New Age Islam
Tue Jan 18 2022, 10:16 AM

Urdu Section ( 26 Nov 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Large-Scale Interfaith Studies Are Urgently Needed To Achieve Interfaith Harmony بین المذاہب ہم آہنگی کے حصول اور ملک میں بڑھتی ہوئی نفرت کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر بین المذاہب تعلیم کی فوری ضرورت ہے

دینی مدارس کو بین المذاہب ہم آہنگی کورسز کی منصوبہ بنانے کی ضرورت ہے

اہم نکات:

ملک کو تعصبات اور ہر قسم کی نفرت سے آزاد کرنا ہمارے دور کی سب سے اہم ضرورت ہے

بین المذاہب ہم آہنگی کورس کا آغاز بین المذاہب اور فرقہ وارانہ رواداری کے لیے علمی بنیاد فراہم کرے گا

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نظامی سینٹر کو دینی مدارس کے فارغ التحصیل افراد کے لیے ہندی زبان اور ہندوستانی مذاہب میں کورس ترتیب دینے کے لیے ماہرین کے ایک گروپ کو دعوت دی گئی ہے

 ......

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

24 نومبر 2021

بین المذاہب مکالمہ ہمارے دور کی انتہائی اہم عالمی موضوعات میں سے ایک ہے، اور اس پر پوری دنیا کے مختلف اداروں اور پلیٹ فارمز میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جا ری ہے۔ اگرچہ اس کے اہداف جگہ جگہ مختلف ہوتے ہیں، لیکن مذاہب کے درمیان مشترکہ بنیاد تلاش کرنے اور مذاہب کی سماجی ذمہ داریوں کے تعین کا چیلنج، کچھ عالمگیر اپیل کا حامل ہے، اور ہر سطح پر دانشور اس موضوع پر اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

اس وسیع تناظر کے علاوہ، دینی مدارس، اساتذہ اور طلباء کو اسلامی تعلیمات کے سلسلے میں موجودہ عقائد کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے، جس کے لیے وقتاً فوقتاً مدارس سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، اور بعض ادارے پہلے سے ہی ایسا کر رہے ہیں۔ تاہم، موجودہ عالمی ماحول میں یہ موضوع جس سنجیدگی اور گہرائی کا مطالبہ کرتا ہے اس کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔

مجھے نہیں معلوم کہ ہندوستانی رہنما بڑے پیمانے پر بین المذاہب مطالعات کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں کہ نہیں یا انہوں نے اس سمت میں کیا اقدامات کیے ہیں، لیکن مجھے آج انقلاب اردو اخبار میں یہ پڑھ کر خوشی ہوئی کہ کچھ مسلم اسکالرز نے وقت کی اس ضرورت کو تسلیم کیا ہے اور ملک کو تعصبات اور ہر قسم کی نفرتوں سے نجات دلانے کے لیے بین المذاہب مکالمے کا مشکل راستہ اختیار کیا ہے جو کہ یقیناً قابل تحسین ہے۔

رپورٹ حسب ذیل ہے:

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نظامی مرکز برائے فروغ سائنس نے دینی مدارس کے فارغ التحصیل افراد کے لیے ہندی زبان اور ہندوستانی مذاہب میں کورس تیار کرنے کے لیے ماہرین کی ایک جماعت طلب کیا ہے۔ اجلاس کی صدارت دارا شکوہ انٹرفیتھ انڈرسٹینڈنگ اینڈ ڈائلاگ کے ڈائریکٹر پروفیسر علی محمد نقوی نے کی۔ اس جماعت کو دعوت جے پور میں جامعہ الہدایہ کے مہتمم مولانا فضل الرحمان مجددی نے دی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فضل الرحمن مجددی نے کہا کہ جامعہ الہدایہ مدارس اسلامیہ کے ایسے فارغ التحصیل کے لیے دو سالہ کورس تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو ہندی زبان اور ہندوستانی مذاہب میں مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ نصاب اور نظام کی تشکیل کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی کے تجربات کو بروئے کار لایا جائے گا۔ اس موقع پر محمد سعود عالم قاسمی، ڈین فیکلٹی آف تھیالوجی نے کہا کہ مدارس میں ہندی زبان اور ہندوستانی مذاہب کے کورسز پڑھانا ایک اہم ضرورت ہے اور جامعہ الہدایہ کے مہتمم اپنے اس اقدام کے لیے تعریف کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کورس شروع کرنے سے بین المذاہب اور فرقہ وارانہ رواداری کو علمی بنیاد فراہم ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کورس کو ملک کی یونیورسٹیوں کو تسلیم کرنا چاہیے تاکہ وہاں کے فارغ التحصیل اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ مذاہب کا مطالعہ مسلم میراث کا ایک حصہ ہے اور اسے جاری رکھنا ضروری ہے۔

پروفیسر محسن عثمانی، سابق ڈین آف دی فیکلٹی آف لینگوئیجز، ای ایف ایل یونیورسٹی حیدرآباد، نے کہا کہ انبیاء نے ہمیشہ قومی زبان میں اپنا پیغام پہونچایا ہے، اور چونکہ ہندی ہندوستان کی قومی زبان ہے، اس لیے ہندی سیکھنا اور ہندوستانی مذاہب سے واقف ہونا علماء کی ایک سماجی اور مذہبی ذمہ داری ہے۔  برج کورس کے ڈائریکٹر نسیم احمد خان نے کہا کہ مدارس کے فارغ التحصیل افراد کے لیے مذہب اور ہندی زبان کا نصاب یونیورسٹی کے نصاب پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ طلبہ زیادہ آسانی سے حاصل کر سکیں۔

اسلامک ریسرچ اینڈ رائٹنگ انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری مولانا ارشد جمال ندوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندی اور ہندوستانی مذاہب کی تعلیم ایک مذہبی اور سماجی ضرورت ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر بڑے مدارس اس شعبے میں پیش قدمی کریں تو دوسرے مدارس کو بھی اس میدان میں قدم آگے بڑھانے کا حوصلہ ملے گا۔ ویمنس کالج کے پروفیسر ڈاکٹر عباس رضا نے کہا کہ دیگر مذاہب کا مطالعہ ہمدردی کے ساتھ کیا جانا چاہیے نہ کہ جذباتی انداز میں، اور اس پیشہ ور ماہرین تعلیم کی تقرری بھی اسی لیے کی جانی چاہیے۔ پروفیسر علی محمد نقوی جنہوں نے صدارتی خطبہ پیش کیا، کہا کہ مدارس میں اس کورس کو شروع کرنے سے پہلے اس کے مقصد، طریقہ کار، نصاب اور کورس کی کتابوں کی تیاری پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے کیونکہ یہ انتہائی اہم کام ہے۔

اس سلسلے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف تھیالوجی، شعبہ ہندی، نظامی سنٹر اور برج کورس سنٹر مکمل تعاون فراہم کریں گے اور نصابی کتب بھی تیار کریں گے۔

شاندار بنیادوں پر رواداری، انسانیت اور سماجی امن و ہم آہنگی کو فروغ دینے کے مقصد سے ایک بڑے پیمانے پر بین المذاہب ہم آہنگی کورسز کا قیام بلاشبہ ہمارے دور کی ایک اہم ضرورت ہے۔

English Article: Large-Scale Interfaith Studies Are Urgently Needed To Achieve Interfaith Harmony and Prevent the Growing Hatred in the Country

 URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/interfaith-harmony-hatred-india/d/125849

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..