New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 03:54 AM

Urdu Section ( 9 Sept 2019, NewAgeIslam.Com)

Imam Hussain and India حضرت امام حسینؓ اور ہندوستان


پروفیسر اختر الواسع

9ستمبر،2019

تاریخ شاہد ہے کہ دنیا میں بڑے مقاصد کی خاطر ہزاروں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، عظیم مقاصد کی شہادت گہہ الفت میں نہ جانے کتنے عظیم لوگ قربان ہوگئے او ریہ سلسلہ ہمیشہ سے جاری ہے۔ دنیا کی مختلف قومیں راہ عزیمت کے ان شہداء کو خراج عقیدت بھی پیش کرتی رہی ہیں اور بعض قربانیاں تو ایسی لازوال ہیں کہ ان کوبطور یادگار منایا جاتا ہے، ان کی برسی منعقد کی جاتی ہے۔ لیکن سید نا حسینؓ کی شہادت ایسی عظیم شہادت ہے کہ دنیا کی کوئی دوسری یاد گار شہادت اس درجہ کی نہیں ہے۔ چودہ صدیاں ہونے کو آئیں لیکن حضرت حسین ؓ اسی طرح زندہ ہیں جیسے وہ اپنی حیات مستعار میں زندہ تھے۔ دوسرے شہداء کی برسی ایک دن ہوتی ہے،سیدنا حسینؓ کی یادگار پورے چالیس دن چلتی ہے اور کسی نہ کسی شکل میں پورے سال کو یاد کیا جاتاہے۔ جب بھی حق کے لیے قربانی دینے کی کوئی مثال پیش کرنی ہوتو سب سے پہلے حضرت امام حسین ؓ کانام آتاہے۔واقعہ یہ ہے کہ تاریخ انسانی حضرت حسینؓ کی قربانی سے بڑھ کر کوئی مثال پیش نہیں کرسکتی۔ حضرت حسینؓ کی قربانی کوپوری ملت اسلامیہ ایک عظیم قربانی کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔ مولانا محمد علی جوہر ؒ نے کیا خوب کہا ہے:

قتل حسینؓ اصل میں مرگ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

امام حسین ؓ کی مظلومانہ شہادت اسلام کی سربلندی کے لیے تھی، اس لیے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حضرت حسین ؓ نے اسلام کی عظمت کوسربلند کرنے کے لیے جوقربانی دی اس لیے مسلمانوں کاحق ہے کہ وہ ان کی قربانی کو یاد کریں اوران کے یوم شہادت پر ماتمی جلوس اور تعزیہ نکالیں،لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ حضرت حسین ؓ کی عظمت جس طرح مسلمانوں میں مسلم ہے، اسی طرح غیر مسلموں میں بھی ان کی عظمت کا اعتراف واقرار کیا جاتاہے۔ خاص طور پر ہمارے ملک میں مسلمانوں کے علاوہ ہندوبرادران وطن بھی امام حسینؓ کی عظمت وبزرگی کے قائل ہیں۔ کسی بھی مذہب میں حق کے لیے جان دینے کی بات آتی ہے تو امام حسینؓ ہی اس کی سب سے بڑی علامت کے طو رپر سامنے آتے ہیں۔ اس کی دوسری وجہ بظاہر یہ سمجھ میں آتی ہے کہ خاص ہندوستان سے امام حسین ؓ کو بھی قلبی وابستگی اور دلی لگاؤ تھا۔چنانچہ جب کربلا کے میدان میں ان کو یزید کی فوج نے گھیر لیا تو اس وقت انہوں نے دشمن فوج کے سامنے جوتین شرائط رکھی تھی، ان میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ ان کو ہندوستان کی طرف جانے دیاجائے۔ گویا ہندوستان کی سرزمین سے ان کو مہر ووفا کی ایسی امید تھی کہ انہوں نے عالم اسلام میں کسی جائے پناہ کو ڈھونڈنے کے بجائے ہندوستان کی طرف جانے کو اپنے لیے منتخب کیا۔ ہندوستان کی طرف جانے کی حضرت امام حسینؓ کی یہ خواہش تاریخ کے صفحات پر ثبت ہے اور شاید اسی خواہش کاعملی اظہار یہ ہوا کہ ہندوستان میں امام حسین ؓ کی تعزیہ داری او ران کے ماتم کی روایت پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔ گاؤں گاؤں، شہر شہر ان کے جلوس نکلتے ہیں ان کے امام باڑے میں ان کی نذر وفاتحہ ہوتی ہے او ربڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ روایت صرف مسلمانوں کی نہیں ہے بڑی تعداد ہندو برادران وطن اس میں پوری عقیدت واحترام کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ ہندؤں میں برہمنوں کا ایک گوتر ’دت‘ ہے۔ دت برہمن اپنے آپ کو حسینی برہمن کہتے ہیں، ان کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کے بزرگوں میں سے کچھ لوگ ان بہتر لوگوں میں شامل تھے، جو امام حسینؓ کے ساتھ میدان کربلامیں شہید ہوئے۔ اسی نسبت سے وہ خود کو حسینی برہمنی کہتے ہیں۔ کہیں کہیں عقیدت تاریخ کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے اور جذبہ دل تمام عقلی پیمانوں کو پار کر جاتاہے۔ حسینی برہمنوں کی عقیدت بھی ایسی ہی ہے ان کو امام حسین سے بے انتہا عقیدت ہے۔ وہ باضابطہ تعزیہ داری میں شریک ہوتے ہیں، یوم شہادت کے وہ تمام کام کرتے ہیں جو مسلمان کرتے ہیں۔ اردو زبان کے اصناف سخن میں ایک اہم صنف مرثیہ ہے یہ صنف دراصل امام حسینؓ کی یادگار ہے۔ واقعات کربلا کاذکر جس طرح شعراء نے کیا ہے اس کو باضابطہ صنف قرار دے کر سرزمین ہند نے حضرت امام عالی مقام کی خدمت میں ایک اورنذرانہ عقیدت پیش کیا۔ مرثیہ نگاری میں جس طرح مسلمان شعراء نے حضرت امام حسین ؓ کوخراج عقیدت پیش کیا ہے اس طرح ہندوشعراء نے بھی مرثیہ نگاری کی ہے اور دیگر اصناف میں بھی حضرت امام کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ سرکشن پرساد شادنے کیا خوب صورت انداز میں حضرت امام ؓ سے اظہار عقیدت کیا ہے:

حسین ؓ ابن علی ؓ ہیں فرد یکتا

کوئی مظلوم ایسا تھانہ ہوگا

ولائے سبط پیغمبرؐ ہے نعمت

یہ نعمت ہو عطا ہر ایک کو مولا

لکھنؤ اوردہلی کے اور بھی بہت سے ہندو شعراء ہیں جنہوں نے مرثیہ نگاری کی ہے اور منقب کے اشعار بھی لکھے ہیں۔تعزیہ داری کے روایت ہندوستان کی سرزمین میں اتنی پختہ اور اتنی استوار ہے کہ اس پر اجنبیت کاگمان نہیں ہوتا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ہندوستانی روایتہے اور ایسا اس لیے ہوا کہ حضرت امام سے عقیدت اور وابستگی ہندوستان کے مزاج بلکہ یہاں کی آب وگل میں رچ بس گئی ہے۔ سانحہئ کربلا اگرچہ ملک عراق میں دریائے فرات کے کنارے وقوع پذیر ہوا لیکن اودھ، روہیلکھنڈ،دکن نیز دیگر علاقائی زبانوں میں کہے جانے والے مرثیوں میں ہندوستانیت کے مختلف مراسم اور تہذیبی وثقافتی مظاہر جس طرح درآئے ہیں اس کی نظیر کہیں اور آسانی سے نہیں ملتی۔ ہندوستان کی بہت سے رہنماؤں اور دانشوروں نے بھی اپنے اپنے انداز میں امام حسینؓ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ منشی پریم چند نے لکھا ہے کہ ’معرکہ کربلا دنیا کی تاریخ میں پہلی آواز ہے اورآخری بھی جو مظلوموں کی حمایت میں بلند ہوئی اور جس کی صدائے بازگشت آج تک فضائے عالم میں گونج رہی ہے‘۔ اسی طرح بابائے قوم مہاتما گاندھی نے برملا اعتراف کیا تھا کہ ’میں نے اسلام کے شہید اعظم امام حسینؓ کی زندگی کا مطالعہ کیا ہے اور کربلا کے واقعات پر میں نے غور وخوض کیاہے۔اس واقعات کو پڑھ کر پر واضح ہوا کہ اگر ہندوستان آزاد چاہتا ہے تو اسے حضرت حسینؓ کی سیرت و کردار کی پیروی کرنی پڑے گی۔ ’ڈاکٹر راجندر پرساد نے لکھا ہے کہ ’کربلا کے شہیدوں کی کہانی انسانی تاریخ کی ان سچی کہانیوں میں سے ایک ہے جن کو کبھی بھلایا نہ جائے گا اور ان کی اثرو آفرینی میں کوئی کمی آئے گی‘۔ ہندوستان میں امام حسینؓ کی یادگار اور ان کا ماتم کوئی نئی روایت یا اجنبی روایت نہیں ہے، بلکہ یہ مقامی روایت ہے او رمقامی انداز میں ہے۔ برادران وطن کی بڑی تعداد روایتی طور پر اس مقدس موقع کا اہتمام کرتی رہی ہے۔ مہارانی لکشمی بائی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دس محرم کو بڑی عقیدت کے ساتھ مناتی تھیں۔ اس طرح دیگر ہندو راجہ اور اصحاب ثروت بھی اس دن کا بلکہ اس مہینہ کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ جوش ملیح آبادی نے شاید برادران وطن کی اس عقیدت کو دیکھتے ہوئے کہا تھا:

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

ہندوستان میں تعزیہ داری اور مرثیہ نگاری دو ایسے کام ہیں جن کی مثال عالم اسلام میں بھی اس پیمانے پر نہیں ملتی۔ اپنی وسعت کے اعتبار سے بھی یہ بات بڑی اہم ہے کہ ہندوستان کے کونے کونے میں امام حسین ؓ کو یاد کیا جاتا ہے اوران کے یو م شہادت کاتونہایت خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان کے جلوس کے خصوصی آداب ملحوظ رکھے جاتے ہیں بعض شہروں اور قصبوں کے تعزیوں اسی طرح بعض قوموں اور بعض پیشوں سے وابستہ لوگوں کی انفرادیت ان کا مخصوص انداز تعزیہ داری ہے۔ یہ بھی ہندوستان کاامتیاز ہے غرض اس ملک سے سید نا حصرت حسینؓ کی شخصیت اور ان کی روایت پوری طرح وابستہ او رپوری طرح ہم آہنگ ہے۔

9ستمبر،2019، بشکریہ:انقلاب،نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/prof-akhtarul-wasey/imam-hussain-and-india--حضرت-امام-حسینؓ-اور-ہندوستان/d/119698

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..