New Age Islam
Sat Nov 27 2021, 10:18 AM

Urdu Section ( 15 Oct 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Attributing The Complex Phenomenon Of Terrorism To Just A Few Lines دہشت گردی کے پیچیدہ واقعات کو 14 سو سال پرانی مذہبی کتاب کی صرف چند سطروں سے منسوب کرنا نہ صرف مضحکہ خیز بلکہ اسلام کے تقریبا 1.9 بلین پیروکاروں کے ساتھ سراسر ناانصافی بھی ہے

علماء نے ثابت کیا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اسلام نے کبھی بھی دہشت گردی کی حمایت کی ہو۔

اہم نکات:

1.      قرآن اور حدیث اپنے نفس کے خلاف جہاد کی بات کرتی ہے اور قرآن اور حدیث کے پیغام کو پھیلانے میں جدوجہد کرنے اور تکلیف اٹھانے کو حقیقی جہاد کہا گیا ہے۔

2.      مسلم دہشت گرد تنظیمیں مسلمانوں کی حقیقی نمائندہ نہیں ہیں اور اسلامی نصوص کی ان کی تشریحات سیاسی اور فرقہ وارانہ عزائم پر مبنی ہیں۔

3.      دہشت گردی کے پھیلاؤ کی وجہ امریکہ اور برطانیہ جیسی مغربی اقوام کے اقدامات کے سیاسی تجزیے میں تلاش کی جانی چاہیے نہ کہ قرآن و حدیث میں۔

 -----

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

4 اکتوبر ،2021

ڈاکٹر این سی استھانہ ایک ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر اور سابق ڈی جی پی، کیرالہ ہیں۔ ان کی 49 کتابوں میں سے پانچ دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی پر ہیں۔

-----

دنیا گزشتہ چند دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔ اور دہشت گردی کی اصل اور محرکات پر بحث بھی ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔ 80 کی دہائی میں سری لنکا کی حکومت کے خلاف ایل ٹی ٹی ای نے دہشت گردی کو اپنایا اور کچھ دیگر تنظیموں نے بھی دہشت گردی کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کا واحد ذریعہ سمجھا ہے۔ لیکن مسلم تنظیموں کی اسی دہشت گردی نے نظریاتی اور سیاسی طور پر عالمی ردعمل کو جنم دیا ہے۔ 80 کی دہائی میں طالبان پر روسی جارحیت کے خلاف طالبان کا ظہور اور 21 ویں صدی کے آغاز میں القاعدہ کا ظہور اور اسامہ کی زیر قیادت القاعدہ کے 9/11 کے حملوں نے پوری توجہ کو 'اسلامی دہشت گردی' اور اس نظریہ کی طرف کہ صرف اسلام ہی دہشت گردی کا سرچشمہ ہے اور اس بات کی طرف موڑ دیا ہے کہ اسلامی نظریاتی بنیادیں ہی اسلامی دہشت گردی کی اصل ہیں۔ آئی ایس آئی ایس نے عام مسلمانوں کے خلافت کے خواب کا فائدہ اٹھایا جسے عام مسلمانوں تک بڑے پیمانے پر قدامت پسند مسلم علماء نے منتقل کیا تھا اور انہوں نے ہی اسلام مخالف پروپیگنڈہ کرنے والوں کے اس افسانے کو پھیلانے میں بھی مدد کی تھی کہ اسلام دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے۔

قرآن اور حدیث اپنے نفس کے خلاف جہاد کی بات کرتی ہے اور قرآن اور حدیث کے پیغام کو پھیلانے میں جدوجہد کرنے اور تکلیف اٹھانے کو حقیقی جہاد کہا گیا ہے۔ تاہم، کچھ دہشت گرد تنظیموں کے غیر حمایت یافتہ دعووں اور اسلامی خلافت کے قیام کے عزائم کو، مغرب اور خصوصا امریکہ نے اسلامو فوبیا پھیلانے اور عالمی برادری میں مسلمانوں اور اسلام کے خوف کو بڑھاوا دینے کے لیے استعمال کیا ہے۔

امریکہ نے دنیا بھر کے تمام زبانوں سے تعلق رکھنے والے لبرل اور باشعور اسلامی اسکالروں کی درست اور حقیقی تشریحات کو حکمت عملی کے ساتھ نظر انداز بھی کیا ہے، جنہوں نے اپنی تفسیروں اور تبصروں کے ذریعے یہ سچائی پیش کی کہ مسلم دہشت گرد تنظیمیں مسلمانوں کی حقیقی نمائندہ نہیں ہیں، اور اسلامی نصوص کی ان کی تشریحات سیاسی اور فرقہ وارانہ عزائم پر مبنی ہیں۔

انہوں نے بار بار نشاندہی کی اور عالمی برادری کو یہ بتایا کہ اسلامی نصوص یعنی قرآن اور احادیث دہشت گردی اور تشدد کی حمایت نہیں کرتی ہیں۔ لیکن دلچسپی اور بدقسمتی سے، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک اور اسلام فوبس صرف مٹھی بھر چھوٹی چھوٹی دہشت گرد تنظیموں کے رسالوں اور پریس ریلیز کے ان دعووں اور تشریحات پر توجہ مرکوز کرتے رہے کہ وہ دنیا پر قبضہ حاصل کر لیں گے اور پوری دنیا میں اسلامی خلافت قائم کریں گے۔ یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ چھوٹے جرائم پیشہ افراد جن کے پاس کچھ سو AK-47، بم اور کچھ مقبوضہ پرانے اور فرسودہ ٹینک ہیں جن سے وہ امریکہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور دیگر ممالک کی طاقتور فوجوں کو شکست نہیں دے سکتے۔ لیکن پھر بھی امریکہ دنیا میں اپنے سیاسی مفادات کو حاصل کرنے کے لیے دنیا میں خوف کا ماحول پیدا کرتا ہے۔ افریقہ، مشرق وسطیٰ، افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی سے لڑنے کے نام پر اس نے اربوں ڈالر خرچ کیے اور طویل جنگیں لڑیں اور دو دہائیوں کے بعد ان دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں جنگ ہارنے کے بعد اسے عراق، افریقہ اور افغانستان چھوڑنا پڑا۔ بلکہ ان دہشت گرد تنظیموں کو مثلا داعش کو موصل میں اور طالبان کو افغانستان میں اقتدار میں آتے ہوئے دیکھنا بھی پڑا۔

لہذا، جیسا کہ مسٹر اے سی استھانا نے بجا طور پر کہا ہے کہ دہشت گردی ایک سیاسی رجحان اور ایک سیاسی ہتھیار ہے کوئی مذہبی رجحان نہیں، جیسا کہ کوئی بھی مذہب، حتی کہ اسلام بھی اپنی مذہبی کتاب میں دہشت گردی کی حوصلہ افزائی اور اس کی تائید نہیں کرتا ہے۔ یہ صرف مغرب کا ایک آلہ ہے جو صلیبی جنگ کی بات کرتا ہے (جیسا کہ جارج بش نے نادانستہ طور پر کہا تھا)۔ اسلام غیر جنگجوؤں، بچوں اور عورتوں کے خلاف مقدس جنگ کا کوئی تصور نہیں رکھتا۔ انہوں نے بجا طور پر کہا کہ دہشت گردی کے پھیلاؤ کی وجہ امریکہ اور برطانیہ جیسی مغربی اقوام کے اقدامات کے سیاسی تجزیے میں تلاش کی جانی چاہیے نہ کہ قرآن و حدیث میں۔

English Article: Attributing The Complex Phenomenon Of Terrorism To Just A Few Lines In A1,400 Year Old Religious Text Is Not Only Ridiculously Simplistic, It Is Outright Injustice To About 1.9 Billion Adherents Of Islam, Says Dr. A. C. Asthana, I.P.S, Retd.

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/complex-phenomenon-terrorism-religious-text-asthana/d/125583

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..