New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 05:22 AM

Urdu Section ( 21 Jan 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

A Class of Preachers in Muslim World Incites Violence and Promotes Sectarianism and Terrorism مسلم دنیا میں مبلغین کی ایک جماعت تشدد کو ہوا دیتی ہے اور فرقہ واریت اور دہشت گردی کو فروغ دیتی ہے

ان مبلغین کو قرآن اور حدیث کا تھوڑا علم ہے

اہم نکات:

1.      ان کی مقبولیت شعلہ بار خطابت اور تقریری مہارت پر مبنی ہے

2.      وہ نیم خواندہ مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں

3.      لاؤڈ اسپیکر ان کی لائف سپورٹ ہے

4.      جلسہ ان کی آمدنی کا ذریعہ ہے

5.      وہ تشدد کو ہوا دیتے ہیں دہشت گردی اور نفرت کو فروغ دیتے ہیں

----

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

29 مئی 2021

----

Maulana Rafiqul Islam Madani, Child Preacher

----

بنگلہ دیش کے مولانا رفیق الاسلام مدنی کو ڈیجیٹل سیکورٹی ایکٹ 2018 کے تحت تشدد پر اکسانے اور مسلمانوں کو حکومت کے خلاف مسلح جہاد پر بھڑکانے والے بیانات اور تقاریر کے لئے گرفتار کیا گیا  جو سوشل میڈیا پر نشر کئے گئے۔ وہ بنگلہ دیش کی ایک عسکریت پسند تنظیم سے وابستہ ہیں جس کا نام حفاطت اسلام ہے۔ ان کے خلاف ڈھاکہ سمیت مختلف پولس تھانوں میں مقدمات درج کئے گئے تھے۔ انہیں نیٹراکونا میں ان کے مکان سے گرفتار کیا گیا۔ اس سے قبل پولیس نے ان کے گھر سے چار موبائل فون ضبط کیے تھے۔ ان کے فون کی فورینسک جانچ پر پولیس کو یہ پتہ چلا کہ وہ اپنے فون پر فحش ویڈیوز دیکھتے تھے اور دوسروں کے لیے ان کے لنکس محفوظ کرتے تھے۔

پولیس کے مطابق مولانا رفیق الاسلام عرف شیشو بکتا (طفل مبلغ) نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا ہے اور اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا اعتراف کر لیا ہے۔

رفیق الاسلام مدنی کی عمر صرف 28 سال ہے اور ان کا قد چھوٹا ہے۔ چنانچہ انہیں ان کے پیروکار طفل مبلغ بلاتے ہے۔

مولانا مدنی ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ڈھاکہ دورہ کے دوران حفاطت کے زیر اہتمام احتجاج میں بھی شامل تھے۔

طفل مبلغ مولانا رفیق الاسلام مدنی مسلم مبلغین کے اس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنے شعلہ بار خطاب اور تقریر کی مہارت کی وجہ عوام اور نیم خواندہ مسلمانوں میں مشہور ہیں اور اپنی تقریروں میں حکومت، مخالف فرقے (مسلک) اور مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہیں اگر مبلغ کا تعلق مسلم اکثریتی ملک سے ہو۔

مبلغین کا یہ طبقہ اپنے علم یا دانشورانہ بصیرت کے لیے نہیں جانا جاتا بلکہ وہ ہجوم کو متحرک کرنے اور عام مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی اپنی مہارت پر زندہ رہتے ہیں۔ مسلمانوں کی مظلومیت، ناموس رسالت کا تحفظ اور اسلامی ممالک کی "اسلام مخالف" پالیسیاں ان کی بقا کے لئے خوراک ہیں۔ اور لاؤڈ اسپیکر ان کی زندگی کا سہارا۔ لاؤڈ اسپیکر کے بغیر وہ مردہ ہیں۔ جلسہ ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ جہاں وہ اسلامی اقدار اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کم بولتے ہیں اور مخالف مسلک کے غلط مراسم، اسلام مخالف قوانین اور منتخب مسلم حکومتوں کی پالیسیوں پر زیادہ بولتے ہیں اور زیادہ تر مسلح انقلاب کے ذریعے منتخب حکومت کو اکھاڑ پھینکنے پر زور دیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک حکومت کفر پر مبنی ہے اور کافروں کی ایسی حکومت کے تحت رہنا مسلمانوں کے لیے لعنت ہے۔

مولانا رفیق الاسلام کی عمر صرف 28 سال ہے اور وہ دوسروں سے زیادہ اسلام کو جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہمارے پاس مولانا وحید الدین خان جیسے اسلام کے عظیم ماہرین ہیں جنہوں نے ایک اسلامی سکالر اور مصنف کے طور پر اپنا سفر شروع کرنے سے پہلے 25 سال سے زائد عرصہ تک اسلام کا مطالعہ کیا۔ وہ مبلغ یا خطیب کے طور پر نہیں جانے جاتے تھے۔ بلکہ انہوں نے خاموشی کے ساتھ کام کیا اور اپنی تحریروں کے ذریعے اعتدال، امن، رواداری اور ہمدردی کا پیغام دیا۔ انہوں نے ایسے لوگوں میں دعوت کے کام پر زور دیا جن تک اسلام کا پیغام اور فلسفہ اب تک نہیں پہنچا ہے۔

ان کے علاوہ ہمارے پاس مولانا ابوالکلام آزاد، سید سلیمان ندوی، مولانا ابوالحسن علی ندوی جیسے بہت سے اسلامی علماء تھے جنہوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے اسلام کا حقیقی پیغام عام کیا۔ انہوں نے اپنے ذاتی مفادات اور سیاسی عزائم کی وجہ سے معاشرے میں تشدد یا فساد کبھی پیدا نہیں کیا۔ اس وقت ہمارے درمیان مولانا ارشد مدنی، ڈاکٹر طاہر القادری اور دیگر اسلامی علماء موجود ہیں جو اسلام کے گہرے علم کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک قرآن، حدیث اور فقہ کا مطالعہ کیا ہے اور اپنے علم کو صرف مسلمانوں کی سماجی، مذہبی اور روحانی ترقی کے لیے استعمال کیا ہے نہ کہ تنگ نظر سیاسی اور فرقہ وارانہ مقاصد کو فروغ دینے کے لیے۔

رفیق الاسلام مدنی جیسے انتہا پسند اور نیم خواندہ مبلغ آج ہر مسلم سوسائیٹی میں پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے اسلام کو ہائی جیک کیا ہے اور اسلام کا امیج خراب کیا ہے۔ وہ دہشت گردوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں۔ وہ فرقہ واریت کی بات کرتے ہیں، دہشت گردی کی ستائش کرتے ہیں، مسلمانوں کو ان کی اپنی منتخب حکومتوں کے خلاف ورغلاتے ہیں اور مسلم معاشرے میں بدامنی اور تشدد کا باعث بنتے ہیں اور اس طرح وہ مسلم معاشرے کے اندر امن اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

مسلم کمیونٹی کو ایسے اسلام مخالف مبلغین کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جن کے تقاریر اور ذاتی طرز عمل اسلام کی بلند قدروں اور اصولوں کے خلاف ہو۔

English Article: A Class of Preachers in Muslim World that Incites Violence and Promotes Sectarianism and Terrorism

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/preachers-muslim-world-violence-sectarianism-terrorism/d/126210

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..