New Age Islam
Wed May 05 2021, 03:47 PM

Urdu Section ( 26 Apr 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Faizan Mustafa- Now Ulema Should Create Awareness Among People About The Context Of War Time Verses ماہر قانون فیضان مصطفی :جنگی اوقات سے متعلقہ آیات کے سیاق کو بتانا اب علما کی ذمہ داری

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

قرآن مجید کے خلاف عرضی کی برخاستگی  کافی نہیں ہے۔بلکہ  مسلم علما اور اسکالرز  کو جنگی امور سے متعلقہ  آیات کے بارے میں پیدا کیے گیے شکوک و شبہات اور الجھن دور کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے

مضمون میں پیش کردہ اہم نکات

1. ماہر قانون فیضان مصطفی نے مسلم علما سے جیگئ امور سے متعلقہ  آیات پر تبادلہ خیال کرنے کی اپیل کی

۲۔ انہوں نے مسلم دانشوروں سے قرآن کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنے کی تاکید کی

۳۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی مدد سے تشدد کو جواز نہیں بنایا جاسکتا۔

۴۔  جدید قانونی نظام ایسے مذہبی رواج کو ختم کر سکتا ہے جو موجودہ وقت کے حالات کے مطابق نہیں ہوتے ہیں

وسیم رضوی

--------

ہندوستان کی سپریم کورٹ کے ذریعہ قرآن کریم کی چھبیس آیات پر وسیم رضوی کی عرضی کو برخاست کرنے سے مسلم برادری کو کافی سکون ملا ہے۔  قرآن مجید کے خلاف چلائے جانے والے غلط پروپیگنڈے پر یہ قرآن کی فتح ہے۔ تاہم  یہ معاملہ ختم نہیں ہوا ہے۔ سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرکے، وسیم رضوی نے قرآن مجید کی آیات کے بارے میں غیرمسلموں میں شکوک و شبہات پیدا کردیے ہیں جو عدالت کی طرف سے  محض برطرفی سے دور نہیں ہو سکتی ہیں۔ لہذا علمائے کرام کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی درخواست میں وسیم رضوی کے بیان کردہ آیات کے معنی اور سیاق و سباق کو بیان کریں۔ ممتاز ماہر قانون  فیضان مصطفیٰ نے آیات حرب (جنگ کے وقت کی آیات) کہی جانے والی آیات کے تناظر اور ان کے معنی ومفہوم  بیان کرنے کی ضرورت کا بھی اظہار کیا ہے، اگرچہ عدالت نے انہیں بر خاست کر دیا ہے ، کیونکہ ان کی نظر میں پیٹیشن کی بر خاستگی نے معاملے کو ہمیشہ کے لیے  حل نہیں کیا ہے۔ ہم ان کے قانونی ویب سیریز میں شائع ان کے لیکچر کے اقتباسات کو درج ذیل  پیش کر رہے  ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جناب فیضان مصطفیٰ کا خیال ہے کہ عدالت کی  دہلیز پر عرضی کو برخاست کرنا وسیم رضوی کی فتح ہے کیونکہ اگر یہ عرضی بحث کے لئے قبول کرلی جاتی تو سی بی آئی کے پاس ان کے خلاف زیر سماعت تمام مقدمات اور یوپی شیعہ وقف بورڈ  کے چیئرمین کی حیثیت سے ان کے خلاف بدعنوانی کے تمام الزامات زیر بحث ہوتے ۔ لہذا عدالت میں پٹیشن کی برخاستگی نے اسے در اصل  ذلت اور شرمندگی سے بچایا ہے ۔

یہ ان کا نقطہ نظر ہے لیکن ایک بات جس میں  وسیم رضوی کامیاب ہوئے وہ یہ ہے کہ انہوں نے علماء پر یہ ذمہ داری عائد کر دی ہے کہ وہ  عام لوگوں خصوصا دنیا کے غیر مسلموں کے سامنے  آیات کے مفہوم اور سیاق و سباق کی وضاحت کریں۔ جناب  فیضان مصطفی کہتے ہیں:

"یہ ہمارے علمائے کرام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کی وضاحت کریں اور لوگوں میں آگاہی پیدا کریں کہ کیا عرضی میں مذکورہ آیات لوگوں کو واقعی تشدد کا نشانہ بنانے اور دہشت گردی پیدا کرنے کی ترغیب دیتی ہیں جیسا کہ  وسیم رضوی نے دعوی کیا تھا۔ میری ویڈیو پر جو تبصرے ہوئے ہیں یا ہماری آبادی کے ایک حصے کی طرف سے جس طرح کی  مخالفت کا مظاہرہ کیا گیا ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بہت سارے لوگ موجود ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ وسیم رضوی کی عرضی درست تھی اور واقعی قرآن میں چھبیس آیات ہیں جو غیر مسلموں کے خلاف دہشت گردی اور تشدد کی بات کرتے ہیں ۔اب یہ ذمہ داری مسلم علما  پر عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو ان آیات کے تناظر کی وضاحت کریں کہ آیات جنگ کے قوانین سے متعلق ہیں۔ میں نے ایک ویڈیو بنائی اور چھ آیات کے مندرجات کی وضاحت کی۔ مستقبل میں بھی میں  ویڈیوز بناؤں گا اور بقیہ بیس آیات کے مواد اور ان کے معنی کی وضاحت کروں گا۔میں نے یہ اس لئے کیا کہ پہلے میں نے سوچا تھا کہ یہ صرف ایک تھیولوجیکل مسئلہ ہے  لیکن میرے کچھ ناظرین نے مجھے بتایا کہ چونکہ قرآن اسلامی قانون کا ماخذ ہے، لہذا یہ ایک قانونی مسئلہ بھی ہے۔ لہذا میں کوشش کروں گا کہ وہ کام جو عدالت میں نہیں ہوا ہے میں اسے انجام دوں"۔

جناب فیضان مصطفی نے عدالتوں میں مذہبی صحیفوں کے خلاف درخواستیں داخل کرنے کے خلاف ایک بہت اہم نکتہ پیش کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں،

فیضان مصطفی

-------

"اب اس خاص مسئلے کو سمجھنے کی ضرورت ہے جسے وسیم رضوی نے اٹھایا ہے ۔ انہوں نے دعوی کیا تھا  کہ ان آیات کی وجہ سے مسلمان پوری دنیا میں دہشت گردی کا ارتکاب کررہے ہیں، لہذا  دہشت گردی کو روکنے کے لئے ان آیات کو قرآن مجید سے خارج کردیا جانا چاہئے۔ درخواست گزار اور ان کے وکیل کو اتنا یقین نہیں تھا کہ جب جسٹس نریمن نے ان سے پوچھا ، "کیا آپ سنجیدہ ہیں؟"، تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ مذکورہ بالا آیات کو قرآن سے ہٹایا جانا چاہئے بلکہ وہ مدرسوں کے متعلق گفتگو کرنے لگے ۔ آپ کو معلوم ہے کہ وسیم رضوی نے اس سے پہلے بھی (مدرسوں کے خلاف) بہت سی باتیں کہی ہیں۔  دوسرے لفظوں میں ، درخواست گزار نے دلیل کے آغاز ہی میں ہار مان لیا تھا اور اپنی دلیل کا  رخ  اس بات کے اعتراف تک ہی محدود کردیا کہ مدرسوں میں غلط چیزیں سکھائی جا رہی ہیں۔ دیکھیئے ، دہشت گردی نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں بھی ایک بہت ہی سنگین مسئلہ ہے۔کوئی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا کہ ‘‘میں دہشت گردی میں ملوث ہوں کیونکہ قرآن نے مجھے اس بات کی تبلیغ کی ہے، اور چونکہ قرآن نے مجھے یہ تعلیم دی ہے اس لئے مجھے سزا نہیں دی جانی چاہئے’’۔ دہشت گردی کو پہلے ہی سنگین جرم قرار دیا جا چکا  ہے۔ ترمیم سمیت متعدد قوانین نافذ کیے گئے جیسے ٹاڈا ، پوٹا ، یو اے پی اے۔ لہذا ، حکومت کسی بھی تنظیم کو دہشت گرد تنظیم قرار دے سکتی ہے۔ جب ایک جدید قانونی نظام کسی مذہبی صحیفے کے ذریعہ کسی تعلیم یا رواج کو قبول یا تسلیم نہیں کرتا ہے ، تو یہ نہیں کہتا ہے کہ  ‘‘اسے ویدوں سے ، اپنیشدوں سے ، منومسمرتی سے ، قرآن سے ، بائبل وغیرہ سے ہٹا دیں’’۔ ایسا  ممکن نہیں ہے۔ تو پھر قانونی نظام کیا کرتا ہے؟ مثال کے طور پر ، ہمارا قانونی نظام یہ نہیں کہتا کہ "ہندو صحیفوں سے اچھوت کو ہٹا دیں"،  "ستی کو ہندو صحیفوں سے ہٹا دیں"۔ بنا ایسے کہے ہی  اس نے محض ستی کو ختم کردیا۔ اگر کوئی ستی کا مشاہدہ کرے گا یا اس کی مدح خوانی  کرے گا تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ ہم نے اچھوت کی روک تھام کے لئے قوانین بنائے ہیں اور ایس سی / ایس ٹی قانون کو سخت بنا دیا ہے۔ اسی طرح ہمارا قانون دہشت گردی اور تشدد سے روکتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی مذہبی صحیفہ دہشت گردی اور تشدد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تو کسی کو بھی حق نہیں ہے کہ وہ اپنے مذہب کے نام پر اس کا جواز پیش کرے۔ یہ فوجداری قانون کا مسئلہ ہے اور یہاں مذہب غیر متعلق ہو جاتا ہے ۔ "

جناب  فیضان مصطفی یہ بھی کہتے ہیں کہ وسیم رضوی کو گالی دینا یا نشانہ بنانا ٹھیک نہیں تھا کیونکہ انہوں نے صرف اپنا آئینی حق استعمال کیا۔

"میری نظر میں جناب وسیم  رضوی کی گرفتاری کے لئے کچھ حلقوں کی طرف سے مطالبات  درست نہیں تھے۔ وسیم رضوی کو آرٹیکل ۳۲ کے مطابق عدالت جانے کا حق تھا اور انہوں نے اپنا حق استعمال کیا۔ عدالت کو یہ حق تھا کہ وہ اس طرح کے غیر سنجیدہ اور ‘‘تشہیراتی مفادات پر مشتمل مقدمہ’’  کو برخاست کرے، لہذا  عدالت نے اپنا حق استعمال کیا۔ اب وسیم رضوی کے خلاف برہمی کے  مظاہرہ سے کوئی  مقصد حاصل نہیں ہو سکے گا۔ اصل کام معاشرے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ پٹیشن کو عدالت عظمیٰ میں حل کیا گیا تھا لیکن اس  مسئلہ کی  وضاحت عوام کے ذہن میں ہونی  چاہئے۔ لہذا مذکورہ آیات پر بحث کرنے کی کوشش ہونی  چاہئے اور آیات کے مشمولات پر پائے جانے والے الجھن کو دور کیا جانا چاہئے۔ لوگوں کو بتایا جانا چاہئے کہ ان آیات کا حکم  عام  نہیں ہے۔ حتی کہ آج بھی امن کے وقت کے قوانین اور جنگ کے قوانین مختلف ہیں ۔میرے خیال میں یہ ہمارے معاشرے ، ہمارے دانشوروں اور ہمارے علما  کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے شکوک و شبہات کو دور کریں۔محض  وسیم رضوی کو نشانہ بنانا اور اس کو گالی دینا  ہمارے قانونی نظام کے لئے بہتر نہیں ہے۔ "

جناب فیضان مصطفی کا لیکچر ہمارے ان علما  اور ہمارے ان دانشوروں کے لئے چشم کشا ہونا چاہئے جو قرآن کے دفاع کے لئے صرف عدالتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ وہ اپنے صحیفے کی آیات کے بارے میں غیر مسلموں اور عام مسلمانوں کے شکوک و شبہات کو واضح کرنے کے لئے کچھ نہیں کرتے ہیں۔ چاندمل چوپڑا اور وسیم رضوی ہمارے معاشرے کے ایک بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں جو قرآنی آیات کی غلط تشریح اور غلط تاویلوں کو ہوا دیتے ہے۔ ہم ان کی درخواستوں کو فرد کے تخیل کا مظہر سمجھ کر مسترد کرکے ایک بڑی غلطی کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کے چاندمل اور وسیم رضوی جیسے لوگوں کو قرآن کی اصل تعلیمات کی وضاحت کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

جناب فیضان مصطفی اپنی ویب سیریز کے ذریعے قرآنی آیات کی غلط ترجمانی کی نشاندہی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ان کی وضاحت بھی کر رہے ہیں ، لہذا ان کی یہ کوششیں قابل تعریف ہونی چاہیے۔ لیکن اس قسم کی کاوشیں  ہمارے علمائے کرام کی طرف سے ہونی  چاہئے کیونکہ ان کا مسلمانوں پر بڑا اثر ہے۔ یہاں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ کچھ عرصہ قبل حکومت ہند نے مسلم اسکالرز کو مسلمانوں میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے یوٹیوب چینلز بنانے کی دعوت دی تھی۔ بدقسمتی سے حکومت کے اس اقدام کو ہمارے مذہبی اسکالروں نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ جناب فیضان مصطفی کا ویب سیریز جو جنگی اوقات سے متعلقہ  آیات کی وضاحت کر رہی ہیں ، یہ یقینا  ایک مثبت اور قابل ستائش اقدام ہے۔ ہمیں تشدد کی ہر ممکنہ صورت کو روکنا چاہیے  اور دستیاب وسائل سے اسلام اور قرآن کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنے کی طرف کام کرنا سیکھنا چاہئے۔ کیا ہمارے علمائے کرام جناب فیضان مصطفی کے مشورے پر توجہ  دیں گے؟

URL for English: https://www.newageislam.com/islam-politics/new-age-islam-staff-writer/faizan-mustafa-now-ulema-create-awareness-among-people-context-war-time-verses/d/124691

URLhttps://www.newageislam.com/urdu-section/new-age-islam-staff-writer/faizan-mustafa-now-ulema-create-awareness-among-people-context-war-time-verses-ماہر-قانون-فیضان-مصطفی-جنگی-اوقات-سے-متعلقہ-آیات-کے-سیاق-کو-بتانا-اب-علما-کی-ذمہ-داری/d/124744


New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism


Loading..

Loading..