New Age Islam
Fri Oct 23 2020, 08:22 PM

Urdu Section ( 29 Nov 2011, NewAgeIslam.Com)

Resources in Islam: Quranic Arguments اسلام میں وسیلہ: قرآنی دلائل

 

 نیلو فر احمد  (انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن ،  نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

اسلام میں وسیلہ ایک ایسا متنازع موضوع بن گیا ہے جس پر اس کی حمایت اور مخالفت کرنے والے دونوں اپنے دلائل پیش کرتے ہیں۔قرآن فرماتا ہے: ’اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کرتے رہو....‘

عربی میں وسیلہ کے معنی کڑی یا مصالحت کرنے والے کے ہیں۔توسّل یا شفا ع کے معنی انگریزی لفظ انٹر سیشن کے ہیں ، یعنی خدا تک پہنچنے کا ذریعہ تلاش کرنا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس دنیا میں اور قیامت کے دن کسی اور کی طرف سے کسی کیلۓ سفارش کرنا۔ جب خدا کے لئے شافی لفظ استعمال ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جسے سفارش کی اجازت دے۔

قرآن کی متعدد آیات کو بغیر ان کے سیاق و سباق کے غلط سمجھا گیا ہے اور کئی لوگوں کا خیال ہے کہ قرآن اس کی تردید خود کرتا ہے اور کہتے ہیں کہ ایک جگہ قرآن سفارش کو درست مانتا ہے جبکہ دوسری جگہ اسے صحیح نہیں مانتا ہے۔قرآن کے مطابق، جو لوگ سفارش سے انکار کرتے ہیں وہ یقین نہ رکھنے والے ہیں ، یاخلاف ورزی کرنے والے ہیں۔’(تو اس حال میں) سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے حق میں کچھ فائدہ نہ دے گی۔(74:48) ‘یہاں جہنمیوں کا حوالہ ہے۔بنی اسرائیل سے کہا جاتا ہے ’اور اس دن سے ڈروجب کوئی شخص کسی شخص کے کچھ کام نہ آئیگا، اور نہ اس سے بدلہ قبول کیا جائے گا، اور نہ اس کو کسی کی سفارش کچھ فائدہ دیگی اور نہ لوگوں کو (کسی اور طرح کی) مدد مل سکے۔(2:123)

بعض آیتیں جو یہ واضح کرتی ہیں کہ خدا کی اجازت اور وعدے کے بغیر کوئی بھی سفارش نہیں کر سکتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی یقین دہانی کرتا ہے کہ سفارش کا عمل ہوگا۔’ (تو لوگ) کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے خدا سے اقرار لیا ہو۔(19:87, 34:23) کوئی اس کی اجازت حاصل کئے بغیر کسی کی سفارش نہیں کر سکتا (10:3, 2:255, 21:28) اس روز (کسی کی) سفارش کچھ فائدہ نہ دے گی مگر اس شخص کی جسے خدا اجازت دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے۔ (20:109) ‘مکہ والوں کا یقین تھا کی ان کے بنائے بت ان کی سفارش کریں گے، اس کی تردید کی گئی(30:13)

خدا نبی کریم سے فرماتا ہے: ’اوررات کے بعض حصہ میں بیدار ہوا کرو (اور تہجد کی نماز پڑھا کرو) ۔ (یہ شب بیداری) تمہارے لئے (سبب) زیارت ہے  (ثواب اور نماز تہجد تم کو نفل)  ہے قریب ہے کہ خدا تم کو مقام محمود عطا فرماۓ گا۔(17:79) ‘آدھی رات میں پڑھی جانے والی یہ نمازپیغمبر محمد پر فرض تھی لیکن ان کے ماننے والوں کو پڑھنے یا نہ پڑھنےکا اختیارھے۔پیغمبر کا مقام محمود قیامت کے دن سب سے اعلیٰ انسانی مقام ہوگا۔

ایک حدیث میں بیان ہے کہ قیامت کے دن لوگ ادھر سے ادھر سفارش کرنے والے کی تلاش میں بھاگ رہے ہوں گے، یہاں تک کہ وہ نبی کریم کے پاس پہنچیں گے، جو جواب دیں گے، ’ میں تمہاری شفاعت کے لئے ہوں‘۔اس کے بعد خداآپ سے فرمائے گا، سفارش کرو، تمہاری سفارش سنی جائے گی۔(بخاری)

پیغمبر محمد کے لقب میں سے ایک شافعی ہے، یعنی جو شفاعت کرے۔دوسرے روحانی لوگ جوبطور شافعی کام کریں گے ان میں پیغمبر، شہید، قرآن کے حفاظ، فرشتے اور نیک لوگ جنہیں اللہ صحیح سمجھے شامل ہوں گے۔ پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن اپنے امتیوں کی سفارش کریں گے اس کا ذکر قرآن میں ہے۔(5:16-18)

ترمذی، ابن ماجہ اور دوسری احادیث کے مطابق: ’ایک نابینا آدمی نبی کریم کے حضور میں حاضر ہوا اور عرض کیا، میری آنکھوں میں بینائی نہیں ہے آپ اللہ سے اس کے لئے دعا کر دیں، نبی کریم نے فرمایا، جاؤ وضو کرو اور دو رکعت نماز پڑھو اور دعا کرو، اے اللہ میں اپنے پیغمبر محمد کے وسیلے سے آ پ کی طرف متوجہہ ہوتا ہوں اور آپ سے مانگتا ہوں۔اے محمد اپنی آنکھوں کی بینائی واپس پانے کے لئے میں آپ سے سفارش کی استدعا کرتا ہوں۔ اے اللہ نبی کریم کی وسیلے سے میری شفاعت قبول کر لیجیے۔ اس کے بعد نبی کریم نے فرمایا، اگر کوئی اور حاجت ہو تو اس کو دہرا لینا۔‘

کسی زندہ یا مردہ شخص کووسیلے بنایا جا سکتا ہے، کیونکہ اس سے مراداس زندہ یا مردہ شخص کے ساتھ منسلک مستقل، مثبت حیثیت سے ہے۔نبی کریم کے وصال کے بعدعثمان بن حنیف نے یہ دعا کافی پیغمبرکے وفات کے لمبے عرصے کے بعد کسی کو سکھائی تھی۔

کسی مخصوص ضرورت کے تحت کسی معزز شخصیت جیسے پیغمبر یا کوئی اور صالح مومن کو وسیلہ بنانا اور اس شخص کے بارے میں یہ سوچے بغیر کہ وہ دینے کی قوت رکھتا ہے، ایسا کرنے کی اجازت چاروں سنی اماموں نے دی ہے ۔ یہاں تک کہ ابن تیمیہ کا خیال تھا کہ اللہ مومنوں کے لئے پیغمبر اور روحانی رہنماؤں کو سفارش کی اجازت دے گا۔کیونکہ وہ روز قیامت زندہ ہوں گے اور اور ان کی شفاعت موئثر ہوگی۔

اگر کوئی شخص پردہ کر چکے لوگوں سے راست طور پر مانگتا ہے، اور اس کا خیال ہے پیغمبر اور متقی افراد آزادانہ طور پر دینے کی قوت رکھتے ہیں، تب یہ خیال شرک یا اصنام پرستی ہوگی اور یہ عمل اللہ کی رازق ذات کے ساتھ کسی کو شریک ماننے کے مترادف ہوگا۔

سفارش کی مختلف اقسام ہیں: پہلا خدا کے بہترین ناموں کے ساتھ، ’اور خدا کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو۔‘(7:180) دوسرے،انسان کے اچھے اعمال سے ۔ تین لوگ ایک غار میں پھنس گئے۔

سبھی نے خدا سے دعا کی کہ انکے اچھے کام کے لئے ان کی دعائیں قبول کرے (بخاری)۔تیسرے با حیات اور متقی اور پرہیز گار لوگوں سے ان کے لئے دعا کی درخواست کرنا اور چوتھے اللہ کے نزدیک اچھے اعمال والے زندہ یا مردہ افراد کا وسیلہ لگانا۔

اس معاملے میں زندہ اور مردہ کے درمیان امتیاز اسی طرح ہے جیسے مو ت کے وقت روح کے فنا ہو جانے کا یقین۔

یہ قیامت کے دن سے انکار کے مترادف ہے۔ قیامت کے دن سفارش خدا کی جانب سے کسی مومن کو دیا گیا گریس مارکس (Grace Marks) جیسا ہوگا، جس نے ایک مطلوبہ سطح تک آنے کی کوشش کہ لیکن اس سطح تک نہیں پہنچ سکا۔یہ ایک شخص کی جانب سے سفارش ہوگی جسے اللہ اجازت دے، صرف ایک کے لئے جسے خدا اجازت دیتا ہے: ’کہہ دوکی سفارش تو سب خدا ہی کے اختیار میں ہے۔(39:44) ‘اور تمام طاقت خدا سے ہی ہے۔

مصنفہ قرآن کی اسکالر ہیں اور عصر حاضر کے موضوعات پر لکھتی رہتی ہیں۔

بشکریہ۔ ڈان، کراچی

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/intercession-in-islam--quranic-arguments-from-both-sides-of-the-divide/d/5995

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/resources-in-islam--quranic-arguments--اسلام-میں-وسیلہ--قرآنی-دلائل/d/6033

 

Loading..

Loading..