New Age Islam
Sat Jun 25 2022, 03:06 PM

Urdu Section ( 14 Apr 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Ex-Muslim Mobarak Bala Of Nigeria Gets 24 Years In Jail For Blasphemy Despite His Apology نائیجیریا کے سابق مسلم مبارک بالا کو معافی مانگنے کے باوجود توہین رسالت کے جرم میں 24 سال کی سزائے قید

اس نے پیغمبر اسلام کو دہشت گرد کہا تھا

اہم نکات:

1.     سابق مسلمان مبارک بالا اب ایک ملحد ہے

2.     اس نے 2014 میں ایک عیسائی خاتون کے قتل کے بعد اسلام چھوڑ دیا تھا

3.     اس کے گستاخانہ تبصرے سے پہلے اسے نفسیاتی ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا

4.     وہ مذہب کی آزادی کا حامی تھا

5.     اس نے نائیجیریا میں اسلامسٹ  انتہا پسندی کی تنقید کی اور علماء کی مخالفت

-----

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

7 اپریل 2022

----

Mubarak Bala / FACEBOOK

----

نائیجیریا کی مسلم اکثریتی ریاست کانو کے 29 سالہ ملحد مبارک بالا کو ہائی کورٹ نے 24 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس پر اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف توہین کا الزام تھا اور اسے 2014 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

مبارک بالا نائیجیریا کی ہیومنسٹ ایسوسی ایشن کا صدر ہےاور اس نے مذہب کی آزادی کی وکالت کی ہے۔ اس نے اپنے ملک میں اسلامی انتہا پسندی پر مسلسل تنقید کی جہاں الشباب اور القاعدہ سرگرم ہیں، جو عیسائیوں کے خلاف مسلسل تشدد کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔

مبارک ایک مذہبی مسلم گھرانے میں پیدا ہوا  تھا لیکن اس نے 2013 میں اپنی ہی عمر کے کچھ لڑکوں کے ہاتھوں ایک عیسائی خاتون کا سر قلم کیے جانے کی ویڈیو دیکھنے کے بعد 2014 میں اسلام چھوڑ دیا تھا۔ وہ اکثر فیس بک پر اسلام کے خلاف توہین آمیز ریمارکس پوسٹ کرتا تھا۔ اس نے انتہا پسندانہ نظریات کی تبلیغ کرنے والے مولویوں کی بھی مخالفت کی تھی۔

2014 میں جب اس نے مذہب اسلام کو ترک کر دیا تو  اس کے گھر والوں نے سمجھا کہ وہ پاگل ہو گیا ہے لہٰذا انہوں نے اسے زبردستی ایک نفسیاتی ہسپتال میں داخل کرایا جہاں سے اسے 18 دن کے بعد چھٹی مل گئی۔

2020 میں مبارک بالا نے پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف گستاخانہ تبصرے پوسٹ کیے تھے جس میں اس نے آپ ﷺ کو (معاذ اللہ) دہشت گرد قرار دیا تھا۔

لیکن بعد میں مبارک نے معافی مانگتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ "میرے اس پوسٹ کا مقصد تشدد پھیلانا نہیں تھا، اگرچہ مجھے معلوم تھا کہ اس میں تشدد پھیلانے کی صلاحیت تھی۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ اس کا خیال رکھونگا"۔

اس نے اس امید پر خود پر لگائے گئے تمام 18 الزامات کا اعتراف بھی کر لیا کہ اس کی بنیاد پر عدالت کچھ رحم کرے گی لیکن عدالت پر اس کی معافی کا کچھ اثر نہیں ہوا اور اسے 24 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

مبارک بالا ان مسلمانوں میں سے ایک ہے جو القاعدہ، الشباب اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے عدم روادار نظریے کو ماننے والے انتہا پسند مسلمانوں کی جانب سے غیر مسلموں پر ڈھائے جانے والے تشدد اور ظلم و بربریت کی وجہ سے مرتد ہو چکے ہیں۔ نائیجیریا کے بہت سے علماء اور سیاست دان بھی ان دہشت گرد تنظیموں کو اسلام کا علم بردار مانتے  ہیں۔ یہ دہشت گرد تنظیمیں عیسائیوں اور صوفیانہ مزاج رکھنے والے مسلمانوں کو باقاعدہ قتل کرتی ہیں اور اقلیتوں اور عیسائیوں کے گھروں کو نذر آتش کرتی رہتی ہیں۔

تشدد اور ظلم و ستم کی ایک وجہ توہین مذہب بھی ہے۔ مثال کے طور پر 2007 میں مسلمانوں کے ایک جھنڈ نے ایک عیسائی خاتون کو صرف اس لیے مار ڈالا کہ اس نے ایک ایسے بستے کو ہاتھ لگا دیا تھا جس میں قرآن مجید کا نسخہ رکھا ہوا تھا۔

2007 میں ایک بار پھر مسلمانوں نے نو عیسائیوں کو قتل کر دیا اور کچھ گرجا گھروں کو نذر آتش کر دیا کیونکہ کچھ عیسائی طلباء نے پیغمبر اسلام کی توہین کی تھی۔

اگرچہ مبارک نے عدالت میں اقبال جرم کر لیا اور عدالت سے رحم اور نرمی کی درخواست بھی کی، لیکن اسے نہ تو معافی ملی اور نہ ہی اس کے ساتھ نرمی برتی گئی۔ بلکہ اسے 24 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی ایجنسیوں نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔ اسلامی معیار کے لحاظ سے  بھی ہونا یہ چاہیے تھا کہ ملزم کو معاف کر دیا جائے۔ اول، کیونکہ اس کی ساتھ ذہنی بیماری کا علاج کیا گیا تھا اور دوم، اس نے رحم کی درخواست کی تھی اور دوبارہ توہین رسالت کا ارتکاب نہ کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔

سوم، اس نے توہین مذہب کے الزام میں بے گناہ عیسائیوں کو قتل کرنے والے اپنے مذہبی بھائیوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے اسلام ترک کیا تھا اور علماء نے ان کے اس جرم کو جائز قرار دیا تھا۔ قرآن کہتا ہے کہ مشرکین مکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مجنون، 'پاگل'، 'جادوگر' اور 'شاعر' کہہ کر توہین کے مرتکب ہوں گے لیکن پھر بھی خدا نے آپ ﷺ کو اور مسلمانوں ہو حکم دیا کہ وہ اسے نظر انداز کریں اور ضبط نفس کا خیال رکھیں۔ (الانعام:186) قرآن اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا ارتکاب کرنے والوں کو آخرت میں سخت ترین سزا سے خبردار کرتا ہے، لیکن مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو دنیا میں معاف کر دیں۔ قرآن توہین رسالت یا ارتداد کے لیے کوئی سزا تجویز نہیں کرتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی عمل یہی ہے کہ آپ ﷺ نے ایسے لوگوں کو معاف کر دیا جنہوں نے آپ ﷺ پر بہتان لگانے کے بعد معافی طلب کی۔

مبارک بالا کا معاملہ اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ توہین مذہب دنیا میں اسلامو فوبیا کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اور تو اور  نائیجیریا میں ایک عیسائی کا قرآن رکھے ہوئے تھیلے کو چھونا بھی توہین مذہب سمجھ لیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اگر کسی مسلم (حافظ قرآن) کے ہاتھ غلطی سے بھی تندور پر قرآن گر جائے تو اسے توہین مذہب کے جرم میں قتل کر دیا جاتا ہے۔ افغانستان میں ایک مسلم لڑکی کو مسلمان بھیڑ نے صرف اس لیے قتل کر دیا کیونکہ اس نے قرآنی الفاظ پر مشتمل طلسم کی ایک کتاب کو جلا دیا تھا۔

مسلم دنیا میں توہین مذہب پر قتل کے ایسے بے شمار واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

مبارک بالا کے کیس کی سماعت ایک عام عدالت نے کی، کسی شرعی عدالت نے نہیں۔ اگر اس کا مقدمہ کوئی شرعی عدالت سنتی تو اسے سزائے موت مل جاتی۔ نائیجیریا میں کانو سمیت ایک درجن ایسی مسلم اکثریتی ریاستیں ہیں جہاں عام عدالتوں کے متوازی شرعی عدالتیں بھی چلتی ہیں۔ اگرچہ اس کے مقدمے کی سماعت ایک عام عدالت نے کی، لیکن غالباً علماء کے زیر اثر اسے ایک سخت فیصلہ سنایا گیا۔

مبارک بالا کا معاملہ نائیجیریا اور دیگر افریقی ممالک میں پائی جانے والی انتہا پسندی اور عدم برداشت کی سنگین یاد دہانی ہے۔

English Article: Ex-Muslim Mobarak Bala Of Nigeria Gets 24 Years In Jail For Blasphemy Despite His Apology

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/ex-muslim-mobarak-bala-nigeria-blasphemy-apology/d/126797

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..