New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 01:20 PM

Urdu Section ( 31 Oct 2017, NewAgeIslam.Com)

Sir Syed Ahmed Khan’s Journey from Conservativeness to Modernity سر سید احمد خان۔ قدامت سے جدیدیت تک کا سفر

 

پرویز امیر علی ہود بھائی

برصغیر ہند و پاک کے دانشور اور عالم جب کسی شخصیت پر تبصرہ کرنے کی غرض سے اپنا قلم اٹھاتے ہیں تو عام طور پر دو انتہاں پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک یہ کہ اپنی پسندیدہ شخصیت کی بے دریغ تعریفیں کی جاتی ہیں اور اس شخص کو بے حد قد آور، عظیم اور بے عیب ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس کو ایسے خوبصورت الفاظ سے نوازا جاتا ہے کہ قارئین کے سامنے ایسی شفاف تصویر بن کر آئے جس پر کوئی ہلکا سا دھبہ بھی نہ ہو۔ دوسری طرف کسی ناپسندیدہ شخص کے لئے سخت سے سخت کلام سے بھی گریز نہیں کیا جاتااور اس کی خوبیوں کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ غرض یہ کہ اردو زبان میں لکھے ہوئے تبصروں اور مضامین میں اعتدال پسندی اور مثبت تنقیدکی روایت عام نہیں۔ کیا یہ اس زبان کی کمزوری ہے کہ اس کے لکھنے اور پڑھنے والوں کی؟

حقیقت یہ ہے کہ انسانی معاشرے ایک طویل ارتقائی عمل سے گزر کر بنتے ہیں اور اسی لئے ان میں ہر قسم کی پیچیدگی اور ٹیڑھا پن ہوناایک فطری بات ہے۔ ان کے اندر تضادات اور اختلافات کی بھرمار بھی ہو سکتی ہے اور اسی لئے انہیں سمجھنے کے لئے مختلف پہلوں کو بیک وقت مد نظر رکھنا پڑتا ہے۔ جس طرح قوس قزح میں کئی رنگ پائے جاتے ہیں، اسی طرح ایک فرد کے اندر بھی طرح طرح کے افکار، جذبات اور رجحانات ساتھ ساتھ رہائش پذیر ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اس کا تجزیہ کرتے ہوئے تمام پہلوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ یقینا شخصیت پرستی درست طرز عمل نہیں اور یہ معروضیت اور حقیقت پسندی کے عین منافی ہے۔

سر سید احمد خان (1898-1817) برصغیر پاک و ہند کی ایک قد آور اور تاریخ ساز ہستی ہیں ، جن کے مداحوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ مگر ساتھ ساتھ وہ ایک متنازعہ شخصیت کے طور پر بھی دیکھے جاتے ہیں اور ان کے نکتہ چین بھی کم نہیں۔ انہیں یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ دائیں بازو اور بائیں بازو، دونوں ان پر تنقید کرتے ہیں۔  ایک طرف کچھ لوگ ان کے مسلمان ہونے پر شک کرتے ہیں کیونکہ ان کے مذہبی افکار و نظریات روایتی طرز سے ہٹ کر ہیں۔ ان پر انگریز دوستی کا الزام بھی لگایا جاتا رہا۔ جمال الدین افغانی، جو ان کے ہم عصر تھے، نے بھی سر سید پر کڑی تنقید کی تھی۔ ان کے بقول سر سید ’نیچری‘، انگریزوں کے خدمت گاراور خان بہادر کے سوا اور کچھ نہیں۔ دوسری طرف بائیں بازو کا اعتراض یہ ہے کہ سر سید نے عورتوں کی پردہ داری کو ضروری قرار دیا تھا اور خواتین کی تعلیم کو مسترد کیا۔ یہ اعتراضات کتنے درست ہیں، اس سے ہمیں سردست غرض نہیں۔ معروضیت کا تقاضا ہے کہ کسی بھی شخص کے کردار پر رائے دینے سے قبل اس زمانے کے سماجی اور سیاسی ماحول سے آشنائی حاصل کی جائے۔

برصغیر پاک و ہند میں انگریز استعماریت کی آمد سے کافی وقت پہلے مسلمان حکومتیں زبوں حالی کا شکار ہو چکی تھیں۔ مغل سلطنتیں اندر سے ٹوٹ پھوٹ رہی تھیں اور اسی لئے سامراجی قوتیں صرف ایک معمولی فوجی نفری کی مدد سے ان کو زیر کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ یاد رہے کہ انگریز نے ہندوستان میں قریباََ ڈھائی سو برس راج کیا لیکن اس کی فوج میں پچاس ہزار سے زیادہ نفری کبھی نہ رہی۔ دوسری طرف بڑے سے بڑے لشکر مقابلے کو اٹھے مگر ان کو شکست در شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ مسلمان جو تیغ و تلوار لے کر عرب سے اس خطے میں آئے ، انہیں بندوقوں اور توپوں کے سامنے پسپا ہونا پڑا۔ لیکن اس کا سبب صرف بہتر اسلحہ نہیں تھا، جدید مواصلاتی نظام، دخانی جہازاور جدید طرز کی حکمت عملی کا بھی بہت بڑا کردار تھا۔ بالآخر فاتح بنے مفتوح اور حاکم بنے محکوم۔

سر سید نے مسلمانوں کی اصلاح و ترقی کا بیڑا اس وقت اٹھایا تھا جب مسلمان انگریزوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ 1857 ء کی جنگ میں مسلمان، انگریز استعماریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے لیکن انہیں نہایت بے دردی سے کچل دیا گیا۔ ہر طرف نعشوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے اور وہ جنگ ایک ناکام بغاوت ثابت ہوئی۔اس کے نتیجے میں مسلمانوں پر حالات مزید تنگ ہونا شروع ہو گئے۔ سر سید احمد نے اس صورت حال کو مسلمانوں کے لئے نقصان دہ پایا اور مراد آباد پہنچتے ہی ایک کتابچہ لکھنا شروع کیا ، جس کا عنوان تھا’ اسباب بغاوت  ہند‘۔ اس کتابچے میں انہوں نے یہ ثابت کرنا چاہا کہ مسلمان باغی ہرگز نہیں اور وہ حکومت سے وفاداری کا عہد کئے ہوئے ہیں۔ یہ تصور درست نہیں کہ وہ انگریزوں سے نفرت کرتے ہیں، البتہ انگریزوں کے امتیازی سلوک کی وجہ سے وہ سخت تکلیف دہ حالات میں مبتلا ہو گئے اور یہ بغاوت اسی کا نتیجہ ہے۔ مسلمانوں کی بے چینی کی بنیاد ان کا معاشی طور پربدحالی کا شکار ہونا ہے۔ سر سید کے مطابق اس اضطراب کا تدارک ہونا چاہئے اور اصلاح احوال جلد ہونا چاہیے وگرنہ ”مسلمان سائیس، خانساماں، خدمت گار اور گھاس کھودنے والوں کے سوا اور کچھ نہ رہیں گے۔ “

مگر وہ کیا سبب ہے جس نے مسلمانوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا اور یہ کہ حالات کو کیسے سدھارا جائے؟ اس اہم ترین سوال پر بہتوں نے سوچا ہے اور اس کے بہت سے جواب دیئے گئے ہیں۔ سر سید کا اپنا موقف وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ بدلتا گیا لیکن منزل و مقصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مسلم اشرافیہ کے مفادات کا کیسے تحفظ کیا جائے، یہ ان کی تحریر ، تقریر اور عمل کا زندگی بھرمحور اور مرکز رہا۔

ابتدائی دور کی روایت پرستی

سر سید احمد خان کا نام جدیدیت او رمغربی سوچ کے ساتھ جوڑا جاتاہے مگر یہ بھی درست ہے کہ اپنی جوانی کا دور ختم ہونے تک وہ روایتی مذہبی فکر کے حامل تھے ۔ ان کی پیدائش 1817ء میں دہلی کے ایک متمول گھرانے میں ہوئی جس میں کئی نوکر چاکر تھے ۔ سر سید کے والد میر تقی ، اکبر ثانی بادشاہ کے دربار میں تنخواہ دار تھے ۔ حالات بتدریج بگڑ تے چلے گئے او رایک وقت آیا کہ بادشاہت محض نام کی رہ گئی ۔ جن لوگوں کو بڑے بڑے خطابات اور منصب دیئے گئے تھے، انہیں پہلے کی طرح مراعات او رلوازمات دینا اب ممکن نہ رہا ۔ ایسے میں اشرافیہ میں سے بہت سے نوجوانوں نے سرکاری ملازمتوں کا رخ کرنا شروع کردیا۔

سرسید کے والد کے گھر کا ماحول ویسا ہی تھا جیسا اکثر اشرافیہ کے ہاں ہوا کرتا ہے۔ سرسید کی سوانح عمری’ حیات جاوید‘ میں مولانا الطاف حسین حالی نے اس کی پوری تفصیل بیان کی ہے۔ سرسید کے والد نے دہلی کے حضرت شاہ غلام علی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور ان کا زیادہ وقت عبادت اور دربار کے پھیروں میں صرف ہوتا تھا ۔ دوسری طرف سرسید کی والدہ بھی صوم و صلوٰۃ کی سختی سے پابند تھیں اور انہوں نے ہی سرسید کی اخلاقی او رمذہبی تربیت کا ذمہ اٹھا رکھاتھا ۔ بسم اللہ کی رسم کے بعدقرآن مجید ناظرہ پڑھنے کی غرض سے سرسید کے لیے ایک استانی کا بندوبست کیا گیا ۔ اردو کے ساتھ ساتھ انہوں نے مولوی حمید الدین اور دیگر معلموں سے فارسی اورعربی بھی سیکھی، جس کے بعد وہ بڑے شوق سے مختلف مذہبی کتابیں پڑھنے لگے ۔ فتح پورسیکری پہنچنے کے بعد سرسید نے تہیہ کیا کہ جو مذہبی کتابیں انہوں نے قدرے بے توجہی او رلا پرواہی کے ساتھ پڑھی تھیں، ان پر از سر نوغور کیا جائے ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ مختلف علمائے کرام سے رجوع کرتے رہے ۔

اس مذہبی جوش اور جذبے کااظہار ہمیں سر سید کی کئی تصانیف میں نظر آتاہے ۔1848ء میں انہوں نے ایک کتاب تحریر کی جس کا عنوان ہے ’ قول متیں درابطال حرکت زمیں‘ جس میں سر سید نے قدیم تصور کے موافق بحث کی کہ زمین دراصل ساکن ہے اور سورج بشمول دیگر ستارے اور سیارگان اس کے گرد گھومتے ہیں ۔اس مقالے کے حق میں انہوں نے تین دلائل پیش کئے جن کی تفصیلات ایک الگ مضمون کی متقاضی ہیں ۔ یہ کتاب انہوں نے ان دوست اور احباب کے اصرار پر لکھی تھی جو جدید فلکی نظریات سے اتفاق نہ کرتے تھے اور جو قرآنی آیات سے یہ استباط کرتے تھے کہ دراصل سورج حرکت پذیر ہے،زمین نہیں ۔ کئی برسوں کے بعد سرسید نے اپنی کتاب اور اس میں درج دلائل کو غلط قرار دیتے ہوئے اپنے مقالے سے برأت ظاہر کی ۔

سر سید کے ابتدائی زمانے کے مضامین قسم قسم کے مذہبی معاملات کا احاطہ کرتے ہیں ۔ ان کے عنوانات سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ موضوعات روایتی طرز کے ہیں ۔ مثال کے طور پر :

1۔’’ کلمۃ الحق‘‘ (پیری مریدی کے مروجہ طریقوں کی مذمت میں )

2۔ ’’ رسالہ راہِ سنت در ردِ بدعت‘‘ ( اہل حدیث کے مشرب کے موافق سنت کے تائید اور بدعت کے رد میں)

اس زمانے میں سر سید، شیخ احمد سرہندی ، سید احمد بریلوی اورشاہ ولی اللہ کے خیالات اور نظریات سے بہت زیادہ متاثر تھے ۔یہ وہی زمانہ تھا جس میں وھابی تحریک کے اثرات عرب سے یہاں آپہنچے تھے اور بر صغیر کے مسلمانوں میں ہر طرف یہی سوچ آہستہ آہستہ سرایت کرر ہی تھی ۔ اس امر کاتذکرہ ہمیں چند ایسی کتابوں میں بھی ملتا ہے جو اس زمانے کے انگریز مصنفین کی لکھی ہوئی ہیں ۔ مثال کے طور پر :

Wahhabies in Delhi in Ledlies Miscellany

(Agra :J, Park Leadlies.1852, pp 486-492)

The Mohammedan Controversy,William Muir

(T.T. Clark, Delhi, 1896, pp 65-101)

اگرچہ سر سید کے ابتدائی زمانے کی مذہبی تحریروں کو کم قارئین میسر آئے،تاہم انہیں مذہبی اور علمی حلقوں کی محفلوں میں دعوتیں ملتی رہتی تھیں اور وہ اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے تھے ۔

یہاں ایک واقعہ کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا ۔ سر سید کو اکثر مولانا صدر الدین آزردہ کے گھر بلایا جاتا تھا جہاں دہلی کے مذہبی اسکالر زاکٹھے ہوا کرتے تھے ۔ایسی ہی کسی نشست میں ایک دن سر سید کے اس مضمون کو زیر بحث لایا گیا جس میں انہوں نے بدعت کی پہچان او راس کی اقسام پر روشنی ڈالی تھی ۔ ان کا مو قف یہ تھا کہ جس عمل کا ذکر قرآن مجید یا حدیث میں نہ ملے، اس سے ہر مسلمان کا گریز کرنابہتر ہے۔ اس موضوع پر سوال در سوال اٹھتے چلے گئے اور بالآخر بحث اس نکتے پر آن پہنچی کہ کیا ایک سچے مسلمان کے لئے آم کھاناجائز ہے کہ نہیں؟ واضح رہے کہ عرب کے گرم خطے میں آم جیسے پھل کا اگنا ممکن نہ تھا او ر اس بنا پر قرین قیاس ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بھر آم کو دیکھا تک نہ ہوگا۔ اس بحث پر اپنا تفصیلی موقف دینے کی غرض سے سرسید نے ایک مضمون تیار کیا جو تیس صفحات پر مشتمل تھا اور جس میں مختلف احادیث و روایات کی مدد سے وہ ایک ٹھوس نتیجے پر پہنچے ۔سرسید کے بقول آم کھانا اگرچہ گناہ نہیں اور اسلام کی رو سے اس کی ممانعت بھی نہیں، البتہ اگر کوئی مسلمان اس لئے آم نہیں کھاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کھانا ثابت نہیں ، تو یوم آخرت میں فرشتے اس کے پاؤں چومیں گے ۔ گویا آم نہ کھانے سے افضل ہے۔

اسلامی تہذیب سے سرسید کا لگاؤ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے آئین اکبری جیسی مشکل کی اصلاح کا ذمہ اپنے سر لیا ۔ یہ کتاب فارسی، عربی،ترکی ،ہندی اور سنسکرت کا ایک ملغوبہ تھی جسے آپ نے بڑی محنت اور جانفشانی سے مکمل کیا۔ اس کے بعد سرسید نے مرزا اسداللہ خاں غالب سے دراخواست کی کہ وہ اس کے لئے ایک تفریظ تحریر فرمائیں ۔ غالب دہلی کے نامی گرامی شعراء اور دانشوروں میں شمار ہوتے تھے اور سرسید کو توقع تھی کہ ان کی اس کاوش کو سراہا جائے گا۔ ستم ظریفی یہ کہ سرسید کی امیدوں کے برعکس غالب نے الٹا یہ لکھ دیا کہ اصل تعریف کے قابل تو انگریز وں کے آئین و ایجادات و اختراعات ہیں نہ کہ اکبر اور ابو الفضل کے ۔ سر سید اس غصے سے بھر گئے اور غالب کی تفریظ شامل کرنے سے انکار کردیا۔

(مولانا حالی بتاتے ہیں کہ تعلقات کے سرد مہر ی کو دور کرنے کی خاطر سرسید نے غالب کو اپنے گھر مدعو کیا ۔ اس وقت غالب رامپورسے مراد آباد پہنچے تھے اور کسی سرائے میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔ یہ دعوت قبول کرتے ہوئے غالب بمع بوتل اچانک سر سید کے گھر پہنچ گئے ۔ مگر یہ ایک الگ کہانی ہے۔)

فکری سفر کا آغاز

ایک ایسا شخص جو مذہبی دلائل کی مدد سے زمین کو ساکت ثابت کرناچاہتا تھا او رجس کے خیال میںآم کھانا بھی ایک نا پسندیدہ فعل تھا، آخر کار سائنس اور جدیدیت کا سب سے بڑا علم بردار کیونکر بنا ؟ جس کی پرورش اور تعلیم و تربیت خالصتاً تنگ اور روایتی مذہبی ماحول میں ہوئی، وہ ایک کشادہ اور کھلے ذہن کا مالک کیسے بن سکا؟ ان سوالات کا میرے پاس کوئی خاطرخواہ اور حتمی جواب نہیں ، لیکن ہم اس تبدیلی کے اسباب دو صدیوں پہلے سماجی اور سیاسی ماحول میں تلاش کرسکتے ہیں ۔

مولانا الطاف حسین حالی کے قلم سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ مغل بادشاہتوں کا آفتاب لب بام آگیا تو اس کے بعددہلی کے رئیس زادے بے راہ روی کا شکار ہوگئے تھے ۔ ان کی شامیں مجرموں میں بسر ہوتیں جہاں نامور طوائفیں ناچتیں اور گاتیں، اور جہاں شراب کے دور چلتے تھے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ محض انیس برس کے سن میں سرسید کی شادی کرادی گئی کہ وہ ایسے ماحول سے پرہیز کرسکیں ۔ اس کے باوجود وہ اعتراف کرتے ہیں: ’’ ہم بھی اسی رنگ میں مست تھے ۔ ایسی گہری نیند سوتے تھے کہ فرشتوں کے اٹھائے بھی نہ اٹھتے تھے ‘‘۔

حالی کے مطابق سرسید نے جس حیرت انگیز طریقے سے خود کو اس دلدل سے نکالا ،وہ ان کی اخلاقی طاقت کا سب سے پہلا کرشمہ ہے۔ اس وقت ان کی عمر اٹھارہ ، انیس برس تھی او رآگے ایک فیصلہ کن موڑ ان کا منتظر تھا ۔ کیا اپنی خاندانی ریت اور روایت کو برقرار رکھتے ہوئے شاہی دربار میں کوئی عہد ڈھونڈا جائے یا پھر انگریز حکومت کے دربار میں کوئی ملازمت تلاش کی جائے؟ میر تقی کے انتقال کے وقت سرسید کی عمر بائیس برس سے کچھ کم تھی اور اب اس نوجوان کو فی الفور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی ضرورت آن پڑی ۔ چونکہ شاہی خزانے خالی ہوچکے تھے اور بادشاہ خود مقروض تھا، اس لئے سرسید نے انگریز کی قائم کردہ عدالت میں ملازمت قبول کرلی جہاں انہیں سررشتہ دار کامعمولی عہدہ دیا گیا۔ گوکہ شروع میں یہ نوجوان انگریزوں کے قوانین اور دستور سے نابلد تھا، جلد ہی اس نے ان کے طور طریقے سیکھ لئے اور انگریزی زبان پر عبور حاصل کرلیا ۔ انگریزوں نے اس باصلاحیت اور ذہین شخص کو ترقی دینے میں دیر نہ کی اوریوں سر سید 1839میں نائب منشی کے عہدہ پر فائز کردیے گئے ۔

اس کا کوئی یقینی جواب نہیں مل سکے گا کہ جدیدیت کی جانب سرسید کا علمی اور فکری کس نکتے سے شروع ہوا ۔ ایک نئے ماحول کے نئے تقاضے تھے جدھر انگریزوں کی رواروی رہتی تھی ۔ ان لوگوں کی صرف زبان ہی مختلف نہ تھی بلکہ طرز گفتگو اور سو چ کا انداز بھی الگ تھلگ تھا۔جب فتح پور سیکری میں سر سید کا تقرر صدرامین کے عہدہ پر ہوا تو انہیں انگریزوں کے ساتھ تبادلہ خیال اور گفت و شنید کے مزید مواقع ملنے لگے ۔ آگرہ بھی اکثر جانے کو ملتا تھا اور وہاں بھی وہ طرح طرح کے لوگوں سے ملتے تھے ۔ ایک دن ریورنڈجے جے ممورنے انہیں تجویز دی کہ وہ میکانیات کی کتاب فارسی سے اردو میں ترجمہ کریں۔ اس تجربے کے بعد سرسید نے کئی دیگر سائنسی کتاب کا ترجمہ بھی کیا اور ان کی اس خوبی کے سبب انگریز حکومت نے انہیں ایک بہترین مترجم کے طور پر قبول کر لیا ۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ بھی ہوا کہ سر سید سائنس کے بنیادی اصولوں سے بھی آشنا ہوتے چلے گئے ۔

انگریز کی نوکری کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی تنزلی اور بد حالی کا سوال سرسید کے ذہن میں مستقل گھومتا رہا ۔ دین اسلام اپنی اصل اور شفاف شکل میں انسانوں کی ہدایت کے لئے نازل ہوا تھا اور ایک زمانے میں اس کے پیروکاروں نے دنیا کو علم کے چراغوں سے منور کردیاتھا۔ ایک وقت تھا کہ اس کی شان و شوکت دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پھیلی ہوئی تھی، مگرآج اس کے پیروکاروں کے لئے یہ تمام عظمتیں صرف ماضی کی یادیں بن کر رہ گئی ہیں اب ان کے نصیب میں فقط ذلت و خواری دکھائی دیتی ہے ۔ ایسا کیوں ہوا او رکیا اس سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟ ابتدا میں سر سید کی سوچ اس معاملے میں عام ڈگر سے ہٹ کر تھی ۔ جیسا کہ ہمیشہ سے یہ سمجھا گیا ہے کہ مسلمانوں کا تہذیبی تنزلی ان کی اخلاقی کمزوریوں ، عیش و عشرت کے شوق اور اندر کے نفاق کا نتیجہ ہے ۔لہٰذا اپنی کھوئی ہوئی عظمتوں تک دوبارہ پہنچنے کے لئے ہمیں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رسی کو مضبوطی سے تھا منا ہوگا اور قرآن و سنت کے احکامات پر سختی سے عمل کرنا پڑے گا۔ پھر اسباب ز وال میں سقوط بغداد کو بھی شامل کیا جاتا تھا ۔ منگولوں کے اس حملے کے بعد زمین پر گویا لہو کی بارش ہوئی تھی او ردجلہ تک کا پانی سرخ ہوگیا تھا ۔ اسی طرح زمانہ جدید میں استعماریت کو زبوں حالی کاذمہ دار ٹھہرایا جاتا تھا اور ہندوستان کے کئی علماء نے انگریز کے تسلط کے خلاف جہاد کا اعلان بھی کیا تھا ۔ گویا کہ مسلمانوں کو اجتماعی شعور کے مطابق ان کی بد حالی او رموجودہ حالت کے اسباب بیرونی ہیں، داخلی نہیں ۔

تنزلی کی یہ وجودانیسویں صدی میں عام پیش کی جاتی تھیں اور ستم یہ کہ آج اکیسویں صدی میں بھی ہر طرف یہی باتیں سننے میں آتی ہیں ۔ لیکن ایک ذی شعور او رہو ش مند ذہن کے مالک کو ان سے ضرور تشنگی محسوس ہوتی ہے۔ آخر دوسری قوموں پر بھی خوب مصیبتیں آئی ہیں او ران لوگوں میں بھی شخصی کمزوریاں کچھ کم نہیں ہیں ۔ پھر بھی وہ دنیاوی معاملات میں مسلمانوں سے کہیں آگے نکل گئے ہیں ۔ جیسے جیسے سرسید اس پہلو پر غور کرتے گئے اور اپنے اطراف کے ماحول اور حالات کے دیکھتے چلے گئے ، ویسے ویسے ان کی آنکھیں کھلتی چلی گئیں ۔

1857ء کی جنگ پورے ہندوستان کی تاریخ پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔ کچھ اس کو پہلی جنگ آزادی کے نام سے جانتے ہیں اور کچھ اسے غدر یا بغاوت کہتے ہیں ۔ دس مئی 1857ء کے روز دہلی میں ہندو مسلم باہم اٹھ کھڑے ہوئے اور قتل و غارت گری کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا ۔ اس سے تقریباً ڈھائی برس قبل سرسید کا تبادلہ دہلی سے بجنور ہو چکا تھا ۔ وہاں جیسے ہی اس طوفان کی خبر پہنچی تو باغیوں کی حمایت میں لشکر تیار ہونے لگے ۔ سرسید کے لئے یہ سخت ذہنی اذیت کا وقت تھا ۔ ایک طرف وہ مسلمانوں کی محکوم قوم کے ایک اعلیٰ رکن تھے جنہیں کچھ ہی وقت پہلے بہادر شاہ ظفر کے شاہی دربار میں ایک موروثی خطاب عنایت کیا گیا تھا ۔ ( جس کے بعد ان کا پورا لقب جوادالدولہ سید احمد خان عارف جنگ بنا۔) انہیں مسلمانوں کی بے چارگی ، بے بسی اور شدید کمزوری کا بھی پورا احساس تھا ۔ سرسید کو کامل یقین تھا کہ ایک دیوہیگل طاقت سے ٹکرا نا بے سود اور تباہی کو دعوت دینا ہوگا۔ آپ اس سوچ سے اتفاق کریں یا اختلاف مگراس زمانے کی اس معروضی حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ یہ الگ بات کہ کوئی بھی یہ تصور نہیں کرسکتا تھا کہ صرف نوے برس کے اندر اندر انگریزوں کو اس خطے سے رخصت ہونا پڑے گا ۔ لہٰذا سرسید نے حکمت کے تحت اوراپنی قوم کی بقا کی خاطر انگریز سرکار کی بھر پور حمایت کی ۔ جونہی دہلی سے بجنور میں غدر کی خبر پہنچی تو سر سید اس جگہ پہنچے جہاں بیس (20) یورپین اور یورایشین رہتے تھے ۔ ان میں عورتیں او ربچے بھی شامل تھے ۔ سرسید نے انہیں تحفظ فراہم کرنے کا صرف وعدہ ہی نہیں کیا، بلکہ عملی طور پر خودبھی ان کے گھروں کے سامنے مسلح ہوکر رات بھر ٹہلتے رہے ۔ گوکہ انہوں نے انگریزوں کو بچانے کی حتی الامکان کوشش کی لیکن حالات ایسے بے قابو ہوئے کہ سرسید کے اپنے کئی رشتے دار تک انگریزوں کے ہاتھوں قتل ہوگئے ۔

1857ء کے سانحے سے سرسید نے یہ نتیجہ اخذ کہ اب مسلمانوں کو انگریز سے وفاداری کاکھلم کھلا اعلان کردینا چاہئے ۔ اس غرض سے انہوں نے Loyal Mohamedans of Indiaکے عنوان سے کتاب بھی تحریر کی تھی ۔ ساتھ ساتھ وہ مذہبی دلائل کی مدد سے ان فتوؤں کو بھی مسترد کرتے گئے جو انگریز کے خلاف جہاد مسلمان پر واجب قرار دیتے تھے ۔ اس کے بعدان پر انگریز کا ایجنٹ اور دلال ہونے کا الزام لگتا رہا ۔

روایتی تعلیم پر تنقید

غالب کے روکھے پن کا ہم پچھلے صفحات میں ذکر کر چکے ہیں ۔ جب سر سید نے ان سے آئین اکبری کے لئے تقریظ لکھنے کی درخواست کی تو غالب نے اس کا جواب ایک سخت فارسی نظم کی صورت میں دیا، جس کا لب لباب یہ تھا کہ اپنا وقت اکبر کے آئین پر ضائع نہ کرو اور یہ کہ اب زمانہ جدیدیت کا ہے اور آئین تو اب کلکتے میں بنتا ہے ۔ غالب نے لکھا کہ اصل کمال تو ان لوگوں کا ہے جنہو ں نے سائنسی طریقہ کار کو اپنایا ہے او رجو ایسے دخانی جہازوں میں سفر کرتے ہیں جن پر ہوا کے چلنے ،نہ چلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ غالب نے سرسید کو نصیحت کی وہ ماضی پرستی ترک کر کے مستقبل کا سوچیں ۔ اگرچہ وقتی طور پر سرسید کو غالب کی یہ باتیں ضرور کھٹکی ہوں گی مگران کی اپنی سوچ بھی ترقی پسندی کی طرف مائل ہورہی تھی۔ انہوں نے اس واقعے کے بعد آئین اکبری کا ذکر تک کرنا چھوڑ دیا۔

چالیس یا پینتالیس برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے سرسید پر بھی یہ واضح ہوچکا تھا کہ جو جادو کی چھڑی انگریز نے اپنے ہاتھ میں پکڑ رکھی ہے، اس کا نام جدید تعلیم اور سائنس ہے۔ یہ وہ طرز فکر ہے جو صرف عقل کی حاکمیت قبول کرتی ہے اورجس کے استدلال کی بنیادیں منقولاتی نہیں ، تجرباتی ہیں ۔ سرسید نے مشاہدہ کیا کہ مسلمان نوجوان اسے اپنانے سے گریز اں ہیں، جب کہ ہندو اسے بخوشی اپنارہے ہیں ۔ سرسید کے ہم عصر اور شاعر اکبر الہ آبادی کی یہ نظم بھی اس امر کی بخوبی نشاندہی کرتی ہے:

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبر         ہمیں تو ان کی خوشحالی سے ہے یاس

یہ عاشق شاہد مقصود کے ہیں     نہ جائیں گے و لیکن سعی کے پاس

سناؤں تم کو اک فرضی لطیفہ      کیا ہے جس کو میں نے زیب قرطاس

کہا مجنو ں سے لیلیٰ کی ماں نے      کہ بیٹا تو اگر کر لے بی اے پاس

تو فوراً بیاہ دوں لیلیٰ کو تجھ سے      بلا دقت میں بن جاؤں تری ساس

کہا مجنوں نے یہ اچھی سنائی       کجا عاشق کجا کالج کی بکواس

کجا یہ فطرتی جوش طبیعت        کجا ٹھونسی ہوئی چیزوں کا احساس

بڑی بی آپ کو کیا ہوگیا ہے ؟     ہرن پر لادی جاتی ہے کہیں گھاس

یہ اچھی قدر دانی آپ نے کی مجھے  سمجھا ہے کہ کوئی ہر چرن داس

دل اپنا خون کرنے کو ہوں موجود    نہیں منظور مغز سرکا آماس

یہی ٹھہری جو شرط وصل لیلیٰ     تو استعفیٰ مرا با حسرتو یاس

ہندوستان کے اسکولوں او رکالجوں میں ہر طرف ہر چرن داس بھرے ہوئے تھے ۔ دوسری طرف مسلمان نوجوان یا غیر تعلیم یافتہ رہنا پسند کرتے تھے یا پھر ان کی تعلیم مدارس میں ہوتی تھی ۔ ان حالات میں سرکاری ملازمتوں میں ہندوؤں کے لئے کھلے مواقع تھے اور مسلمان ان کے اہل نہ تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ لارڈمیکا لے کی تعلیمی اصلاحات کے بعد مسلمانوں میں پہلے سے ہی ایک شدید رد عمل پیدا ہوچکا تھا ۔ مولانا حالی لکھتے ہیں :

’’1835ء میں کلکتہ کے مسلمانوں کو جب اطلاع ملی کہ انگریز سرکار ہندوستان میں مغربی تعلیم رائج کرنے کا اہتمام کررہی ہے تو 8000علماء نے ایک عرضی پر دستخط کئے ‘‘۔

علماء کی اکثریت انگریزی اور مغربی علوم کو نفرت کی نظر سے دیکھتی تھی ۔ اس زمانے سے کوئی دو سو برس قبل شیخ احمد سرہندی اور دیگر علماء و مشائخ نے ریاضی اور سائنس کے خلاف فتویٰ سنا دیئے تھے او رمسلمانوں کو سختی سے یہ تلقین کی تھی کہ ان کی تعلیم خالصتاً مذہبی نوعیت کی ہونی چاہئے ۔

سرسید روایتی طرز تعلیم سے بخوبی واقف تھے کیونکہ وہ خود بھی اسی نظام سے گزر چکے تھے ۔ جدید دنیا سے آشنائی نے ان کو قائل کردیا تھا کہ روایتی تعلیمی نظام مسلمانوں کی زبو ں حالی اور پسماندگی کا اصل سبب ہے۔اس نظام پر تنقید کرتے ہوئے وہ اپنے ایک مقالے میں لکھتے ہیں :

’’ اب میں نہایت ادب سے پوچھتا ہوں کہ جو جو کتب مذہبی اب تک ہمارے ہاں موجود ہیں اور پڑھانے میں آتی ہیں ، ان میں کون سی کتاب ہے جس میں فلسفہ مغربیہ اور علوم جدیدہ کے مسائل کی تردید یا تطبیق مسائل مذہبی سے کی ہو؟ اثباتِ حرکت زمین او ربطال حرکت و دوری آفتاب پر جو دلیلیں ہیں، ان کی تردید کس سے جاکر پوچھوں؟‘‘ (2 ) (2)(3) ۔(مقالات سرسید، جلد وال، صفحہ 97-98)

وہ نوجوان جو دہلی اور فتح پور سیکری میں پورے شوق سے مذہبی کتاب کامطالعہ کرتا تھا، اسی کو اب شدید تشنگی کے احساس نے گھیر لیا او روہ یہ کہنے پر مجبور ہوگیا :

’’ پس ایسی حالت میں ان مذہبی کتابوں کا نہ پڑھناہی ان کے پڑھنے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ ہاں، مسلمان مرد میدان ہیں اور اپنے مذہب کو سچا سمجھتے ہیں تو بے دھڑک میدان میں آویں او رجو کچھ ان کے بزرگوں نے فلسفہ یونانیہ کے ساتھ کیا، وہ مغربیہ اور علوم جدیدہ کے ساتھ کریں۔ تب ان کا پڑھانا مفید ہوگا ، ورنہ اپنے منہ میاں مٹھوں کہہ لینے سے کوئی فائدہ نہیں ‘‘۔(3) (3) ۔(مقالات سرسید، جلد وال، صفحہ 97-98)

معقولات پر اصرار

سرسید یہ اعتراض پوری قوت سے کیا جاتا ہے کہ و ہ عقل و خرو کوفوقیت دینے کی طرف مائل ہیں ، جب کہ اسلام کی اساس ایمان پر ہے۔ یہ ایک دلچسپ موضوع ہے۔ اسلامی تاریخ میں منقولات کا معرکہ بہت پرانا ہے ۔ اس کا آغاز اسلام کی اولین صدی کے چند سال بعد ہی ہوگیا تھا ۔ ان دو نظریات کا ٹکراؤ جبر اور قدر کے مسئلے سے شروع ہوا تھا ۔ ایک طرف جبریے یہ کہتے تھے کہ انسان اپنی تقدیر کا مالک ہر گز نہیں ہے اور وہ گویا قسمت کا بے اختیار غلام ہے جس کو ہوا کا جھونکا ادھر یا ادھر کہیں بھی لے جاسکتا ہے۔ دوسری طرف قدری یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی راہ بنانے کا کافی سامان مہیا کیا ہے اور یہ کہ انسانی تقدیر پتھر پر لکیر کی طرح غیر مبدل نہیں ۔ آٹھویں صدی کے وسط میں ان دو فلسفوں کے پیروکار وں کے مابین زبردست او رخوں ریز تصادم ہوئے ، جس کے بعدبغداد میں واصل ابن عطاء نے معتزلہ مکتب فکر قائم کیا۔ معتزلہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اسلام کی بنیاد میں صرف ایمان ہی نہیں، بلکہ منطق و مشاہدے کا بھی دخل ہے۔ ان کے مطابق علم کا حصول وحی و الہام کے علاوہ مشاہدات اور عقل سے بھی ہوتا ہے۔وہ خدا کا وجود عقلی دلیلوں سے ثابت کرنا چاہتے تھے اور قرآنی آیات کی تاویل و تشریح بھی علم اور منطق کی روشنی میں کرتے تھے ۔ اسی طرح وہ احادیث و روایات کو بھی مستند او رغیر مستند کے درجوں میں بانٹتے تھے ۔ المامون ، المتعصم اور الواثق کے شاہی درباروں میں معتزلہ طرف فکر کو سرکاری سرپرستی اور تحفظ حاصل تھا ۔ شہزادے ، منصف ، اساتذہ ، طبیب ، ماہر فلکیات ، تاجر وغیرہ غرض یہ کہ سلطنت کے تمام بار سوخ افراد اس فکر کے قائل تھے ۔ رواداری اور آزاد خیالی کے اس ماحول نے بغداد کو دنیا کے تمام علوم کا مرکز بنا دیا تھا ۔

سر سید کے بارے میں کہا جاتاہے کہ وہ نئے زمانے کے معتزلہ ہیں ۔ ان کی تحریروں کا جائزہ بتاتا ہے کہ وہ اکثر مقامات پر منقولات کی اندھی تقلید کو مسترد کرتے ہوئے اجتہاد اور تحقیق کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔ فکری ارتقاء کے ساتھ ساتھ ان کا ابتدائی اور روایتی دور کہیں پیچھے رہ گیا اور اب وہ اس بات پر قائل نظر آنے لگے کہ سائنسی دریافتوں اور ایجادات نے کائنات کی اصل حقیقت ہم پر روشن کردی ہے۔سائنسی علوم نے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیاکہ قوانین قدرت میں کسی میں ماورائی طاقت کی دخل اندازی نہیں ہوتی بلکہ موجودات عالم میں جو کچھ وقوع پذیر ہے ، خواہ اس کا تعلق مادی اشیاء سے ہو یا انسانی معاشرے سے ، اس کے اسباب دنیاوی ہوتے ہیں ۔ لہٰذا مسلمانوں کے دنیاوی مسائل دعا ،تعویز ، پیروں کی جھولیاں بھرنے اور نذرد نیاز دینے سے حل نہیں ہوسکتے ۔ ان کاکہنا تھا کہ مسلمانوں کی نجات اس میں ہے کہ وہ ان توہمات کے سحر کو توڑ ڈالیں۔

سرسید نے قرآن مجید کی تشریح و تاویل کا جو خاکہ پیش کیا ، وہ عین معتزلہ کی طرز پر تھا۔ اس کے تین حصے ہیں: اوّل ، کسی قرآنی آیت کے اصل معنی جاننے کے لئے متعلقہ عربی کے الفاظ کے تمام تر معنی ومفہوم پر تحقیق کی جائے ، اس لئے کہ وقت کے ساتھ ساتھ معنی اور مفہوم میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں ۔ دوم، کسی آیت کی ایک سے زائد ممکنہ تفاسیر کی صورت میں صرف وہ تفسیر قبول کی جائے جو سائنس اور منطق کی میزان پر پوری اترے۔ سوم، قرآن مجید کی تاویل ابن رشد کی قائم کردہ فکری روایت کے مطابق کی جائے اور یہ کہ جہاں جہاں کوئی آیت، متعین سائنسی یا فطری حقائق سے بظاہر متصادم معلوم ہوتی ہو، وہاں تمثیلی یا علامتی تشریح کی جائے ۔

سرسید کا مجوزہ طریقہ کار اس زمانے کے علمائے دین کی روایتی سوچ سے بلکل متصادم تھا ۔ ان علماء کے مطابق موجودات عالم کی سائنسی تشریحات ،قرآن اور احادیث سے متصادم ہیں، اس لئے لامحالہ وہ غلط ہیں ۔ وہ تمام معجزات کو اصلی اور حقیقی معنوں میں لیتے تھے ۔ دوسری طرف اگرچہ سرسید بھی قرآن مجید کے کلام الہٰی ہونے پر ایمان رکھتے تھے، مگر وہ علماء کے نکتہ نظر سے متفق نہ تھے ۔ سرسید کے مطابق موجوداتِ عالم کی سائنسی تشریحات درست او رثابت شدہ ہیں اوراس لئے ہم کو کلام الہٰی کے معنی ومفہوم انہی سچائیوں کی روشنی میں متعین کرناہوں گے ۔ چنانچہ سرسید نے کائنات کی تخلیق ،آدم و حوا کا ہبوط ، آسمان ، وحی اورالہام کی حقیقت ،فرشتے ، جن اور شیطان ، حشر نشر ، معراج ،معجزے او رکرامات وغیرہ کی عقلی اور تمثیلی تشریحات کیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت نوح علیہ السلام وغیرہ کے قصص میں جو واقعات قانون قدرت سے متصادم معلوم ہوئے، وہاں وہاں عقلی تشریحات پیش کیں ۔

سرسید نے ایک طویل فکری سفر طے کیا اور اس کی رو شنی میں آپ نے قرآن پاک کی تشریح و تاویل کا ایک خاص طریقہ وضع کیا، جس کا اطلاق وہ مختلف موضو عات اور مسائل پر کرتے چلے گئے ۔ ان کے علمی اور تحقیقی مضامین کی فہرست بہت طویل ہے۔ ذیل میں دئے گئے چند عنوانات سے قارئین اس کابخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں :

1۔ دنیا کب بنی اور کتنی مدت میں، او ر مذہب اسلام سے اس کی مطابقت ۔

2۔ کیا دنیا و مافیہا چھ دن میں بنے؟

3۔ انسان کی پیدائش ،قرآن مجید کی رو سے۔

4۔ ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت پر انسان کی ترقی ۔

5۔ سورج کی گردش ، زمین کے گرد قرآن مجید سے ثابت نہیں ۔

6۔ خضر: کیا درحقیقت کوئی شخص تھے یا صرف فرضی؟

7۔ غلامی کی لعنت سے اسلام کی بریت۔

8۔ کیا نیچر کو ماننے سے خدا معطل ہوجاتاہے؟

سرسید کئی ایسے نتائج پر پہنچے جن پر علمائے دین کو شدید اعتراض تھا۔ مثلاً انہوں نے جن اور بھوت کے حقیقی وجود ہونے کے تصور کو رد کیا، معراج اورشق القمر کو طبعی معجزے کی بجائے ایک لطیف خواب اور روحانی تجربے سے تعبیر کیا ۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی بن باپ پیدا او رمبینہ طور پر زندہ حالت میں آسمان پر اٹھائے جانے کی روایتی تصور کی نفی کی ۔ اسی طرح آدم و حوا کے ہبوط کو ایک استعارہ قرار دیا اور جنت اور دوزخ کے وجود کو ثمتیلی رنگ میں پیش کیاوغیرہ ۔ یہ خیالات عام ڈگری سے اتنے ہٹ کر ہیں کہ آج کے دور میں بھی یونیورسٹی کے محققین او راسکالرز کے ان پر بات کرتے ہوئے جلتے ہیں ۔

اختتامیہ

سرسید علمی اعتبار سے ایک قد آور اورہمہ جہت شخصیت تھے، البتہ انہیں دانستہ طور پر محدود کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں ہندوستان کے مسلمان، سرسید کو ایک تعلیمی درس گاہ کابانی مانتے ہیں، جب کہ پاکستان میں ان کا نام صرف دو قومی نظریئے سے منسوب کیا جاتاہے۔ اسی طرح اسکول او رکالج کے نصاب میں سر سید کو قائد اعظم او رعلامہ اقبال کے ساتھ پاکستان کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے دیگر پہلوؤں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ میں ہندوستان کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا ، البتہ پاکستان میں کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ سر سید اہل قلم، مدبر او رمفسر قرآن بھی تھے، جن کی زندگی کا مقصد یہ تھا کہ توہمات کا سحر توڑ ڈالا جائے اور روشن خیالی اور خرد مندی کو فروغ دیا جائے۔

اگرچہ ان کے بے دریغ تعریف کرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں، مگر عام طور پر کہیں بھی یہ پڑھنے یا سننے میں نہیں آتا کہ سر سید نے بر صغیر کے مسلمانوں کو نئے دورکے تقاضوں سے ہم آہنگ کرانے کی غرض سے قرآن و سنت کی نئی تشریح بھی کی تھی یا یہ کہ انگریز وں اور مسلمانوں کے مابین حائل خلیج کم کرنے کے لئے انہوں نے انجیل مقدس کو ایک نئے انداز میں سمجھا اور سمجھایا۔کون جانتا ہے کہ اس سب کے نتیجے میں سر سید چالیس برس تک تیر دشنام کا ہدف بنے رہے؟ یونیورسٹیوں کے پڑھے لکھے لوگ بھی یہ کہتے ہیں کہ ان پہلوؤں سے پردہ اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ غرضیکہ ان سے منسوب متنازعہ مگر اہم امور کو نظروں سے اوجھل کردیا گیا ہے اور سرسید کو محض ایک علامتی ہیرو کا مقام دیا گیا ہے۔ اس کے بر عکس علامہ اقبال کو صرف ہیرو کا درجہ ہی نہیں ملا، بلکہ ان کے افکار کی ہر طرف تشہیر و ترویج بھی کی جاتی ہے اور ان کے اشعار جلی حروف میں سرکاری وفوجی تنصیبات میں جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں۔

دیکھا جائے تو دونوں شخصیات میں کافی حد تک مماثلث پائی جاتی ہے کیونکہ دونوں ہی بڑا مقام رکھنے والے اور ذہین مسلم دانشور تھے ۔ دونوں کے دلوں میں مسلمان قوم کا درد تھا اور وہ امت کی زبو ں حالی پر پریشان رہتے تھے ۔ دونوں یہ چاہتے تھے کہ اسلامی عقائد کو ملاؤں کی گرفت سے نکالا جائے اور پیری، مریدی سے علیحدہ کردیا جائے ۔ ہاں ، علامہ اقبال نے فلسفے میں پی ایچ ڈی حاصل کی تھی، جب کہ سرسید کو ہم فلسفی نہیں کہہ سکتے ، لیکن دونوں تیز طرار او ربہترین ذہنوں کے مالک تھے ۔ پھر یہ کہ دونوں کو انگریزوں نے ’’سر‘‘ کے لقب سے نواز ا تھا اور دونوں نے اسے بخوشی قبول بھی کیا تھا ۔ تو پھر ان میں کیا فرق تھا؟

یہ فرق کئی لحاظ سے ہے او ریہ اس لئے بھی ہے کہ سرسید اور علامہ اقبال نے اپنی زندگیاں الگ الگ تاریخی ادوار میں گذاریں اور یہ کہ دونوں کے زمانے کے سیاسی حالات کافی مختلف تھے ۔مثال کے طور پر سرسید کے دور میں انگریز اس قدر طاقتورتھے کہ کوئی تصور نہیں کرسکتا تھا کہ ایک دن انہیں اس خطے سے جانا پڑسکتا ہے، جب کہ علامہ اقبال کے زمانے میں صورت حال مختلف تھی اور سوال صرف یہ رہ گیا تھا کہ انگریزوں کو کتنے برس بعد یہاں سے رخصت ہونا پڑے گا، او ریہ کہ اس کے بعدبر صغیر کی شکل و صورت کیا ہوگی؟اسی پس منظر میں سر سید نے انگریزوں سے ٹکرانے کی بجائے ان کی اطاعت پر زور دیا تاکہ مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ ہوسکے، دوسری طرف علامہ اقبال کا ادراک یہ تھا کہ قوم میں اسلامی احیاء کی ضرورت ہے۔ بہر پیش دونوں کا مقصد مسلمانوں کی فلاح ہی تھا۔

ان دونوں شخصیات میں صرف یہی ایک فرق نہیں تھا۔ ان کے طور، طریقے اور فکر و فلسفہ بھی مختلف تھے۔ سرسید کے تمام مضامین، جن میں سیاسی و سماجی موضوعات شامل ہیں، صرف اردو زبان میں لکھے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس علامہ اقبال کی شاعری اردو اور فارسی میں ضرور ہے لیکن انہوں نے مذہبی خیالات کے اظہار کے لئے انگریزی زبان کا انتخاب کیا ۔ ان کے ساتھ خطبات ’The Reconstruction of Religious Thought in Islamیا تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ کو غالباً اس لئے انگریزی میں پیش کیا گیا کہ تاکہ وہ صرف اس زمانے کی اشرافیہ محدود رہیں ۔ شاید انہیں ڈر تھا کہ کچھ مولوی ان کے پیچھے چڑھ دوڑیں گے ۔ ان خطبات میں وہ احیائے دین کی ضرورت پر زور دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن و سنت کو ایک نئی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور یہ کہ فرسودہ روایات کو ترک کر کے ایک نئی فکر کی آبیاری لازمی ہے۔ اقبال نے اپنی کوئی ذاتی تشریح اور تاویل پیش نہیں کی او رنہ ہی یہ بتایا کہ جدیدیت اور سائنس کی کے تقاضوں کے کیسے پورا کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس سرسید نے نہایت تفصیل کے ساتھ سائنس اور اسلام کو ہم آہنگ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ وہ خودبھی سائنس کے سچے دلدادہ تھے ۔ نہ صرف یہ کہ انہوں نے بے شمار سائنسی کتابوں کا ترجمہ خود کیا اور کروایا بلکہ سائنٹیفک سوسائٹی کی بنیاد بھی رکھی جو ہندوستان میں اپنی نوعیت کی پہلی تنظیم تھی ۔ اس سوسائٹی کے ذریعے سرسید نے مسلمانوں کو جدید تعلیم او رٹیکنالوجی کا شعور دینے کی کوشش کی۔ مثال کے طو رپر اس میں جدید زرعی آلات دکھائے جاتے تھے اور زراعت اور زرعی نظام کے بارے میں سائنسی انداز میں گفتگو ہوتی تھی۔

ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ سرسید کے نظریے کے مطابق مسلمانوں کی بقا اور خوشحالی کے لئے سائنس اور جدید تعلیم کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اقبال کے تفکرات میں ہمیں کچھ ابہام ضرورنظر آتا ہے۔ اگر چہ انہوں نے سائنس کی مخالفت نہیں کی ، لیکن اس کے حق میں بھی کچھ زیادہ نہیں کہا۔ بلکہ کہیں کہیں سائنس اورجدیدیت پر شبہات کا اظہار بھی کیا ہے۔ اقبال کے نزدیک امت کا نجات دہندہ وہ بندہ مومن ہے جو ذاتی خواہشات کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف قوم اور ملت کی خدمت کے جذبے سے سرشار رہے۔

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن

نہ مال غنیمت ،نہ کشور کشائی

اقبال کا مرد مومن ، شاہین صفت ہے۔

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے،بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

یہ تشبیہات اور استعارے نہایت خوبصورت او رپر اثرہیں۔ شاعرانہ تعلی کے اس لطیف پیرائے سے قاری کی روح تڑپ اٹھتی ہے اور قلب گرما جاتاہے۔ اس امر سے بھی انکار نہیں کہ خوش اخلاقی، جوش، جذبہ اور ولولہ اعلیٰ درجے کی خوبیاں ہیں جن کا اظہار اقبال اپنی شاعری میں کرتے ہیں ۔ لیکن ایک سوال بہر حال اٹھتا ہے کہ کیا محض ان خوبیوں کا ہوناخلائی سفر کے زمانے میں آگے بڑھنے کیلئے کافی ہے؟ اقبال فرماتے ہیں:

خودی کو کر بلند اتناکہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

خودی کو کس کو کہتے ہیں؟ یہ انسانی نفس اور شعور کی ایک مخصوص کیفیت کا نام ہے، جس کے اوپر بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے۔اقبال کے مطابق عرفان خودی تک پہنچنے کے لئے ہمیں اس ناقابل خطا علم کی طرف رجوع کرناہوگا جو قرآن و حدیث میں درج ہے۔ اقبال کی لاجواب شاعری نے ایک پسی ہوئی اور مایوس قوم میں اپنے تشْخص کا احساس اجاگر کیا ۔ اسے یقین دلایا کہ اگر وہ اپنے اندرخودی کو یہاں تک بلند کردے تو وہ ناقابل تسخیر بن جائے گی اور ماضی جیسی عظمتیں پھر سے اس کی دسترس میں آجائیں گی ۔ جس زمانے میں مسلمانوں کے حوصلے نہایت پست ہوچکے تھے ، ان کی احساس کمتری کو دور کرنا اس وقت کا تقاضہ ضرور تھا ۔ لیکن اقبال کے نسخے کے دوسرے پہلو بھی ہیں جو غور طلب ہیں۔اوّل ،خودی کے فلسفے کا اطلاق صرف خدا اور رسول کے ماننے والوں پر ہی ہوسکتا ہے، لہٰذا صرف مسلمان ہی ہیں جو خودی کی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں ،اور اسی لئے وہ تمام دوسری قوموں سے بالا اور برتر ہیں ۔ تو کیا یہ پہلو تہذیبوں کے تصادم کو دعوت نہیں دیتا ؟ جس دنیا میں مسلمانوں کو دیگر اقوام کے ساتھ ساتھ رہنا ہے، وہاں کیا اس سوچ سے کھچاؤ اور تناؤ پیدا نہیں ہوگا؟ دوسرے یہ کہ اقبال نے اپنے طور پر قرآن و حدیث کی کوئی تاویل یا تشریح نہیں پیش کی ، او رنہ ہی اس کاکوئی طریقہ وضع کیا ہے، تو پھر کس کی خودی زیادہ بلند ہوگی، سنی کی یا شیعہ کی ، وھابی کی ، دیوبندی کی یا بریلوی کی؟ اگر اس گھمبیر مسئلے سے نمٹنا اتناآسان کام ہوتا تو شاید آج اسلامی دنیا میں خون کے دریا نہ بہہ رہے ہوتے۔

سرسید کانسخہ اس سے بالکل دوسرے نمونے کا تھا۔ آپ کے مطابق آگے بڑھنے کا راستہ تب بن سکے گا جب فرسودہ روایات اور قدامت پرستی کی راہ ترک کردی جائے۔ اسی لئے انہوں نے ہندؤں کی اصلاحی تحریکوں کو بھی سراہا ۔ راجہ رام موہن رائے اور ان کے ہم خیالوں کی کھلی تعریف کرنے سے بھی نہ ہچکچا ئے ۔ آپ کا تجزیہ یہ تھا کہ آگے بڑھنے کا راستہ تجارت اور صنعت و حرفت پر زور دینے سے ہی بن سکتا ہے ۔ ایک بار سرسید نے کہا :

’’ ہم کو ایسا لائق ہونا چاہئے کہ ہماری تجارت کی محمڈن اینڈ ہندو کمپنی کے نام سے کوٹھیاں لندن میں اینڈ نبرا میں ، ڈبلن میں،برسلز میں، سینٹ پیٹر زبرگ میں ، برلن میں ، ویتامیں، قسطنطنیہ میں، واشنگٹن میں اور دنیا کے تمام حصوں میں قائم ہوں۔۔۔ جس سے ہم کو عزت، دولت ، حشمت اور حکومت مل سکے۔‘‘

سرسید کے خیال میں مسلمانوں کے اندر اس جذبے کا فقدان تھا کہ وہ دوسری قوموں سے سیکھیں او ران کے بارے میں جانیں ۔لہٰذا مسلمانوں میں علم لگن پیدا کرنے کے لئے سائنٹیفک سوسائٹی قائم کرتے وقت انہوں نے ایک اہم دفعہ شامل کرائی:

’’ ایشیا کے قدیم مصنفوں کی کمیا اور نفیس کو تلاش کرکے بہم پہونچا نا اورچھانپا‘‘۔

میں سوچتا ہوں کہ اگر آج سرسید حیات ہوتے تو کیا موجودہ پاکستان میں ان کا قیام ممکن ہو پاتا یا معتدل مزاج اسلامی اسکالر جاوید احمد غامدی کی طرح انہیں بھی ادھر سے جلاوطن ہونا پڑتا ؟ یاد رہے کہ اس زمانے کے کئی علما، بشمول خانہ کعبہ کے متولی ، نے سرسید کو کافر کہا اور واجب القتل تک قرار دے دیا تھا ۔ بہر حال وہ زمانہ آج کی طرح متشدد نہیں تھا، اور سرسید اس تمام مخالفت کے باوجود اپنے کام میں جتے رہے او ر مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے اپنا مشن بد ستور جاری رکھا ۔

اگر ہم تقابلی جائزہ لیں تو ایک لحاظ سے زمانہ بدلا ہے مگر دوسرے لحاظ سے نہیں ۔ جو سماجی انحطاط کے اسباب پہلے تھے، سووہ آج بھی ہیں ۔ جن زنجیروں نے ہمیں پہلے باندھ رکھا تھا ،وہ اب بھی ہمیں جکڑ ہوئے ہیں۔ بقول جوش ملیح آبادی ، مردے اب بھی دھوم مچائے ہوئے ہیں:

مخلوق کو دیوانہ بنائے ہوئے مردے

یاروں کے دماغوں کو چرائے ہوئے مردے

اوہام کے طوفان اٹھائے ہوئے مردے

عقلوں کو مزاروں پہ چڑھائے ہوئے مردے

آفاق کو سر پر ہیں اٹھائے ہوئے مردے

دیکھوکہ ہیں کہ دھوم مچائے ہوئے مردے

لیلائے تفکر کو سنورنے نہیں دیں گے

دریائے تو ہم کو اترنے نہیں دیں گے

تحقیق کی نبضوں کوابھرنے نہیں دیں گے

تقلید کا شیرازہ بکھرنے نہیں دیں گے

اس بات کابیڑا ہیں اٹھائے ہوئے مردے

دیکھو کہ ہیں کیا دھوم مچائے ہوئے مردے

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..