New Age Islam
Tue Jan 18 2022, 10:07 AM

Urdu Section ( 1 Dec 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islamic Countries Have Done Little to Eliminate Violence against Women despite Quran's Clear Commands اسلامی ممالک نے قرآن کے واضح احکامات کے باوجود خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کیا

غیرت کے نام پر قتل، عصمت دری، تشدد اور خواتین کا استحصال مسلم معاشروں میں عام ہے۔

اہم نکات:

1. اسلام نے بچیوں کو پیدائش کے وقت یا اس کے فوراً بعد قتل کرنے کی روایت کو ختم کیا ہے

2. اسلام بچیوں اور یتیموں کے ساتھ حسن سلوک پر خاص توجہ دیتا ہے

3. اسلام نے غلامی کی حوصلہ شکنی کی ہے لیکن مسلم معاشروں میں خواتین کے ساتھ اب بھی غلاموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے

4. پاکستان کی مختاراں مائی اور افغانستان کی شربت گلہ مسلم معاشروں میں خواتین کی حالت زار کی زندہ مثالیں ہیں

5. ترکی اس سال استنبول کنونشن سے دستبردار ہو گیا جس سے خواتین کے حقوق کو دھچکا لگا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

 30 نومبر 2021

(File Photo)

-------

 25 نومبر کو خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر میکسیکو، میڈرڈ، پیرس، لندن اور بارسلونا جیسے یورپی اور افریقی شہروں میں زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ ترکی، یوراگوئے، چلی، وینازویلا، بولیویا اور گوئٹے مالا جیسے ممالک میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ خواتین پر تشدد کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاج کیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ زیادہ تر مظاہرے مغربی ممالک میں ہوئے جو خواتین کو آزادی، قانونی اور سماجی تحفظ اور مساوی حقوق دینے پر فخر کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق میکسیکو میں روزانہ کم از کم دس خواتین کو قتل کیا جاتا ہے۔ مظاہرین کے پلے کارڈز پر لکھا تھا ’’وہ مرتی نہیں، ماری جاتی ہیں۔‘‘ لاطینی امریکہ کے ایک علاقائی کمیشن کے مطابق 2020 میں کم از کم 4091 خواتین ان کے خلاف تشدد سے ہلاک ہوئیں۔ ترکی کے علاوہ اس دن مسلم ممالک میں اس طرح کے مظاہروں کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ وجہ یہ ہے کہ مسلم ممالک میں خواتین کے خلاف تشدد کو عام نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ مسلم معاشروں میں خاندان کی عزت کے تحفظ کے نام پر خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ عرب اور افریقی مسلم معاشروں میں بھی رائج ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد کی دوسری شکلیں عصمت دری، جہیز کے لیے تشدد، جنسی استحصال وغیرہ بھی ہیں۔

مغربی دنیا میں ہونے والے مظاہرے اس حقیقت کی تلخ یاد دہانی ہیں کہ تعلیم یافتہ اور مہذب معاشرے میں بھی خواتین محفوظ نہیں ہیں۔ اگرچہ یورپی ممالک میں خواتین کو زیادہ آزادی حاصل ہے لیکن وہ تشدد سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہیں۔ کم از کم مغربی ممالک میں خواتین پر تشدد کے خلاف لوگ احتجاج میں گھروں سے نکل آئے۔ مسلم ممالک میں یہ دن معمول کے مطابق گزرا کیونکہ یہاں خواتین کے خلاف تشدد کو کوئی سنگین مسئلہ نہیں مانا جاتا۔ مختاراں مائی اور پاکستان کی دیگر خواتین جاگیردارانہ معاشرے میں خواتین کے حقوق کی پامالی کی زندہ مثالیں ہیں۔ افغانستان کی شربت گلہ مسلم معاشرے میں خواتین کی حالت زار کی ایک اور مثال ہے۔ شام اور عراق میں داعش کے ابھرنے کے بعد خانہ جنگی کے دوران مسلم خواتین تشدد کا سب سے زیادہ شکار ہوئیں۔ انہیں قتل کیا گیا، ان کی عصمت دری کی گئی، انہیں اغوا کیا گیا، غلام بنایا گیا اور اجناس کی طرح بیچا گیا۔ طالبان کے دور حکومت میں افغانستان میں خواتین قیدی بن چکی ہیں جو سماجی آزادی سے محروم ہیں اور کام کرنے یا تعلیم حاصل کرنے یا کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے باہر نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ افغانستان میں طالبان نے نقاب نہ پہننے پر ایک خاتون کو گولی مار دی۔

(File Photo)

-----

خواتین کے خلاف تشدد کی اسلام نے منظم انداز میں حوصلہ شکنی کی ہے۔ قرآن نے بچیوں کو قتل کرنے سے منع کیا اور غلامی کی حوصلہ شکنی کی اور غلام عورتوں اور مردوں کو آزاد کرنے اور انہیں معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ایک سماجی طریقہ کار وضع کیا۔

قرآن نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے تشدد کا خوف ہو تو وہ اس سے کسی قسم کا امن معاہدہ کر سکتی ہے۔ قرآن نے یہ بھی کہا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں۔ اس سے عورتوں کو خاندانی معاملات میں قرآن کی طرف سے دی گئی مساوات کی ضمانت کا بھی پتہ ملتا ہے۔

لیکن مسلم معاشرے نے منظم طریقے سے خواتین کی آزادی کے لیے کام نہیں کیا۔ کئی مسلم ممالک میں خواتین کو اب بھی تشدد اور استحصال کا سامنا ہے۔

چونکہ اسلامی ممالک نے خواتین کی آزادی میں کوئی نمایاں کردار ادا نہیں کیا، اس لیے اقوام متحدہ جیسے جدید عالمی اداروں کو اس سمت میں قدم اٹھانے پڑے۔ 25 نومبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے ایک قرارداد منظور کی۔ اس دن کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ اسی دن 1960 میں میرابائی بہنوں کو ڈومینیکن کے حاکم رافیل ٹرجیلو نے اپنے حقوق کے لیے لڑنے کی پاداش بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔

(File Photo)

------

اس سال پین امریکی ہیلتھ آرگنائزیشن (PAHO) نے خواتین پر ہونے والے تشدد کے خلاف 16 روزہ سرگرمی کا مطالبہ کیا ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں تشدد کے خاتمے کی وکالت کی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ وبائی مرض (کووڈ) کے دوران تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ لوگ معاشی دباؤ سے گزر رہے تھے۔ جس کی وجہ سے گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا۔

بدقسمتی سے، ترکی اس تاریخی استنبول کنونشن سے دستبردار ہو گیا جس پر مئی 2011 میں استنبول میں دستخط ہوئے تھے۔ کنونشن کا مقصد خواتین کے خلاف تشدد کو ختم کرنا تھا۔ لیکن مارچ 2021 میں ترکی نے غیرت کے نام پر قتل کی حمایت کرنے والے مذہبی طبقے کے دباؤ پر کنونشن سے دستبرداری اختیار کر لی۔ ترکی کی دستبرداری سے خواتین کی آزادی کو دھچکا لگا اور اپوزیشن جماعتوں نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔

(File Photo)

-----

اگرچہ اسلام نے خواتین کے تشدد اور استحصال سے پاک معاشرے پر زور دیا ہے، تعلیم، معاشیات، سائنس اور بیوروکریسی کے میدانوں میں خواتین کے مساوی حقوق کی وکالت کی ہے، لیکن اسلامی معاشرہ میں خواتین اب بھی اپنے جائز حقوق سے محروم ہیں اور اس میں ڈھکے چھپے انداز میں طریقوں کی حمایت کی جاتی ہے جو خواتین پر تشدد اور قرآن و حدیث میں عطا کردہ ان کے حقوق سے محرومی کا سبب بنتے ہیں۔

English Article: Islamic Countries Have Done Little to Eliminate Violence against Women despite Quran's Clear Commands

 URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/islamic-violence-women-quran/d/125884

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..