New Age Islam
Mon Apr 12 2021, 11:43 AM

Urdu Section ( 19 Oct 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Aligarh Muslim University and Its Hundred Years Journey علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا صد سالہ سفر: سرسید اور کچھ کرنے کے کام



پروفیسر اخترالواسع

19اکتوبر2020

17اکتوبر (سرسید کی یوم پیدائش) کی تاریخ تو ہر سال آتی ہے لیکن اس سال کی اہمیت یہ ہے کہ سرسید کا قائم کردہ ادارہ جو عالم اسلام میں جدید سیکولر تعلیم کا پہلاادارہ تھااور علی گڑھ میں 1875 میں 24مئی کو سمیع منزل میں 5طلبہ سے مدرستہ العلوم مسلمانان کے نام سے شروع ہوتا تھا اور وہ دوسال بھی کم کی مدت میں فروری 1877 میں ایم اے او کالج کی حیثیت سے ترقی پاگیا اور پھر 27مارچ 1898 میں سرسید کے انتقال کے بعد اس کو یونیورسٹی بنانے کی وہ تحریک شروع ہوئی جو 1920 میں کامیاب ہوئی اور اس سال ہم اس کی صدسالہ تقریبات منارہے ہیں۔

سرسید کی شخصیت ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی میں چھتنار درخت کی سی ہے جس کے بغیر آپ ہندوستانی مسلمانوں کی مذہبی، لسانی،ادبی،تہذیبی، سماجی اور تعلیمی میدانوں میں کوئی تصور نہیں کیا،اس پر اپنی کوئی چھاپ نہ چھوڑی ہو۔ وہ جدید اردونثر کے بابا آدم ہیں تو صحافت میں نئے دور کے نقیب،مذہب میں عقلیت پسندی کے عنصر کو داخل کرنے والے، تہذیب اور ثقافت کے گرتے ہوئے معیاروں کی نشاندہی کرنے والے سماج میں اصلاح اور روشن خیالی کے نئے دور کا آغاز کرنے والے ہندو مسلم اتحاد کے پیامبر اور جدید سیکولر تعلیم کا آغازکرنے والے۔و ہ اپنے ہر مشن میں مخلص،بے لوث، دیانت دار تھے۔صبر و ثبات اور استقلال و استقامت ان کی شخصیت کا جوہر تھے۔ وہ سلطان جابر اور جمہور جائز کسی سے خوف نہ کھاتے تھے۔وہ اپنی عقلیت پسندی روشن خیالی اور آزاد فکر کے باوجود ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔ جنہوں نے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سرولیم میور کی اہانت آمیز کتاب ’لائف آف محمد‘ کا جواب’خطبات احمدیہ‘ کی صو رت میں نہ صرف دیدہ دلیری سے دیا بلکہ اپنی زندگی بھر سے اثاثوں کو اس راہ میں لٹا دیا او رمقروض تک ہوگئے۔یاد رہے کہ یہ کتاب انگریزی اور اردو دونوں میں شائع ہوئی او رآج بھی اپنی معقولیت معروفیت او رمضبوط و مستحکم دلائل کی وجہ سے اپنا جواب نہیں رکھتی ہے۔

سرسید کو ان تمام باتوں کے علاوہ او رکئی چیزوں میں شرف اولیت حاصل ہے۔ انہوں نے سائنٹفک سوسائٹی کی بنیاد ڈالی، اخبار سائنٹفک سوسائٹی نکالا۔ انجیل کی اردو میں تفسیر تبئین الکلام کے نام سے لکھی اور ایک طرح عصر جدید میں بین المذاہب تفہیم او رمکالمے کی داغ بیل ڈالی۔ ان کی تفسیر کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے انجیل مقدس کا مطالعہ اسلام کی عینک لگا کر نہیں کیا بلکہ ایک مذہبی صحیفے کو اس کے ماننے والے کس طرح دیکھتے ہیں اس کو سامنے رکھا۔ اسی لیے مشہور جرمن مسیحی پیشوا،عالم اور دانشور ڈاکٹر کرسچین ڈبلوٹرل نے اس پر جو تحقیق دی ہے وہ غیر معمولی ہے۔سرسید نے بلاشبہ پہلی جنگ آزادی میں انگریزوں کا ساتھ دیا۔ انہوں نے تاریخ کی سرکشی ضلع بجنور‘ لکھی جس میں انگریز مخالف لوگوں کو ہدف تنقید بنایا لیکن اس کے بعد یہ انہیں کا دل گردہ تھا کہ انہوں نے اسباب بغاوت ہند بھی لکھی جس میں انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی پالیسیوں او ر عیسائی مشنریوں کے طرز عمل پر سخت تنقید کی اور اس کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کراکر برطانوی پارلیمنٹ کے ممبروں اور ملکہ وکٹوریہ تک بھجوا ئیں او ریہ نہیں بھولنا چاہئے کہ سرسید کی اس کتاب کی رسائی کے بعد ہی ملکہ برطانیہ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو بے دخل کرکے ہندوستان کو راست اپنی عمل داری میں لے لیا۔ یہاں اس کا ذکر کرنا نامناسب نہ ہوگا کہ جب اپنے مکمل تسلط کے بعد انگریزوں نے سرسید کو انعام واکرام سے نوازنا چاہا، جاگیر بخشنی چاہی تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور1857 میں مغلیہ حکومت کے انہدام کے بعد اس کے ملبے سے جو سرسید ابھر کر آئے انہوں نے رات ودن صرف اور صرف اپنی قوم او راپنے ملک کے بارے میں سوچا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور ساری دنیا میں پھیلے ہوئے سرسید کے احسان سناشوں نے ان کی یاد او رکام کو ہر طرح سے دوام عطا کرنے کے لئے الگ الگ طریقے اپنائے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سرسید کے نام پر ایک قومی اور ایک بین الاقوامی شخصیت یاادارے کو ان کے نام سے قائم انعام واکرام سے نوازا جاتاہے۔ اس سال قومی سطح پر وہ اعزاز انجمن اسلام ممبئی کو دیے جانے پر بے حد خوشی ہے۔ میں ایوارڈ سلیکشن کمیٹی او رعلی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتاہوں صرف اس لیے نہیں کہ یہ اعزاز ایک بڑے تعلیمی ادارے کو دیا گیاہے۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ علی گڑھ والوں نے انجمن اسلام کو یہ اعزاز دے کر دراصل ان لوگوں کی منفی سوچ پر ایک ضرب کاری پھر سے لگادی ہے جو علی گڑھ کے پیردانا اور انجمن اسلام کے بانی او رانڈین نیشنل کانگریس کے تیسرے اجلاس کے صدر بدرالدین طیب جی کے بیچ اختلاف کو مخالفت او رعناد کی صورت میں پیش کرتے رہے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں اپنی اپنی سوچ میں مخلص تھے دونوں کا فکری محور قوم اور وطن سے محبت تھی۔ دونوں الکار تازہ سے مسلمانوں کے لیے جہان تازہ کی بنیاد رکھناچاہتے تھے اور انہوں نے اس میں کامیابی بھی حاصل کی۔ سرسید اور طیب جی کے یہاں اختلاف کا منطقی جواز موجود تھا۔ سرسید نے دہلی اور شمالی ہند میں 1857 کی بغاوت کے بعد مجاہدین آزادی بالخصوص مسلمانوں کے خلاف انگریزوں کی بربریت بہیمیت اور قہر سامانی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ وہ شمالی ہند کے مسلمانوں کے مزاج میں شامل جذباتیت کے اس عنصر سے پوری طرح واقف تھے جس میں شجاعت او رحماقت کے بیج میں پائے جانے والے نازک ترین فاصلے کا ادراک نہیں رہتاجب کہ مغربی ہندوستان بالخصوص ممبئی اس قیامت صغریٰ سے محفوظ رہا تھا۔بدرالدین طیب جی سے علی گڑھ ایجوکیشنل کانفرنس کے ایک سالانہ اجلاس کی صدارت کے لیے بھی مدعو کیا گیا تھا۔ چھٹی دہائی کے اوائل میں ان کے پوتے بدرالدین فیضل الحسن طیب جی کو علی گڑھ یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی منتخب کیا گیا تھا او راب علی گڑھ کی صدسالہ تقریبات کے موقعہ پر انجمن اسلام کو یہ ایوارڈ دے کر علی گڑھ والوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ایمانداری سے مسلمانوں کی تعلیم کے لیے انجمن اسلام جو کوششیں کرتی رہی ہے او راب بھی ڈاکٹر ظہیر قاضی کی صدارت میں ان کی نئی سمت اور رفتار مل رہی ہے وہ سرسید کے خوابوں کی توسیع اورتعبیر ہی ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ تحریک نہیں بلکہ اس کا ثمرہ ہے اور سرسید کے صبر کا استقلال کی کھیتی کا حاصل ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ سرسید اور ان کے رفقاء کے افکار وخیالات کو عام کیا جائے۔ پروفیسر عبدالعلیم مرحوم کی وائس چانسلر شپ کے زمانے میں پروفیسر خلیق احمد نظامی کی کوششوں سے قائم کردہ سرسید اکیڈمی اہم کام کرتی رہی ہے اور آج بھی سرسید کے حوالے سے علمی کاموں میں پوری طرح مشغول ہے۔ علی گڑھ کے باہر بھی سرسید کے عاشق اپنے انداز سے ان کے علمی کاموں کو فروغ دینے میں لگے ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں ایک قابل قدر اعلان عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئر مین او رممتاز علیگ اے رحمان ایڈوکیٹ کی طرف سے آیا ہے جس میں انہوں نے اسماعیل پانی پتی مرحوم کے انداز پر سرسید کی کلیات کو اس عزم کے ساتھ شائع کرنے کا اعلان کیا ہے کہ نقش ثانی نقش اول سے ہر اعتبار سے بہتر ہوگا۔ اس کے لیے ہم اے رحمن صاحب کو مبارک باد دیتے ہیں۔ ہماری اس موقع پر پروفیسر طارق منصور سے یہ مؤدبانہ درخواست ہے کہ وہ سرسید یونیورسٹی کے پبلیکیشز ڈویژن سے شائع کرائیں تاکہ وہ قارئین کے بڑے حلقے تک پہنچ سکے۔

اس سلسلے میں وہ پروفیسر عبدالرحیم قدوائی،پروفیسر علی محمد نقوی، پروفیسر شافع قدوائی، پروفیسر عبدالعلیم،پروفیسر سعود عالم قاسمی، پروفیسر ہاشم علی جیسے لوگوں پر مشتمل ایک ایسا ورکنگ گروپ تشکیل دے سکتے ہیں جن کی نگرانی میں یہ کام انجام دیا جاسکتا ہے او رعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے صدی سال میں سرسید کو یہ ایسا خراج عقیدت ہوگا جس کے لیے پروفیسر طارق منصور بھی ہمیشہ یاد رکھے جائی گے۔

19اکتوبر،2020،بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/prof-akhtarul-wasey/aligarh-muslim-university-and-its-hundred-years-journey-علی-گڑھ-مسلم-یونیورسٹی-کا-صد-سالہ-سفر-سرسید-اور-کچھ-کرنے-کے-کام/d/123199


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..