New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 05:08 PM

Urdu Section ( 3 Jan 2012, NewAgeIslam.Com)

Terms and Conditions of Nikah نکاح کی شرائط

 

نیلو فر احمد

نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ‘نکاح میری سنّت ہے’ اس کا مطلب ہے کہ  شادی کرنا اور نکاح کرنا صرف ایک قانونی قاعدہ ہی  نہیں بلکہ یہ نبی کریم ﷺ کی سنّت پر عمل کرنا بھی ہے۔یہ حقیقت شادی کرنے کی اہمیت کو کم نہیں کرتی ہے لیکن واضح کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص شادی کرنے کے قابل نہیں ہے تو اس نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے۔

عربی زبان کے لفظ  ‘نکح’  کے معنی ایک ساتھ لانے اور جذب کرنے کے ہیں۔اگر ایک مرد اور ایک خاتون ایک دوسرے میں جذ ب ہونا چاہتے ہیں تو کم از کم بنیادی شرط یہ ہوگی کہ دونوں فریق نکاح کے لئے  راضی ہوں،جو دو لوگوں کو باقی کی زندگی کے لئےپارٹنر بنا دے گا۔اس لئے دونوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ  شادی کے لئے  شرائط ، فرائض اور حقوق سے واقف ہوں۔

اسلام میں شادی دو لوگوں کے درمیان قانونی معاہدہ ہے جس میں دونوں فریق معاہدہ کےتمام شرائط پر راضی ہوں۔جسے ایک ‘ مضبوط تعلق’  کہا گیا ہے  (۴:۲۱)۔ نکاح کی شرط کچھ بھی ہوسکتی  بشرطیکہ اس میں   اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی نہ ہو تی ہو ۔یہ کوئی مقدس عہد نہیں ہے جو افراد کو ہمیشہ  کے لئے بندھن میں باندھے گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ  معاہدہ کو قرآن کی سورۃ طلاق، سورۃ البقرہ اور سورۃ النساء میں درج مخصوص شرائط کی بنیاد پر  منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

نکاح کے وقت عورت و مرد سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا انہیں نکاح قبول ہے اس کا مطلب ہے کہ بغیر فریقین کی مرضی کے نکاح فسق  ہوتا ہے۔قرآن مومنوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ  عورتوں کے ساتھ زبردستی شادی  نہ کریں

نکاح

۔‘مومنو! تم کو جائز نہیں کہ  زبردستی عورتوں کے وارث بن جائو’ (۴:۱۹) اس آیت  میں اسلام سے قبل بیوائوں کو ورثے میں پانے کی رسم کی طرف  اشارہ ہے لیکن وسیع تناظر میں یہ جبراً شادی کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے جو کئی مسلم معاشروں میں عام ہو گئی ہے۔

نکاح چوری چھپے نہیں کیا جانا چاہیے  بلکہ مہمانوں کے سامنے باقاعدہ اعلان  کے طور پر کیا جانا چاہیے۔

اس طرح تمام مہمان گوا ہ رہیں گے اور جو نیک عمل ہو رہا ہے  اس میں شامل رہیں گے۔مولانا عمر احمد عثمانی کے مطابق نکاح کے وقت دو گواہوں کا ہونا لازمی ہے۔ یہ دو مرد یا دو عورتیں ہونی چاہیے جو مسلمان ہوں اور بالغ ہوں اور وہ اس بات سے باخبر ہوں کہ مسلمان کی شادی میں کیا ہوتا ہے ۔

رواج کے مطابق ایک قانونی ولی موجود ہونا چاہیے۔حنفی مکتب فکر عورت کو اپنی پسند کا وکیل مقرر کرنے  کی اجازت دیتا ہے، جو اس کی جانب سے کام کرے گا۔شادی کے خواہش مند مرد اور عورت کو برابر درجے کا ہونا چاہیے۔ جدید معیار کے مطابق یہ درجہ   سماجی، مالی اور تعلیمی حیثیت اور عمر کے میں مطابقت ہو نی چاہۓ۔  حال ہی میں  شوہر کی موت یا طلاق کے سبب عدت کی حرام کردہ مدت  میں عورت  کی شادی نہیں ہونی چاہیے۔

شادی کے وقت دولہے کی جانب سے دلہن کو دیا جانے والا مال، مہر بھی نکاح کےشرائط میں سے ایک شرط ہے اور اس پر دونوں فریقین کو راضی ہونا چاہیے۔جہاں تک ہو سکے دلہن کو پہلے ہی دن مہر ادا کیا جانا چاہیے۔کئی بار مہر دلہن کے والد یا بھائی کے قبضے میں ہوتا ہے اور وہ اسے کبھی دیکھ بھی نہیں پاتی ہے۔یہ فروخت  ہونے کا تاثر دیتا ہے اور حقیقتاً ایسا ہو بھی سکتا ہے۔مہر پر عورت کا حق ہوتا ہے اور کسی دوسرے کا اس پر کوئی حق نہیں ہوتا ہے اور اگر وہ آگے چل کر طلاق کا مطالبہ کرتی ہے تو اسے مہر واپس کرنا چاہیے۔(۲:۲۲۹)

جب عورت اجازت دے دے تو اس کے بعد جو نکاح پڑھا رہا ہے اسے چاہیے کہ وہ پہلے نکاح کا خطبہ پڑھے اور اسے استغفار بھی پڑھنا چاہیے۔مہر کی جتنی  رقم پر اتفاق ہو اس کا بھی اعلان کرنا چاہیے۔اس کے بعد دولہے کو واضح طور پر کہنا چاہیے کہ اس نے نکاح قبول کیا اور اس کے بعد ہی دولہا اور دلہن قانونی طور پر میاں بیوی ہو جاتے ہیں اور انہیں ایک ساتھ زندگی شروع کرنے کا حق مل جاتا ہے اور معمولی وجوہات کی بناء پر اس میں تاخیر بھی نہیں کرنا چاہیے۔

پاکستان میں  نکاح کی ایک اور شرط کا ذکر  نکاح نامہ میں ہے اور وہ یہ ہے  کہ اگر شوہر  راضی ہو تو  ایک عورت کو طلاق  دینے کا حق ہوگا، ۔زیادہ تر  خاندانوں کا خیال ہے کہ نکاح کے وقت طلاق کی بات کرنا برا شگن ہے۔کچھ قاضی حضرات بھی اس شرط کوخلاف شریعت بتا تے ہیں۔تاہم یہ اب قانون ہے جو مرد کے راضی ہونے سے قطع نظر لاگو ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ بھی نکاح کی کچھ غیر تحریری شرائط ہوتی ہیں جنہیں مانا جاتا ہے: دولہا اور دلہن شادی کرنے کے لائق عمر کے ہونے چاہیے، دولہے کے گھر والوں کی جانب سے جہیز کا کوئی مطالبہ نہیں ہونا چاہیے، بیوی کی مالی مدد کرنا شوہر کا فرض ہے،  اور کوئی بھی شوہر اپنی شریک حیات کو  اسکے والدین سے قطع تعلق کرنے پر  لئے مجبور کرنے کا حقدار  نہیں ہو گا ۔

قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے ، ‘اے نبی کریمﷺ ہم نے تمہاری بیویاں  جائز بنا دیں جن کے لئے تم نے مہر ادا کیا’ (۳۳:۵)اگر نبی کریم ﷺ کو ان عورتوں کے لئے مہر ادا کرنا پڑا جن سے آپ ﷺ نے نکاح کا فیصلہ کیا۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ مہر کے بغیر نکاح جائز نہیں ہے۔

جنوبی ایشیاء میں اکثر مہر کی ایک بڑی رقم پر  فریقین کے درمیان اتفاق ہوتا ہے لیکن وہ کبھی ادا نہیں کی جاتی ہے۔اکثر شوہر کے بستر مرگ یا جنازہ پر عورتوں سے  مہر معاف کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ جبراً شادی کی وکالت کرنے، نابالغ لڑکیوں کی شادی کافی عمر کے مرد سے کرنےیا ان کے حوالے کرنے، مہر ادا نہ کرنےیا دلہن سے مہر واپس لے لینے کے غلط عمل میں جو لوگ بھی لگے ہیں وہ غور کریں کیونکہ وہ پیغمبر محمدﷺ  کی تعلیمات کے خلاف عمل کر رہے ہیں۔

بشکریہ: دی ڈان

(انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

URL for English article:

http://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/conditions-for-nikah-/d/4338

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/terms-and-conditions-of-nikah--نکاح-کی-شرائط/d/6297

 

Loading..

Loading..