New Age Islam
Fri Sep 24 2021, 04:55 PM

Urdu Section ( 24 Aug 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Rise In Divorces In Bangladesh: Is Only Covid-19 Lockdown Responsible? بنگلہ دیش میں طلاق کی شرح میں اضافہ: کیا اس کی وجہ صرف کوویڈ 19 لاک ڈاؤن ہے؟

 کوویڈ 19 کی وبا نے لوگو کی سماجی، ثقافتی اور معاشی زندگی پر بہت سے منفی اثرات ڈالے ہیں۔

 اہم نکات

۱۔ اس وباء کے دوران نفسیاتی بیماریوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

۲۔ لاک ڈاؤن کے دوران بنگلہ دیش میں طلاق کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

۳۔  طلاق میں اضافے کی وجہ عورتوں کا طلاق کے اپنے حق سے آگاہ ہونا بھی ہے۔

 -----

 نیو ایج اسلام سٹاف رائٹر

 28 جون 2021

Symbolic Pic courtesy Daily Bangladesh

 -----

 کوویڈ 19 نے لوگوں کی سماجی، ثقافتی اور معاشی زندگی پر بہت سے منفی اثرات ڈالے ہیں۔ گھریلو تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور نفسیاتی بیماریوں میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ کوویڈ 19 پابندیوں کے برے اثرات میں سے ایک خاص طور پر بنگلہ دیش میں طلاق کے معاملات میں زبردست اضافہ ہے۔

 حکومتی اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش میں لاک ڈاؤن کے دوران طلاق کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ جنوری اور اپریل 2021 کے درمیان طلاق کے لیے کل 4565 درخواستیں جمع کی گئی ہیں۔ ان میں سے 70 فیصد طلاق کی درخواستیں خواتین نے جمع کی ہیں۔ اس سے بنگلہ دیش میں طلاق کے حوالے سے خواتین کا بدلتا ہوا رویہ ظاہر ہوتا ہے۔ اس اضافے کی وجہ لاک ڈاؤن کے معاشی اور مالی اثرات ہیں۔ بنگلہ دیش میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کی ایک وجہ گھریلو تشدد بھی ہے۔ جنوری اور اپریل کے دوران 71 خواتین کو ان کے شوہروں نے قتل کیا۔ ڈھاکہ میں ہر روز 38 طلاقیں ہوتی ہیں۔

 لیکن بنگلہ دیش میں طلاق میں اضافے کے لیے صرف لاک ڈاؤن کو ہی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ حکومتی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ 7 سالوں سے طلاق کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے سات سالوں میں طلاق کی درخواستوں کی تعداد میں 34 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 2018 کے مقابلے میں 2019 میں طلاق کی شرح 17 فیصد بڑھ گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ لاک ڈاؤن سے پہلے بھی طلاق میں اضافے کا رجحان تھا۔ اگر چہ لاک ڈاؤن کے دوران طلاق کی وجہ مالی مشکلات ہوسکتی ہیں لیکن اس سے پہلے کئی دوسرے عوامل کا بھی طلاق میں کردار رہا ہے۔

سماجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں خواتین کا بااختیار ہونا بھی شادی کے حوالے سے خواتین کے رویے میں تبدیلی کی ایک اہم وجہ ہے۔ زیادہ سے زیادہ خواتین مالی طور پر خود مختار ہو رہی ہیں۔ وہ کام کرتی ہیں اور اپنی روزی  خود  کماتی ہیں۔ پہلے عورتیں مکمل طور پر اپنے شوہروں پر انحصار کرتی تھیں جس کی وجہ سے وہ خاموشی کے ساتھ اپنے شوہروں کی نافذ کردہ تمام قسم کی ذلتوں اور اذیتوں کو برداشت کرتی تھیں۔ لیکن اب لڑکیاں زیادہ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ازدواجی اور خاندانی حقوق سے زیادہ ہوشیار اور باخبر ہو رہی ہیں۔ وہ اب مردوں کی درست درازی اور اپنے شوہروں کے جابرانہ رویے کے خلاف احتجاج کرتی ہیں۔

 طلاق میں اضافے کی وجہ عورتوں کا طلاق کے اپنے حق سے آگاہ ہونا بھی ہے۔ پہلے بنگلہ دیش کی خواتین کا خیال تھا کہ صرف ان کے شوہر ہی انہیں طلاق دے سکتے ہیں لیکن اب وہ جان چکی ہیں کہ وہ عدالت کی مداخلت کے ذریعے 1939 کے ایکٹ کے تحت طلاق حاصل کر سکتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ صرف 2020 میں ہر ماہ 1194 طلاقیں ہوئیں۔ جبکہ 2019 میں ہر ماہ صرف 920 طلاقیں ہوئیں۔

 اس سے قبل طلاق میں اضافے کی وجہ بنیادی طور پر بیوی پر ذہنی اور جسمانی تشدد اور شوہر کی طرف سے جہیز کا مطالبہ تھا۔ کیونکہ خواتین دوسرے تمام خاندانی اختلافات کو برداشت کرتی تھیں مثلاً شوہر کا برا مزاج، شوہر کا جابرانہ رویہ، شوہر کا منشیات یا شراب کی لت میں ملوث ہونا یا سسرال والوں کی بدسلوکی، جب تک ان کی زندگی اور سلامتی خطرے میں نہ پڑ جائے۔ وہ اپنی شادی بچانے کی خاطر تمام مظالم اور ذلتوں کو برداشت کر لیتی تھیں۔ لیکن اب زیادہ تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر بااختیار ہونے کے بعد خواتین اپنے سسرال میں ایک باعزت زندگی، اپنے شوہر اور سسرال سے اچھے سلوک، اپنے شوہر کے با اخلاق کردار اور سب سے بڑھ کر اپنے شوہر کے مالی تحفظ کا مطالبہ کرتی ہیں۔ چونکہ بہت کم مرد اور سسرال والے ان تمام مطالبات کو پوارا کر سکتے ہیں، لہٰذا اب کثرت کے ساتھ خواتین بنگلہ دیش میں طلاق کے لیے عرضیاں دائر کر رہی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ طلاق کی شرح شہری تعلیم یافتہ خاندانوں میں زیادہ اور عام لوگوں میں کم ہے۔

لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خواتین کو قانونی طور پر بااختیار بنانا خود خواتین کے لیے نقصاندہ ہے؟ کیا معاشی خود مختاری نے خواتین کو زیادہ عدم روادار بنا دیا ہے؟ کیا پڑھے لکھے اور امیر شہری جوڑے اپنے ازدواجی ذمہ داریوں کے لحاظ سے زیادہ غیر ذمہ دار ہیں؟ کیا ان کی ذاتی انا اپنے بچوں اور خاندان کے تئیں ذمہ داریوں سے زیادہ اہم ہو گئی ہے؟

ایک اسلامی ملک کے شہری ہونے کے ناطے زوجین کو اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے مزید عملی طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ اسلام کا مقصد خاندانی اقدار کی قیمت پر معاشی خوشحالی پیدا کرنا نہیں ہے۔ اسلام زوجین کو قربانیوں کا درس دیتا ہے، رواداری کی تلقین کرتا ہے اور باہمی احترام پر زور دیتا ہے۔ لیکن بنگلہ دیش میں معاشی خوشحالی خاندان اور معاشرے پر منفی اثرات مرتب کرتی نظر آرہی ہے۔

--------------

Related Article:

Rise In Divorces In Bangladesh: Is Only Covid-19 Lockdown Responsible?

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/bangladesh-lock-down-divorce-covid/d/125271

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..