New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 05:20 AM

Urdu Section ( 28 March 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Despite Losing His Young Son in Riots, Maulana Imdadullah Rasheedi Refuses To Bear False Witness against the Accused فسادات میں اپنا جوان بیٹا کھونے کے باوجود مولانا امداد اللہ رشیدی نے ملزمان کے خلاف جھوٹی گواہی دینے سے انکار کر دیا

ملزمان کو ثبوتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے بری کر دیا گیا

اہم نکات:

1.     مولانا امداد اللہ رشیدی کا بیٹا 2018 کے فرقہ وارانہ فسادات میں مارا گیا تھا

2.     مولانا رشیدی نے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ میرے بیٹے کے قتل کا بدلہ نہ لیں

3.     پنٹو یادو اور ونے تیواری کو بطور ملزم گرفتار کیا گیا تھا

4.     مولانا رشیدی نے ان کے خلاف جھوٹی گواہی دینے سے انکار کر دیا

5.     دونوں ملزمان کو آسنسول ڈسٹرکٹ کورٹ نے بری کر دیا

-----

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

28 مارچ 2022

Maulana Imdadullah Rashidi (left) got one last gift from his son Sibghatullah  his Madhyamik certificate

-------

مغربی بنگال کے آسنسول میں مارچ 2018 کو رام نومی کے موقع پر فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے جن میں مسلم اور ہندو دونوں برادریوں کے کچھ لوگ مارے گئے تھے اور املاک کی تباہی ہوئی تھی۔ فسادات کے دوران نورانی مسجد کے امام و خطیب مولانا امداد اللہ رشیدی کے نوجوان بیٹے صبغۃ اللہ رشیدی کو فسادیوں نے پہلے اغوا کیا پھر اس کا قتل کر دیا تھا۔ اس سے جنوبی آسنسول کے مسلم اکثریتی علاقے‘ ریل پار’ کے مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر غصہ پھوٹ پڑا تھا۔ علاقائی مسلمان صبغۃ اللہ کی موت کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔ لیکن مولانا امداد اللہ رشیدی نے اپنے بیٹے کی موت کے درد و غم  کے باوجود مسلمانوں سے تشدد میں ملوث نہ ہونے کی اپیل کر کے بدترین صورتحال کے خطرے کو ٹال دیا تھا ۔ انہوں نے اپنے ایک خیر خواہ کی موٹر سائیکل لی اور لوگوں سے امن و سکون برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے پورے علاقے کا چکر لگایا۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ دوسرے لوگ بھی میری طرح اپنے معصوم بچوں کو کھو ئیں اور یہ دھمکی بھی دی کہ اگر مسلمان تشدد پر اتر آئے تو میں شہر چھوڑ دوں گا۔ بعض مقامات پر انہوں نے افواہیں پھیلانے والوں کی سختی سے سرزنش بھی کی۔

ان کی اپیل رنگ لائی اور  تشدد و فساد پر قابو پا لیا گیا ۔

یہ اس لیے ممکن ہوا کہ مولانا رشیدی نے قرآنی اصول پر عمل کیا کہ کسی بے گناہ کو دوسروں کے جرم کی سزا نہیں ہونی چاہیے۔ قرآن کہتا ہے کہ ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے اور ایک بے گناہ کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔

تاہم، دو افراد، پنٹو یادو اور ونے تیواری کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں اس معاملے میں ملزم بنایا گیا تھا۔ چار سال تک کیس کی سماعت ہوئی۔ 26 مارچ 2022 کو مولانا امداد اللہ رشیدی عدالت میں گواہی دینے والے تھے۔ سب کی نظریں ان پر ٹکی ہوئی تھیں کیونکہ ان کی گواہی اہم تھی اور دونوں ملزمان کی قسمت کا فیصلہ کر سکتی تھی۔ لیکن انہوں نے اپنی گواہی میں جو کچھ کہا اس نے نہ صرف ججوں اور وکیلوں کو حیران کر دیا بلکہ اس سے ان کی مذہبی دیانت اور قرآن و حدیث کی تعلیمات پر سختی سے عمل پیرا ہونے کا ثبوت بھی مل گیا۔ انہوں نے جج سے کہا کہ میں نے ملزم کو اپنے بیٹے کو اغوا کرتے اور قتل کرتے نہیں دیکھا اس لیے میں ان کے خلاف جھوٹی گواہی نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اصل ملزمان کو گرفتار کرنا پولیس کا کام ہے۔ اس سلسلے میں دس اور گواہ تھے اور انہوں نے بھی ملزم کو صبغۃ اللہ کا قاتل یا اغوا کار تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

لہذا ملزمان کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے بری کر دیا۔ مولانا رشیدی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایڈوکیٹ سورج چٹوپادھیائے نے کہا کہ 48 سال پر محیط اپنے پورے کیریئر میں میں نے کسی باپ کو اپنے مقتول بیٹے کے ملزم کے خلاف گواہی دینے سے انکار کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

مولانا امداد اللہ رشدی کے 16 سالہ بیٹے صبغت اللہ رشدی کو ہندوتوا کے جنونیوں نے شہید کر دیا۔

-----

رپورٹس کے مطابق گواہی سے قبل دونوں ملزمان کے لواحقین نے ان سے ملزمان کے لیے رحم کی درخواست کی تھی اور انہوں نے انہیں یقین دلایا تھا کہ ہم ان کے خلاف جھوٹی گواہی نہیں دیں گے کیونکہ ہم نے انہیں جرم کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ مولانا رشیدی نے قرآن کے حکم پر عمل کیا:

’’اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب بیہودہ پر گذرتے ہیں اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں۔‘‘(فرقان: 72)

’’ بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو حد سے بڑھنے والا بڑا جھوٹا ہو۔‘‘ (غافر:28)

یقیناً قرآن کے یہ احکام مولانا رشیدی کے سامنے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں اور پوری دنیا کو دکھا دیا کہ ایک سچا مومن رنج و غم کی اتھاہ گہرائی میں ڈوبنے کے باوجود  حق کا راستہ نہیں چھوڑتا اور اس قرآنی اصول کو ہمیشہ یاد رکھتا ہے کہ اہل ایمان کو کسی قوم کی دشمنی میں انصاف کا راستہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مجرم اس دنیا میں تو بچ  سکتا ہے لیکن قیامت کے دن خدا کے عذاب سے نہیں بچ سکے گا۔

تاہم ملزمان کے بری ہو جانے سے یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ پولیس نے اتنے حساس کیس کو کس طرح دیکھا۔ وہ کیوں اصل مجرموں تک نہیں پہنچ سکے۔ مولانا امداد اللہ رشیدی نے ایک بڑے سانحے کو ٹالنے میں پولیس اور انتظامیہ کی مدد کی تھی۔ عوام پوچھتی ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے انہیں بدلے میں کیا دیا؟

مولانا امداد اللہ رشیدی نے ایک بار پھر اس دور میں ضبط نفس اور اپنی حقیقی مذہبیت کا مظاہرہ کیا ہے جب ایسی آزمائش کی گھڑی میں اچھے اچھے مذہبی رہنماؤں کے  قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔ چار سال قبل انہوں نے عوام کو بےلگام ہونے اور بے گناہ لوگوں کے بے دریغ قتل میں ملوث ہونے سے روکا تھا۔ ان کے ضبط نفس کی تعریف کرتے ہوئے ایک مقامی ٹی ایم سی لیڈر منوج یادو نے ایک پروگرام میں جہاں مولانا رشیدی بھی موجود تھے کہا کہ میں خود کو قصوروار محسوس کرتا ہوں اور انہوں نے سماج میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی پر افسوس کا اظہار بھی کیا تھا اور یہ مشورہ دیا تھا کہ جس طرح فرقہ پرست طاقتیں نفرت اور بدامنی پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہیں، سیکولر اور امن پسند لوگوں کو بھی اسی طرح سوشل میڈیا کا استعمال ان کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے اور اتحاد و اتفاق کا پیغام پھیلانے کے لیے کرنا چاہیے۔

English Article: Despite Losing His Young Son in Riots, Maulana Imdadullah Rasheedi Refuses To Bear False Witness against the Accused

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/riots-maulana-imdadullah-rasheedi-witness-accused/d/126677

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..