New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 05:45 AM

Urdu Section ( 6 May 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Unruly Behaviour, Slogan Shouting And Abusive Language By Pakistanis Inside The Prophet's Mosque In Madina During Ramazan رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مسجد نبوی کے اندر پاکستانیوں کا غیر اخلاقی رویہ، نعرے بازی اور بدزبانی

سعودی حکومت نے کئی شرپسندوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا ہے

اہم نکات:

1. 28 اپریل کو پاکستان کے دو وزراء کو پاکستانی مظاہرین نے مسجد نبوی کے اندر زدوکوب کیا

2. وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور وزیر برائے انسداد منشیات شاہ زین بگٹی مسجد نبوی میں تھے

3. مظاہرین 'چور، چور'، 'غدار' اور 'شرم کرو' کے نعرے لگا رہے تھے

4. مظاہرین میں سے ایک نے مسٹر بگٹی کے بال کھینچے

5. مظاہرین نے مریم اورنگزیب کے خلاف نازیبا زبان استعمال کیں

-----

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

30 اپریل 2022

The spokesperson for the Madinah Police said the suspects were “referred to the competent authorities after legal procedures were completed against them.” (Screenshots)

-----

پاکستان میں سیاسی دشمنی اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی روایت بےمثال حد تک گر چکی ہے۔ جب سے عمران خان کو اقتدار سے ہٹایا گیا ہے وہ شہباز شریف حکومت کے خلاف مہم جوئی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے کئی شہروں میں سیاسی جلسے کیے ہیں اور دونوں جماعتوں کے درمیان لفظوں کی جنگ بھی عروج پر ہے۔ بسااوقات الفاظ کی یہ جنگ ذاتی حملوں تک بھی پہنچ جاتی ہے۔

لیکن گزشتہ جمعرات کو یہ سیاسی خصومت اس حد تک گر گئی کہ پاکستانیوں کو نہ تو اس کی توقع تھی اور نہ ہی وہ اس کا دفاع کر سکے۔

پاکستان کے نئے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے دو وزراء مریم اورنگزیب اور شاہ زین بگٹی سعودی عرب کے 3 روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ مریم اورنگزیب اور شاہ زین بگٹی شام کے وقت مسجد نبوی کی زیارت کءے لیے آئے ہوئے تھے۔ ان کی آمد پر پاکستانی، جو بظاہر عمران خان اور ان کی پارٹی پی ٹی آئی کے حامی تھے، انہوں نے ان کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ انہوں نے ان کےمنھ پر 'شرم کرو، شرم کرو، چور چور، غدار' کے نعرے لگائے اور دونوں وزراء کے خلاف نازیبا زبان استعمال کیں۔ مظاہرین میں سے ایک نے مسٹر بگٹی کے بال بھی کھینچے اور فرار ہو گیا۔

یہ سب کچھ اس مسجد نبوی کے اندر ہوا جو مکہ میں کعبہ اور یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے ساتھ اسلام کی تین مقدس ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ پاکستانی مسلمانوں کا یہ غیر اخلاقی رویہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس مذموم واقعے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ اپنے حامیوں کو اس حد تک گر جانے کے لیے بھڑکانے پر پاکستان میں عمران خان اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عمران خان کے قریبی مولانا طارق جمیل سمیت مذہبی طبقہ نے اس فعل کی مذمت کی ہے۔ تاہم عمران خان نے ابھی تک اس واقعے کی مذمت میں کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا۔

مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ سیاسی اختلافات کی وجہ سے مسجد نبوی کی بے حرمتی کی گئی۔ یہ ناقابل قبول ہے۔ اسلامک اسکالر محمد علی مرزا نے کہا کہ یہ بہت بڑا گناہ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ہے، عمران خان کو اس واقعے کی مذمت میں عوامی بیان جاری کرنا چاہیے۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی کے بعض رہنما اس واقعے کا دفاع کرتے ہوئے نظر آئے۔ پی ٹی آئی کے ایک رہنما اقبال خان آفریدی نے کہا کہ یہ ایک بے ساختہ عوامی ردعمل تھا جو کہ مسجد کے باہر پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ چور کو صرف چور ہی کہا جائے گا خواہ وہ کسی مقدس جگہ پر ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن انجینئر علی مرزا نے کہا کہ یہ صرف ایک بت سروپا عذر ہے اور مسجد کی حدود کے اندر کا پورا رقبہ مسجد کے تحت ہی آتا ہے۔

پاکستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق عمران خان اور شیخ رشید مدینہ میں اپنے حامیوں کو ان پر حملہ کرنے کے لیے اکسا رہے تھے۔ واقعے کے بعد شیخ رشید کے بھائی راشد کاشف اور ایک مرکزی وزیر نے بھی اس واقعے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

دریں اثناء سعودی حکومت نے شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے واقعے میں ملوث متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس شرانگیزی میں ملوث ہر فرد پر 60000 سعودی ریال جرمانہ اور پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان کے اندر سیاسی عدم رواداری میں اضافہ ہوا ہے۔ مسجد نبوی میں پیش آنے والے واقعے کے ردعمل میں سابق ڈپٹی اسپیکر اور پی ٹی آئی رہنما قاسم خان سوری پر جمعہ کی رات اسلام آباد میں سحری کے وقت کچھ شرپسندوں نے اس وقت حملہ کیا جب وہ ایک ہوٹل میں بیٹھے تھے۔ دونوں جماعتوں نے ماہ رمضان کا بھی احترام نہیں کیا۔

واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ پی ٹی آئی نے سیاسی فائدے کے لیے مسجد نبوی کی حرمت کو پامال کیا ہے۔

عمران خان نے الزام لگایا تھا کہ ان کی حکومت کو گرانے کی سازش امریکا میں رچی گئی اور شہباز شریف کو انہوں نے امریکا کی کٹھ پتلی قرار دیا تھا۔ شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ پر پاکستان کی وفاقی عدالت میں زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور منی لانڈرنگ سے متعلق بدعنوانی کے الزامات میں مقدمات چل رہے ہیں اور ان پر 14 مئی کو فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے۔

تاہم، اس سے ان کی کابینہ کے وزراء کے ساتھ پردیس میں ایک مقدس مقام پر بدتمیزی کرنے کا جواز نہیں بنتا۔ بلکہ اس سے تو صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان یا اس معاملے میں پاکستان کے سیاستدان اپنے حزب مخالف کو نقصان پہنچانے کے لیے کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں۔

عمران خان کو اس لیے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان کو نبی کے زمانے کی ریاست مدینہ جیسا بنانا چاہتے ہیں۔ ناقدین کا سوال ہے کہ کیا وہ یہی ریاست نانا چاہتے ہیں۔ اس لیے ان کا ماننا ہے کہ ان کے یہ بیانات صرف عوامی حمایت حاصل کرنے کی چال ہیں۔

عمران خان نے تعلیم کی اسلامائزیشن اور دیگر اقدامات کی بنیاد پر مذہبی حلقوں اور عام پاکستانیوں کی حمایت حاصل کی ہے جس نے انہیں اسلام کے علمبردار کے طور پر پیش کیا ہے۔ انہوں نے بڑی کامیابی کے ساتھ شہباز شریف کو امریکہ کا ایجنٹ بنا کر پیش کر دیا ہے۔ کرپشن کے الزامات نے ان کی شبیہ کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ ان کی پارٹی والوں کو پاکستانیوں کی اکثریت چوروں کی جماعت سمجھتی ہے جنہوں نے پاکستان کے دشمنوں کی مدد سے اقتدار پر قبضہ کیا ہے۔

بہرکیف، مسجد نبوی میں نعرے لگانا، ایک خاتون وزیر کو گالی دینے اور دوسری وزیر کو بر بھلا کا کہنے یہ کا واقعہ قابل مذمت ہے۔ یہ واقعہ صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ کس قدر عدم برداشت اور متشدد ہو چکا ہے۔

English Article: Unruly Behaviour, Slogan Shouting And Abusive Language By Pakistanis Inside The Prophet's Mosque In Madina During Ramazan

URL: https://newageislam.com/urdu-section/pakistanis-prophet-mosque-madina-ramazan/d/126949

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..