New Age Islam
Fri Apr 23 2021, 01:02 AM

Urdu Section ( 29 Dec 2011, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Last Sermon of Prophet (SAW) نبی کریم ﷺ کا آخری خطبہ اسلام فوقیت کےنظریات کی مذمت کرتا ہے

 

نیلو فر احمد

  (انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

فتح مکہ کے بعد جب کعبہ اور اس کے ارد گرد کو پیغمبر ابراہیم ؑ کی میراث  کے مطابق  بحال کر دیا گیا تب نبی کریم ﷺ نے  حج کرنے کا فیصلہ کیا۔صرف یہی ایک ایسا حج آپ ﷺ نے کیاجس میں جن ارکان  کی تعلیم دی اور جتنا سفر کیا وہ  سبھی ارکان حج کا حصہ بن گئے۔

آپﷺ نے محسوس کیا کہ وہ پھر اپنے امتیوں سے اس طرح نہیں مل سکیں گے، اس لئے انہوں نے اپنی تمام تر تعلیمات کو اپنے آخری خطبہ میں مختصراً بیان فرمایا۔ جمعہ ،۹ ذی الحجہ،۱۰ ہجری (۶ مارچ،۶۳۲ ؁) میدان عرافات میں جمع ہونے کا دن۔پیغمبر محمد ﷺ جبل الرحمت یعنی  ‘رحمت کا پہاڑ’پر جڑھ گئے اور عازمین حج کو خطاب کیا،کچھ لوگوں کے مطابق اس وقت وہاں موجود  لوگوں کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی۔

خدا کی حمد و ثناء  اور ‘نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے اور محمدﷺ  اللہ کے رسول ہیں’ کےبنیادی عقیدے کے اعلان  بعد آپ ﷺ نے کئی اور موضوعات پر  خطاب کیا۔  ان میں سےبعض بیانات اسلامی عقیدے کی بنیادی کسوٹی بن گئے۔

آپ ﷺ نے قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا، ‘لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا ۔تاکہ  تمہیں ایک دوسرے کی شناخت ہو۔اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔بے شک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبر دار ہے۔’(۴۹:۱۳)اس آیت کے بعد رنگ، ذات،قبیلے اور جنس کے تعصب ختم ہوگئے۔

آپ ﷺ نے مذید فرمایا  ‘لہٰذاکسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کسی گورے پر کوئی فضیلت ہے۔سبھی حضرت آدمؑ کی اولاد ہیں اور اللہ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا تھا۔ترجیح اور برتری کے تما م دعوے اورخاندان  و مال و دولت کے تمام دعووں اور  انتقام لینے کے تمام دعوے میرے قدموں کے نیچے  ہیں ۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن وہ ان لوگوں کی کوئی مدد نہیں کر پائیں گے جنہوں  نے آخرت کی زندگی کے لئے کوئی عمل  نہیں کیا۔آپ ﷺ نے قریش  قبیلے کے لوگوں سے فرمایا کہ خدا نے انکی جھوٹی شان اور آبائو اجداد کی حصولیابیوں کے بارے میں  گھمنڈ کو  ختم کر دیا۔‘اے لوگو! خاندان، دولت اور عزت کے نام پر ایک دوسرے کا احترام حاصل کرنے کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا گیا۔۔۔۔سبھی مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔اپنے غلاموں کا خیال رکھو۔جی ہاں اپنے غلاموں کا اچھی طرح خیال رکھو۔ان کو وہی کھانہ کھلائو جو تم خود کھاتے ہو اور سی طرح  لباس کے معاملے میں بھی کرو۔

اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا  زمانہ جاہلیت کی تمام ظالمانہ رسمیں آج سے ختم ہوئیں۔اور زمانہ جاہلیت کے تمام بدلے اور مفادات کو بھی باطل قرار دے دیا گیا۔ چونکہ اللہ نے ہر ایک  کو اس کا جائز حق دیا ہے اس لئے کسی کے لئے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے وارثوں کے لئے وصیت لکھے۔آپ ﷺ نے یہ بھی اعلان کیا کہ  ایک بچہ اسی کا مانا جائے گا  جس نے اس کی پرورش کی۔

جس پر  زناکاری ثابت ہو جائے(چار شہادتوں کے ساتھ)اس کے لئے پتھروں سے مارنے کی سزا ہے۔حتمی فیصلہ خدا قیامت کے دن کرے گا۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ قرض ادا ہونے چاہیے اور ادھار لی گئی چیزوں کو واپس کیا جانا چاہیے۔تحفے کے بدلے میں تحفہ دیا جانا چاہیے۔جس نے کسی کی ذمہ داری قبول کی ہے اسے چاہیے کہ وہ  اسکی  ادآ ئگی واجب سمجھے ۔ کسی کا کسی پر  زبردستی   کرنا قانونی اعتبار سے غلط ہے ۔

آپ ﷺ نے خاص طور سے اپنے امتیوں سے کہا کہ ‘اپنی خواتین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔۔۔۔ کیونکہ وہ آپ کی پابند ہیں اور وہ اپنی مرضی کے مطابق  کچھ نہیں کر سکتیں۔ خواتین کے معاملے میں خدا سے ڈرو، کیونکہ خدا کے ہی نام پر تم نے انہیں حاصل کیا ہے اور خدا کی اجازت سے وہ تمہارے لئے جائز قرار دی گئیں ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ مرد اور خواتین کو ایک دوسرے پر حق ہے۔ان پر آپ کے حقوق اس طرح ہیں کہ جس کسی کو تم پسند نہ کرو  اوہ اسے بلا نہیں سکتی ہیں۔انہیں تمہارےاعتماد کو نہیں توڑنا چاہیے۔اگر وہ بے حیائی کے ساتھ کسی بد اخلاقی میں ملوث ہیں تو تمہیں اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کا حق ہے۔لیکن اگر وہ باز آ جائیں تو تمہیں ان کی ضرورتوں جیسے کپڑے اور کھانہ وغیرہ کا اچھی طرح خیال رکھنا چاہیے۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ کسی خاتون کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ  اپنے شوہر کی دولت میں سے بغیر اس کی مرضی کے  کسی کو کچھ دے۔ اس کے بعد پیغمبر ﷺ نے فرمایا ‘میں تمہارے لئے کچھ چھوڑ رہا ہوں، اگر تم اس پر ثابت قدم رہو گے تو  کبھی گمراہ نہیں ہوگے یعنی اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔اور یاد رکھو اپنے عقیدے کے معاملےمیں مبالغہ آرائی سے کام نہ لو کیونکہ تم سے پہلے کی قومیں اس کے سبب تباہ  ہو گئیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا کی شیطان نے شہر(مکہ)میں اپنی پرستش کی تمام امیدیں چھوڑ دی ہے۔لیکن معمولی معاملات میں  لوگ اب بھی اس کی اتباع کرتے ہیں  جس سے اس کوتسلّی ہو سکتی ہے۔اس لئے شیطان سے اپنے دین اور عقیدے کی حفاظت کرو۔

آپ ﷺ نے اپنے امتیوں کو یاددہانی کراتے ہوئے فرمایا کہ اپنے رب کی عبادت کرو، روزانہ پانچ مرتبہ نماز، ایک ماہ کے روزے،خوشی سے زکوٰۃ ادا کرو ، حج کرو اور  ان کے رسول کی اتباع کرو۔تبھی تم   جنت کے حق دار بن پاؤ گے۔

احتساب کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ ‘اب سے اکیلا مجرم ہی اپنے جرم کے ارتکاب کے لئے ذمہ دار ہوگا، نہ تو باپ کی جگہ بیٹا پکڑا جائےگا اور نہ ہی بیٹے کی جگہ باپ سے انتقام لیا جائے گا’۔آپ ﷺ نے اس وقت موجود اپنے امتیوں سے فرمایا کہ جو کچھ بھی سنا ان لوگوں تک پہنچا دو جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بعد کے لوگ اسے سمجھنے اور برقرار (ان الفاظ کو)رکھنے کے زیادہ اہل ہوں۔

اپنے خطبے کے اختتام پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ (قیامت کے دن) آپ لوگوں سے میرے متعلق سوال کیا جائے گا،تو آپ لوگ کیا جواب دیں گے؟موجود تمام لوگوں نے کہا ‘ہم شہادت دیں گے کہ آپ نے وہ تمام باتیں ہم تک پہنچا دیں جو آپ کو سونپی گئی تھی۔’اس کے بعد پیغمبر ﷺ نے لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے  تین مرتبہ  یہ کہا ‘اے پروردگار آپ اس کے گواہ رہیے گا’۔

مصنفہ قرآنی موضوعات اور عصر حاضر کے مسائل میں خصوصی مہارت رکھتی ہیں۔

بشکریہ۔ دی ڈان، کراچی

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/islam-in-a-capsule--prophet-mohammad’s-farewell-sermon-decried-all-supremacist-ideologies/d/6244

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/last-sermon-of-prophet-(saw)--نبی-کریم--کا-آخری-خطبہ-اسلام-فوقیت-کےنظریات-کی-مذمت-کرتا-ہے/d/6260

Loading..

Loading..