New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 11:32 AM

Urdu Section ( 15 Feb 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Refuting Islamophobic Claim That Jihadists Represent Traditional and Mainstream Interpretations of Islam: Part 2 اسلاموفوبیا اور جہادزم کا رد ، کبھی مسلم سرزمین رہے علاقہ پر اقتدار قائم کرنا لازم یا نہیں؟ دوسری قسط

نیوایج  اسلام خصوصی نامہ نگار

19 دسمبر 2020

(انگریزی سے ترجمہ ، نیو ایج اسلام مترجم )  

بیسویں صدی میں تین غاصب انقلابی تحریکوں،  نازی ازم، کمیونزم اور فاشزم  سے دوچار ہونے کے بعد  دنیا کو اسی طرح کی اب چوتھی تحریک کا خطرہ لاحق ہے جو  جہادی ازم، سلفی عسکریت پسندی، اسلامو فاشسزم کے نام سے موسوم  ہے۔ جہاد ی ازم کے  رد میں متعدد پروجیکٹس  مصروف عمل ہیں ، جن میں سے بیشتر  نے جہادی ازم کے  بطلان میں نئے اصول  و ضوابط وضع کیے ہیں  جبکہ ماڈرن جہادی بیانیہ کے رد میں  کلاسیکل اور روایتی  اصول و قواعد کو بروئے کار لانا  ان پروجیکٹس کے لیے زیادہ مفید و موثر ہونے کا باعث بنے گا کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت کا اعتماد ویقین  اسلام کی رویاتی  اصول و  قواعد کے زیر اثر اسلامی احکام کی تشریحات ونظریات  پر منحصر  ہوتی ہے ۔

موجودہ دور میں ہمیں نہ صرف جہادی ازم بلکہ اسلاموفوبس کے چیلنجوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے  جیسا کہ ہم نے پچھلی قسط  میں یہ اشارہ دیا تھا کہ  مؤخر الذکر یعنی اسلاموفوبس  کا دعوی ہے کہ جہادیاتی نظریات  روایتی اسلام کے نظریات  پر مبنی ہے۔ ان کا یہ دعوی  بغیر دلیل ہے لہذا ایسا دعوی کرنا درست نہیں بلکہ ایک جھوٹ ہے ۔اس  تعلق سے ہم نے چند مسائل کا انتخاب کیا تاکہ جہادی ازم اور روایتی اسلامی نظریات کے درمیان فرق صریح کو واضح کیا جا سکے ۔پہلی قسط میں  مسئلہ حاکمیت پر گفتگو ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہوا کہ جہادسٹوں نے  مسئلہ حاکمیت پر افراط و تفریط  اور غلو سے کام لیا اور ہر اس مسلم  فرد کی مطلقا  تکفیر کر دی جو موجودہ دور میں اپنے اپنے  ملکی قوانین کے تحت زندگی گزار رہے ہیں اور  اسلامی احکام و قوانین کے نفاذ کی استطاعت بصورت  مختلف حالات و قرائن نہیں رکھتے ۔اس قسط میں ہم ‘‘مسلم سرزمین’’ کو آزاد یا دوبارہ حاصل کرنے کے مسئلہ پر روایتی اور جہادیتی نظریہ کا تقابلی جائزہ پیش کریں گے جس سے ان کے مابین ایک مزید فرق واضح ہوگا اور اس بات کا دوسرا ثبوت ملے گا کہ اسلاموفوبس کا عام دعوی ‘‘جہادی  ازم روایتی اسلامی نظریات پر مبنی ہے ’’ غلط اور بلا دلیل ہے ۔      

تمام جہادسٹوں کا ایک  مشترکہ مقصد یہ ہے کہ جس سرزمین پر کبھی اسلامی حکومت رہی ہو اسے آزاد کرانا یا اسے دوبارہ حاصل کرنا  مسلمانوں پر فرض ہے ، خواہ وہ سرزمین  کبھی مسلمانوں نے فتح کے ذریعے  حاصل کیا ہو یا   اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے ذریعے سے حاصل ہوا ۔مثال کے طور پر پاکستان کے حافظ سعید کی سربراہی میں جنوبی ایشین گروپ ‘‘لشکر طیبہ ’’ (ایل ای ٹی  جو جماعت الدعوہ کے نام سے بھی معروف ہے) نے ایک پمفلیٹ کی نشر و اشاعت کی تھی جس کا عنوان تھا  ‘‘ہم کیوں جہاد کر رہے ہیں؟’’۔اس نے اس میں ‘‘جہاد’’ کرنے کے آٹھ اسباب گنائے جن میں ایک سبب  ہندوستان کے تمام خطوں میں اسلامی حکومت  کی بحالی  ہے ۔

پمفلیٹ میں لکھا گیا ہے  کہ : ‘‘اگر کفار مسلمانوں کی کسی جگہ پر قبضہ کرلیں تو انہیں وہاں سے نکالنا اور مسلمانوں کا قبضہ دوبارہ بحال کرنا فرض ہے ۔ (الف) اندلس (سپین )میں آٹھ سوسال مسلمانوں کی حکومت کے بعد ان کا آخری آدمی بھی وہاں سے ختم کردیا گیا اورعیسائی مکمل قابض ہوگئے ۔اسے واپس لینا ہماری ذمہ داری ہے ۔(ب) پورا ہندوستان بشمول کشمیر ‘حید ر آباد آسام نیپال ‘ برما ‘ بہار ‘ جونا گڑھ ‘ مسلمانوں کی سلطنت تھا ۔ترک جہا د کی وجہ سے غیروں کے قبضے میں چلا گیا ۔ (ج) فلسطین پریہودی قابض ہیں مسلمانوں کا قبلہ اول بیت المقدس یہودیوں کے قبضے میں ہے ان کے علاوہ بیسوں ملک مثلا بلغاریہ ‘ ہنگری قبرص ‘ سسلی حبشہ روسی ترکستان اورچینی ترکستان ‘ کاشعر کی حد تک پھیلے ہوئے ممالک مسلمانوں کے قبضے میں تھے انہیں کفار کے قبضے سے چھڑانا ہم پر فرض ہے۔ پیرس سے90 کلومیڑ دور تک کا فرانسیسی علاقہ اور سو لٹر ز لینڈ کے جنگلات وپہاڑ بھی مسلمان مجاہدوں کے مسکن تھے آ ج وہا ں کفار کاقبضہ ہے ۔’’

آٹھ اسباب بیان کرنے کے بعد لشکر طیبہ کا یہ پمفلیٹ لکھتا ہے کہ  ‘‘امید ہے اس تفصیل کے بعد اس بات میں کوئی شبہ باقی نہیں رہے گا کہ اس وقت وہ تما م اسباب موجود ہیں جن کی بنا پرجہاد فرض ہوتا ہے’’۔  (لشکر طیبہ کا پمفلٹ ‘‘ہم جہاد کیوں کر رہے ہیں؟’’،  حافظ عبد السلام بن محمد بھٹوی)

حماس کے رہنما خالد مشعل نے الجزیرہ ٹیلیویژن کے ایک انٹرویو میں ڈنمارک کارٹون معاملہ پر یورپی باشندوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ، “کل ہماری قوم دنیا کے تخت پر بیٹھے گی۔ یہ تخیل کا مظہر نہیں ، بلکہ ایک حقیقت ہے۔ کل ہم دنیا کی رہنمائی کریں گے ، ان شاء اللہ۔’’

حماس چارٹر  کے   آرٹیکل گیارہ میں  لکھا ہے : "فلسطین ایک اسلامی وقف ہے جو  یوم قیامت تک آئندہ مسلم نسلوں کے لئے  مقدس ہے۔فلسطین یا  اس کے کسی بھی حصے کو  گنوایا نہیں  جا سکتا  ، اسے یا اس کے کسی بھی حصے کو چھوڑا  نہیں جا سکتا ۔ نہ ہی کسی  عرب ملک ، نہ ہی تمام عرب ممالک ، نہ ہی کسی  بادشاہ ، صدر ، نہ ہی تمام بادشاہوں اور سرداروں  ، نہ ہی کسی  تنظیم اور نہ ہی ان میں سے کسی کو  ، خواہ وہ  فلسطینی ہوں یا عرب ،  کسی بھی ایسا کرنے کا حق نہیں ہے ۔ فلسطین ایک اسلامی وقف ہے جو یوم قیامت تک آئندہ مسلم نسلوں کے لئے مقدس ہے۔ اس صورت میں قیامت  تک مسلم نسلوں کی نمائندگی کرنے کا دعوی  کون  کرسکتا ہے؟ یہی  وہ قانون ہے جو اسلامی شریعت میں فلسطین کی سرزمین پر حکمرانی کرتا ہے اور یہی معاملہ ہر اس سرزمین کے متعلق ہے  جسے مسلمانوں نے اپنی طاقت کے بل پر فتح کیا ہے ، کیونکہ فتوحات کے زمانے میں مسلمانوں نےقیامت تک کے لیے  ان زمینوں کو مسلم نسلوں کے لیے مقدس بناد یا ۔

حماس چارٹر میں مزید کہا گیا ہے کہ "فلسطین کے تعلق سے  جو حکم اسلامی شریعت  میں ہے اس کی مخالفت میں کوئی بھی عمل فاسد و  باطل ہے۔" (حماس چارٹر ، آرٹیکل گیارہ ، منقول از  ‘‘اسرائیلی فلسطینی تنازعہ پر روٹلیج ہینڈ بک ،  صفحہ  ۴۰۲)

حماس اور القائدہ کے مشترکہ نظریہ کو  جاننا ہو تو  عالمی جہادی ازم کے بانی  اور  اسامہ بن لادن کے سابق سرپرست عبد اللہ یوسف عظام کی ابتدائی دور کی جہادیتی تحریر کا مطالعہ کیجیے ۔حسب ذیل ایک اقتباس ان کی تحریر سے ملاحظہ فرمائیں:  

‘‘معاہدے میں کسی ایسی شرط  کو شامل کرنے کی اجازت نہیں ہے جس میں  کفار کو ایک بالشت زمین بھی دینے کی بات کی گئی ہو ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کی سرزمین کسی کی سرزمین ہے لہذا کوئی بھی اس مذاکرہ نہیں ہو سکتا ’’

مسلم سرزمین کے متعلق  مذکورہ بالا سارے جہادیاتی  بیانات سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جہادیوں کے مطابق کسی بھی زمانے میں اگر  کوئی سرزمین مسلمانوں کے ذریعے فتح ہوئی ہو اور بعد میں اس پر کسی اور کا قبضہ ہو گیا تو اب مسلمانوں پر یہ فرض ہے کہ وہ اس سرزمین کو دوبارہ حاصل کرے یعنی دوبارہ فتح کرے  اور جہاں تک معاہدہ امن کی بات ہے تو  ایسا کوئی معاہدہ جس میں مسلمانوں سے فتح شدہ مسلم سرزمین کو قربان کرنے کی شرط  لگائی گئی ہو اگرچہ وہ ایک بالشت زمین ہی کیوں نہ ہو ، اس کی قیمت پر  لگایا جانے والا یہ معاہدہ پوری طرح سے فاسد اور باطل ہے ۔   

اس جہادیاتی نظریے کے برخلاف، روایتی اور کلاسیکی اسلامی فقہا و علما طویل عرصے سے تصور معاہدہ کو  غیروں کی حاکمیت اور ان کے ساتھ اپنی سیاست و خود مختاری  کے جواز  کی ایک جائز شکل کی حیثیت سے قبول کیا ہے۔

 اسلام کے روایتی ورژن کے مطابق غیر مسلموں کے ساتھ معاہدہ کرنا جائز ہے اور اس کا جواز مقدس قانون سازی کے تحت بھی ملتا ہے جو کہ حسب ذیل ہے:

‘‘بھلا مشرکوں کے لیے (جنہوں نے معاہدہ توڑ ڈالا) خدا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک عہد کیونکر (قائم) رہ سکتا ہے؟ ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ ) کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ (اپنے عہد پر ) قائم رہیں تو تم بھی اپنے قول و قرار پر قائم رہو ۔بے شک اللہ پرہیزگاروں کو پسند فرماتا ہے’’ (قرآن ، ۹: ۷)  

اس آیت میں کی روشنی میں امن و سلامتی ،  صلح و شانتی اور انسانی بھلائی کی خاطر  ہر اس غیر مسلم سے معاہدہ قائم کرنے کی اجازت  ملتی ہے جو اپنے معاہدے کے الفاظ پر صادق و امین ہو۔  اس قرآنی حکم کی تائید سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوتی ہے ، جیساکہ  معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد معاہدات کیں ، مثلا اوس و خزرج (مدینے کے دو قبائل کے نام) کے درمیان ہونے والا معاہدہ جس  کی مدینہ کے یہود پاسداری کرتے تھے اور جس نے میثاق مدینہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور حدیبیہ کا معاہدہ جس نے مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان ایک عارضی  امن و سلامتی کو قائم کیا۔    

قرآن اور حدیث کی بنیاد پر کلاسیکی مسلم فقہا اور علما  اس بات پر متفق ہیں کہ دشمن کے ساتھ امن معاہدہ، اگر اس سے مسلمانوں کا فائدہ ہو تو ایسا معاہدہ جائز ہے اور  مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ  اس معاہدہ کی دفعات کی پابندی کریں۔  اس بات میں فقہاء کا اتفاق و اجماع ہے اور خلفائے راشدین کی عملی زندگی میں بھی اس کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ معاہدہ سازی اسلامی احکام کا حصہ ہے جس کو  کسی ایک خاص شرط کے تحت ممنوع نہیں قرار دیا جا سکتا۔ 

جب معاہدہ ہو جائے تو ا س صورت میں کلاسیکی فقہا کا موقف یہ ہے کہ اس معاہدہ کے شرائط و ضوابط  لازمی طور  پر پورے کیے جائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے  وعدہ اور معاہدہ طے کر لینے کے بعد اسے توڑنے سے منع فرمایا ہے۔ کلاسیکی فقہا اور علما کے مطابق، مسلم حکمرانوں پر یہ لازم ہے کہ وہ اس  معاہدہ میں طے شدہ اصول و شرائط کی پاسداری کریں  جس کو انہوں نے مسلمانوں کی طرف سے قائم کیا ہے، اور ایسا اس وقت تک ہو جب تک کہ انہیں دشمن کی جانب سے اچانک حملے کا اندیشہ نہ ہو  یا یہ کہ اگر دشمن نے معاہدے کی خلاف ورزی یا سرکشی کی ہو۔

جہاں تک معاہدہ کی مدت کی بات ہے تو اس سلسلے میں مسلم فقہا  نے صلح حدیبیہ سے استدلال کیا ہے اور پھر ان کے آراء معاہدوں کی مدت کی تعیین کے سلسلے میں مختلف ہوئیں۔اسلام کی جمہور روایات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب دار الاسلام اور دار الحرب کے درمیان جنگ کی حالت عام بات تھی  تو صرف معاہدے  کے ذریعے سے ہی امن و صلح کا قیام ہوتا تھا ۔متقدمین فقہا کے موقف یہ تھا کہ معاہدہ کی مدت زیادہ سے زیادہ دس سال ہے  مگر مسلم ریاستوں کا عملا  دس سالہ  مدت کے موافق نہیں رہا ۔متاخرین فقہا کا یہ موقف ہے کہ چونکہ قرآن و سنت نے معاہدہ کے سلسلے میں  کوئی خاص مدت کی تعیین نہیں کی اور بلا شبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کے ساتھ بلا تعیین متعدد معاہدے کیے ۔ انہوں نے نہ صرف مدت کی تعیین کا انکار کیا بلکہ معاہدہ کی دائمی مدت کو بھی فروغ دیا بشرطیکہ دشمن اپنے معاہدے کے وفا دار رہیں۔

امام نووی شافعی علیہ الرحمہ رقمطراز ہیں:

‘‘اس (صلح حدیبیہ) سے  غیر مسلموں کے ساتھ معاہدہ قائم کرنے کا جواز ملتا ہے اگر ایسا کرنے میں مصلحت ہو ۔جب ضرورت ہو تو معاہدہ قائم کرنے پر اجماع ہے ۔ہمارے نزدیک اس کی مدت دس سال سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے مگر ایک مستند موقف یہ ہے کہ بلا تعیین مدت معاہدہ کرنا جائز ہے ۔امام مالک کا موقف ہے کہ معاہدہ کی مدت متعین نہیں ہے ، یہ حاکم کی رائے پر منحصر ہے کہ چاہے تو  مختصر مدت کے لیے یا   طویل مدت کے لیے معاہدہ قائم کرے۔ ’’ (المنہاج شرح مسلم ، امام نووی)

امام قرطبی مالکی آیت کریمہ (اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاو ) کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

‘‘امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ مشرکین کے ساتھ صلح کرنا جائز ہے ، ایک سال کے لیے ، دو سال کے لیے ، تین سال کے لیے ، اور غیر معینہ مدت کے لیے۔۔۔۔۔‘‘اور یہ مشرکین سے بغیر کسی ایسے مال کے جو ان سے لیا جائے گا صلح اور امن قائم کرنے کے جواز پر دلیل ہے ، جب کہ امام وقت اس میں مصلحت اور بہتری دیکھے  اور مسلمانوں کی حاجت کے وقت ایسے مال کے عوض صلح کرنا بھی جائز ہے جسے وہ دشمن کے لیے خرچ کریں گے  کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب کے وقت عینیہ بن حصن فزاری اور حارث بن عوف المری کو اس شرط پر قریش سے علیحدہ ہو جانے کو کہا تھا کہ آپ ان دونوں کو مدینہ طیبہ کی کھجوروں کا تیسرا حصہ عطا کریں گے ’’ (تفسیر قرطبی تحت آیت ۸ : ۶۱)   

جہاں تک  دنیا کے کسی حصے میں ماضی میں فتح کیے گیے  مسلم سرزمین کا تعلق ہے  جہاں ابھی مسلمان  اقلیت میں رہ رہے ہیں تو مسلم فقہا کا یہ اصول ہے کہ اگر مسلمانوں کو دینی و مذہبی حقوق مل جائے مثلا عبادات ، نماز، روزہ ، اذان وغیرہ تو انہیں چاہیے کہ وہ امن وشانتی کے ساتھ اس سرزمین پر قائم رہیں اور معاہدہ میں طے شدہ امور کی پاسداری کریں ۔

حنفی ، شافعی ، مالکی اور حنبلی مذاہب کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی احکام مثلا فرائض و واجبات  کی تکمیل، نماز، روزہ ، اذان وغیرہ کی اجازت جس سرزمین پر ہو  وہ دار الاسلام ہے اگرچہ اس میں غیر مسلموں کی اکثریت ہو ۔ مثال کے طور پر ، شافعی موقف  جو کہ سنت سے ثابت ہے یہ ہے کہ جہاد یا قتال ایک ایسے خطے میں نہیں کی جا سکتی جہاں اذان سنی جاتی ہو کیونکہ اسلام پر عمل کرنے کی عام اجازت سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ سرزمین مسلمانوں کے  تئیں دشمن نہیں ہے ۔امام بخاری اور امام مسلم اس سلسلے میں ایک حدیث  ذکر کرتے ہیں:

‘‘حضرت انس کہتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ ہمارے ساتھ کسی (دشمن) قوم سے جہاد کرتے تو صبح ہونے سے پہلے ہمارے ساتھ ان پر حملہ آور نہیں ہوتے، پھر صبح ہوجاتی تو ان پر نظر ڈالتے اگر اذان کی آواز سنتے تو ان سے (جنگ کرنے سے) باز رہتے اور اگر اذان کی آواز نہیں سنتے تو ان پر حملہ کردیتے۔’’ (بخاری ، مسلم ، مشکوۃ المصابیح)

امام نووی شافعی اس حدیث کی شرح میں رقمطراز ہیں: ‘‘اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بلا شبہ اذان اس علاقے پر حملے کی ممانعت کا سبب ہے’’۔ کیونکہ اس سے  انہیں معلوم ہو جاتا کہ یہ علاقہ مذہبی آزادی دینے والا ہے یا یہ کہ اس میں مسلمان زندگی گزار تے ہیں اور اپنے مذہبی حقوق کے ساتھ رہتے ہیں ۔اگر کسی سرزمین پر کسی مسلمان کو اپنی  آزادی کے ساتھ رہنے سہنے کی قدرت ہو ، خواہ وہ علاقہ غیر مسلم اکثریت کا ہی کیوں نہ ہو ، خواہ وہاں غیر مسلموں کی ہی حکومت کیوں نہ ہو  وہ اس میں رہ سکتا ہے۔ساتھ اس پر لازم ہے کہ وہ اس سرزمین کے قوانین کی پاسداری کرے اور اس ملک کے سرحد کی حفاظت بھی کرے ۔

اگر ہم ان ممالک کے قوانین پر غور و فکر کریں جنہیں جہادیتی بیانے میں ذکر کیا گیا ہے ، جیسا کہ ہندوستان وغیرہ ، تو ہم اس بات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں ان ممالک میں مذہبی حقوق و آزادی کی مکمل  رعایت ہے ۔ اس بے بڑھ کر مسلمانوں نے اس سرزمین پر امن و شانتی کے ساتھ رہنے کا وعدہ کیا ہے  کہ وہ آئینی حقوق کے مطابق زندگی گزاریں گے ۔ان صورتوں کے ہوتے ہوئے اب یہ  مسئلہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ ماضی میں مسلمانوں کے ذریعے  فتح کیے گیے کسی علاقے کو جہاں اب غیر مسلم حکومت ہے یا غیر مسلم اکثریت ہے اسے دوبارہ آزاد کرنا یا دوبارہ حاصل کرنا فرض نہیں کیونکہ ایسے خطے میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی کی اجازت ہے ، ان کے جان و مال ، عزت و آبرو کے تحفظ کی ضمانت آئین میں مندرج ہے ۔ اگر کسی مسلمان پر کوئی غیر مسلم انفرادی طور پر یا چند مٹھی بھر لوگوں کے ذریعے حملہ ہوتا ہے تو اس مسلمان کے پاس حق ہے کہ وہ عدالت کی طرف رجوع کریں  یا صبر و تحمل کا اظہار کریں۔

مذکورہ بالا تمام بحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہادیاتی نظریات اور اسلام کی روایاتی نظریات میں بڑا فرق ہے ، لہذا کسی اسلاموفوبس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ جھوٹا دعوی  کرے کہ اسلام کی روایاتی تشریحات و نظریات  جہادسٹوں کی بنیاد ہے ، کیونکہ ایسے جھوٹے دعوے سے معاشرہ  کے امن کو خطرہ ہوتا ہے ، نفرتوں میں اضافہ ہوتا ہے ، لہذا ہر ایک شہری کو چاہیے کو وہ اسلاموفوبز  کے ذریعے پھیلائے گیے ایجنڈے سے ہوشیار رہیں اور لوگوں کو بھی ہوشیار کریں ۔

URL for English article:  https://www.newageislam.com/muslims-islamophobia/refuting-islamophobic-claim-that-jihadists-part-2/d/123815

Part 1- https://www.newageislam.com/urdu-section/refuting-islamophobic-claims-that-jihadists-part-1/d/124210

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/refuting-islamophobic-claim-that-jihadists-part-2/d/124312


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..