New Age Islam
Sat Nov 27 2021, 09:10 AM

Urdu Section ( 24 Nov 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Quran Does Not Declare the Dog Totally Unclean and Permits Its Domestication for Restricted Purposes قرآن کتے کو مکمل طور پر نجس قرار نہیں دیتا اور اسے محدود مقاصد کے لیے پالنے کی اجازت بھی دیتا ہے

کتوں کا استعمال بکریاں چرانے اور جانوروں کا شکار کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے

اہم نکات:

قرآن کتوں اور دیگر شکاری جانوروں کو پالنے کی اجازت دیتا ہے

احادیث میں رکھوالی کرنے اور شکار کرنے لئے کتوں کو پالنے کی اجازت دی گئی ہے

 -----

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

 22 نومبر 2021

(Photo courtesy/ history583380908.blog)

------

مسلمانوں کے لیے کیا حلال (جائز) ہے اور کیا حرام (نا جائز) قرآن میں یہ تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ قرآن میں ان جانوروں کے ناموں کا ذکر موجود ہے جنہیں کھایا جا سکتا ہے اور جنہیں کھایا نہیں جا سکتا۔ کتے کو مسلمان نجس (ناپاک) سمجھتے ہیں۔ اس وجہ سے اسے پالنے کے قابل نہیں سمجھتے۔ لیکن قرآن مسلمانوں پر کتے پالنے پر مکمل پابندی عائد نہیں کرتا۔ کچھ ایسے مقاصد ہیں جن کے لیے قرآن کتوں کو پالنے کی اجازت دیتا ہے۔ احادیث میں بھی دو مقاصد کے لیے کتوں کو  پالنے کی اجازت وارد ہوئی ہے: بکریاں چرانا اور جانوروں کا شکار کرنا۔ قرآن مجید میں ایک آیت ہے جس میں شکار کے لیے ’شکاری جانوروں‘ کو پالنے کی اجازت دی گئی ہے۔

 ’’اے محبوب! تم سے پوچھتے ہیں کہ اُن کے لئے کیا حلال ہوا تم فرمادو کہ حلال کی گئیں تمہارے لئے پاک چیزیں اور جو شکاری جانور تم نے سدھالیے انہیں شکار پر دوڑاتے جو علم تمہیں خدا نے دیا اس سے انہیں سکھاتے تو کھاؤ اس میں سے جو وہ مار کر تمہارے لیے رہنے دیں اور اس پر اللہ کا نام لو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کو حساب کرتے دیر نہیں لگتی۔ (المائدہ: 4)

ایسی کچھ احادیث ہیں جن میں بکریوں کی چرواہی اور جانوروں کے شکار کے لیے کتوں کو پالنے کی اجازت وارد ہوئی ہے۔

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہم کتوں کی مدد سے جانوروں کا شکار کرتے ہیں۔ کیا ایسے شکاری جانور (پالتو کتے کا شکار) ہمارے لیے جائز ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم اپنے تربیت یافتہ کتوں کو اللہ کا نام لیکر جانوروں پر چھوڑو تو تو تم اس جانور کو کھا سکتے ہو جسے کتے نے پکڑا ہو یا شکار کیا ہو، خواہ وہ جانور مر جائے۔ تاہم، جب کتا شکار شدہ جانور کا کچھ حصہ کھا لے (تو پھر نہ کھاؤ) کیونکہ اس صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ کتے نے جانور کو اپنے لیے پکڑا ہے۔ اسی طرح اگر دوسرے کتے بھی آپ کے کتے کے شکار میں شامل ہو جائیں تو شکار شدہ جانور کو بھی نہ کھایا جائے۔ (حدیث 446، جلد 3، کتاب الذبیحہ، صحیح بخاری)۔

کتے کو شکار کے لیے استعمال کرنے کا حکم یہ ہے کہ کتے کا مالک اپنے کتے کو جانور پر چھوڑنے سے پہلے اس پر اللہ کا نام لے۔ مالک اس شکار شدہ جانور کا گوشت نہیں کھا سکتا جسے ایسے کتے نے پکڑا ہو جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اللہ کا نام لینے کے بعد اپنے کتے کو جانور پر چھوڑ دو اور اگر کتا جانور کو پکڑ کر مار ڈالے تو تم اس جانور کو کھا سکتے ہو، مگر جب کتا جانور کو کھا لے تو اسے مت کھاؤ کیونکہ اس نے جانور کو تمہارے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے پکڑا ہے۔ اسی طرح اگر آپ کا کتا دوسرے کتوں کے ساتھ مل کر کسی ایسے جانور کو پکڑ کر مار ڈالے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو تو اسے بھی نہ کھائیں کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ شکار شدہ جانور کو کس جانور نے مارا ہے۔ (حدیث 447؛ کتاب الذبیحہ، صحیح بخاری)

مزید یہ کہ قرآن شکاری جانور (کتے) کی ضرورت کو مدنظر رکھتا ہے لہٰذا کتے کے مالک کو شکار شدہ جانور کا گوشت کھانے سے منع کرتا ہے اگر اس کا کتا جانور کو پکڑ کر مارنے کے بعد کھا لے کیونکہ اس صورت میں یہ مانا جائے گا کہ کتا بھوکا تھا اور اس نے جانور کو اپنے مالک کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے مارا۔

تاہم، بکریوں کو چرانے اور جانوروں کا شکار کرنے کے علاوہ قرآن کسی دوسرے مقصد کے لیے کتے کو پالنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس مسئلہ میں ایک دو احادیث اور ہیں۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص ایسا کتا پالے جو نہ بکریوں کے چرانے اور نہ شکار کے لیے ہو تو اس کے اعمال کا ثواب روزانہ دو قیراط کم کر دیا جاتا ہے۔ حدیث 443، کتاب الذبیحہ، جلد 3 صحیح بخاری)

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے (بکریاں) چرانے یا شکار کرنے کے علاوہ کسی اور کام کے لیے کتے کو پالا تو اس کے ثواب میں سے روزانہ دو قیراط کمی کی جائے گی۔ (حدیث 445، کتاب الذبیحہ جلد 3 صحیح بخاری)۔

English Article: The Quran Does Not Declare the Dog Totally Unclean and Permits Its Domestication for Restricted Purposes

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/quran-unlean-dog-domestication/d/125837

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..