیر میں اپنا ہمیں

وہ کہ جن کے ہاتھ میں تقدیرِ فصل گُل رہی

دے گئے سُوکھے ہُوئے پتوں کا نذرانہ ہمیں

وصل میں تیرے خرابے بھی لگیں گھر کی طرح

اور تیرے ہجر میں بستی بھی ویرانہ ہمیں

سچ تمھارے سارے کڑوے تھے،مگر اچھے لگے

پھانس بن کر رہ گیا بس ایک افسانہ ہمیں

اجنبی لوگوں میں ہو تم اور اِتنی دُور ہو

ایک اُلجھن سی رہا کرتی ہے روزانہ ہمیں

سُنتے ہیں قیمت تمھاری لگ رہی ہے آج کل

سب سے اچھے دام کس کے ہیں ،یہ بتلانا ہمیں

تاکہ اُس خوش بخت تاجر کو مبارکباد دیں

(اور اُس کے بعد دل کو بھی ہے سمجھانا ہمیں)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے سر د کمرے میں

میں اُداس بیٹھی ہوں

نیم وا دریچوں سے

کاش میرے پَر ہوتے

نَم ہوائیں آتی ہیں

تیرے پاس اُڑ آتی

میرے جسم کو چُھو کر

کاش میں ہَوا ہوتی

آگ سی لگاتی ہیں

تجھ کو چُھو کے لوٹ آتی

تیرا نام لے لے کر

میں نہیں مگر کُچھ بھی

مُجھ کو گدگداتی ہیں

سنگ دِل رواجوں کے

آہنی حصاروں میں

عمر قید کی ملزم

صرف ایک لڑکی ہوں

تیری ہم رقص کے نام

رقص کرتے ہوئے

جس کے شانوں پہ تُو نے ابھی سر رکھا ہے

کبھی میں بھی اُس کی پناہوں میں تھی

فرق یہ ہے کہ میں

رات سے قبل تنہا ہُوئی

اور تُو صبح تک

اس فریبِ تحفظ میں کھوئی رہے گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا

بجتے رہیں ہواؤں سے در تم کو اس سے کیا

تم موج موج مثل صبا گھومتے رہو

کٹ جائیں میری سوچ کے پر تم کو اس سے کیا

اوروں کا ہاتھ تھامو انہیں راستہ دکھاؤ

میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر تم کو اس سے کیا

ابر گریز پا کو برسنے سے کیا غرض

سیپی میں بن نہ پائے گہر تم کو اس سے کیا

لے جائیں مجھ کو مال غنیمت کے ساتھ عدو

تم نے تو ڈال دی ہے سپر تم کو اس سے کیا

تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگا لیے

تنہا کٹے کسی کا سفر تم کو اس سے کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی

اُن نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

کیسے کہہ دوں کہ مُجھے چھوڑ دیا اُس نے

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی

وہ کہیں بھی گیا، لَوٹا تو مرے پاس آیا

بس یہی بات اچھی مرے ہرجائی کی

تیرا پہلو، ترے دل کی طرح آباد ہے

تجھ پہ گُزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی

اُس نے جلتی ہُوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا

رُوح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے

جاگ اُٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دل پہ اک طرفہ قیامت کرنا

مسکراتے ہوئے رخصت کرنا

اچھی آنکھیں جو ملی ہیں اُس کو

کچھ تو لازم ہوا وحشت کرنا

جرم کس کا تھا سزا کس کو ملی

کیا گئی بات پہ حجت کرنا

کون چاہے گا تمھیں میری طرح

اب کسی سے نہ محبّت کرنا

گھر کا دروازہ کھلا رکھا ہے

وقت مل جائے تو زحمت کرنا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جان !

مجھے افسوس ہے

تم سے ملنے،شاید اس ہفتے بھی نہ آسکوں گا

بڑی اہم مجبوری ہے!‘‘

جان!

تمھاری مجبوری کو

اب تو میں بھی سمجھنے لگی ہوں

شاید اس ہفتے بھی

تمھارے چیف کی بیوی تنہا ہو گی!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دسترس سے اپنی،باہر ہو گئے

جب سے ہم اُن کو میسر ہو گئے

ہم جو کہلائے طُلوعِ ماہتاب

ڈوبتے سُورج کا منظر ہو گئے

شہرِ خوباں کا یہی دستورہے

مُڑ کے دیکھا اور پتھر ہو گئے

بے وطن کہلائے اپنے دیس میں

اپنے گھر میں رہ کے بے گھر ہو گئے

سُکھ تری میراث تھے،تجھ کو ملے

دُکھ ہمارے تھے،مقدر ہو گئے

وہ سر اب اُترا رگ وپے میں کہ ہم

خود فریبی میں سمندر ہو گئے

تیری خود غرضی سے خود کو سوچ کر

آج ہم تیرے برابر ہو گئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سبز موسم کی بے حد خنک رات تھی

چنبیلی کی خوشبو سے بوجھل ہُوا

دھیمے لہجوں میں سرگوشیاں کر رہی تھی

ریشمیں اوس میں بھیگ کر

رات کا نرم آنچل بدن سے لپٹنے لگا تھا

ہارسنگھار کی نرم خوشبو کا جادو

جواں رات کی سانس میں گُھل رہا تھا

چاندنی،رات کی گود میں سر رکھے ہنس رہی تھی

اور میں سبز موسم کی گلنار ٹھنڈک میں کھوئی ہُوئی

شاخ در شاخ

ایک تیتری کی طرح اُڑ رہی تھی

کبھی اپنی پرواز میں رُک کے نیچے جوآتی تو احساس ہوتا مجھے

شبنمی گھاس کا لمس پاؤں کو کتنا سکوں دے رہا ہے!

دفعتاً

میں نے ٹی ۔وی کی خبروں پہ موسم کی بابت سُنا

ترے شہر میں لُو چلی ہے

ایک سو آٹھ سے بھی زیادہ حرارت کا درجہ رہا ہے

مجھے یوں لگا

میرے چاروں طرف آگ ہی آگ ہے

ہوائیں جہنم سے آنے لگی ہیں

تمازت سے میرا بدن پُھنک رہا ہے

میں اُس شبنمی رُوح پرور فضا کو جھٹک کر

کچھ اس طرح کمرے میں اپنے چلی آئی

جیسے کہ اک لمحہ بھی اور رک جاؤں گی تو جھلس جاؤں گی!

پھر بڑی دیر تک،

تیرے تپتے ہُوئے جسم کو

اپنے آنچل سے جھلستی رہی

تیرے چہرے سے لپٹی ہُوئی گرد کو

اپنی پلکوں سے چُنتی رہی

رات کو سونے سے پہلے

اپنی شب خوابیوں کا لبادہ جو پہنا

تو دیکھا

مرے جسم پر آبلے پڑ چکے تھے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈپارٹمنٹل اسٹور

پرل کا نیچرل پنک،

ریولان ہینڈ لوشن،

الزبتھ آرڈرن کا بلش آن بھی،

میڈورا میں پھر نیل پالش کا کوئی نیا شیڈ آیا؟

مرے اس بنفشی دوپٹے سے ملتی ہُوئی

رائمل میں لپ اسٹک ملے گی؟

ہاں ،وہ ٹیولپ کا شیمپو بھی دیجئے گا،

یاد آیا

کچھ روز پہلے جو ٹیوزر لیا تھا،وہ بالکل ہی بیکار نکلا،

دُوسرا دیجئے گا!

ذرا بِل بنا دیجئے!

ارے! وہ جو کونے میں اک سینٹ رکھا ہُوا ہے

دکھائیں ذرا

اِسے ٹسٹ کر کے تو دیکھوں

(خدایا! خدایا:

یہ خوشبو تو اُس کی پسندیدہ خوشبو رہی ہے

سدا سے اس کے ملبوس سے پھوٹتی تھی!)

ذرا اس کی قیمت بتا دیں !

اِس قدر!!

اچھا ،یوں کیجئے

باقی چیزیں کبھی اور لے جاؤں گی

آج تو صرف اِ س سینٹ کو پیک کر دیجئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اوتھولو

اپنے فون پہ اپنا نمبر

بار بار ڈائل کرتی ہوں

سوچ رہی ہوں

کب تک اُس کا ٹیلی فون انگیج رہے گا

دل کُڑھتا ہے

اِتنی اِتنی دیر تلک

وہ کس سے باتیں کرتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آئینہ

لڑکی سر کو جھکائے بیٹھی

کافی کے پیالے میں چمچہ ہلا رہی ہے

لڑکا حیرت اور محبت کی شدت سے پاگل

لانبی پلکوں کے لرزیدہ سایوں کو

اپنی آنکھ سے چوم رہا ہے

دونوں میری نظر بچا کر

اک دوجے کو دیکھتے ہیں ہنس دیتے ہیں

میں دونوں سے دور

دریچے کے نزدیک

اپنی ہتھیلی پر اپنا چہرہ رکھے

کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ رہی ہوں

سوچ رہی ہوں

گئے دنوں میں ہم بھی یوں ہی ہنستے تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا

کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا

وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے

ایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا

وہ جب آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لیے

موسم گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا

آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہوگی

تیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائے گا

مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث

جرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

درد پھر جاگا، پرانا زخم پھر تازہ ہوا

فصلِ گُل کتنے قریب آئی ہے، اندازہ ہوا

صبح یوں نکلی، سنور کے جس طرح کوئی دُلہن

شبنم آویزہ ہوئی، رنگِ شفق غازہ ہوا

ہاتھ میرے بُھول بیٹھے دستکیں دینے کا فن

بند مُجھ پر جب سے اُس کے گھر کا دروازہ ہوا

ریل کی سیٹی میں کیسے ہجر کی تمہید تھی

اُس کو رُخصت کرکے گھر لَوٹے تو اندازہ ہوا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مشترکہ دشمن کی بیٹی

ننھے سے اک ریستوران کے اندر

میں اور میری نیشنلسٹ کولیگز

کیٹس کی نظموں جیسے دل آویز دھند لکے میں بیٹھی

سُوپ کے پیالے سے اُٹھتی ، خوش لمس مہک کو

تن کی سیرابی میں بدلتا دیکھ رہی تھیں

باتیں ’’ہوا نہیں پڑھ سکتی‘‘، تاج محل، میسور کے ریشم

اور بنارس کی ساری کے ذکر سے جھِلمل کرتی

پاک و ہند سیاست تک آ نکلیں

پینسٹھ__اُس کے بعد اکہتّر__جنگی قیدی

امرتسر کا ٹی وی____

پاکستان کلچر__محاذِ نو__خطرے کی گھنٹی۔۔

میری جوشیلی کولیگز

اس حملے پر بہت خفا تھیں

میں نے کُچھ کہنا چاہا تو

اُن کے منہ یوں بگڑ گئے تھے

جیسے سُوپ کے بدلے اُنھیں کونین کا رس پینے کو ملا ہو

ریستوران کے مالک کی ہنس مُکھ بیوی بھی

میری طرف شاکی نظروں سے دیکھ رہی تھی

(شاید سنہ باسٹھ کا کوئی تِیر ابھی تک اُس کے دل میں ترازو تھا!)

ریستوران کے نروز میں جیسے

ہائی بلڈ پریشر انساں کے جسم کی جیسی جھلاّہٹ در آئی تھی

یہ کیفیت کچھ لمحے رہتی

تو ہمارے ذہنوں کی شریانیں پھٹ جاتیں

لیکن اُس پل ، آرکسٹراخاموش ہُوا

اور لتا کی رس ٹپکاتی، شہد آگیں آواز ، کچھ ایسے اُبھری

جیسے حبس زدہ کمرے میں

دریا کے رُخ والی کھڑکی کھلنے لگی ہو!

میں نے دیکھا

جسموں اور چہروں کے تناؤ پر

ان دیکھے ہاتھوں کی ٹھندک

پیار کی شبنم چھڑک رہی تھی

مسخ شدہ چہرے جیسے پھر سنور رہے تھے

میری نیشنلسٹ کولیگز

ہاتھوں کے پیالوں میں اپنی ٹھوڑیاں رکھے

ساکت و جامد بیٹھی تھیں

گیت کا جادو بول رہا تھا!

میز کے نیچے

ریستوران کے مالک کی ہنس مُکھ بیوی کے

نرم گلابی پاؤں بھی

گیت کی ہمراہی میں تھرک رہے تھے!

مشترکہ دشمن کی بیٹی

مشترکہ محبوب کی صورت

اُجلے ریشم لہجوں کی بانہیں پھیلائے

ہمیں سمیٹے

ناچ رہی تھی!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضد

میں کیوں اُس کو فون کروں !

اُس کے بھی تو علم میں ہو گا

کل شب

موسم کی پہلی بارش تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہوگئے

موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہوگئے

بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں

کیسے بلند و بالا شجر خاک ہوگئے

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے

لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس

سورج کی شہہ پہ تنکے بھی بےباک ہوگئے

بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب

دریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہوگئے

سورج دماغ لوگ بھی ابلاغِ فکر میں

زلفِ شب ِفراق کے پیچاک ہوگئے

جب بھی غریبِ شہر سے کچھ گفتگو ہوئی

لہجے ہوائے شام کے نمناک ہوگئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شوق رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں

پاؤں سے ہواؤں کے بیڑیاں نہیں کھلتیں

پیڑ کو دعا دے کر کٹ گئی بہاروں سے

پھول اتنے بڑھ آئے کھڑکیاں نہیں کھلتیں

پھول بن کے سیروں میں اور کون شامل تھا

شوخی صبا سے تو بالیاں نہیں کھلتیں

حسن کے سمجھنے کو عمر چاہئے جاناں

دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں

کوئی موجۂ شیریں چوم کر جگائے گی

سورجوں کے نیزوں سے سیپیاں نہیں کھلتیں

ماں سے کیا کہیں گی دکھ ہجر کا کہ خود پر بھی

اتنی چھوٹی عمروں کی بچیاں نہیں کھلتیں

شاخ شاخ سرگرداں کس کی جستجو میں ہیں

کون سے سفر میں ہیں تتلیاں نہیں کھلتیں

آدھی رات کی چپ میں کس کی چاپ ابھرتی ہے

چھت پہ کون آتا ہے سیڑھیاں نہیں کھلتیں

پانیوں کے چڑھنے تک حال کہہ سکیں اور پھر

کیا قیامتیں گزریں بستیاں نہیں کھلتیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناٹک

رُت بدلی تو بھنوروں نے تتلی سے کہا

آج سے تم آزاد ہو

پروازوں کی ساری سمتیں تُمھارے نام ہُوئیں

جاؤ

جنگل کی مغرور ہوا کے ساتھ اُڑو

بادل کے ہمراہ ستارے چُھو آؤ

خوشبو کے بازو تھامو، اور رقص کرو

رقص کرو

کہ اس موسم کے سُورج کی کِرنوں کا تاج تُمھارے سر ہے

لہراؤ

کہ ان راتوں کا چاند، تمھاری پیشانی پر اپنے ہاتھ سے دُعا لکھے گا

گاؤ ان لمحوں کی ہوائیں تم کو ، تمھارے گیتوں پر سنگیت دیں گیں

پتّے کڑے بجائیں گے

اور پُھولوں کے ہاتھوں میں دف ہو گا!

تتلی ، معصومانہ حیرت سے سرشار

سیہ شاخوں کے حلقے سے نکلی

صدیوں کے جکڑے ہُوئے ریشم پَر پھیلائےِ_اور اُڑنے لگی

کُھلی فضا کا ذائقہ چکھا

نرم ہَوا کا گیت سُنا

اَن دیکھے کہساروں کی قامت ناپی

روشنیوں کا لمس پیا

خوشبو کے ہر رنگ کو چُھو کر دیکھا

لیکن رنگ ، ہَوا کا وجدان ادھورا تھا

کہ رقص کا موسم ٹھہر گیا

رُت بدلی

اور سُورج کی کِرنون کا تاج پگھلنے لگا

چاند کے ہاتھ، دُعا کے حرف ہی بُھول گئے

ہَوا کے لب برفیلےسموں میں نیلے پڑکر اپنی صدائیں کھو بیٹھے

پتّوں کی بانہوں کے سُر بے رنگ ہُوئے

اور تنہا رہ گئے پُھولوں کے ہاتھ

برف کی لہر کے ہاتھوں ، تتلی کو لَوٹ آنے کا پیغام گیا

بھنورے شبنم کی زنجیریں لے کر دوڑے

اور بے چین پَروں میں ان چکھی پروازوں کی آشفتہ پیاس جلا دی

اپنے کالے ناخونوں سے

تتلی کے پَر نوچ کے بولے___

احمق لڑکی

گھر واپس آ جاؤ

ناٹک ختم ہُوا!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ایک مشہور ماہر آثار قدیمہ اور تاریخ دان پروفیسر مکھن لال دہلی انسٹی ٹیوٹ آف ہیریٹیج ریسرچ اینڈ مینجمنٹ کے بانی ڈائریکٹر کی حیثیت سے دہلی منتقل ہونے سے پہلے بنارس ہندو یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ وہ کیمبرج یونیورسٹی کے پہلے چارلس والیس فیلو بھی تھے۔ حال ہی میں انہوں نے پروین شاکر کی ہندی شاعری کو دو جلدوں میں شائع کیا ہے)

Parveen Shakir: Her Poems and Ghazals, Part-1 परवीन शाकिर की नज़्में और गज़लें

Parveen Shakir: A Brief Life Sketch परवीन शाकिर: एक संक्षिप्त जीवनी

Parveen Shakir: A Brief Life Sketch پروین شاکر: ایک مختصر سوانح عمری

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/parveen-shakir-poems-ghazals-part-1/d/126069

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..