New Age Islam
Thu Sep 16 2021, 12:59 PM

Urdu Section ( 18 Feb 2018, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Reasons of the Fall of Sufism and Its Impact- Part-2 تصوف کے زوال کے اسباب او راس کے اثرات

 

نورین علی حق

( دوسری قسط)

16فروری،2015

اس بعد کے زمانے میں جاگیروں کی منظوری ،تحائف او رنذرانوں کی وصولی نے صوفیہ کو بھی بادشاہوں کے درباروں میں رسوا کیا اور عوام سے دور کردیا۔صوفیہ کی جن تو جہات اور عنایات کے عوام حق دار تھے ان سے صوفیہ دور ہوتے چلے گئے ۔ سیاسی رہنماؤں کے یہاں بار بار کی آمد و رفت نے صوفیہ کی اہمیت اور قدر کو نہ صرف نقصان پہنچایا بلکہ سیاسی لیڈر بھی خانقاہوں سے دور ہوتے چلے گئے ۔ اب صورت حال یہ ہے کہ اگر کسی درگاہ یا خانقاہ میں کوئی لیڈر پہنچ جاتا ہے تو ایک ہنگامہ برپا ہوجاتا ہے او رکل بادشاہ وقت بھی خانقاہ میں پہنچتا تھا تو اس کے ساتھ بھی وہی اخلاق روا رکھا جاتا تھا، جو عوام الناس کو حاصل ہوتا تھا۔پہلے خانقاہوں اور حکومت کے درمیان بہتر مراسم نہ ہونے کے باوجود حکومت وقت کوئی ایسا فیصلہ عام طور پر نہیں کرپاتی تھی ،جس سے عوام کا نقصان یا خانقاہ کے تقدس پر آنچ آتی، اب ہم اپنے مطالبات لے کر در بدر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں اور ہمیں کوئی پوچھتا تک نہیں ۔ چونکہ ہم نے اس بھرے بازار میں خود کو لائق اعتبار ہی نہیں چھوڑا ہے۔

خدمت خلق کے جذبے سے عاری خانقاہیں :

تصوف اور صوفیہ کے بنیادی مقاصد میں ایک خدمت خلق ہے، جس کی گواہ بغداد کی جامع مسجد سے لے کر اجمیر تک ہیں ۔ خود حضرت شیخ معین الدین چشتی اجمیری ؒ نے فرمایا کہ ’’ انسان کو دریا کی سی سخاوت ، سورج کی سی شفقت اور زمین کی سی تواضع اختیا ر کرنی چاہئے ‘‘۔

(تاریخ ابلاغ چشت ص 22)اور عملی طور پر ایک کسان کے مسئلے کے حل کے لیے اجمیر سے دہلی تک کا پیدل سفر کر کے بعد کے صوفیہ کے لیے ایک نمونہ عمل چھوڑ ا تھاکہ خدمت خلق اہم اور ضروری ہے۔ بعد کے صوفیہ نے خلق خدا سے اپنی خدمت تو ہر مقام اور ہر شعبے میں لی اور ان کی خدمت سے خود کو دور کرلیا۔ وہ بتدریج یہ بھولتے چلے گئے کہ خدا نے انہیں اپنی مخلوق کا رہنما بنا کر بھیجا ہے، جنہیں راہ راست پر برقرار رکھنا ان کی اہم ذمہ داری ہے۔

آج بھی پوری دنیا میں خانقاہیں پائی جاتی ہیں ، ہندوستان گیر سطح پر دیکھا جائے تو بے شمار گاؤں ،قصبات اور شہر ایسے ہیں، جہاں خانقاہیں موجود ہیں مگر عام طور پر وہ خانقاہیں عوام کی خدمت سے دور ہیں ۔ البتہ عوام ان کی خدمت ضرور کرتے ہیں ۔چند ایک خانقاہیں ایسی ضرور ہیں ، جن کی خدمات قابل ذکر ہیں ، ان میں گلبرگہ کی خانقاہ سر فہرست ہے ۔ مصر کی خانقاہو میں عام طور پر خدمت خلق کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ ( تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو مولانا اسید الحق کی کتاب تحقیق و تفہیم ص 256) ہمارے یہاں ہندوستان میں خانقاہوں کی طرف سے بلا تفریق مذہب و ملت اسکول، اسپتال اور عوامی مقامات پر مسافروں کے لیے کسی سہولت کا انتظام شاید ہی کیا جاتا ہو۔

حالانکہ آج گزشتہ صدیوں کی بہ نسبت زیادہ ضروری ہوگیا ہے کہ عوام کو خود سے قریب کیا جائے او ران کی قربت کے لیے ان کی خدمت کی جائے ، تاکہ عدم تشدد کا پیغام پڑھے لکھے عوام سے لے کر کم پڑھے لکھے اور ناخواندہ لوگوں تک بھی پہنچے ۔ ان کو تاہیوں کی وجہ سے رفتہ رفتہ عوام ہم سے دور ہوتے چلے گئے اور ہم خواب خرگوش میں مد ہوش پڑے رہے، جب ہمیں اپنے ذاتی مفادات میں خسارے کا احساس ہوا تو ہم نے عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے غلط طریقے اختیار کئے ، جس سے معاملہ مزید الجھتا چلا گیا اور آج بد عنوانیوں کے اڈوں میں ہماری خانقاہوں کا بھی شمار ہوتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ہم نے اپنی کارستانیوں سے اپنے اسلاف اور صلحا سے منسوب مقامات کو بھی بد نام کرنے میں کسی طرح کی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

ہم سال بھر اپنے مریدوں کے حلقے میں گھومتے ہیں ، وہ ہماری ہر طرح کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ مگر جب اعراس میں مریدین آتے ہیں تو ہم دو چار دنوں کے قیام و طعام تک انتظام نہیں کرپاتے، جب کہ حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی ؒ ہر روز نماز مغرب سے قبل بذات خود غربا میں کھانا تقسیم فرماتے اور خواجہ نظام الدین اولیا سحری اس لیے نہیں کرتے کہ نہ جانے شہر میں کتنے لوگ بھوکے سو رہے ہیں ۔ ( تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو غنیۃ الطالبین ص 20اور سیر الاولیاص 112-130)

عوام کی یک طرفہ خدمت نے نہ صرف انہیں ہم سے بدظن کیا بلکہ بہت دور بھی کردیا اور بے شمار افراد جو ہمارے ایک اشارۂ ابرو پر کل تک رقص کناں تھے آج ہمارے مخالفین کے گروپ میں شامل ہیں اور اسی شد و مد کے ساتھ وہ بھی ہماری مخالفت کرتے ہیں ۔ ہمارے اعمال اور بداخلاقیوں نے عوام کو پریشان کیا او رانہوں نے ہم پر بھی پچھلوں کو بھی قیاس کرلیا ۔ خواجہ نظام الدین اولیا فرماتے تھے کہ قیامت کے بازار میں دلوں کو راحت پہچانے سے زیادہ کسی چیز کی قدر نہ ہوگی ( سیر الاولیاء ص 128) اور آج ان کے وارث ہونے کا دعویٰ کرنے والوں نے عوام کی راحت دل و جان کو اپنے قدموں میں کچل کر اپنی راحت کا سامان کیا ہے۔

تعلیم اخلاق نہ ہونے کی وجہ سے ہم اخلاق باختگی کا مظاہرہ کرتے رہے او راس کاہمیں احساس تک نہ ہوا۔ ہم یہ سمجھتے رہے کہ عوام اور مریدین و متوسلین سے خدمت لینا ہمارا آبائی حق ہے، جب کہ ہمارے آباء ہمیشہ عوام کی خدمت کرتے رہے تھے وہ عوام سے خدمات لینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے تھے چونکہ ان کی زندگیاں مادیت سے خالی تھیں اور ضروریات زندگی انتہائی محدود ۔ اس پر مستز ادیہ کہ وہ اپنے کام خود کرنے پر یقین رکھتے تھے ا س لیے وہ خدا کے علاوہ کسی کے محتاج نہیں تھے البتہ خدا کی مخلوق کی خدمات کو اپنے لیے شرف و اعزاز تصور کرتے تھے ۔

16فروری،2018 ، بشکریہ : روز نامہ میرا وطن ، نئی دہلی

URL for Part-1: https://www.newageislam.com/urdu-section/reasons-fall-sufism-its-impact-part-1/d/114268

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/reasons-fall-sufism-its-impact-part-2/d/114322

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..