New Age Islam
Sun Apr 11 2021, 11:28 AM

Urdu Section ( 20 Jun 2011, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islamofascism is a reality: Pakistan is destined to drown in blood from civil war: Pervez Hoodbhoy اسلامی فاشزم ایک حقیقت ہے

A New Age Islam reader sent the following letter to the editor:

Here is a letter sent by Pakistan’s foremost progressive intellectual and physicist Dr. Pervez Hoodbhoy to a friend:

Yesterday a TV program on blasphemy (Samaa, hosted by Asma Shirazi) was broadcast (it'll be rebroadcast today). Asma had pleaded that I participate. So I did - knowing fully well what was up ahead.  But I could not bear to watch the broadcast and turned it off after a few minutes.

My opponents were Farid Paracha (spokesman, Jamaat-e-Islami) and Maulana Sialvi (Sunni Tehreek, a Barelvi and supposed moderate). There were around 100 students in the audience, drawn from colleges across Pindi and Islamabad.

Even as the mullahs frothed and screamed around me (and at me), I managed to say the obvious: that the culture of religious extremism was resulting in a bloodbath in which the majority of victims are Muslims; that non-Muslims were fleeing Pakistan; that the self-appointed "thaikaydars" of Islam in Pakistan were deliberately ignoring the case of other Muslim countries like Indonesia which do not have the death penalty for blasphemy; that debating the details of Blasphemy Law 295-C did not constitute blasphemy; that American Muslims were very far from being the objects of persecution; that harping on drone attacks was an irrelevancy to the present discussion on blasphemy.

The response? Not a single clap for me. Thunderous applause whenever my opponents called for death for blasphemers. And loud cheers for Qadri, the murderer. When I directly addressed Sialvi and said he had Salman Taseer's blood on his hand, he exclaimed "How I wish I did!" (kaash ke main hota!).

Islamofascism is a reality. This country is destined to drown in blood from civil war.

Pervez Amirali Hoodbhoy is chair and professor in the department of physics at Quaid-i-Azam University in Islamabad, Pakistan, where he has taught for 38 years.

URL for English Article: http://www.newageislam.com/the-war-within-islam/islamofascism-is-a-reality--pakistan-is-destined-to-drown-in-blood-from-civil-war--pervez-hoodbhoy/d/3953

 

اسلامی فاشزم ایک حقیقت ہے

خانہ  جنگی کی وجہ سے خون میں ڈوبنا پاکستان کا مقدر بن چکا ہے: پرویز ہود بھائی

نیو ایج اسلام کے ایک قاری نے مندرجہ ذیل خط مدیر کو ارسال کیا:

ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے جو پاکستان کے معروف ترقی پسند دانشور اور عالم طبیعیات ہیں، اپنے ایک دوست کو خط بھیجا جو مندرجہ ذیل ہے:۔

کچھ سطور میں آپ کو حصہ دار بنارہاہوں ،جنہیں میں نے ابھی ابھی اپنے کنبہ والوں اور دوستوں کو لکھا ہے۔ جو مجھے انتباہ دے رہے ہیں:

سلمان تاثیر کے بارے میں کوئی خواہ جو بھی سوچے ،و ہ اسی بدھ کو  ایک ایسے عمل کے پیش نظر قتل کردئے گئے ، جو بلاشبہ ان کی زندگی کابہترین عمل تھا: ایک غیر تعلیم یافتہ،مفلس ، کسان عیسائی عورت کی زندگی کو بچانے کی کوشش۔

لیکن اس کے قاتل کے جسم پر گلاب کی پنکھڑیوں کی بارش کی جارہی ہے۔ اسے غازی (بہادر) کہا جارہا ہے۔ وکلا بے ساختہ اس کی رہائی کے لئے مظاہرے کررہے ہیں ، ملاؤں نے ان کی نماز جنازہ اور آخری رسومات ادا کرنے سے بھی انکار کردیا۔ از حد افسوسناک وزیر داخلہ ۔ ان کے سیاسی رفیق اور انتہائی بزدل ۔ نے کہا ہے کہ وہ بھی بے حرمتی کرنے والوں کو اپنے ہاتھوں سے ضرورقتل کردے گا ، ۔ پاکستان میں متشدد ، خبطی مذہبی سر پھرے اور متعصب لوگوں کو کٹر اور مرکز گریز جماعت نے اکثریت کی شکل اختیار  کرلی ہے۔ آزاد خیال اور آزاد منش لوگ اب کٹر اور مرکز خاستہ جماعت بن گئے ہیں ۔ ہم لوگ اب جلا د اور قدیمی غیر مہذب اقوام ہیں۔ یورپ کا دور جاہلیت ہم پرطاری ہوچکا ہے۔ صحیح الدماغ افراد کو خوفزدہ کر کے خاموش کردیا جاتا ہے۔ اس قتل کے بعد ایف ایم ۔99(اردو) نے مجھے انٹرویو کے لئے بلایا ۔ پروڈیوسر نے آنسو بہاتے ہوئے مجھ سے کہا (آف لائن) کہ اسے ایک ایسا مذہبی دانشور نہیں مل سکا جو تاثیر کے قتل کی مذمت کرنے کے لئے تیار ہو۔ اس نے کہا: مجھ جیسے عام لوگ کم میسر ہیں۔ میں آج بہت ہی مایوس ہوں، اتنا مایوس کہ میں مشکل سے یہ سطور ٹائپ کرسکتا ہوں۔

آج بے حرمتی سے متعلق ایک ٹی وی پروگرام (اسما شیرازی کے ذریعہ پیش کیا گیا) اسما نے مجھ سے شرکت کی درخواست کی تھی۔ میں نے شرکت کی۔ یہ اچھی طرح جانتے ہوئے کہ آگے کیا ہونے والاہے۔ اس نشر کو دیکھ کر مجھ سے برداشت نہیں ہوا، اور کچھ ہی منٹو ں بعد میں نے اسے بند کردیا۔

میرے مخالفین میں فرید پراچا (جماعت اسلامی کے ترجمان) اور مولانا سیالوی (سنی تحریک، ایک بریلوی اور نام نہاد اعتدال پسند) ۔سامعین میں تقریباً ایک سوطلبا تھے، جو ر اول پنڈی اور اسلام آباد کے مختلف کالجوں سے تشریف لائے تھے۔

بات شروع ہوئی تو  ملالوگ میرے چاروں طرف (اور مجھ پر) جو ش اور گرمی کے ساتھ منہ سے جھاگ بہا بہا کر احمقانہ باتیں کرنے لگے اور چیخنے لگے ،تو میں نے اپنے کو سنبھال کر صاف صاف باتیں کہنے کی ہمت یکجا کرلی: کہ مذہبی انتہا پسندی کی تہذیب کا نتیجہ خون کی ہولی کی شکل میں مرتب ہورہا ہے، جس کے شکار اکثر مسلمان ہی ہورہے ہیں ۔ غیر مسلم پاکستان سے بھاگ رہے ہیں ، پاکستان میں اسلام کے خود ساختہ ‘‘ٹھیکیدار ’’ اندڈنیشیا جیسے دیگر ممالک کے معاملات کو دیدہ دانستہ طور پر نظر انداز کررہے ہیں ، جہاں بے حرمتی کی سزا موت نہیں ہے۔ بے حرمتی قانون 295-C کی تفصیلات پر بحث ومباحثہ نے بے حرمتی کو جنم نہیں دیا۔ امریکہ کے مسلمان اہداف عقوبت ہونے سے بہت دور ہیں۔ اور شہد کی مکھی کے حملے کا ذکر کرنا بے حرمتی کے حالیہ مباحثہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا ہے۔

نیتجہ؟ میرے اس بیان پر ایک بھی تالی نہیں بجی تھی۔ جب بھی میرے مخالفین نے بے حرمتی کرنے والوں کے لئے موت کی سزا تجویز کی، تو گرجدار شاباشی وتحسین کا اظہار کیا گیا۔ اور قاتل ،قادری کے لئے زبردست داد وتحسین کے کلمات ادا کئے گئے۔ جب میں نے براہ راست سیالوی سے خطاب کیا اور کہا کہ اس کے ہاتھ میں تاثیر کا خون ہے،تو وہ چیخ اٹھا اور بولا کاش کہ میں سلمان تاثیر کا خونی ہوتا ہے۔

اسلامی فاشزم ایک  حقیقت ہے۔ خانہ جنگی کی وجہ سے خون میں ڈوب جانا اس ملک کا مقدر بن چکا ہے۔ میری خواہش ہے کے شک کی بنیاد پر پاکستان کے بارے میں واہیات او رلغویات لکھنا بند کردیں۔ یہ سچائی ہے جوحقیقت میں ایک مسئلہ ہے۔ کیا میں خوفزدہ ہوں؟ بہتیرے دوستوں نے پاکستان چھوڑ نے کے لئے مجھے خطوط لکھے ہیں۔ میں ایسا کیسے کرسکتا ہوں؟ حتی الامکان کسی کو لڑتے رہنا چاہئے ۔ یہی وہ چیز ہے جس کے لئے ہم آئندہ نسلوں کے مقروض ہیں۔

پرجوش

پرویز

 

تنقید یں /تبصرے

جن کا دین پیروی کذب وریا ہے ان کو

ہمت کفر ملے، جرئت تحقیق ملے

حسن بشیر۔۔

میں نے بس کوئی چیز شامل کرنا چاہا۔ تاریخ سے متعلق میں ضرور یہ مشورہ دوں گا کہ آپ نور الدین زنگی ( 1174۔1146) اور سلطان  صلاح الدین  1174-March 4,1193))کو ضرور پڑھیں، سلیمان عظیم الشان (سلطنت عثمانیہ ،1520سے لے کر 1566اس کی موت تک) کو پڑھیں ،قرون وسطی کے دوران ان لوگوں نے یورپ کو فتح کیا۔ خیر آپ یہ نہ سوچیں کہ مذہب تجارت نہیں ہے، اگر کوئی اس سے اتفاق نہیں رکھتا ہے تو مجھے ضرور جاننے دیں اور کچھ معقول خیالات پیش کرنے دیں۔ براہ مہربانی کوئی جذباتی باتیں نہ ہو۔ عہدوسطی بس ایک مثال ہے جیسا کہ میں ایک ملا کو دیکھتا ہوں(عربی لغت کے مطابق ایک بہت ہی محترم انسان یعنی ایک دانشور ،ایک قائد) ،ایک نو آموز اور کم تجربہ کار کو مزید ‘’تحقیق’’ کرنے پر لگا نے کے بجائے کہ اللہ کی مخلوقات کیا ہیں، وہ لوگ انہیں کسی مسلک ہی پر کار بندرہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان لوگوں نے مذہب کو تجارت بنالیا ہے۔ یہ بہت حد تک ناقابل قبول ہے۔ جب کبھی ایسا واقعہ ہوا۔ ملتوی نے مذہب او رکسی دیگر راستہ کا استقبال کیا۔ تذکرہ کے طور پر اسلامی تاریخ کے ماضی میں یہ کسی ایک ملک کی مثال نہیں ہے۔ یہ دولت عثمانیہ کو بھی بتاتا ہے۔ جس کسی کے پاس دل ، دماغ ، اور سوچنے کی صلاحیت ہوگی، وہ اندازہ لگا سکتا ہے ۔ کہ میرے کہنے کا کیا مطلب ہے۔ حتیٰ کہ محمدﷺ نے بھی صلح حدیبیہ کی ۔ کیا آپ نہیں دیکھتے ہیں کہ اس وقت جذبات کو قابو میں رکھا گیا۔

جب آپ کمزور ہوتے ہیں تو آپ اپنی طاقت خود پیدا کرتے ہیں۔ آج کل میں کم وبیش احادیث کی نافرمانی کرنے کی باتیں سنتا ہوں ، حدیث میں ہے کہ : علم حاصل کرو گرچہ اس کے لئے تمہیں چین کا سفر کیوں نہ کرنا پڑے! کیو نکہ جہالت حکمتوں یعنی تدابیر کو کھاجاتی ہے۔

میں نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ کچھ مذاکرات میں شریک ہونے کے لئے آپ رضا مند ہوئے ہیں۔ میں آپ کی ہمیشہ ستائش کی ہے۔ اور آپ کے لئے اپنے دل میں بڑے احترام کا جذبہ رکھتا ہوں ۔ میں اپنے دل کی گہرائیوں سے یہ دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ اور آپ جیسے لوگوں کو محفوظ رکھے۔ میں اس کی بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان ملاؤں اور ان کے خوشامد یوں سے اسلام اور پاکستان کی حفاظت کرے۔ کیا دل سوزی اور المیہ ۔

خالد ملک

 

پرویز ہود بھائی نے جو کچھ بھی کہا ہے، میں اس سے مکمل طور پر متفق ہوں، کہ یہ ملک اب مکمل تباہی کے دہانہ پر ہے۔ یہ ملا لوگ اس پاکستان کو ‘‘پلتیتان’’ کہا کرتے تھے ۔ یہ کتنی افسوسناک بات ہے کہ ‘‘شیطانوں کے ان چیلوں نے اس پاکستان کو آخر پلتیتان ’ بنا ہی دیا’’ اس ملک کے لوگوں نے اسلام کی پندرہ سو سالہ تاریخ میں پہلے سے کہیں زیادہ ہی اسلام کو نقصان پہونچا یا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک صوبہ کے گورنر کے شرمناک قتل کے بعد اس کے قریبی دوست اور اس ملک کے بزدل صدر نے اپنی جان پر خطرہ کے پیش نظر گورنر ہاؤس کے اندر نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی۔ اس زرداری پہ شرم اور اس ملک پر عار!!!

اعجاز خان

 

جناب پرویز ہود بھائی امریکی پلیٹ فارم سے پاکستان کے خلاف بولتے آرہے ہیں ، حقائق کی محدود اور سطحی معلومات کے ساتھ نہایت ہی عالم وفاضل ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ وہ مغربی طرز یا نمونے کی پوری تقلید کررہے ہیں۔ تاکہ دوسرے رشدی کے طور پر معروف ومشہور ہوسکیں ۔ خوب ہود بھائی آپ اب تک صحیح راستہ پر ہیں، آپ کے مالک آپ کو معقول تنخواہ دیں گے۔ کیا آپ کو شعور عام یا عقل سلیم نہیں ہے؟ آپ ‘‘متصب ’’ ہیں۔

ملا کو اقتدار حاصل کرنے دیں۔ بہتیر ے ایسے فرقے ہیں جو بڑی منت وسماجت کے ساتھ اس کا مطالبہ کریں گے کہ انہیں ان کے بدترین کاموں کو کرنے دیں۔ اگر افواج کو زبردستی ہٹالیا جائے ، تو کیا آپ یہ سوچتے ہیں کہ ملا لوگ باقی رہیں گے۔ اور ایران کی مثالی معاملہ کو پیش کریں گے، ایران کے لوگ ایک ہی فرقہ کے ہیں، اس لئے وہاں اسلامی جمہوریت ایک ساتھ منائی جاتی ہے۔ آپ ہی کی طرح یہ ایسے لوگ ہیں جو لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کرتے ہیں ۔ حقیقی بنیں ، اس سے قبل کہ آپ نالے کی نکمی چیزوں کو برباد کریں، زندگی اور تاریخ سے متعلق علم حاصل کریں۔

رضی غزالی

 

ہم سندھی لوگ تخلیقی طور پرخطہ سندھ کے رہنے والے ہیں۔ یہ صوفیوں کی ریاست ہے۔ اسی لئے ہم مکمل طور پر آپ سے متفق ہیں۔ آپ اپنے کو تنہا محسوس نہ کریں۔ ہم لوگ فیاض اور سیکولر بزرگ سلمان تاثیر کی قتل کی مذمت کرتے ہیں۔ محترم جناب! ایک ایسا ہی بلیسفیمی کا واقعہ سندھ میں بھی ہوا تھا، لیکن ہم نے ملاؤں کا ساتھ نہیں دیا۔ یہی واقعہ اگر پنجاب میں ہوتا تو نتیجہ وہی ہوتا جو تاثیر کے ساتھ ہوا، لیکن سندھ میں بہت زیادہ قوت برداشت ہے۔

جناب! میں ملاؤں سے ایک سوال کرتا ہوں: جب نبی پاک زندہ تھے، تو اس وقت ایک عورت نبی پاک کوبہت برا بھلا کہتی تھی، اور ان پر کوڑا کرکٹ پھینکتی تھی، تو اس وقت آپؐ اور صحابہ کرامؓ نے اس عورت کو کچھ نہیں کہا۔ کیا ہمار ا ایمان ان صحابیوں سے بھی زیادہ ہے یا (نعوذ باللہ) ان کا ایمان ہم سے کم تھا؟

آپ کا وفادار

ندیم بلوچ

 

آپ واقعی بڑے ہیں جناب ہود بھائی،اس اصلی جہاد کے لئے اللہ تعالیٰ آپ کو مسرور وخوش قسمت بنائے        (راست گو)

سعید رضوی ، کیلیفورنیا

ہود بھائی کی صحت عقل ودماغ کی آواز مانند صدا بصحرا ہے ۔خواہ یہ کتنا ہی دردناک معلوم پڑے ، لیکن میں نے ہمیشہ کے لئے جناح کے پاکستان کا خواب وخیال ہی چھوڑ دیا ہے۔

عاشق سمرو ، ایچ

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/islamofascism-is-a-reality--pakistan-is-destined-to-drown-in-blood-from-civil-war--pervez-hoodbhoy-اسلامی-فاشزم-ایک-حقیقت-ہے/d/4880

 

Loading..

Loading..