New Age Islam
Sun Dec 05 2021, 09:32 AM

Urdu Section ( 1 Feb 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Religion and Ethics: The Importance of Animals in Islam مذہب اور اخلاقیات : اسلام میں جانوروں کی اہمیت

 

نیلوفر احمد (انگریزی سے ترجمہ۔  سمیع الرحمٰن ،  نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

نومبر2011

‘اسی ذات نے زمین میں تمام  چیزیں تمہارے لیے پیدا کیں۔’ (قرآن 2:29)

اسلام نے جانوروں کی تخلیق کو  ایک بہت ہی اعلی پائدان پر رکھا ہے۔اس کے باوجود مسلمان بار ہا  اس کی اہمیت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس آیت کو مسلمانوں نے وسیع پیمانے پر  غلط انداز میں سمجھا ہے۔ جب کسی کو کوئی تحفہ حاصل ہوتا ہے تو اس سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اس تحفے کی قدر کرے گا، اس کا خیال رکھے گا اور اس کا ناجائز استعمال یا اس کو تباہ نہیں کرے گا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ عام طور پر مسلمانوں کو اس دنیا میں جانوروں کی بے شمار نسلیں جو تحفے کے طور پر حاصل ہوئی ہیں مسلمان  نہ تو انکی قدر کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے تحفظ کو فروغ دیتے ہیں ۔

قرآن میں ایسی چھ آیتیں جن کا عنوان جانوروں کے نام پر ہے۔اس کے علاوہ،  جانوروں کا ذکر پورے قرآن میں پایا جاتا  ہے۔ سورۃ الائنعام میں کہا گیا ہے، ‘اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا دو پروں سے اڑنے والا جانور ہے تمہاری طرح ان کی بھی جماعتیں ہیں’ (6:38)۔

خدا  نےاپنی لامحدود حکمت و دانائی کے تحت  سب سے شائستہ مخلوق جیسے پرندوں، شہد کی مکھیوں اور چینٹیوں کو بھی  برادری کے طور پر منظم کیا ہے تاکہ وہ اپنے اخلاقی اور تنظیمی قوانین  سے انحراف کئے بغیر کام کر سکیں، آپس میں رابطہ  رکھ سکیں اور اپنے وجود کو بر قرار رکھ سکیں۔دنیا کی تمام مخلوق بشمول جانور بھی اپنے رب کی تعریف اور تسبیح کرتے ہیں  (17:44)۔ جاندار اپنی زبان سے اور غیر جاندار اپنے حالات کے مطابق خاموش رضامندی کے ذریعہ خدا کی تعریف کرتے ہیں۔

 حضرت نوحؑ کو وحی کے ذریعہ  ہدایت دی گئی کہ وہ ایک بڑی کشتی کو تعمیر کریں: ‘اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ان کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا کیونکہ وہ ضرور غرق کردیئے جائیں گے’(11:38)۔ سیلاب سے محفوظ کئے جانے وا لوں میں مومنین کے ساتھ ساتھ ہر  ایک نسل کے جانوروں کے جوڑے تھے : ‘......ہم نے نوح کو حکم دیا کہ ہر قسم  (کے جانداروں) میں سے جوڑا ، جوڑا  (یعنی) دو  (دو جانور۔ ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے  (کہ ہلاک ہوجائے گا) اس کو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو جو ایمان لایا ہو اس کو کشتی میں سوار کر لو.....(11:40) ۔ جانوروں کو بچانے کا حکم مومنوں کو بچانے سے قبل آیا اور یہ ان جانوروں کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتا ہے جو اس وقت اپنے وجود کو لے کر خطرے سے دوچار تھے۔

قرآن  نبی حضرت صالحؑ  کی قوم ثمود کی کہانی کو  بتاتا ہے  جنہیں ان لوگوں کو ایک خدا کی طرف بلانے اور  گزارے کے لئے جو وسائل تھے ان کا منصفانہ طور پر تقسیم کرنے کے لئے بھھیجا گیا تھا۔ آپ نےان لوگوں کے ساتھ معائدہ کیا جس کے مطابق لوگ اور وہ اونٹنیاں جنہیں خدا کی طرف سے بطور معجزہ بھیجا گیا تھا اپنی باری سے پانی کا استعمال کریں گے۔ان لوگوں کو  چراگاہوں  میں بھی لوگوں کو حصہ داری  دینے کے لئے کہا گیا تھا۔ ‘(یعنی) یہی خدا کی اونٹنی تمہارے لیے معجزہ ہے۔ تو اسے (آزاد) چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا۔ ورنہ تمہیں دردناک عذاب پہونچےگا ’ (7:73) لیکن ان لوگوں نے اپنا وعدہ توڑا اونٹنی کو مار ڈالا  (7:77-78) ۔ چونکہ پوری قوم اس سازش میں شامل تھی لہٰذا  پوری قوم تباہ  ہو گئی۔ ان کی تباہی کی فوری طور پر وجہ یہ تھی کہ  ان لوگوں نے اونٹنی کو نقصان پہنچایا تھا۔

پیغمبرحضرت سلیمانؑ نے اپنی فوج میں جانوروں کو بھرتی کیا تھا اور ہد ہد نے قاصد کے طور پر کام کیا تھا۔پیغمبر حضرت یونسؑ نے خدا کے حکم سے قبل ہی مایوس ہو کر  اپنی قوم کو چھوڑ دیا تھا ۔ راستے میں آپ کو کشتی  سے باہر نکال دیا گیا تھا اور ایک وہیل نے آپ کو  نگل لیا. وہیل نے آ پ کو اپنے پیٹ میں ایک طویل مدت تک  لے کر  اپنے منھ کو کھلا رکھا تاکہ آپ سانس  لے سکیں۔ آپ خدا سےاپنی پشیمانی  کا اظہار اور مغفرت کی استدعا کرتے رہے۔ آخر میں مچھلی نے آپ کو منھ سے نکال کر  زمین کے ایک ٹکڑے پر پھینک دیا۔ یہاں پر مچھلی نے ایک نبی کے لئے ایک محافظ کا کردار ادا کیا۔

نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ اگر سب سے چھوٹے پرندے کو بھی اس کے حق کے بغیر ہلاک کیا گیا اور پھینک دیا گیا تو اس عمل کا مؤاخذہ  ایک جرم کے طور لیا  جائے گا۔آپ ﷺ نے وضاحت کی کہ اس کا حق یہ تھا کہ  اسے صرف ضرورت  کے وقت کھانے کے لیے ذبح کیا جانا چاہئے نہ کہ  کہ بلا ضرورت  اسے ہلاک  کیا جائے اور پھینک دیا جائے  (مشکوٰۃ)۔،  صرف تفریح کے لئے  شکار کو حلال نہیں مانا جاتا ہے۔نبی  کریم ﷺ نے یہ بھی ہدایت فرمائی ہے کہ ذبح کے لیے چھری تیز ہونی چاہیے تا کہ جانوروں کو زیادہ تکلیف  نہ ہو۔ایک بار نبی کریم ﷺ نے دیکھا کہ ایک جگہ پر خیمہ لگانے کے دوران کسی نے چینٹیوں کے تودہ کے قریب  آگ روشن کی۔ آپ ﷺ نے اسے فوراً بجھا دینے کا حکم دیا۔ ایک مرتبہ کسی  نے ایک پرندے کے  دو چھوٹے بچوں کو پکڑ لیا ان  پرندوں کی ماں تکلیف کے ساتھ ان کے سر پر چکرلگانے لگی، جب رسول اللہ ﷺ نے اس منظر کو دیکھا تو آپﷺ نے  اس شخص کو انہیں آزاد کرنے کے لئے کہا  (بخاری)۔

نبی  کریم ﷺ نے ایک  مرتبہ  ایک ایسے شخص کی کہانی بتائی جو خاص طور سے  ایک کتے کی پیاس بجھانے کے لئے ایک چشمے کے اندر گیا۔فتح مکہ کے بعد پیغمبر محمد ﷺ نے دس ہزار لوگوں پر مشتمل فوج کی قیادت کی۔  راستے میں آپ ﷺ نے دیکھا کہ ایک کتیہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔  اس خدشے سے کہ کوئی اسے تنگ یا پریشان کر سکتا ہے، آپ ﷺ نے ایک شخص کو اس جگہ پر مأ مور کیا جب تک کہ پوری فوج وہاں سے گزر نہیں گئی۔   آپ ﷺ نے فرمایا کہ کسی جاندار مخلوق یا تمام جاندار مخلوق کے ساتھ رحم دلی کرنے والا ثواب کا مستحق ہے (بخاری)۔

آپ ﷺ نے  جانوروں کو انکے چہرے پر مارنے اور  داغنے سے منع فرمایا ہے۔آپ ﷺ نے جانوروں کی لڑائی والے کھیل سے بھی منع فرمایا ہے (ابو دائود)۔نبی کریم ﷺ نے اپنے امتیوں کو  ہدایت کی ہے کہ جب جانور ٹہل رہے ہوں تو انہیں راستے کی ہریالی کا فائدہ لینے دیں،  لیکن خشک موسم میں انہیں تیزی سے چلانا چاہیے اور  انکے کرب کو کم کرنے کے لئے  ٹہلنے کی مسافات کو بھی کم کرنا چاہیے   (مسلم)۔  نبی کریم ﷺ نے پیار سے اپنے ایک صحابی   کو ابو ہریرہ یعنی ‘بلیوں کے والد’ کا خطاب دیا تھا کیونکہ  انہیں بلیوں کا شوق تھا  اور وہ انہیں اکثر  اپنی آستینوں میں لئے رہتے تھے۔

ایک بار کسی نےحج یا عمرہ کی نیت سے احرام  باندھ لیا تو احترام کی حالت میں بعض حلال  چیزیں بھی حرام  ہو جاتی ہیں  (5:97)۔  ان میں سے ایک جانوروں کا قتل بھی شامل ہے،  اور اس سے قطع نظر کی کہ وہ کس  قدر چھوٹا ہے۔ مکہ میں کعبہ کے 50,000مربع کلو میٹر کے دائر ے(5:95-97)میں کسی جانور کا قتل کرنا حرام ہے۔

قرآن  نے قدرت کی  بعض عظیم نشانیوں  کا ذکر کیا ہے: ’ بےشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے  (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔اور تمہاری پیدائش میں بھی۔ اور جانوروں میں بھی جن کو وہ پھیلاتا ہے یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں’ (45:4)۔انسان کی تخلیقی اہمیت جانوروں کی تخلیقی اہمیت کے برابر کہا گیا ہے۔اس طرح ،  جانوروں کی اہمیت میں ایمان رکھنا پختہ ایمان کی نشانییوں میں سے ہے۔

نیلوفراحمد اسلامی اسکالر ہیں اور عصر حاضر کے مسائل میں اس کی معنویت پر  اسلام کے روشن خیال پہلوؤں پر خصوصی توجہ کے ساتھ لکھتی ہیں۔ وہ بین العقائد مکالموں سمیت مقامی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں لیکچر اور مکالے پیش کرتی رہتی ہیں۔

بشکریہ : سائوتھ ایشیاء گلوبل افیئر

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-environment/religion---ethics--importance-of-animals-in-islam/d/6057

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/religion-and-ethics--the-importance-of-animals-in-islam--مذہب-اور-اخلاقیات---اسلام-میں-جانوروں-کی-اہمیت/d/6525

 

Loading..

Loading..