New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 10:53 PM

Urdu Section ( 19 Dec 2017, NewAgeIslam.Com)

The Beauty and Wisdom of the Sufi Teaching on 'Tawakkul' or Divine Surrender توکل پر صوفیائے کرام کی تعلیمات کا حسن اور حکمت

 

 

 

 

 پروفیسر ہینری فرانسس، نیو ایج اسلام

11 نومبر 2017

سنی اسلام پر عمل پیرا صوفیائے کرام کا ہمیشہ سے اس امر پر اصرار رہا ہے کہ ایک حقیقی روحانی شخصیت کا پیمانہ یہ ہے انسان اپنے کامل وجود کو اللہ کی تقدیر کے حوالے کر دے۔ اس خودسپردگی کے لئے عربی لفظ "توکل" کا استعمال کیا جاتا ہے جس کا لفظی معنی لاش کو مکمل طور پر اس کے حوالے کرنا ہے جو اسے دفن کرنے والا ہے۔ اسلامی تصوف میں توکل کا معنیٰ اللہ کی تقدیر پر کامل انحصار ہے۔ "توکل" کا ایک معنیٰ ایک ایسے شخص پر مکمل طور سے یقین کر لینا بھی ہے جو وسیع و عریض صحراء سے نکلنے کے راستے سے واقف ہو۔ اسی طرح صوفیائے کرام کا ماننا یہ ہے کہ "توکل" صرف اپنی روح کو خدا کے حوالے کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ توکل روح کو مکمل قناعت اور رضا کے ساتھ اللہ کے سپرد کرنا ہے جو یہ جانتا ہے کسی انسان کی زندگی میں حقیقۃً کیا بہتر ہے اور وہ اس کی تکمیل بھی کرتا ہے۔

جہاں تک میری بات ہے تو میں اس بات کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ میری زندگی میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب میں اپنی زندگی پر مکمل طور پر تسلط حاصل کرنا چاہتا تھا اور ان دنوں میں اپنی زندگی میں اللہ کی تقدیر سے چھٹکارا چاہتا تھا۔ مختصر یہ کہ میری زندگی میں ایسے زمانے بھی گزر چکے ہیں کہ جب میں اپنی زندگی سے خدا کو معزول کرنا چاہتا تھا۔ اور جس لمحے مجھے یہ محسوس ہوا کہ میں خدا پر ناراض ہوں، میں نے اس کی کستاخی کی اپنی اس جسارت کے لئے خدا کی بارگاہ میں توبہ کیا ، جو کہ پوری کائنات کا نظام چلانے اور مجھے ایک مختصر اور معمولی زندگی سے نوازنے والے خدائے رحیم و کریم کے خلاف تھا۔

میں نے خدا کی طرف سے اپنی "آزادی" کا اعلان کرنے کا ارادہ اس لئے کیا کیوں کہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ میری زندگی میں ایسی کئی چیزیں ہو رہی ہیں جنہیں میں سمجھ نہیں سکتا، اور میں کبھی کبھی محسوس کرتا ہوں کہ اگر میں واقعی اپنی زندگی کا نگہبان ہوں تو پھر سب ٹھیک ہو جائیگا۔ تاہم، جب میں نے اپنے ماضی پر اپنی نظر ڈالی اور ان غلط راستوں کو دیکھا جن پر میں چل چکا تھا اور ان غلط فیصلوں پر غور کیا جو میں اپنی زندگی میں لے چکا تھا اور ان متعدد دل شکنیوں اور پیچیدگیوں کو دیکھا جو میرے بیوقوفانہ فیصلوں کی وجہ سے ظاہر ہونے لگے تھے تو اسی وقت خدا سے "آزادی" تلاش کرنے کا خیال میرے اندر پیدا ہوا؛ اور پھر وہیں اور اسی وقت میں نے اپنے غرور و تکبر سے اللہ کی بارگاہ میں پرخلوص توبہ کیا اور پوری عاجزی و انکساری کے ساتھ یہ تسلیم کیا کہ خدا ہی اب بھی الٰہی حکمت کا خدا ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری زندگی ہے (ملاحظہ ہو یہودیوں کی مقدس کتاب یسعیاہ 41:13)۔

میں نے بجا طور پر متعدد مرتبہ سب سے بہتر حالات حاصل کرنے کی اپنی خواہش میں یہ محسوس کیا ہے اور یہ کا تجربہ کیا ہے کہ مکمل منصوبہ بندی کے باوجود میری زندگی میں پیدا ہونے والے حالات اور واقعات پر میرا مکمل کنٹرول نہیں ہے ؛ کیونکہ میں خدا نہیں ہوں اس لئے کہ صرف خدا ہی ہر چیز میں مکمل نیکی اور بھلائی کو لوٹانے والا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ ناممکن ہے، لیکن اگر مجھے صرف ایک گھنٹہ کے اندر پوری کائنات کو کنٹرول کرنے کی اجازت خدا سے حاصل ہو جاتی ہے تو میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ میں اس کائنات کا نظم و نسق برقرار نہیں رکھ سکتا، کیونکہ یہاں تک کہ خود میری زندگی پر بھی استعداد، تجربہ، بے ترتیب ذہنی کیفیت، تذبذب اور نظم و ضبط کے فقدان کی بدولت میرا کلی اختیار نہیں ہوسکتا! وہ صرف اور صرف خدا ہی ہے جو کائنات کی حکمرانی کرسکتا ہے اور اچھی تقدیر بہترین منصوبہ اور عمدہ مرضی کے مطابق ہماری زندگی کا نظم جاری رکھ سکتا ہے۔

ہاں، ہوسکتا ہے کہ کئی مرتبہ اپنی زندگی کی بظاہر ناانصافیوں اور اس دنیا کے مصائب و آلام پر مجھے ایسا محسوس ہو کہ میں خدا کے ساتھ ناراض ہوں لیکن میں اس کے باوجود اس کائنات کے قادر مطلق رب کے طور پر میں کسی اور کو منتخب نہیں کرسکتا۔ وہ صرف اور صرف خدا ہی ہے جس کے دست قدرت میں ہر کائنات کی کنجی ہے اور صرف وہی توازن کا جاننے والا ہے جو اس کائنات اور ہماری زندگی کو منظم و منضبط رکھتا ہے۔ کیونکہ صرف اور صرف خدا ہی کی نگاہ شفقت کو اس کائنات اور ہماری زندگی کی حتمی بہتری کا علم ہے۔ہم صرف زمانہ حال کو دیکھتے ہیں، لیکن خدا کی نگاہ شفقت میں پوری کائنات ماضی حال اور مستقبل کی تمیز کے بغیر ایک ساتھ موجود ہے۔ قرآن کریم نے اپنی اس آیت میں اسی بات کا اعلان کیا ہے: "اس کو تو کسی کی نگاه محیط نہیں ہوسکتی اور وه سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے اور وہی بڑا باریک بین باخبر ہے"(قران کریم 6:103)۔

لہذا، ایک مؤمن کی حیثیت سے ہم اس رحمٰن و رحیم خدا کے سامنے جھکنے ، اس کے آگے سجدہ کرنے اور اپنی ہستی کو اس کے حوالے کرنے کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں ، جو حتمی نیکی اور بھلائی کے ساتھ پہلے سے ہی ہم سب کی تقدیر کا فیصلہ کر چکا ہے؟ ہم کس طرح حکمت اور محبت و رحمت کے اس خدا کی تقدیر پر بھروسہ نہیں کر سکتے اور خود کو اس کے حوالے نہیں کر سکتے؟ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے صوفیائے کرام ذات وحدہ لا شریک کے حضور ہمیشہ سجدہ کرتے ہیں اور خدا کی مرضی کے آگے یقین اور ایمان کے ساتھ سر تسلیم خم کرتے ہیں اور"ان شاء اللہ!" (اگر یہ اللہ چاہے) اور " و اللہ اعلم! " (اللہ سب سے بہتر جانتا ہے) جیسے الفاظ اپنی زبان سے ادا کرتے ہیں۔ آج رات میں کل اور آئندہ دنوں میں میری زندگی کے اندر رونماں ہونے والے اپنے تمام امور، حالات اور واقعات کے حق میں رحمٰن و رحیم خدا کی ذات کریم پر توکل کرتے ہوئے پورے یقین کے ساتھ یہی الفاظ کہتا ہوں۔ تو اس کے بارے کیا رائے ہے؟ یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر خدا کی جانب اپنے سفر میں ہمیں توجہ دینی چاہئے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam-and-spiritualism/prof-henry-francis-b-espiritu,-new-age-islam/the-beauty-and-wisdom-of-the-sufi-teaching-on--tawakkul--or-divine-surrender/d/113193

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/prof-henry-francis-b-espiritu,-new-age-islam/the-beauty-and-wisdom-of-the-sufi-teaching-on--tawakkul--or-divine-surrender--توکل-پر-صوفیائے-کرام-کی-تعلیمات-کا-حسن-اور-حکمت/d/113624

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..