New Age Islam
Mon Jul 04 2022, 11:01 PM

Urdu Section ( 20 Jun 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

These Anti-Blasphemy Protests by Indian Muslims Are Suicidal توہین رسالت کے خلاف ہندوستانی مسلمانوں کا یہ احتجاج خودکشی کے مترادف ہے

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

21 جون 2022

گزشتہ تین ہفتوں سے ملک میں اہانت رسول واسلام کے خلاف ملک بھر میں مسلمان سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ وہ گستاخ رسول نوپور شرما کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن حکومت نے ابھی تک اس کے خلاف کوئ کارروائی نہیں کی ہے۔ عرب ممالک کے احتجاج کے بعد بی جے پی نے اسے عہدے سے معطل کردیا ہے اور پارٹی کے ایک اور لیڈر نوین جندل کو بھی پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے محروم کردیا ہے۔

مسلمانوں کا موقف یہ ہے کہ ان دونوں لیڈران کے خلاف پارٹی نے ڈسپلن شکنی پر کارروائی کی ہے جبکہ اس نے ایک ایسا عمل کیا ہے جو ہندوستان کے قانون کی نظر میں قابل سزا جرم ہے۔ ان دونوں کے بیان سے ملک کے ایک مذہبی فرقے کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سے دو فرقوں کے درمیان منافرت کا ماحول بنا ہے۔ اس لئے ان دونوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔

جب حکومت نے ان کا مطالبہ نہیں مانا تو مسلمانوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا شروع کیا۔ کانپور, دہلی, پریاگ راج, کلکتہ, ہوڑہ, رانچی ودیگر سینکڑوں مقامات پر مسلمانوں نے پرامن طور پر احتجاج کیا ۔ کچھ مقامات پر احتجاج کاروں نے پتھر بھی پھینکے جو زیادہ تر احتجاجوں میں ہوتا ہے۔ پولیس نے احتجاجیوں کے خلاف کارروائی کی انہیں گرفتار کیا اور ان کے خلاف پولیس کے ذریعہ تشدد کے ویڈیو بھی وائرل ہوئے۔ رانچی میں ایک کم سن لڑکے کی گولی لگنے سے موت ہوگئ۔ سینکڑوں مسلمان ملک بھر میں تشدد کے الزام میں گرفتار کئے گئے ہیں۔ پریاگ راج میں ایک ملزم کا گھر بھی بلڈوز کردیا گیا حالانکہ انتظامیہ کہہ رہی ہے کہ عمارت کا انہدام روٹین کارروائی ہے۔ اس کا احتجاج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اب تک کے احتجاج سے مسلمانوں کا جو مقصد تھا وہ پورا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے مگر اس سے مسلمانوں کا بہت بڑا نقصان ہوچکا ہء اور اگر یہ احتجاج اسی نہج پر چلتا رہا تو ایک ہی پیٹرن پر ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ان کے خلاف مقدمے درج ہونگے, نوجوان لڑکوں کی تعلیم متاثر ہوگی ان کا کیریئر تباہ ہوگا اور اگر ان کے مکان کے کاغذات میں کسی قسم کی خامی پائی گئی تو ان کا مکان بھی زد میں آئیگا۔

بی جے پی نے نوپور شرما کے خلاف جو کارروائی کی وہ عرب اور دیگر اسلامی ممالک کے احتجاج اور وہاں ہندوستانی مصنوعات کے بائیکاٹ کی وجہ سے کی کیونکہ عرب ممالک کے غصے سے ملک کو اقتصادی نقصان ہوتا جس کا الزام ملک کی اپوزیشن بی جے پی پر دھرتی۔ لیکن مسلمانوں کو یہ خوش فہمی ہوئی کہ حکومت ان کے احتجاج سے دباؤ میں آکر نوپور شرما اور نوین جندل کے خلاف کارروائی کرے گی۔ انہیں اس حقیقت کا ادراک نہیں تھا کہ ہندوستانی مسلمان اب تک کسی تنازع میں اپنی بات حکومت سے تسلیم نہیں کراسکے ہیں چاہے وہ بابری مسجد تنازع ہو, تین طلاق معاملہ ہو یا لڑکیوں کی شادی کی عمر کا معاملہ۔ ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں مظفر حنفی نے فرمایا تھا

ہم کروڑوں میں ہیں مگر بے کار

ہم کو ہر حال میں چپ رہنا ہے۔

حکومت کی نظر میں مسلمانوں کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔ ان کے ووٹوں کی طاقت کا متھ بھی ختم ہوچکا ہے۔ اب تو کچھ انتخابی حلقوں میں بی جے پی کے امیدوار خود کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں مسلمانوں کا ووٹ نہیں چاہئے۔ ایسی صورت میں جب ملک کی غالب اکثریت والی پارٹی کو مسلمانوں کے ووٹوں کی ضرورت ہی نہیں رہ گئی ہے تو وہ مسلمانوں کے دکھ درد کی فکر ہی کیوں کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اہانت رسول معاملے میں اس حکومت نے مسلمانوں کے احتجاج کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ الٹا ہر احتجاج کے بعد مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا اور ان پر متعدد دفعات لگائے گئے۔میڈیا نے انہیں دنگائی , دہشت گرد وغیرہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔

تو کیا پھر مسلمان اہانت رسول ﷺ پر خاموش بیٹھے رہیں؟ ایک جمہوری نظام یا معاشرے میں ہر فرد کو احتجاج کرنے کا حق ہے اور مسلمانوں کو بھی ہے۔ لیکن احتجاج ایسا ہو کہ اپنا اور اپنی قوم کا کوئی نقصان نہ ہو۔ قرآن کسی معاملے میں حد سے آگے بڑھ جانے کو پسند نہیں کرتا۔ اور جب حد سے بڑھ جانے پر خود اپنا ہی نقصان ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر احتیاط لازمی ہے۔

آج کا سیاسی اور حکومتی نظام بہت پیچیدہ ہے۔ کسی بھی پرامن احتجاج کو بھیڑ میں چھپے ہوئے افراد کسی کے اشارے پر پرتشدد بنا سکتے ہیں۔ کسان تحریک یا شاہین باغ میں ایسے عناصر پکڑے بھی گئے اور بے نقاب ہوئے۔

لہذا, ایک ایسے وقت میں جب حکومت اور انتظامیہ کا تعصب اکثر موقعوں پر ظاہر ہوجاتا ہے مسلمانوں کو زیادہ احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ اس کے لئے مسلمانوزن کو احتجاج کے ایسے طریقوں کا استعمال کرنا چاہئے جو ان کے لئےمحفوظ ہو اور حکومت تک اپنے موقف کی ترسیل کے لئے کافی ہو۔

قرآن نے بھی ایسے معاملات میں صبروتحمل کی تلقین کی ہے بلکہ صبروتحمل کے مظاہرے کو ہمت اور بہادری کاکام بتایا ہے۔ قرآن کی سورہ آل عمران کی آیت نمبر 186 کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

۔"اور البتہ سنوگے تم اگلی کتاب والوں سے اور مشرکوں سے بدگوئی بہت اور اگر تم صبر کرو اور پرہیزگاری تو یہ یمت کے کام ہیں۔۔"

خدا نے 1400 سال قبل ہی مسلمانوں کو بدگوئی پر صبروتحمل کی تلقین کردی تھی ۔عرب ممالک اس پوزیشن میں تھے کہ وہ اپنی بات تسلیم کراسکتے تھے۔ مسلمان اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ اپنی طاقت کے بل پر یا سیاسی یا معاشی دباؤ پر اپنی بات منواسکیں۔ ان کے پاس نہ سیاسی طاقت ہے اور نہ معاشی طاقت۔صرف شعلہ بیانی ہے اور صرف شعلی بیانی سے ہر جگہ کام نہیں چلتا۔مسلمان نوپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے ہیں مگر گرفتار ان کے نوجوان ہورہے ہیں۔وہ نوپور شرما پر مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں مگر مقدمے ان کے نوجوانوں پر درج ہورہے ہیں تو جب ان کے احتجاج سے نہ صرف یہ کہ ان کا مقصد پورا نہیں ہورہا ہے بلکہ الٹا نقصان ہورہا ہے تو انہیں بیٹھ کر سنجیدگی سے اپنی حکمت عملی نئے سرے سے وضع کرنی چاہئے۔

اللہ نے مسلمانوں سے اس بات کا مطالبہ نہیں کیا جو ان کے بس میں نہ ہو۔لیکن مسلمان وہ کرنا چاہتے ہیں جو ان کے بس میں نہیں نتیجے میں نقصان اٹھارہے ہی۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/anti-blasphemy-protests-indian-muslims-suicidal/d/127285

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..