New Age Islam
Thu May 19 2022, 10:08 AM

Urdu Section ( 3 May 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Rules Include Intelligence Verification Of Madrasa Applicants دارالعلوم دیوبند کے نئے داخلہ قوانین میں درخواست دہندگان کی انٹیلی جنس تصدیق بھی شامل کر دی گئی ہے

طالبان کی تعریف کرنے والے کو اس کی قیمت بھی چکانی ہوتی ہے

اہم نکات:

1.     دارالعلوم دیوبند نے ایک نئی مثال قائم کی ہے

2.     تمام درخواست دہندگان کو انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پولیس سے اپنی تصدیق کرانی ہوگی

3.     دیگر تعلیمی ادارے بھی اس کی پیروی کر سکتے ہیں

4.     تعلیمی اداروں میں داخلہ کا طریقہ کار مستقبل میں مشکلوں بھرا ہو سکتا ہے

-----

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

30 اپریل 2022

Students of Darul-Uloom Deoband | Facebook

-----

ہندوستان کے ایک اسلامی ادارہ دارالعلوم دیوبند نے اس سال داخلہ کے طریقہ کار کو مزید سخت کردیا ہے۔ Rediff.com کی ایک خبر کے مطابق مدرسے کے مختلف کورسوں میں داخلہ کے خواہشمند طلبہ کو پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں سے تصدیق کرا کر لانی ہوگی۔ رپورٹ کہتی ہے:

"دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم نے کہا ہے کہ، اس سال داخلہ کے خواہشمند طلباء کو اپنے دستاویزات بشمول اپنے آدھار کارڈ، اصل رہائشی سرٹیفکیٹ اور ایک حلف نامہ جمع کرانا ہوگا جس کی جانچ اور تصدیق سرکاری ایجنسیاں بشمول پولس کی مقامی انٹیلی جنس یونٹ کرے گی۔"

دارالعلوم کی آفیشل ویب سائٹ پر 28.04.2022 کو اردو میں ایک نوٹس شائع کیا گیا ہے جس میں دیگر ضروری تقاضوں کے ساتھ اس کا بھی ذکر موجود ہے۔

دارالعلوم کی طرف سے یہ ایک نئی مثال قائم کی گئی ہے جس سے ادارے میں داخلہ مشکل ہو جائے گا کیونکہ اس کے لیے درخواست گزار کو اپنے دستاویزات کی تصدیق پولیس سے کروانا ضروری ہوگی جس سے داخلے کے خواہشمند طلباء اور ان کے والدین کے لیے بیٹھے بٹھائے پریشانیاں بڑھ سکتی ہیں۔

ایسے ماحول میں جہاں مسلمانوں سے نفرت اور شکوک کا رجحان بڑھ رہا ہے، اس اقدام سے مسلم طلباء کے لیے نئی پریشانیاں کھڑی ہو جائیں گی۔ دارالعلوم دیوبند کی راہ پر چلتے ہوئے دیگر اسکولوں، کالج اور یونیورسٹیاں بھی طلباء کی پولیس تصدیق کو لازمی قرار دے سکتی ہیں اور بہت سے طلباء 'نامکمل دستاویزات' کی وجہ سے ان اداروں میں داخلے سے محروم ہو سکتے ہیں۔ تصدیق کے عمل میں والدین کو مقامی پولیس اسٹیشن یا طالب علم یا درخواست دہندہ کو اس علاقے کے پولیس اسٹیشن میں جانا ہوگا جہاں یہ ادارے واقع ہیں۔

اب تک اسکولوں، کالجوں یا یونیورسٹیوں کے طلباء کے لیے پولیس تصدیق لانا ضروری نہیں ہے۔ بھی یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ طالب علموں یا درخواست دہندگان کی پولیس تصدیق کو ریاستی حکومت نے لازمی قرار دیا ہے یا اس کے پیچھے کوئی انجان دباؤ ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق، جموں و کشمیر، مغربی بنگال، منی پور وغیرہ جیسی سرحدی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے درخواست دہندگان کو سخت 'تفتیشی عمل' سے گزرنا ہو گا۔ اس کی بناء پر ہر طالب علم مشتبہ مانا جائے گا۔

تعلیمی اداروں کے پاس درخواست دہندگان کی دستاویزات کی تصدیق کے لیے اپنے اصول اور طریقے ہوتے ہیں۔ ادارہ یا کالج درخواست دہندہ کے دستاویزات کو تصدیق کے لیے متعلقہ بورڈ یا یونیورسٹی کو بھیجتا ہے جہاں سے وہ دستاویز یا سرٹیفکیٹ جاری ہوئے ہیں۔ لیکن تعلیمی ادارے کسی طالب علم کی پولیس تصدیق کو لازمی نہیں قرار دیتے۔

تاہم درخواست گزار کے مجرمانہ یا غیر مجرمانہ ریکارڈ کی تصدیق کے لیے پولیس تصدیق کا نیا اصول ملک میں ایک نیا رجحان پیداکر دے گا۔ اب طلباء کو داخلے سے قبل پولیس تفتیش کے عمل سے گزرنا ہوگا۔

ابھی تو صرف جب کوئی طالب علم غیر ملکی یونیورسٹی میں داخلہ لینا چاہتا تبھی پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔

اگر یہ ایک ایسا اقدام ہے جو دارالعلوم کی انتظامیہ نے اٹھایا ہے، تو یہ ان الزامات کا نتیجہ ہو سکتا ہے کہ یہ ادارہ انتہا پسندی کی تعلیم دیتا ہے۔ اس طرح کے الزامات سے بچنے کے لیے ادارہ طلبہ کی شفافیت کی ذمہ داری پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں پر ڈالنا چاہتا ہے۔

حال ہی میں، دی پرنٹ (10 اپریل، 2022) میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں، پروین سوامی نے القاعدہ کے جنوبی ایشیا کے سربراہ ثناء الحق کو دارالعلوم دیوبند کاسابق طالب علم بتایا تھا۔ مسٹر سوامی نے دعویٰ کیا کہ وہ بعد میں جعلی پاسپورٹ پر پاکستان گیا اور دہشت گرد تنظیم حرکت المجاہدین میں شامل ہوگیا۔

قیاس لگایا جا سکتا ہے کہ دارالعلوم میں اس طرح کے قواعد متعارف کیے جانے کے پیچھے ایسی رپورٹیں ہو سکتی ہیں۔ لیکن طلباء کے دستاویات کی اتنی سخت جانچ پڑتال کا کیا فائدہ جب ادارے میں پہنچنے کے بعد طلباء اپنے اساتذہ کو طالبان کی تعریف کرتے ہوئے دیکھیں۔ مولانا ارشد مدنی نے پچھلے سال طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی تعریف کی تھی۔ جب ان جیسا اسلامی اسکالر جن کے لاکھوں طلباء، فارغین اور پیروکار ہیں، طالبان کے عسکریت پسند اور متشدد نظریے کی تعریف کرتا ہے تو اس کا اثر طلباء ذہن و فکر پر پڑ سکتا ہے۔

سعودی عرب نے تبلیغی جماعت پر پابندی عائد کی تھی کیونکہ طالبان کے سعودی عرب کے سیاسی حریف قطر کے ساتھ بڑے قریبی سیاسی اور سفارتی تعلقات ہیں۔

یہ نیا اصول طلباء کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گا۔

دارالعلوم دیوبند کو ایسے قوانین متعارف کرانے کی بجائے طالبان کی تعریف اور اس کی کھل کر حمایت کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے غیر انسانی اور غیر اسلامی رویوں کی مذمت کرنی چاہیے۔

دارالعلوم دیوبند کو دہشت گرد تنظیموں کے جہادی نظریات کے رد میں اسباق بھی متعارف کروانا چاہیے۔ دارالعلوم پہلے دہشت گرد تنظیموں کی مذمت کرتا ہے لیکن پھر طالبان کی تعریف کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہندوستان کی دیگر اسلامی تنظیموں کی طرح دارالعلوم بھی طالبان کو عسکریت پسند تنظیم نہیں مانتا۔ طالبان کے خلاف دارالعلوم کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی قیمت اب طلباء کو ادا کرنی پڑے گی۔

English Article: Darul Uloom Deoband's New Admission Rules Include Intelligence Verification Of Madrasa Applicants

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/darul-uloom-deoband-intelligence-verification/d/126926

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..