New Age Islam
Mon Jul 04 2022, 11:05 PM

Urdu Section ( 22 Jun 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Al Azhar Grand Mufti Stirs Debate on Polygamy الازہر کے مفتی اعظم نے تعدد ازدواج پر بحث چھیڑ دی ہے

قرآن نے مخصوص حالات میں ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دی ہے۔

 اہم نکات:

1.      اسلام نے مردوں کو چار بیویاں تک رکھنے کی اجازت دی ہے۔

2.      البتہ چار شادیاں چند قیود و شرائط کے ساتھ مشروع ہیں۔

3.      ایک مرد اپنی چاروں بیویوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا۔

4.      مفتی اعظم نے کہا کہ تعدد ازدواج سے بچوں کے لیے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

 ----

 نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

 1 جون 2022

 ----

Representative Photo/ File

----

 مصر کی جامعہ الازہر کے مفتی اعظم نے مسلمانوں میں تعدد ازدواج (ایک سے زائد بیویاں رکھنے) پر بحث چھیڑ دی ہے۔ حال ہی میں ایک ٹی وی پروگرام میں ناظرین کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر الطیب نے کہا کہ ایک بیوی رکھنا قرآن کے اصول کے مطابق ہے اور یہ خاندانی نظام اور بچوں کی پرورش کے نقط نظر سے بھی بہتر ہے۔ ناظرین نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا کوئی مرد پردیس میں رہتے ہوئے اپنی پہلی بیوی کو بتائے بغیر دوسری شادی کر سکتا ہے؟ ڈاکٹر الطیب نے جواب دیا کہ شوہر اپنی پہلی بیوی کو دوسری شادی کی اطلاع دینے کا پابند نہیں ہے لیکن ایک بیوی رکھنا بہتر ہے۔ انہوں نے قرآن کی ان آیات کا حوالہ دیا جن میں قرآن نے مردوں کو چار بیویاں رکھنے کی اجازت دی ہے لیکن یہ اجازت تمام بیویوں کے ساتھ انصاف اور مساوات کے ساتھ مشروط ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعدد ازدواج بہت سے معاملات میں بچوں کے ساتھ ناانصافی کا سبب بن جاتا ہے۔

 ڈاکٹر الطیب کا یہ بیان بہت سے مسلمانوں کے لیے حیران کن ہو سکتا ہے جو یہ مانتے ہیں کہ اسلام تعدد ازدواج کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور اسے فروغ دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماقبل اسلام عرب معاشرے میں تعدد ازدواج رائج تھا۔ مردوں کی چار سے زیادہ بیویاں ہوتی تھیں اور عورتیں بھی ایک سے زیادہ مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات رکھتی تھیں۔ اسلام نے اس بے راہ روی کا خاتمہ کیا۔ چونکہ عرب معاشرے میں تعدد ازدواج کافی رائج تھا، اس لیے اسلام نے بیویوں کی تعداد کو زیادہ سے زیادہ چار تک محدود کر دیا کیونکہ بیویوں کی تعداد کو ایک تک ہی محدود رکھنے سے معاشرے میں مسائل پیدا ہوں گے۔ اسلام بتدریج تبدیلی کے اصول کو مانتا ہے۔ اسلام نے غلامی کی بھی ممانعت کی اور غلاموں کو آہستہ آہستہ معاشرے کے مرکزی دھارے سے جوڑ دیا۔

اسلام کے ناقدین جب اسلام پر اس وجہ سے تنقید کرتے ہیں کہ اسلام نے چار بیویاں رکھنے کی اجازت دی ہے تو وہ اس کی تاریخی یا ثقافتی حقائق کو پیش نظر نہیں رکھتے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن نے تعدد ازدواج کو بھی اسی ختم کرنے کی کوشش کی ہے جس طرح غلامی کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلام نے تعدد ازدواج کے لیے چاروں بیویوں کے ساتھ انصاف اور مساوات کو شرط قرار دیا ہے۔

 یہاں تک کہ عام مسلمانوں میں بھی یہ غلط تصور رائج ہے کہ اسلام چار بیویاں رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ وہ قرآن کے اس موقف سے ناواقف ہیں کہ تمام بیویوں کے ساتھ انصاف کرنا تقریباً ناممکن ہی ہے اس لیے مردوں کو صرف ایک ہی بیوی رکھنی چاہیے۔ قرآن میں ایسی آیات ہیں جو تعدد ازدواج سے متعلق ہیں۔

 ’’اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین او ر چار چار پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو

4|4|اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی س۔‘‘ (النساء:3)

 اس آیت میں قرآن پاک نے چار بیویوں کی اجازت دی ہے لیکن زور انصاف پر ہے۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے کہ ایک بیوی رکھنے سے مرد سب کے ساتھ انصاف کرنے سے بچ جاتا ہے۔

 اسی سورہ النساء کی اگلی آیت میں قرآن ایک بار پھر اپنی بیویوں کے درمیان مساوات اور انصاف کرنے پر زور دیتا ہے۔

 "اور تم سے ہرگز نہ ہوسکے گا کہ عورتوں کو برابر رکھو اور چاہے کتنی ہی حرص کرو تو یہ تو نہ ہو کہ ایک طرف پورا جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر میں لٹکتی چھوڑ دو اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری کرو تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور اگر وہ دونوں جدا ہوجائیں تو اللہ اپنی کشائش سے تم میں ہر ایک کو دوسرے سے بے نیاز کردے گا اور اللہ کشائش والا حکمت والا ہے۔‘‘ (النساء: 129-130)

 مذکورہ دونوں آیات میں واضح طور پر یہ قرآن نے یہ کہا ہے کہ مرد چار عورتوں سے شادی کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ ان کے درمیان مساوات برقرار رکھ سکیں اور ان کے ساتھ انصاف کر سکیں۔ دوسری آیت میں قرآن کہتا ہے کہ ایک مرد اپنی تمام بیویوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا لہٰذا اسے جود کو ایک ہی شادی تک محدود رکھنا چاہیے۔

 قرآن انسانی نفسیات کا بھی خیال رکھتا ہے۔ ہر مرد اور عورت میں الگ الگ خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں۔ اگر کوئی مرد چار عورتوں سے شادی کرے تو چاروں عورتیں یکساں طور پر خوبصورت نہیں ہوں گی۔ ان میں سے ایک زیادہ تعلیم یافتہ اور زیادہ نفاست پسندی ہوگی جبکہ دوسری ہو سکتا ہے کہ کم اخلاق مند ہو۔ یہاں تک کہ کسی میں کچھ جسمانی خامیاں بھی ہوسکتی ہیں۔ تو اس صورت میں تمام بیویوں کے ساتھ تمام معاملات میں یکساں سلوک کرنا شوہر کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔

اب سوال یہ ہے کہ قرآن چار بیویوں کی اجازت کیوں دیتا ہے جب کہ یہ جانتا ہے کہ مرد ان سب کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن نے مخصوص حالات میں متعدد شادیوں کی اجازت دی ہے۔ مثلاً، پہلی بیوی مختلف وجوہات کی بنا پر حاملہ نہیں ہو سکتی یا اس سے صرف لڑکیاں ہی پیدا ہو رہی ہیں۔ تو ان صورتوں میں مرد کو دوسری یا تیسری شادی کرنے کا اختیار ہے۔ ہم ایسے معاشروں میں دیکھتے ہیں جہاں ایک ہی شادی کا چلن ہے اور یہاں دوسری شادی کی اجازت نہیں، جہاں صرف لڑکیاں جنم دینے پر بیوی کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا اسے مار دیا جاتا ہے۔ انگلستان میں ایک بادشاہ کو اپنی ملکہ کو اس لیے مارنا پڑا کہ اس نے بیٹے کو جنم نہیں دیا جو اس کا وارث بن سکے۔ ایک وارث حاصل کرنے کے لیے اسے دوسری بیوی کی سخت ضرورت تھی۔ عیسائیت میں صرف ایک ہی بیوی کی اجازت ہے اور پہلی بیوی کو ہوتے ہوئے شوہر دوسری بیوی نہیں رکھ سکتا۔

 اسلام نے ایسے مخصوص حالات کے لیے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ جو لوگ بغیر کسی مجبوری کے چار بیویاں رکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے قرآن نے عدل و مساوات کی شرط رکھی ہے۔

 چنانچہ جب ڈاکٹر محمد الطیب نے یہ کہا کہ صرف ایک ہی بیوی ہی کافی ہے تو انہوں نے در حقیقت انصاف اور مساوات کے اسی قرآنی اصول پر زور دیا۔

 انہوں نے متعدد شادیوں کے سماجی مضمرات کو بھی بیان کیا۔ اس کی بنیاد پر میاں بیوی کے تعلقات میں تلخی کا خمیازہ بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اکثر مرد پہلی بیوی کو طلاق دینے کے لیے دوسری شادی کر لیتا ہے۔ تعدد ازدواج سے زوجین کے درمیان مضبوط جذباتی رشتہ پیدا ہو سکتا، کیونکہ شوہر یہ سوچتا ہے کہ وہ دوسری شادی کر سکتا ہے اور اپنی زندگی دوسری عورت لا سکتا ہے اور عورت کو مسلسل یہ خوف لگا رہتا ہے کہ میرا شوہر مجھے بتائے بغیر دوسری شادی کر سکتا ہے۔ ایسے رشتے میں اعتماد نہیں ہوتا۔

 عرب معاشرے میں کئی صدیوں سے تعدد ازدواج رائج رہا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنیت میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اسی لیے جب ڈاکٹر الطیب نے انہیں تعدد ازدواج کے بارے میں قرآنی موقف یاد دلایا تو انہوں نے صدائے احتجاج بلند کیا۔

 دور جدید میں شادی کے بارے میں ایک مختلف نقطہ نظر پایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ مسلمان بھی یہاں شادیوں کو ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان ایک مستقل رشتہ مانتے ہیں جو بچوں کے تئیں سماجی ذمہ داریوں اور فرائض کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک خاندان ایک سماجی وحدت ہے اور شوہر، بیوی اور بچے اس کے لازمی اجزاء ہیں۔ ان کے لیے شادی محض جسمانی تسکین کے لیے ایک جنسی ملاپ نہیں ہے۔ ڈاکٹر الطیب کے خیالات عالمی مسلم معاشرے کی تعدد ازدواج سے یک زوجیت کی طرف پیش قدمی کی عکاسی کرتے ہیں۔

English Article: Al Azhar Grand Mufti Stirs Debate on Polygyny

URL: https://newageislam.com/urdu-section/al-azhar-grand-mufti-polygyny/d/127303

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..