New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 01:10 PM

Urdu Section ( 30 March 2015, NewAgeIslam.Com)

This is Not a War among the School of Thoughts یہ مسالک کی جنگ نہیں

 

 

 

 

 

 

 

 

  

 

اوریا مقبول جان

بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کا دوسرا دور تھا ۔ وزیر اعظم سیکر ٹریٹ میں وزارت خارجہ کی جانب سے ایک انتہائی سینئر آفیسر اسپیشل سیکرٹری کی حیثیت سے تعینات ہوتا ہے ۔ بے نظیر کے اس دور میں ظفر ہلالی اسپیشل سیکرٹری تھے جو آج کل مشہور تجزیہ نگار بھی ہیں ۔ ظفر ہلالی کا خاندان سفارت کاری کے حوالے سےمشہور ہے۔ ان کا خاندان ایران سے قاچار بادشاہت کے زمانے میں ہجرت کر کے ہندوستان آیا ۔ ایران میں یہ خاندان دربار سےاعلیٰ سطح پر منسلک تھا ۔ خود بے نظیر بھٹو کی والدہ نصرت اصفہانی کا تعلق بھی ایران سے تھا ۔ ظفر ہلالی کےبقول ایک دن بے نظیر نے انہیں بلایا اور کہا کہ ایرانی سفیر کو بلاؤ اور اسے بتاؤ کہ ان کا سفارت خانہ جس قسم کالٹریچر اور کیسٹ وغیرہ پاکستان میں تقسیم کررہا ہے’ اس سے ہمارے لئے بہت مشکلات پیدا ہورہی ہیں ۔ ظفر ہلالی نےایرانی سفیر محمد مہدی اخوندزادہ بستی کوبلایا ۔ اخوندزادہ انقلاب ایران کے بعد 1981 ء میں پہلی دفعہ بھارت میں ایرانی سفارت خانے میں متعین کیا گیا ۔ بنیادی طور پر اس کی تعلیم سول انجینئرنگ ہے جو اس نے بنگلہ دیش سے حاصل کی ۔ ایران میں سول سروس میں بھرتی کےلئے کسی قسم کی پبلک سروس کمیشن نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مقابلے کا امتحان ہوتا ہے۔ انتظامی عہدوں اور وزارت خارجہ میں بھرتی براہ راست ق ’ م میں موجود رہبری کونسل کرتی ہے ۔

 نوکری کے لئے انقلاب کےساتھ وفاداری کو شرط اول کے طور پر دیکھاجاتا ہے ۔ اخوندزادہ اس شرط پر پورا اترتا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ جب مجاہدین خلق کو غدار اور منافق قرار دے کر ان کےقتل کا فتویٰ دیا گیا تو بہت سےلوگ جان بچا کر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ جو گرفتار ہوئے انہیں قتل کر دیا گیا ۔ یہ وہی مجاہدین خلق تھے جن کےساتھ مل کر 1979ء میں انقلاب لایا گیا تھا ۔ انقلاب کے فوراً مجاہدین خلق کے سربراہ مسعود رجاوی کے بھائی پروفیسر کا ظم رجاوی کو جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کواٹر میں ایران کا سفیر مقرر کیا گیا ۔ قتل کا حکم آیا تو پروفیسر کا ظم رجاوی کو قتل کرنے کےلئے گروہ تیار کیا گیا ۔24 اپریل 1990 ء کو دن دھاڑے پروفیسر کاظم رجاوی کو قتل کردیا گیا ۔ اس قتل کی تمام تفصیلات سوئٹزر لینڈ کے تفتیشی مجسٹریٹ جیکوز انٹین Jacques Anteen کے فیصلے میں موجود ہیں ۔ اس قتل میں تیرہ ایرانی لوگ ملوث تھے جن میں دو کے پاس سفارتی پاسپورٹ اور باقی افراد کے پاس سرکاری پاسپورٹ تھے ۔ یوں وہ سفارتی استثناء کا سہارا لیتے ہوئے پروفیسر کاظم رجاوی کو قتل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور انہیں پاسپورٹوں کی وجہ سے فرار بھی آسانی سے ہوگئے ۔

محمد مہدی اخوندزادہ بستی 1993ء سے 1998ء تک پانچ سال پاکستان میں سفیر رہا ۔ ظفر ہلالی نے جب اس کے سامنےایرانی لٹریچر کی تقسیم پر پاکستانی حکومت کے تحفظات کااظہار کیا تو انہوں نے الٹا سوال کر دیا کہ آپ کے اندازے کےمطابق پاکستان میں کتنے لوگ ہیں جو ایران کےکہنے پر ہتھیار اٹھا سکتے ہیں ۔ ظفر ہلالی نے کہا مجھے کیا معلوم ۔ مہدی خواندزادہ نے کہا کہ پچھتر ہزار افراد ہمارے کہنے پر ہتھیار اٹھا سکتے ہیں لیکن ہم آپ کوایک برادر ملک سمجھتے ہیں اس لئے آپ کے لئے مسائل پیدا نہیں کرناچاہتے ۔ ظفر ہلالی نےیہ قصہ میرے پروگرام سچویشن روم میں سنایا جسے چینل 24 کی ویب سائٹ پر دیکھا جاسکتا ہے ۔

مسلم امہ کی بد قسمتی یہ ہے کہ علاقائی ، نسلی اور تاریخی تعصبات کو ہم مسلک کا تڑ کا لگا کر اپنا مفاد حاصل کرتے ہیں ۔ مشرق وسطیٰ میں صدیوں سے دو طاقتیں بر سرپیکار رہی ہیں’ ایک ایران یا فارس اور دوسرا روم ۔ جزیرہ نما عرب کے ساحلی علاقے جواب چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہیں’ وہاں فارس کے حکمرانوں کے زیر اثر قبائلی رہنما بر سر اقتدار تھے ۔ یزد گرد کاوہ فقرہ تاریخ کا حصہ ہے جو اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حملہ آور افواج کےوفد سےکہا تھا ۔ ‘‘ اے گوہ کا گوشت کھانے اور انٹنیوں کا دود ھ پینے والے عربو! تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا جو کیہان کے تخت کی آرزو کررہے ہو ۔ تمہارے قبائل میں سے اگر کوئی سر کشی کرتا تو ہم اپنے سرحدی حاکم سےکہتے اور وہ تمہارا دماغ سیدھا کردیتا ’’۔ آج بھی جب ایک عام ایرانی عراق میں دجلہ و فرات ’ ازبکستان میں سمر قند وبخارا ’ افغانستان میں ہرات’ تاجکستان میں دو شنبے اور قلاب اور آذربائیجان میں باکو جسے شہروں کو دیکھتا ہے تو اسے اپنی عظمت رفتہ یاد آجاتی ہے۔ سائرس اعظم اور نوشیروان کے قصے اس کی روز ہ مزہ گفتگو کاحصہ ہیں ۔ فردوسی کا شاہ نامہ اسی محبت کی داستان ہے اور اسی المیے کا نوحہ ہے کہ کیسے عرب کے ان خانہ بدوشوں نے ان کی عظیم سلطنت کو تاخت و تاراج کردیا ۔ اسی لئے وہاں کا اجتماعی شعور اپنی عظمت رفتہ کو حاصل کرنے کےلئے تڑپ رہا ہوتا ہے ۔

 ایرانی انقلاب کےبعد بھی ایرانی سفارت خانوں نےجس قدر توانائی فارسی شناسی اور فرہنگ یعنی اپنی ثقافت کی ترویج پر صرف کی اتنی کسی اور کام پر نہیں کی ۔ دوسری جانب عربوں کاایک ہزار سالہ حکمرانی نے قدیم ایران کےاہم ترین علاقوں کی زبان تک تبدیل کردی ۔ یزد گرد کا قادسیہ دریائے دجلہ کے کنارے تھا ۔ اب وہاں لوگوں کی مادری زبان تک عربی ہوچکی ہے ۔ ایران کی عظمت رفتہ کو زندہ کرنے کا او رکوئی راستہ باقی نہیں سوائے اس کے کہ اپنے حامی لوگوں کو ساتھ ملا کر عرب و عجم کی لڑائی کو ہوا دی سیاسی اور علاقائی صورت حال میں اس کا ساتھ دینا عرب علاقوں میں اپنا اثر و نفوذ اور اختیار بڑھانے کیلئے ہے ۔ اسی طرح زیدیہ فرقے کے حوثی حضرت زید بن علی کے ماننےوالے ہیں جن کے عقائد وہاں کے سنی عوام سےبہت ملتے ہیں ۔ بلکہ زید بن علی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اپنی یہ رائے دی تھی کہ میں نے اپنے گھر انے میں ان کے بارےمیں ہمیشہ اچھی بات ہی سنی ۔ لیکن یمن کے حوثیوں کا ساتھ مسلک کی وجہ سے نہیں بلکہ عرب و عجم کی کشمکش میں دیا جارہا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب اپنے ارد گرد کے تمام علاقوں، بحرین، کویت، یمن اور خصوصاً اپنے مشرقی علاقوں وغیرہ پر اپنا مکمل کنٹرول چاہتا ہے۔ اس کے نزدیک یہاں کی شیعہ اکثریت اس کے اقتدار کے لئے خطرہ ہے کی ۔ اس کا اقتدار جو امریکی اشیر باد کا مرہون منت ’ اسے صرف شیعہ آبادی سے ہی نہیں بلکہ ہر اس سنی آبادی کی تحریک سےبھی خطرہ ہے جو بادشاہت کے خلاف ہو۔ اسی لئے جب مصر میں اخوان المسلمون کی حکومت آئی تو سعودی عرب نےوہاں کی فوج کو اکسایا’ اس نے اقتدار پر قبضہ کیا اور پھر فوج کو دس ارب ڈالر تحفے میں دیئے تاکہ ان لوگوں کا قتل عام کرے جن کے نظریات بادشاہت کے خلاف ہیں ۔

 اپنے اقتدار کو خطرہ ہوتو ایران او رسعودی عرب کو نہ مسلک یاد آتے ہیں اور نہ ہی عرب و عجم ۔ شام اور عراق میں بننے والی اسلامی ریاست کے خلاف دونوں متحد ہیں ۔ ایران کے رضا کار وہاں جاکر لڑرہے ہیں اور سعودی عرب شام کی آزاد فوج کو سرمایہ فراہم کررہا ہے تاکہ وہ داعش اور بشارالاسد دونوں سےلڑے ۔ یہ نسل’ رنگ’ علاقے اور اقتدار کی لڑائی ہے جسے مسلک کا تڑکا لگاکر لڑا جارہا ہے۔ لیکن مجھے حیرانی ان علمائے کرام پر ہوتی ہے جو اپنے تعصب میں اس لڑائی کو ہوا دینا چاہتے ہیں ۔جن کا رزق مسلکوں میں لڑائی سےوابستہ ہے۔ مسلک کو اس لڑائی سے علیحدہ کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ تمام شیعہ علماء حوثی قبائل کے خلاف ویسے ہی فتویٰ دیں جیسے انہوں نے داعش کے خلاف دیا کہ یہ باغی ہیں اور ریاست ان سےجنگ کرے اور سنی علماء اسی طرح سعودی عرب کےخلاف فتویٰ دیں جیسے وہ امریکہ کے خلاف دیتے ہیں کہ کسی دوسرے کے علاقے پر بمباری کر کے انسانی جانوں کو ہلاک کرنا قتل کے مترادف ہے ۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر نسل’ زبان اور علاقے کی یہ جنگ جسے مسلک کا تڑکہ لگ چکا ہے پوری امت کو ایسا اپنی لپیٹ میں لے گی کہ کوئی شہر بھی اس سےمحفوظ نہ ہوگا۔

URL: http://newageislam.com/urdu-section/orya-maqbool-jan/this-is-not-a-war-among-the-school-of-thoughts--یہ-مسالک-کی-جنگ-نہیں/d/102200

 

Loading..

Loading..