New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 12:50 AM

Urdu Section ( 7 March 2014, NewAgeIslam.Com)

Muslim Majorities Open To Democracy, But Cautious مسلم اکثریت نے انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا جمہوریت کا خیرمقدم

 

 

 

 

 

عمر سیکربے

7 فروری 2014

عورتوں کو اپنے بالوں کا پردہ کرنا چاہیے۔ حکومت کو شرعی قوانین نافذ کرنا چاہیے۔ لیکن جمہوریت اور چرچ اور ریاست کی علیحدگی میں ہو سکتا ہے کہ سماج کی کوئی بھلائی پنہاں ہو۔

یہ تمام باتیں سات بڑے مسلم ممالک میں پائے جانے والے عوامی رویوں پر کیے گئے ایک دریافت میں سامنے آئی ہیں۔

ترکی اور تیونس میں جن لوگوں کا سروے کیا گیا ان میں سے آدھے سے زیادہ اور سعودی عرب میں تقریباً آدھے لوگوں نے کہا کہ گھر سے باہر عورتیں کیا پہنیں اس کا فیصلہ انہیں پر چھوڑ دیا جانا چاہیے، لیکن ان تینوں ممالک میں لوگوں کی اکثریت نے یہ تسلیم کیا کہ عوامی مقامات پر عورتوں کو اپنے سر کا پردہ کرنا چاہیے۔

جن سات ممالک میں یہ سروے کیا گیا ہے وہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی ایک تہائی آبادی پر مشتمل ہیں سعودی عرب اسلام کی جائے پیدائش ہے اور تیونس وہ جگہ ہے جہاں عرب بہاریہ کی شروعات ہو چکی ہے۔ اس سروے کو مشی گن یونیورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ فار سوشل ریسرچ نے شائع کیا تھا۔ یہ مطالعہ 2011 سے 2013 تک جاری رہا۔ اجتماعی طور پر اس سروے کے تئیں ردعمل کی شرح 78 فیصد تھی۔ 3,070  جواب دینے والوں میں 55 فیصد عورتیں تھیں۔

ہیڈ اسکارف کا مسئلہ ایک الگ معاملہ ہے۔ سعودی عرب میں تقریباً تین تہائی لوگوں نے یہ کہا کہ ان کا ماننا یہ ہے کہ عوامی مقامات پر عورتوں کو یا تو برقع پہننا چاہیے یا انہیں اپنے چہرے کا پردہ کرنا چاہیے جسے ہم نقاب بھی کہتے ہیں۔ ترکی اور تیونس کے لوگوں نے ہیڈاسکارف کی ایک جدید شکل حجاب کو ترجیح دی، 32 فیصد ترکی میں اور 15 فیصد تیونس میں ایک بڑی اقلیت نے یہ کہا کہ عورتوں کو بالکل ہی ہیڈاسکارف نہیں پہننا چاہیے۔ لبنان میں 49 فیصد لوگوں نے یہ کہا کہ عورتوں کو عوامی مقامات پر کبھی بھی ہیڈاسکارف نہیں پہننا چاہیے، شاید جن لبنانیوں کا سروے کیا گیا ان میں سے 27 فیصد عیسائی تھے۔

مصر، عراق اور پاکستان میں کیے گئے سروے سے سیکولر حکومت اور امریکیوں کے تئیں مذہبی رواداری اور رویوں کے تعلق سے چونکا دینے والے نتائج سامنے آئے ہیں۔

مصر، عراق، لبنان، تیونس اور ترکی میں لوگوں کی ایک بڑی اکثریت نے یہ کہا کہ اگر امور مملکت اور مذہب کو الگ الگ رکھا گیا ہوتا تو ہمارا ملک اور بھی زیادہ ترقی یافتہ ہوتا۔ پاکستان میں 9 فیصد لوگوں نے یہ کہا کہ اگر مذہب اور سیاست الگ الگ ہوتے تو ہمارا ملک زیادہ ترقی یافتہ ہوتا؛ سعودی عرب میں کوئی نتیجہ نہیں پایا گیا۔

ان تمام ساتوں ممالک میں ایک بڑی اکثریت کا یہ ماننا تھا کہ جمہوریت سب سے بہتر طرز حکومت ہے۔ سعودی عرب، پاکستان، مصر اور یہاں تک کہ تقریباً نصف عراقیوں کا بھی یہ ماننا ہے کہ حکومت کو شرعی قانون نافذ کرنا چاہیے، جبکہ اس رائے کا اظہار لبنان، تیونس اور ترکی میں 20 سے 27 فیصد لوگوں نے ہی کیا۔

ڈیوک یونیورسٹی میں ‘‘religion and Islamic studies’’ مذہب اور اسلامیات ‘‘religion and Islamic studies’’ کے پروفیسر ابراہیم موسیٰ نے کہا کہ ‘‘اس اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لوگ جمہوریت چاہتے ہیں، لیکن وہ ایسی جمہوریت نہیں چاہتے جو مذہب سے متصادم ہو، وہ ایسی کوئی جمہوریت نہیں چاہتے جس میں مذہب کا کوئی کردار نہ ہو’’۔

موسیٰ نے کہا کہ شریعت یا اسلامی قوانین کے متعلق مغرب میں اور مسلم ممالک میں رہنے والوں کے درمیان انتہائی مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ مغربی یہ سمجھتے ہیں کہ شریعت ایک سخت گیر پینل کوڈ ہے جبکہ بہت سارے مسلمانوں کا یہ ماننا ہے کہ شریعت مساوات اور عدل و انصاف کا نام ہے۔

سروے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ 70 فیصد سعودیوں نے یہ کہا کہ غیر مسلموں کو ان کے اپنے ملک میں ان کے مذہب کی تبلیغ و اشاعت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن 27 فیصد ترکی، 23 فیصد عراق اور 18 فیصد تیونس کے لوگوں کا بھی یہی گمان ہے۔ بارہا عیسائی مخالف تشدد رونماں ہونے والے ملک پاکستان میں صرف 4 فیصد لوگوں نے یہ کہا کہ غیر مسلموں کو ان کے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

یونیورسٹی آف میری لینڈ، کالج پارک میں ایک سوشلوجسٹ اور پرنسپل انویسٹگیٹر منصور مؤدل نے کہا کہ تیونس کے پاس اس مطالعہ کے نتائج کی بنیاد پر ایک آزاد خیال جمہوریت قائم کرنے کے بہتر مواقع تھے۔

انہوں نے کہا کہ ‘‘تیونس ایک اعلیٰ مذہبی رواداری کا حامل ملک ہے، مذہبی رواداری کی سطح جتنی بلند ہوگی اتنی ہی اعلیٰ درجے کی رواداری باہمی اختلافات کی صورت میں بھی پائی جاتی ہے’’۔

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

ماخذ: http://www.charlotteobserver.com/2014/02/06/4668789/muslim-majorities-open-to-democracy.html#.UvYetWJdUqM

URL:

http://www.newageislam.com/islam-and-politics/omar-sacirbey/muslim-majorities-open-to-democracy,-but-cautious/d/35627

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/omar-sacirbey,-tr-new-age-islam/muslim-majorities-open-to-democracy,-but-cautious-مسلم-اکثریت-نے-انتہائی-احتیاط-کے-ساتھ-کیا-جمہوریت-کا-خیرمقدم/d/56033

 

Loading..

Loading..