New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 07:00 AM

Urdu Section ( 1 March 2012, NewAgeIslam.Com)

Does Islam Prohibit Even The Study Of Evolution? کیا اسلام ارتقاء کے مطالعہ سے بھی منع کرتا ہے؟


نضال گوسوم (ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن،  نیو ایج اسلام)

پروفیسر، طبعیات اور فلکیات، امریکن یونیورسٹی شارجہ، متحدہ عرب امارات

4 جنوری، 2012

چند ہفتوں قبل، میڈیا میں ایک خبر آئی کہ برطانوی مسلمان طالب علم "تیزی" حیاتیاتی ارتقاء کی کلاسوں میں شرکت کرنے سے انکار  کر رہے ہیں۔  رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والےطالب علم بھی اس تشویشناک عمل کا حصہ تھے۔ یہ خبر بڑی تیزی کے ساتھ پھیل گئی، یہاں تک کہ بی بی سی اور الجزیرہ انٹرنیشنل نے اس پر پروگرام بھی دکھایا۔

اس سے قبل کہ میں اس بارے میں بات کروں، مجھے غور کرنا چاہیے کہ ایک عام رجھان کے لئے سنسنی خیز خبروں کو لینے سے محتاط رہنا چاہیے، اس طرح پوچھا جانا چاہیے کہ برطانیہ  اور دوسرے مقامات پر  کتنے مسلمان طالب علم ارتقاء سے متعلق کلاسوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ارتقاء، جسے اعلی تعلیم والوں سمیت زیادہ تر مسلمان ایک مثال کے طور پر مسترد کرتے ہیں، اس کے باوجود مصر، ایران، پاکستان اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں پڑھا جاتا ہے۔ کبھی ان ممالک میں ارتقاء کے کلاسوں کا بائیکاٹ کرنے والے طالب علموں کا کوئی معاملہ درج نہیں ہوا ہے۔ کچھ مغربی یونیورسٹیوں (خاص طور پر ہالینڈ ) میں ارتقاء کا مطالعہ کرنے والے طالب علموں کی "مزاحمت" کی کبھی کبھار رپورٹیں آئی ہیں، لیکن یہ وسیع پیمانے پر نہیں تھا جسے ایک عام رجحان کہا جا سکے۔ شاید مسلمان طلبا دوسرے مقامات پر بھی ارتقاء کو مسترد کر رہیں ہوں لیکن عملی طور پر اس کو ایک سیاسی مسئلے میں تبدیل کئے بغیر اسے تعلیم کے نصاب کے ایک حصے کے طور پر  خانوں میں تقسیم کر رہے ہیں۔

دوم، مغرب میں مسلمان طالب علموں کے اس رویہ کی دیگر ثقافتی پہلوؤں مثال کے طور پر  شناخت، اقلیت، اور قانون کے مسائل، جیسا کہ حجاب اور نقاب کی بحث و مباحثے کی صورت کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔ یا شاید مسمان طالب علم ارتقاء کو ایک خالصتاً مغربی نظریہ تصور کرتے ہیں، جس میں ایک مادّی اور منکرانہ فلسفہ ہے اور پھر وہ اس پر ایک بہت ہی مختلف انداز سے نشانہ بناتے ہیں۔ ارتقاء کے انکار کو  شاید ایک اقلیت کے اپنے مذہبی (يہ ثابت ہو جاتا ہے تصور کرنا)  فرمان  یہاں تک کہ تعلیمی نصاب پر عمل کے اصرار کے طور پر دیکھا جا سکتاہے۔

سروے سے پتہ چلا ہے کہ تقریبا ہر جگہ کےمسلمانوں نے ارتقاء  کےبنیادی تصورات اور اس کےنظریے کے نتائج کو بڑے پیمانے پر مسترد کیا ہے ، خاص طور سے جب اس کا اطلاق انسانوں پر کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ تعلیم یافتہ مسلمان - اور آج کی مسلم ثقافت کس مقام پر ہے- ارتقاء کے تصور کو  "صرف ایک اصول" مانتے ہیں اور  ایپ (ابتدائی حیوانات میں انسان کا قریبی رشتہ دار) کو تمام انسانوں کا جد امجد اور تمام مخلوق (جانوروں اور پودوں) ایک اصل سیل سے پیدا ہیں، اسے قبول کرنے سے انکار  کرتے ہیں۔

اپنی حالیہ کتاب میں، میں نے سروے  کے بارے میں لکھا ہے  جسے میں نے اپنی یونیورسٹی میں طالب علموں اور پرفیسر حضرات کے درمیان خود انجام دیا تھا، جس میں 60 فیصد نے جواب دیا تھا کہ ارتقاء کا نظریہ غیر ثابت شدہ ہے۔  ان میں سے 80 فیصد اسے پرھایا جانا نہیں دیکھنا چاہتے تھے یا "لیکن صرف ایک اصول کے طور پر" اسے پڑھانے کو قبول کیا تھا۔

2005 میں ڈاکٹروں کے درمیان  ایک سروے کیا گیا تھا جس میں 40 مسلم ڈاکٹروں میں سے 29  نے ارتقاء کے مقابلے منطقی وضاحت پر اتفاق کیا۔ فی الحال، سلمان حمید مصر، انڈونیشیا، ملائیشیا، پاکستان اور ترکی میں ایک پروجیکٹ کی قیادت کر رہے ہیں جس میں مسلمان ڈاکٹروں اور میڈیکل کے طالب علموں کی رائے پر تحقیق کر رہے ہیں؛ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہے کہ خاص طور پر انسانوں کے حوالے سے زیادہ ترملائیشیائی  ڈاکٹر ارتقاء کی تھیوری کو مسترد کرتے ہیں، اگرچہ شاندار نمبروں سے اندازہ لگانے کے مقابلے تصویر بہت زیادہ پیچیدہ ہے۔

بے شک،  ارتقاء کے اصول پر کوئی یکساں اسلامی رائے نہیں ہے۔ ڈارون (اور بعد میں  اس کی بہتری) نے جب سے اسے تشکیل دیا ہے تب سے ہی مسلم علماء کرام انسانیت کے ابتداء اور تاریض پر اس کے جائزے کو مکمل قبولیت سمیت اس پر مختلف رد عمل پیش کیا ہے۔  اس طرح کے معاملات میں، مذہبی علماء کرام نے خدا پرست تشریح پر اصرار کیا ہے: خدا نے قدرت کے قوانین میں لکھ کر  پورے  ارتقاء کی منصوبہ بندی کی تھی، اور شاید راہنمائی بھی کی تھی۔

لیکن آج کی مسلم ثقافت میں اس عالم کے ارتقاء  کے بارے میں  پختہ آرا موجود ہیں، ان میں سے سب سے واضح اور مضبوط رائے ہارون یحییٰ اور ان کے گروپ کی تھی، جو گزشتہ دہائی یا اس سے زیادہ سے برطانیہ اور فرانس سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو ھدف بنا کر  ایک جارحانہ مہم شروع کی ہے، جس میں لیکچر ٹور کا انعقاد اور   بڑے پیمانے پر کتابیں (جیسے بدنام تخلیق کا اٹلس)  یا تو مفت یا پھر  راعایئتی قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ہارون یحیی کی طرف سے کئے گئے دعووں کی ایک تفصیلی تنقید سمیت  مختلف اسلامی آرا میری کتاب  کے مکمل جائزے میں حاصل کی جا سکتی ہے۔

لہذا اگر ارتقاء کے بارے میں بڑی تعداد میں مختلف اسلامی آرا  ہے تو یہ طالب علم کیوں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ "یہ قرآن کی تعلیمات کے خلاف ہے"؟

سب سے پہلے، یہ رویہ ایکاقسم کی الجھن ہے: کسی بھی سائنسی نظریہ یا نتیجہ موازنہ  کے خلاف قرآن ایک حوالہ نہیں ہونا چاہیے؛  قرآن ایک روحانی، اخلاقی، اور معاشرتی رہنمائی کی کتاب ہے، اور  یہ دنیا کو تلاش کرنے  اور جو اس کی خدا پرست تعلیمات کے مطابقت رکھتی  ہو  اس سے ایک عالمی نظریہ اخذ کرنےکے لئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے،  یہ بیان کرنے کا دعویٰ نہیں کرتا ہے اور دنیا کس طرح کام  کرتی ہے  اس کی بہت کم  وضاحت کرتا ہے۔

دوسرےیہ کہ ارتقاء "قرآن کی تعلیمات کے خلاف ہے" کہنے کی بنیاد بعض کہانیوں سے آتی ہے، خاص طور پر آدمؑ کی تخلیق کی کہانی، مقدس کتابوں کی قدیمی علماء کرام کے ذریعہ ان آیات کے واضح معنی کے طور پر لفظی تشریحات سے۔

  جیسا کہ میں نے اکثر لوگوں کو بتایا ہے، جیسے کہ ہم سورج کے مرکز میں ہونے کے نظام شمسی ماڈل کو ردّ نہیں کرتے ہیں، صرف اس وجہ سے کہ قرآن کا کہنا ہے کہ "سورج طلوع ہوتا ہے" اور "سورج غروب ہوتا ہے"، اس طرح ہمیں ارتقاء کو مسترد نہیں کرنا چاہئے صرف اس وجہ سے  کہ کتاب کہتی ہے کہ "خدا نے مٹی سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا"۔

قرآن مجید کی (دوبارہ) تشریح کی کشادگی پر حال ہی میں، شاید گزشتہ چند دہائیوں کے سب سے زیادہ با اثر  مسلم اسکالر شیخ یوسف امام القرضاوی کے ذریعہ زور دیا گیا، جنہوں نے کہا کہ: اگر ڈارون کے اصول ثابت ہیں، تو ہم ایسی قرآنی آیات تلاش کر سکتے  ہیں جو اس کے مطابق ہوں.......

اس طرح آج کی مسلم ثقافت میں ارتقاء کا انکار تو مغرب میں مسلم اقلیتوں سمیت دنیا کے کئی حصوں میں لفظی اور بنیاد پرست تصور کے غلبے کی عکاسی کرتا ہے۔ اور ہارون یحیی اور دوسروں کی مہم  نقصان دہ ہے اور مسلمانوں کے لئے یہ عام طور پر چاہے سائنس یا جدیدیت کے حوالے سے،  اچھا شگون نہیں ہے۔

آخر میں بہت اہم بات یہ ہے کہ ، یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ مسلمان، اسلام میں علم اور سائنس کا اعلیٰ مقام ہے، کا دعوی کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان میں سے بہت سے کٹر، ضدّی مزاج اور منتخبہ ہیں، جب وہ کم از کم ایک ایسے نظریے کو پڑھ سکتے ہیں جو ان کے قدیمی تصور کو چیلنج کرتا ہے۔ کس طرح علم اور سائنس کو برقرار رکھا اور فروغ  دیا جا سکتا ہے جب کوئی  ایک پہلے سے اپنائی گئی غیر مطلع حالت سے چپکے رہنے پر اصرار کرتا ہو؟

مسلمانوں کو ہر جگہ تمام نئے خیالات کے لئےاپنے ذہنوں کو کھولنا چاہئے۔  وہ لوگ اپنے عقیدے اور نظریے میں  پراعتماد ہوں گے کہ جدیدیت کے مختلف پہلوئوں سے نمٹنے میں  وہ  مضبوط ہے، بے شک،  نیا نقطہ نظر  عقائد اور عالمی نظریے کو ترو تازہ کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔  اسلام نہ صرف ارتقاء یا کسی بھی دوسرے نظریہ کی تعلیم حاصل کر نے سے منع نہیں کرتا ہے بلکہ یہ نئے علم کا خیر مقدم کرتا ہے اور  اس کے ساتھ منصفانہ رخ رکھتا ہے۔ مسلمانوں کو سائنس، فلسفہ اور آرٹ میں پر اعتمادی اور کھلے ذہن سے مشغول رہنے پر زور دیا گیاہے۔

ماخذ: ہفنگٹن پوسٹ

URL for this article:

http://www.newageislam.com/islam-and-science/does-islam-forbid-even-studying-evolution?/d/6300

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/does-islam-prohibit-even-the-study-of-evolution?--کیا-اسلام-ارتقاء-کے-مطالعہ-سے-بھی-منع-کرتا-ہے؟/d/6775

 

Loading..

Loading..