New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 04:59 AM

Urdu Section ( 25 Dec 2017, NewAgeIslam.Com)

Qaed Azam's Concept of Pakistan قائد اعظم کا تصور پاکستان

 

 

 

پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی(ملتان)

(پاکستان کسی طرح بھی ایک مذہبی مملکت نہیں ہوگا، جہاں مُلا خدائی فوجدار بن کر حکومت کریں)

بانی ء پاکستان کی حیثیت سے قائد اعظم محمد علی جناح کے ذہن میں نئی مملکت اوراس کو چلانے والے اصولوں کے بارے میں ایک تصور موجود تھا۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی وہ وقتاً فوقتاً اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے تھے ان کی بے شمار تقریریں اوربیانات ان کے انہی خیالات اور تصورات کی عکاسی کرتی ہیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی انتہائی اہم تقریروں میں سے ایک تقریر وہ ہے جو انہوں نے 11اگست 1947ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ یہ تقریر دراصل ان کا پالیسی بیان تھا جو انہوں نے دستور ساز اسمبلی کاپہلا صدر منتخب ہونے کے موقع پر دیا۔ دستور ساز اسمبلی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی نئی مملکت کو درپیش مختلف مسائل پر اظہار خیال کیا۔ اس تقریر کی ابتداء میں انہوں نے قیام پاکستان کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف ہم بلکہ تمام دنیا اس منفرد اوربے نظیر انقلاب پر حیران ہے جس کے نتیجے میں اس برصغیر میں دو آزاد خود مختار مملکتیں وجودمیں آرہی ہیں ۔اس کی اس سے پہلے دنیا میں نہ کوئی نظیر ہے اور نہ تاریخ میں کوئی مثال ملتی ہے۔ اوربر صغیر کی تقسیم بہت بڑے اورارتقائی عمل کے ذریعے پر امن طریقے سے ہوئی ۔ انہوں نے نئی دستور ساز اسمبلی کی اہمیت اوراس کے ارکان کے ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ کس طرح اپنے فیصلے کرتے ہیں پہلی بات جو میں کہنا چاہتا ہوں جس پر بلا شبہ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ حکومت کا پہلا فریضہ امن و امان او رنظم و ضبط قائم کرنا ہے تاکہ لوگوں کے جان ومال عزت اور مذہبی اعتقاد کو مملکت کی جانب سے مکمل تحفظ حاصل ہوسکے۔ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک امن وامان اورلوگوں کی جان و مال اوران کے اعتقاد ات کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے جس کی طرف توجہ دینا ضروری ہے۔

اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ’’ دوسری بات جو مجھے بہت تکلیف پہنچاتی ہے وہ اقربا پروری ،بدعنوانی، رشوت ستانی اور چور بازاری ہے ان پرائیوں کو سختی سے کچل دیناچاہئے ۔ انہو ں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی اور اقربا پروری کو برداشت نہیں کروں گا او رنہ ہی کسی قسم کے دباؤ اوراثر رسوخ کوجوبراہ یا بالواسطہ مجھ پر ڈالا جائے ۔ مجھے اس قسم کی برائی جہاں بھی نظر آئی خواہ وہ نچلی سطح پر ہو یا اعلیٰ سطح پر میں اسے قطعاً برداشت نہیں کروگا‘‘۔گویا ان کے ذہن میں مستقبل کے پاکستان کا ایسا تصورجہاں اقربا پروری، رشوت ستانی ،چور بازاری اورکسی قسم کی بدعنوانی کاکوئی وجود نہیں ہوگا۔ اورایسی برائیوں کاسختی سے خاتمہ کر دیا جائے گا۔

اس کے بعد قائد اعظم نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ بر صغیر کی تقسیم ایک حقیقت ہے اسے قبول کرلینا چاہئے اس کے سوا دوسرا کوئی حل ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے بجا طور پر کہا کہ مستقبل کی تاریخ اپنا فیصلہ اس کے حق میں دے گی۔ اب ہمیں ماضی کی تلخ یادوں کوبھلا کر مملکت کی تعمیر وترقی کے لئے کام کرناچاہئے انہوں نے زور دے کر کہا

’’ آپ میں سے ہر ایک خواہ وہ کسی قوم سے تعلق رکھتا ہو خواہ ماضی میں آپ کے ساتھ اس کاتعلق کیسا ہی رہا ہو اس کا رنگ،ذات یا عقیدہ کچھ ہی کیوں ہو، وہ اوّل آخر اس مملکت کاشہری ہے اور اسے مساوی حقوق و مراعات او رذمہ داریاں حاصل ہوں گی۔ ہمیں اس جذبے سے کام شروع کردیناچاہئے وقت کے ساتھ ساتھ اکثر یت اقلیت کے یہ اختلافات ہندواو رمسلمان قوم کی یہ تفریق ختم ہوجائے گی۔ کیونکہ جہاں تک مسلمانوں کاتعلق ہے ان کے اندر پٹھان، پنجابی ،شیعہ سنی وغیرہ کامسئلہ ہے۔ ا س طرح ہندومیں برہمن،ویش کھتری کے علاوہ بنگالی مدراسی کا جھگڑا ہے بالآخر یہ مسئلے ختم ہوجائیں گے۔‘‘

قائد اعظم کے یہ ارشادات بلا شبہ اہمیت کے اعتبار سے آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں ۔ انہوں نے لوگوں کے خطاب کرتے ہوئے کہا:

’’ اب آپ آزاد ہیں آپ اپنے مندروں میں جانے کے لئے آزاد ہیں۔ آپ اپنی مسجدوں میں جانے کے لئے آزاد ہیں ۔ آپ پاکستان کی اس مملکت میں عبادت کے کسی مقام پر جانے کے لئے آزاد ہیں ۔ خواہ آپ کا تعلق کسی مذہب کسی عقیدے یا ذات سے ہو۔ مملکت کے معاملات سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ۔ ہم ایک ایسے مرحلے سے کاروبار حیات شروع کررہے ہیں جہاں ایک نسل یا ذات کی کسی دوسری نسل یا ذات کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہے۔ ہم اس بنیادی اصول کے ساتھ اپنا آغاز کررہے ہیں کہ ہم سب ایک ریاست کے مساوی المرتبہ شہری ہیں ۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک زمانہ میں برطانیہ میں پروٹسنٹ اوررومن کیتھولک فرقوں کے درمیان بڑے اختلافات تھے اور یہ ایک دوسرے پر ظلم وتشدد کرتے تھے ۔ لیکن اب وہاں ایسا مسئلہ نہیں رہا ۔ اور اللہ کا شکر ہے کہ اب یہاں ہمارے درمیان بھی ایسے حالات نہیں ہیں‘‘۔

قائد اعظم کھل کر اس حقیقت کا اظہار کرتے ہیں ’’ آپ دیکھیں گے کہ وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ ہندو ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان، مسلمان نہیں رہیں گے۔ مذہبی نقطہ نگاہ سے نہیں کیونکہ یہ ہر فرد کے ذاتی عقیدے کا سوال ہے۔ بلکہ سیاسی مفہوم میں ایک مملکت کے ہم مرتبہ شہری ہونے کی حیثیت سے ’’ اس کامطلب یہ تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندومسلم معاشی اختلافات ختم ہوجائیں گے‘‘۔ برصغیر کی تقسیم کے موقع پر اقلیتوں کے بارے میں دونوں ملکوں میں سمجھوتہ بھی ہوا تھا ۔ اس سیاق میں قائد اعظم اس بنیادی اصول پر زور دینے میں بالکل حق جانب تھے کہ ہم سب اس مملکت کے شہری بلکہ مساوی شہری ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ مملکت کو اپنے باشندوں کی جان و مال او رمذہبی اعتقادات کی پوری حفاظت کرنی چاہئے ۔ اور اپنی پوری توجہ بالخصوص عوام اور غریبوں کی فلاح و بہبود پر مرکوز کر دینی چاہئے ۔ سیاسی تدبیر کے یہ عملی فرائض صرف اس وقت بطریق احسن ادا کئے جاسکتے ہیں جب شہریوں کو مساوی حقوق او رمساوی ذمہ داریوں سے بہر ور کیا جاسکے۔

قائد اعظم کے ان خیالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کو تھیو کریٹک (مذہبی مملکت)نہیں بلکہ اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے خواہشمند تھے ۔ انہوں نے 9فروری 1948ء کو امریکہ کے عوام کے نام ایک نشری پیغام میں کہا تھا ۔

’’ پاکستان کسی طرح بھی ایک مذہبی مملکت نہیں ہوگا۔ جہاں ملا خدائی فوجدار بن کر حکومت کریں پاکستان میں بہت سے غیر مسلم بھی ہیں جن میں ہندو، عیسائی اور پارسی میں شامل یہ سب پاکستانی ہیں انہیں وہی حقوق و مراعات حاصل ہوں گی جودوسرے شہریوں کو حاصل ہیں او رمملکت کے اُمور میں اپنا جائز کردار ادا کریں گے‘‘۔

حقیقت بھی یہی ہے قائد اعظم اپنی تقریر کے ذریعے پاکستان کی اقلیتوں کو ان کے حقوق اور آزادیوں کی یقین دہانی کرارہے ہیں جو پاکستان کی اکثریت یعنی مسلمانوں کو حاصل ہوں گے انہوں نے اپنی تقریر میں اقلیتوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا اگر تم نے تعاون کے جذبے سے کام لیا ماضی کو فراموش کردیا۔ تنازعات اور باہمی اختلافات کو بھلا دیا تو تم میں سے ہر ایک چاہے وہ کسی رنگ ذات یا عقیدے سے تعلق رکھتا ہو۔ اس کا تعلق کسی فرقے یا مذہب سے ۔ وہ اوّل و آخر اس مملکت کا باشندہ ہوگا۔ تمہارے حقوق و مراعات او رذمہ داریاں مشترک ہوں گی او رتم ان سب میں برابر کے حصہ دار ہوگے۔

مختصر یہ کہ قائداعظم کی 11اگست1947ء کی تقریر او ران کے اس تصور کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کے تمام شہری بلا امتیاز مساوی حیثیت رکھتے ہیں او رانہیں مل کر مملکت کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔

دسمبر ،2017 بشکریہ : صوت الحق ، کراچی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/prof-dr-hamid-raza-siddiqui/qaed-azam-s-concept-of-pakistan--قائد-اعظم-کا-تصور-پاکستان/d/113696

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..