New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 11:41 AM

Urdu Section ( 6 Nov 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islamic Moral Agency to Distinguish Between Right and Wrong حق اور باطل کے درمیان تمیز کرنے اسلامی اخلاقی اصول

 

 

 

 نکہت ستار

6 نومبر 2015

جب اللہ رب العزت نے انسانوں کو پیدا کیا تو اس نے انسان کے نفس (روح) میں بنیادی اخلاقیات کا شعور بھی ڈال دیا، تاکہ وہ اس دنیا میں حق اور باطل (خیر اور شر) کے درمیان تمیز کر سکے۔ یہ ہمارے اندر روشن کیا گیا اخلاقیات کا وہ چراغ ہی ہے کہ جب ہم جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں یا جب اس کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہمیں اس کا درد محسوس ہوتا ہے۔ جب ہم اپنے ضمیر کی آواز کو دباتے ہیں اور گناہوں کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں تو ہمارے ضمیر سخت اور کمزور ہو جاتے ہیں۔

نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: "مجھے تم لوگوں کو اخلاق خصائص سے مالامال کرنے کے لیے نبوت تفویض کی گئی ہے، اور تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق دوسروں سے بہتر ہیں" (بخاری)۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان کے اندر خود کو بہتر بنانے اور اپنے اندر اصلاح پیدا کرنے کی خواہش ہوتی ہے، جو اسے یہ بتاتی ہےکہ اچھائی کا نتیجہ اچھائی ہوتا ہے اور برائی کا نتیجہ برائی کی شکل میں برآمد ہوتا ہے۔ لہذا، انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بات کی طرف قدم بڑھانے کی پوری کوشش کرے کہ گمراہی کی طرف لے جانے والے فتنے اور وسوسے کے باوجود اخلاقیات کے اصول، نیکی اور روحانی طہارت جس کا مطالبہ کرے۔

قرآن ایسے تین اہم اخلاقی اصول بیان کرتا ہے جس پر انسانوں کو عمل کرنا چاہئے، اور تین ایسی باتیں بیان کرتا ہے جس سے اسے بچنا چاہئے۔ "بیشک اللہ (ہر ایک کے ساتھ) عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے اور قرابت داروں کو دیتے رہنے کا اور بے حیائی اور برے کاموں اور سرکشی و نافرمانی سے منع فرماتا ہے، وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم خوب یاد رکھو (16:90)"۔

یہاں عدل ایک وسیع ترین معنیٰ میں استعمال کیا گیا ہے جس کا دائرہ کسی بھی امتیاز کے بغیر لوگوں کو ان کا حق دینے تک ہے اگر چہ اس کے لیے خود اپنے خاندان کے مفاد کے خلاف اپنے دشمن کو انصاف دینے کی ضرورت ہی کیوں نہ پیش آئے۔ خدا کی نظر میں ہر قیمت پر انصاف کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔ یہ ہمیشہ ترقی پذیر سماجی انصاف کے نظام کا تصور ہے، جسے ایک دوسرے کے تئیں انسانوں کے حقوق اور ذمہ داریوں میں شامل کیا گیا ہے۔ مسلمان کو ہمیشہ سچ بولنا چاہیے، خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں اور اس سے جو کچھ بھی متاثر ہو۔

خدا کی نظر میں ہر قیمت پر انصاف کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے

احسان ہمدردی، رحم دلی اور احسان کے ساتھ نیک اعمال کو انجام دینا ہے۔ یہ محبت، سخاوت اور ہمدردی کے تعلقات کی تشکیل ہے جو ہمیں کسی بھی وضاحت کے بغیر ایک دوسرے کی حالت زار کو سمجھنے اور کسی بھی مطالبہ کے بغیر ان کی مدد اور حمایت کرنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ ایک ایسا احساس ہے جسے کسی شکریہ کی ضرورت نہیں ہے اور جو خدا کے سامنے ہمیں عاجزی اختیار کرنے اور بکثرت اس کا شکریہ ادا کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

تیسرا اصول رشتہ داروں اور ساتھ ہی ساتھ ہمسایوں، دوستوں، مسافروں اور مسکینوں اور یہاں تک کہ اجنبی کے تعاون میں خرچ (انفاق) ہے۔ اس دنیا میں ہماری دولت خدا کی ملکیت ہے، اور ہم محض اس کے امین ہیں۔ اگر چہ ہمیں فضول خرچی کے بغیر اس دولت کو ایک معقول حد تک خود اپنے اور اپنے خاندان کے اوپر خرچ کرنے کی اجازت ہے، لیکن ہمیں اس سے ان لوگوں پر ایک مخصوص حصہ خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جن کے پاس اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اور ان کے لیے اتنا مال نہ ہو۔ یہ مال احساس برتری کے ساتھ نہیں، بلکہ اس جوش و جذبہ کے ساتھ خرچ کیا جانا چاہیے کہ ‘‘دایاں ہاتھ کیا دے رہا ہے اس کا علم بائیں ہاتھ کو نہ ہو’’(مسلم بخاری)۔

انسان کو ایسے تین گناہوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے جو محولہ بالا اصولوں کے برعکس ہیں، اور اس سے تمام اعمال صالحہ باطل ہو جاتے ہیں۔ پہلا زنا کا عمل فاحش ہے، جس میں عصمت دری کے ساتھ ایسے دیگر اعمال بھی شامل ہیں۔ اس طرح کے افعال غیر اخلاقی ہیں اس لیے کہ یہ انسانوں کی بری نفسانی خواہشات، دوسرے انسانوں کے حقوق کی خلاف ورزی، جسم اور روح کی طہارت سے خود کو دور کرنے اور معاشرے میں برائی کو پھیلانا کے نتیجے میں صادر ہوتے ہیں۔ یہ لوگوں کو خدا کی طرف متوجہ ہونے اور اس کی برکتیں حاصل کرنے سے روکتے ہیں اور نیکی کرنے کی ان کی صلاحیت کو برباد کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔

دوسرا گناہ ‘نیکی’ (معروف) کے برعکس 'برائی' (منکر) ہے۔ بداعمالیاں اتنی مشہور ہیں کہ ان کا تعین کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انسان فوراً فطری طور پر اس کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ یہ ایسے اعمال ہیں جنہیں لوگوں کو ان کے حقوق، املاک، عزت یا زندگی سے محروم کرنے یا لوگوں کو زخم دینے کے لیے انجام دیے جاتے ہیں۔ قول یا فعل کے ذریعہ لوگوں کے احساسات اور جذبات کو ٹھیس پہنچانا، وعدوں اور معاہدوں کو پورا نہ کرنا اسی زمرے میں آئیں گے۔ کم وزن کرنا اور زیادہ قیمت وصول کرنا، ملاوٹ، دھوکہ دہی اور غبن کی تمام اقسام بھی اس میں شامل ہیں۔

تیسرا گناہ (بغیا) یعنی مروجہ اصول اور قوانین کے خلاف بغاوت کرنا ہے۔ اس میں وسائل اور اختیار کا غلط استعمال، اقربا پروری اور بدعنوانی شامل ہوں گے۔ خاص طور پر اس میں یتیموں اور کمزوروں کے حقوق کو تلف کرنا شامل ہے۔ ریاست کے خلاف بغاوت اسی جرم کے زمرے میں آتی ہے۔

معاشرے میں اخلاقی اقدار پر عمل کرنا اور انہیں فروغ دینا اسلام کا ایک لازمی عنصر ہے اور گھر معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں مسلمانوں کو اسلامی اقدار پر اپنے عمل کا مظاہرہ کرنے کے قابل ہونا چاہئے، جس کا ذریعہ محبت؛ مہربانی؛ بخشش، تحمل اور والدین، بھائی بہن، میاں بیوی اور بچوں کے لیے باہمی تعاون ہے۔ بدقسمتی سے، سب سے زیادہ ناکامی اسی شعبے میں دیکھنے کو ملتی ہے، جس کے نقصاندہ نتائج ظاہر ہیں۔

ہماری ناکامیوں کی وجہ کا تعین کرنے کے لیے افراد کو اسی پیمانے پر ناپا جانا چاہیے۔

ماخذ:

goo.gl/igLfHi

URL for English article:  http://www.newageislam.com/islamic-ideology/nikhat-sattar/islamic-moral-agency-to-distinguish-between-right-and-wrong/d/105189

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/nikhat-sattar,-tr-new-age-islam/islamic-moral-agency-to-distinguish-between-right-and-wrong--حق-اور-باطل-کے-درمیان-تمیز-کرنے-اسلامی-اخلاقی-اصول/d/105195

 

Loading..

Loading..