New Age Islam
Sat Nov 27 2021, 09:53 AM

Urdu Section ( 20 Oct 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sir Syed Ahmad Khan and His Personality شخصیت کے آئینہ میں سرسید احمدخاں

نیاز فتح پوری

17 اکتوبر،2021

سرسید احمد خاں کے متعلق یہ فیصلہ کرنا کہ اہل علم و ادب اور اکابرقوم کے کس طبقہ میں انہیں جگہ دی جائے، آسان نہیں۔ ان میں بیک وقت اتنی متعدد اہلتیں مجتمع ہوگئی تھیں کہ ایک دوسرے پر ترجیح دینا مشکل ہے لیکن جس حد تک ا ن کی آئیڈیالوجی کا تعلق ہے ہم بلا پش و پیش ان کی ریفارمریا مصلح کہہ سکتے ہیں، کیونکہ ان کی زندگی کے تمام علمی و عملی مشاغل کا سرچشمہ صرف اصلاح قوم کا جذبہ تھا اور اسی جذبے نے انہیں مصنف، مورخ اور مفسر بنایا۔ یہ جس زمانہ میں پیدا ہوئے وہ عجیب و غریب برَزحی دور تھا۔ ایک سلطنت مٹ رہی تھی دوسری بن رہی تھی۔مشرق کا تاج مغرب کے سر رکھا جارہا تھا اور ہلال کی جگہ صلیب لیتی جارہی تھی۔ یہ بات 1817 ء کی ہے جو سرسید کا سن ولادت ہے یعنی 1857 ء کے ہنگامہ انقلاب سے 40 سال قبل نے بزم تیموریہ کا آخری چراغ گل کرکے سلطنت مغلیہ کی بساط کو ہمیشہ کے لئے الٹ کر رکھ دیا۔ اس پر آشوب زمانہ میں جب کہ دہلی و نواح دہلی داروگیر کا ہنگامہ برپا تھا، دہلی سے باہر بھی ہر طرف قیامت صغریٰ قائم تھی اور مسلمانوں کے معاشرہ کا شیرازہ بکھر چکا تھا۔ سرسید کی عمر 40 سال کی تھی اس لئے قدر تاً اانہیں بہت متاثر ہونا چاہئے تھا لیکن ان کے تاثرات ذاتی یا انفرادی حیثیت نہ رکھتے تھے بلکہ ان کا تعلق حاشیہ اجتماعی سے تھا۔

سرسید احمدخاں

-----

پورے ملک و قوم سے ہرچند وہ خود ان کا خاندان معتوبین میں شامل نہ تھا لیکن 1857 ء کے بعد عام مسلمانوں پر انگریزی حکومت کا جو عتاب ناز ل ہورہا تھا اس سے یہ یقینا بہت متاثر تھے اور اس تاثر نے آگے چل کر ان کی غیر معمولی شخصیت کو ابھارا۔ ان کی زندگی کے دو حصے بالکل علاحدہ علاحدہ ہیں اور عجب بات ہے کہ ان میں ہرحصہ 40 سال کی مدت پر مشتمل ہے۔پہلا حصہ 1817 سے 1857 ء تک اور دوسرا 1858 ء سے 1898 ء تک جو ان کا سن وفات ہے،لیکن ان دونوں زمانوں میں ان کی زندگی ایک بڑے انسان کی خصوصیات سے کبھی منفک نہیں رہی۔ سرسید کے تعلیمی زمانہ میں ہم کو کوئی خاص بات ایسی نظر آتی جس کے پیش نظر ان کے مستقبل پر کوئی حکم لگایا جاسکتا۔ ان کی عربی،فارسی کی تعلیم زمانہ کے رواج کے مطابق درسیات کی مروجہ کتابوں کے مطابق شروع ہوئی اور دوران تعلیم میں کوئی خاص بات جووقت و ذہانت کی ان کی طرف سے ظاہر نہیں ہوئی۔ وہ ایک محنتی طالب علم ضرور تھے لیکن ان کا شاندار علمی مستقبل اس وقت متعین نہیں کیا جاسکتا تھا۔ جب ان کی عمر بیس سال کی ہوئی تو 1838 ء میں ان کو ملازمت کا خیال پیدا ہوا کیونکہ قلعہ کی تنخواہیں عرصہ بند ہوچکی تھیں۔ صرف ان کی والدہ کی قلیل سی تنخواہ رہ گئی تھی جو بالکل ناکافی تھی۔ اتفاق سے اس وقت ان کے خالو مولوی خلیل اللہ خاں دہلی کے صدر امین تھے، اس لئے یہ ان سے عدالت کا کام سیکھنے لگے اور ذاتی محنت سے بہت جلد اس وقت کے مروجہ قوانین سے واقفیت حاصل کرلی۔ اس کے دو سرے سال آگرہ کمشنری کے دفتر میں نائب منشی ہوگئے اور اسی وقت سے ان کی تصنیفی زندگی شروع ہوگئی۔ یہاں انہوں نے اپنی سب سے پہلے کتاب ’جام جم‘ لکھی جس میں امیر تیمور سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک تمام شابان مغلیہ کے حالات درج تھے۔

اس کے بعد 1841 ء میں وہ مین پوری کے منصف ہوگئے اور دوسرے سال فتح پور سیکڑی تبدیل ہوگئے۔ یہاں انہوں نے تین کتابیں لکھیں۔رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات میں ’جلاء القلوب‘ اور ان کی یہی سب سے پہلی کتاب جو ان کی مفکرانہ شخصیت کو سامنے لائی۔ اس وقت تک سیرت رسول کی جتنی کتابیں رائج تھیں۔ سرسید نے زمانہ کے جدید میلانات کو سامنے رکھ کر صرف ان روایات کو سامنے رکھا جنہیں ہر زمانہ کی عقل سلیم قبول کرسکتی ہے۔ دوسری کتاب انہوں نے ’تحفہ حسن‘ لکھی جو تحفہ اثناء عشریہ کے دسویں او ربارہویں باب کا ترجمہ تھی۔ یہ بھی مذہبی چیز تھی۔تیسری کتاب ”تسہیل فی الجرالتقیل“ تھی او ریہ بھی اردو ترجمہ تھا ’ابوذر یمنی‘ کے عربی رسالہ کے فارسی ترجمہ کا۔

اس کے چار سال بعد جب ان تبادلہ دہلی ہوگیا تو یہاں انہیں اپنے تاریخی و علمی ذوق پورا کرنے کا زیادہ موقع ملا او ریہیں انہوں نے اپنی مشہور تاریخی کتاب ’آثار الصنادید‘ لکھی جس کا ترجمہ فرانسیسی میں بھی ہوا اور جس کو دیکھ کر رائل ایشیا ٹک سوسائٹی نے سرسید کو اپنا آنریری فیلو مقرر کیا۔ اس کتاب کو انہوں نے جس شوق ومحنت سے مرتب کیا اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ قطب صاحب کی لاٹ کے نقوش کا چربہ لینے کے لئے وہ معلق جھینکوں میں بیٹھ کر کام کرتے تھے۔ آثار الصناید کے علاوہ انہوں نے چند علمی ومذہبی رسائل بھی تصنیف کئے اور ایک تاریخی کتاب’سلسلۃ الملوک‘ کے نام سے مرتب کی، جو تمام ان راجاؤں اور بادشاہوں کی فہرست تھی جو دہلی میں پانچ ہزار سال تک فرماں روا رہ چکے تھے۔ جب 1855 ء میں وہ صدر امین ہوکر بجنور پہنچے تو یہاں انہوں نے ’تاریخ بجنور‘ لکھی اور ’آئین اکبری‘ کو ایڈٹ کیا۔ اس زمانہ میں 1857 ء  کا ہنگامہ شروع ہوگیااور سرسید کی زندگی کا دوسرا دور شروع ہوا جو پہلے سے کہیں زیادہ اہم تھا۔

1858 ء میں جب وہ بجنور سے مرادآباد صدر الصدور ہوکر گئے تو یہ وقت تھا جب انگریزی حکومت غدر کا ذمہ دار زیادہ تر مسلمانوں کو سمجھتی تھی او ریہی سب سے زیادہ داروگیر کا نشانہ تھے۔ یہ ایسا نازک زمانہ تھا کہ کوئی شخص نہ آزادی سے کچھ کہہ سکتا، نہ لکھ سکتا تھا۔ مارشل لاجاری تھی او رچھانٹ چھانٹ کر مسلمان امراء اور رؤ سا او رعلماء کو قتل و قیدی کی سزائیں دی جارہی تھیں لیکن بایں ہمہ سرسید نے نہایت دلیری و پامردی سے کام لے کر انگریزوں کو ان کی غلطی پر متنبہ کیا اور ’اسباب بغاوت ہند‘ لکھ کر اس بدگمانی کو دور کیا جو انگریزوں کو مسلمانوں کی طرف سے پیداہوگئی تھی۔

مرادآباد میں انہوں نے فارسی کا ایک مدرسہ بھی قائم کیا۔ضیاء برنی کی ’تاریخ فروزشاہی‘ کی تصحیح کی او را یک یہودی سے عبرانی زبان سیکھ کر مولانا عنایت رسول چریا کوٹی کی مدد سے جو عربی و ایرانی کے مشہور عالم تھے، ایک کتاب لکھنا شروع کی جس میں یہودیت،عیسائیت اور اسلام کی الہامی کتابوں کی تطبیق کی گئی تھی۔ اس کے بعد 1862 ء میں جب وہ غازی پور تبدیل ہوگئے توانہیں یہ خیال پیدا ہوا کہ جب تک ہندوستان میں تعلیم عام نہ ہوگی ملک کبھی ترقی نہ کرسکے گا۔ چنانچہ انگریزی کی علمی کتابوں کا دیسی زبان میں ترجمہ کرنے کے لئے انہوں نے ایک سانٹفک سوسائٹی غازی پور میں قائم کی اور ایک مدرسہ کی بنیاد ڈالی، جس میں ہندو مسلمان بچے دونوں تعلیم پاتے تھے۔ جب 1864ء میں یہ غازی پور سے علی گڑھ آئے تو سائنٹفک سوسائٹی کا دفتر بھی اپنے ساتھ لیتے آئے اور تاریخ کی کئی کتابیں انگریزی سے ترجمہ کرکے شائع کیں۔ اس کے ساتھ ایک اخبار جاری کیا جس میں زیادہ تر انہیں علمی و اصلاحی مضامین شائع ہوتے تھے اور اس اخبار کا نام بعد کو ’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘ ہوگیا۔اس وقت تک انہوں نے جو کچھ کیا یا کررہے تھے اس سے مقصود یہ تھا کہ آئندہ کے لئے حکومت او راہل ملک کے تعلقات کو استوار کیا جائے اور اس کے ساتھ اپنے جائز مطالبات کو حکومت سے تسلیم کرائے جائیں او رآخرکار تمام ابتدائی تدابیر سوچنے کے بعد انہوں نے 1867 ء میں ہندومسلمانو ں کی ایک ملی جلی اسوسی ایشی ’برٹش انڈیا اسوسی ایشن‘ کے نام سے قائم کردی، جس سے مقصود حکومت سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا تھا۔ اس کے بعد وہ 1867ء میں جج خفیفہ ہوکر بنارس چلے گئے اور نوسال تک یہاں رہے۔یہاں انہیں اپنی تدابیر کو بروئے کار لانے کا زیادہ موقع ملا او رآخر کار انہوں نے اسوسی ایشن کی طرف سے ایک میموریل وائسر ائے کو بھیجا جس میں ایک ورنا کیولر یونیورسٹی بنانے پر غور کرنے لگی لیکن سرسید نے اس کی مخالفت کی کیونکہ اس طرح انگیزیزی تعلیم کا معیار گھٹ جاتا اور وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ طلبہ ان علوم وفنون سے محروم رہیں جو انگریزی زبان ہی کے ذریعہ سے حاصل کئے جاسکتے تھے۔ اس لئے اب انہوں نے خود ایک ایسا تعلیمی ادارہ قائم کرنا چاہا جو ملک کی ضروریات کو پورا کرسکے اور آخر کار مسئلہ تعلیم پر غور کرنے کیلئے انہوں نے اپنا مکان رہن رکھ کر ولایت جانے کی تیاری شروع کردی۔

اس میں شک نہیں کہ ان کا یہ سفر بہت کامیاب رہا۔ یہ وہاں کے اکابر علم و ادب سے ملے وہاں کے طریق تعلیم پر غورکیا۔کیمبرج یونیورسٹی کے نظام تعلیم کا مطالعہ کیا۔وہاں انہوں نے خطبات امر یہ لکھنا شروع کی جن سے مقصود تھا کہ مغربی اقوام کو حقیقت سے آگاہ کیا جائے اور جو غلطیاں مغربی مصنفین سے اسلام و بانی اسلام کے سمجھنے میں ہوئی ہیں، انہیں دور کیا جائے۔ تقریباً ڈیڑ ھ سال کے بعد یہ ولایت سے بنارس واپس آئے توانہوں نے اس بڑے کام کی طرف عملی توجہ شروع کردی، جس کے لئے انہوں نے ولایت کا سفر کیا تھا۔ سب سے پہلے انہوں نے زمین تیار کرنے کے لئے ایک رسالہ ’تہذیب الاخلاق‘ جاری کیا۔ اس سے دو مقصود ان کے سامنے تھے ایک یہ مسلمانوں میں جو مذہبی روایت پرستی چلی آرہی تھی اسے دور کرکے انگریزی تعلیم کی طرف متوجہ کیا جائے کیونکہ اس زمانہ میں انگریزی پڑھنا بھی قدامت پرست لوگوں کی نگاہ میں کفر سے کم نہ تھا مقصود یہ تھا کہ اسلام کی حقانیت کو عقلی دلائل سے ثابت کیا جائے۔

17 اکتوبر،2021، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/sir-syed-ahmad-khan-personality/d/125613

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..