New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 04:47 PM

Urdu Section ( 27 Aug 2019, NewAgeIslam.Com)

Greatest Respect is the Respect for Humanity اولین احترام احترام آدم است

 

 

عبیداللہ خان اعظمی

28اگست،2019

اللہ پاک نے قرآن حکیم میں جہاں بھی بڑے گناہوں کا ذکر فرمایا ہے،وہاں شرک کے فوراً بعد قتل نفس کا ضرور ذکر کیا ہے۔ جہاں شرک سے منع کیا ہے وہیں ناحق انسانی جان لینے کو بھی حرام قرار دیا ہے! ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے، اور ایک جان بچالینے کی مترادف قرار دیا ہے! اللہ پاک نے مسلمانوں کی ایک لشکر ی مہم میں ایک شخص کے کلمہ پڑھ لینے کے باوجود قتل کردینے پر سورہ النساء میں جو رکوع نازل فرمایا ہے،وہ دل دہلا دینے والا ہے،بات کو کچھ یوں اٹھایا کہ مومن تو مومن کو قتل کر ہی نہیں سکتا سوائے اس کے کہ کوئی خطا سے مارا جائے، یا مومن کو تو لائق ہی نہیں کہ وہ مومن کو مار دے سوائے اس کے کہ وہ خطا سے مرجائے! پھر قتل عمد کا ذکر کیا ہے توفرمایا ”جو شخص مومن کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے تواس کابدلہ جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ پڑا رہے گا اور اللہ کا غضب ہوا اس پر اور اللہ نے لعنت کردی اس پر اور اس کے لئے عظیم عذاب تیار کر رکھا ہے! اے ایمان والوں جب تم اللہ کی راہ میں نکلو تو خوب چھان پھٹک کر لیا کرو اورجو کہے کہ وہ مسلمان ہے تو تم اسے مت کہو کہ تم مسلم نہیں“ (سورۃ النساء)

روایت کیاکہ قیامت کے دن سب سے پہلے قتل کے فیصلے پہلے کئے جائیں گے، نیزبخاری ومسلم کی متفق علیہ روایت کے حوالے سے لکھا کہ، جس کسی نے غیر مسلم ذمی کو ناحق قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا اگر چہ جنت کی خوشبو کی لپٹیں چالیس سال کی شعائی مدت کے فاصلے سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو اسلام کی تعلیمات صاف طور پر بتاتی ہیں کہ کسی کو قتل کرنا انسانیت پر زیادتی،قاتل و مقتول کیلئے ظلم اور زمین میں فساد کا باعث ہے، اس سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلتا ہے، اور آبادیوں کی آبادیاں تباہ، اور زندگی اجیرن ہوجاتی ہے، قتل کی وجہ سے قتل کے ساتھ معاشرے کو بھی دردناک عذاب سے دو چار ہونا پڑتاہے، قتل کے باعث مقتول کے ورثاء اور دیگر افراد کے حقوق تلف ہوجاتے ہیں، اسی کی وجہ سے امن و امان داؤ پر لگ جاتا ہے، یہ قاتل کے دل میں دنیاوی اور اخروی، دائمی و سرمدی ندامت کا باعث ہے، قاتل کاضمیر کبھی بھی سکون و چین کے ساتھ نہیں رہتا، اور زندگی بدمزہ ہوجاتی ہے، قتل بد ترین جرم، اور قاتل بدترین مجرم ہے، قتل جانی و مالی تباہی کا باعث ہے، اسی وجہ سے زمین پر بے برکتی پیدا ہوتی ہے، آفتیں نازل ہوتی ہیں، اور دین و دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی برباد ہوجاتی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آقائے نامدار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 ”اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک مسلمان کا قتل دنیاکے زائل ہونے سے بھی گراں ہے“ (ترمذی شریف کی اس روایت کو محدثین نے صحیح قرار دیا ہے)۔ قتل کی سنگین کے باعث اسلام نے اسلحہ کے ذریعہ مذاق، اور اسلحہ کے ساتھ معصوم کی طرف اشارے سے بھی منع فرما دیا، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی اپنے بھائی کو اسلحہ سے اشارہ مت کرے، کیونکہ اسے نہیں معلوم کے شیطان اس کے ہاتھ کو چوک لگادے، اور وہ جہنم کے گڑھے میں جا گرے“۔ (بخاری و مسلم) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ: ”جو شخص اپنے کسی بھائی کی طرف خنجر سے بھی اشارہ کرے تو فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں،چاہے وہ اسکاسگا بھائی کیوں نہ ہو“ (مسلم ترمذی)بلکہ اللہ اور اس کے رسو ل نے خود کشی کوبھی بڑی سختی کے ساتھ حرام قرار دیا، اسی لئے خود کشی کرنے والے کو جہنمی قرار دیا چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو، اور وہ خود کشی کے لئے خنجر، زہر، یا خود کش جیکٹ،بارود سے بھری گاڑی، دھماکہ خیز مواد یا بم کچھ بھی استعمال کرے سب کایہی حکم ہے۔ اپنی جانوں کاقتل مت کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نہایت رحم کرنے والا ہے، اورجو کوئی ظلم وزیادتی کرتے ہوئے ایسا کرے گا،ہم اسے آگ میں ڈالیں گے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے لئے نہایت آسان ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ: (جو شخص اپنے کسی بھائی کی طرف خنجر سے بھی اشارہ کرے تو فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں،چاہے وہ اس کاسگا بھائی کیوں نہ ہو“۔ (مسلم، ترمذی) ایک اور روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص نے پہاڑ سے گر کر اپنا خاتمہ کرلیا، تو وہ جہنم میں ہمیشہ گرتا ہی رہے گا، اور جس شخص نے زہر پی کر اپنے آپ کو قتل کیا تو وہ جہنم میں ہمیشہ زہر پیتا رہے گا،اور جس شخص نے خنجر سے خود کشی کی تو وہ بھی جہنم میں ہمیشہ اپنے پیٹ پر خنجر زنی کرتا رہے گا“۔(بخاری ومسلم)یہ سخت ترین عذاب اس شخص کے لئے ہے جس نے خود کشی کی، تو دوسروں کو قتل کرنے والے کو کتنا عذاب ملے گا؟ کیونکہ انسانی جان کسی کی اپنی ملکیت نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، اس لئے شریعت الہٰی کے مطابق ہی انسان اس میں تغیر وتبدّل کرسکتا ہے۔

پر امن زندگی ہر انسان کا حق ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ زندگی زمین کو آباد کرنے کے لئے دی ہے، بلکہ پر امن زندگی جانوروں کابھی حق ہے، اس لئے جانوروں کوبھی انسانیت کے فائدے کے لئے ہی قتل کیا جائے گا، چنانچہ جانوروں کا فضول قتل بھی جرم ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما چند نو عمر لڑکوں کے پاس سے گزرے تو وہ مرغی پر نشانہ بازی کر رہے تھے،تو انہوں نے سب کو سخت ڈانٹ پلائی اور سب کو وہاں سے بھگا کر فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں پر نشانہ بازی سے منع فرمایا ہے“۔ او رعمر وبن شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے کسی چڑیا کو بھی فضول میں قتل کیا تو وہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں فریاد کرے گی: یا اللہ! مجھے فلاں شخص نے بے فائدہ اور فضول میں قتل کیا تھا“۔(احمد،نسائی)۔کیونکہ ایک چڑیا کو بھی زندہ رہنے کا پوراحق ہے، اور اللہ تعالیٰ ہی عدل و انصاف کرنے والا معبود ہے، وہ کسی پر ایک ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا،اسی لئے ظلم و زیادتی کو پسند بھی نہیں فرماتا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام مخلوقات کو ایک دوسرے سے قصاص لے کر دیا جائے گا، حتی کہ بے سینگ والی بکری کا سینگ والی بکری سے، اور چیونٹی کا چیونٹی سے بدلہ لیا جائے گا“ (احمد،نسائی)۔ او رکوئی مسلمان کسی غیر مسلم علاقے میں سکونت اختیار کرے،یا صرف رزق کی تلاش میں پاسپورٹ کے ذریعے سفر کر کے جائے تو اس کے لئے شرعی طور پر وہاں کسی کا خون بہانا جائز نہیں ہے، وہ کسی کی اشیاء چوری یا ڈاکہ کے ذریعے نہیں ہتھیا سکتا، او رنہ ہی ان کی املاک کو نقصان پہنچا سکتا ہے، عوامی جگہوں پر دھماکے نہیں کر سکتا، اسی طرح کسی کی عزت بھی پامال نہیں کرسکتا ہے، کیونکہ یہ دھوکہ اور خیانت کے ساتھ بڑی نا فرمانی بھی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے۔

اسلام کی ان حیات ساز تعلیمات کا عشر عشیر بھی دنیا کے دیگر ادیان میں نہیں ملتا ہے اور ان میں اکثر افراط و تفریط کاشکار نظر آتے ہیں۔ یہ شرف صرف مسلمانوں کو حاصل ہے کہ ان کا دین ہر قدم پر ان کی رہنمائی کرتا ہے اورانسانی معاشرت سے تعلق رکھنے والے جملہ معاملات و امور کو مرتب ومنظم کر کے ایک ایسی شاہ کلیدان کے سپرد کرچکا ہے کہ وہ اگر اس کا صحیح استعمال کر کے تو پوری کائنات کھل کر ان کے قدموں تلے آسکتی ہے۔

28اگست،2019، بشکریہ:انقلاب،نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/obaidullah-khan-azmi/greatest-respect-is-the-respect-for-humanity--اولین-احترام-احترام-آدم-است/d/119581

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..