New Age Islam
Sat Apr 10 2021, 06:30 PM

Urdu Section ( 3 Feb 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Pakistan’s Farcical Kashmir Solidarity Day: Will We Ever See Something Like A Uighur Solidarity Day? پانچ فروری: پاکستان میں 'یوم یکجہتی کشمیر' کا مقصد


 خصوصی نامہ نگار، نیو ایج اسلام

1 فروری 2021

آخر ' یومِ یکجہتی کشمیر' پاکستانی عوام کے کس کام کا ہے؟

5 فروری ایک ایسا موقع ہے جسے ایک ایسے دن کے طور پر دیکھا جانا چاہیئے جب وادئ کشمیر میں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی اور پاکستان کے زیر سایہ ہونے والی غارت گری شروع ہوئی۔ لیکن حیرت ہے کہ پاکستان میں ہر سال اس کو یکسر طور پر متضاد انداز میں " یوم یکجہتی کشمیر" کے طور پر منایا جاتا ہے، حالانکہ عالمی سطح پر جنوبی ایشیاء کی بعض انتہا پسند جماعتوں کے علاوہ اس بے تکے بیانیہ کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

جہاں تک امت مسلمہ کی بات ہے تو، مسئلہ کشمیر  کے بارے میں عرب اور غیر عرب مسلم بلاکس پاکستانی تخریبی ایجنڈے پر متحد یا متفق نہیں ہیں۔ بے شرمی کی حد یہ ہے کہ اب پاکستان الزام تراشی کا کھیل کھیل رہا ہے، اور اپنی سفارتی ناکامی کو او آئی سی (تنظیم تعاون اسلامی) کے سر منڈھ رہا ہے، کیونکہ بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر  کے حل کے حوالے سے ہندوستان سے زیادہ پاکستان کو تنقید کا نشانہ بننا پڑ رہا ہے۔

خلیجی ممالک کی طرف سے کشمیر سے متعلق اپنی بیان بازی پر کوئی واضح حمایت حاصل نہ ہونے کے بعد، پاک سیاستدانوں نے یہ احساس کیا کہ او آئی سی میں سعودی عرب اور متحدہ امارات کے اثر و نفوذ کی وجہ سے ان کا بھلا نہیں ہوا، بایں طور کہ کشمیر مسئلے پر کوئی خصوصی اجلاس نہیں بلایا گیا۔ معروف پاکستانی سیاستداں اور مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ آصف نے اس سلسلے میں یہاں تک کہہ دیا کہ کشمیر کی بات آتے ہی 57 مسلم ممالک کا مجموعی بلاک ایک " بے روح جسم " بن جاتا ہے۔

پاکستان میں حزب اختلاف پارٹی کے ایک رہنما یہ اعتراف کرتے ہوئے نظر آۓ کہ یہ محض سیاسی ناکامی کو چھپانے کی ایک چال ہے، جو آرٹیکل 37 خاتمہ کے بعد اپنے موقف کو حاصل کرنے میں پاکستان کی سفارتی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے جس کو بین الاقوامی سطح پر صرف تین ممالک چین، ترکی اور ملائشیا کی حمایت حاصل ہے۔ اقوام متحدہ میں باقی دنیا کو بھارت کے کشمیر اقدام سے کوئ پریشانی نہیں ہے۔

او آئی سی سمیت بین الاقوامی سطح پر پاکستان دست کوچک اور نقشِ فریادی بن کر رہ گیا ہے، لیکن پھر بھی معمول کے مطابق اپنے داخلی انتہا پسند گروہوں اور بنیاد پرست تنظیموں کی سربراہی کرتے ہوئے پاکستان اس موقع پر غیر متزلزل طور پر " یوم یکجہتی کشمیر" مناتا ہوا نظر آتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مرتبہ، مرحوم مولانا خادم حسین رضوی کے قائم کردہ پُرتشدد پولیٹیکل آرگنائزیشن اور دنیا بھر میں مسلمانوں کی بدنامی کا باعث بننے والی مذہبی سیاسی جماعت "تحریکِ لبیک" اور اس جیسی تنظیموں نے، جس میں "تحریکِ صراط مصطفیٰ" بھی شامل ہے، 5 فروری کو "یوم یکجہتی کشمیر " کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے 24 جنوری کو ایک ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا اور اس موقع پر ورکشاپس، آن لائن سیمینارز، بچوں کے مقابلہ جاتی پروگرامات، احتجاجات اور بڑے جلسے منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا-

5 فروری کو " یوم یکجہتی کشمیر" کے طور پر منانے سے زیادہ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں سنی اور شیعہ علما کے مابین اس اجلاس میں سب کا اتفاق بھی ہے ۔ "تحریک لبیک یا رسول اللہ" کی سیاسی ونگ "تحریک لبیک اسلام" کے چیئرمین ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کچھ شیعہ علماء اور لاہور وکراچی میں مختلف مقامات سے دیگر سنی عمائدین جیسے مفتی مجددی اور ڈاکٹر آصف بلالی کی موجودگی میں ڈاکٹر جلالی نے اس دھاڑ کے ساتھ اس اجتماع میں سنی اور شیعہ دونوں ہی گروہوں کے علماء کو متحرک کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ کہا ہے کہ "ہندوستان گریٹر اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مہابھارت کے ایجنڈے پر آگے بڑھ رہا ہے، اب صرف تلوار ہی کشمیر مسئلہ کا حل ہے"۔

اس طرح کی فلک شگاف دھاڑیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ مقامی انتہا پسند مولویوں کے بھیس میں، پاکستانی اقتدار اپنی مایوسی اور غصے کو قابو نہیں کر پا رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ 1990 کے بعد سے، پاک مشینری 5 فروری کو "یومِ یکجہتی کشمیر" کے طور پر منارہی ہے۔ اس کے بعد سے متعدد اجتماعات، احتجاجات، کانفرنسیں اور یہاں تک کہ سخت الفاظ میں قرار دادیں بین الاقوامی میڈیا اور پلیٹ فارم سے نشر کی گئیں۔ لیکن بین الاقوامی سطح پر نہ تو ان کا کوئی وزن ہے اور نہ ہی ان کا مقامی طور پر کوئی زمینی اثر ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان میں ایک عام آدمی بھی اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ ایوب خان کے 1965 کے بیان سے کیا ظاہر ہوا تھا۔ سرحد کے اس پار، کشمیری باشندے بھی اب بیدار ہو چکے ہیں۔ وہ خوب سمجھتے ہیں کہ پاکستان کبھی بھی پانچ ملین کشمیریوں کے لئے ایک سو ملین پاکستانیوں کا خطرہ مول نہیں لے گا۔

پھر آخر " یومِ یکجہتی کشمیر" پاکستانی عوام کے کس کام آۓ گا؟ ایک عام پاکستانی شہری کے لیے 5 فروری کو اس طور پر منایا جانا چاہئے کہ یہ ہفتے کے وسط میں ایک یوم تعطیل ہے! ایک ایسا دن جو "آزادی کشمیر" کے دھماکہ خیز ٹیلیفونی پیغامات سے بھرپور  ہے، اور جو رات گئے سونے سے لے کر، دوپہر کھانے کے وقت جاگنے کے بعد تک اور پھر "یوم کشمیر " کے لئے شاپنگ اور نئی نئی خریداری  تک فرصت اور تعیش کا سامان فراہم کرتا رہا ہے!!!

تو کیا ہوا جو آپ کو کشمیر "آزاد" نہیں ملا ؟ آپ کے پاس کم سے کم ایک ‘کشمیری احساس’ سے لبریز ایک چھٹی کا دن تو ہے جس کے صدقے گویا آپ کشمیر کی جنت میں ’آزادانہ طور پر‘ گھوم رہے ہیں!

URL for English article: https://www.newageislam.com/islam-and-politics/new-age-islam-correspondent/pakistans-farcical-kashmir-solidarity-day-will-we-ever-see-something-like-a-uighur-solidarity-day/d/124206

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/new-age-islam-special-correspondent/pakistans-farcical-kashmir-solidarity-day-will-we-ever-see-something-like-a-uighur-solidarity-day-پانچ-فروری-پاکستان-میں-یوم-یکجہتی-کشمیر-کا-مقصد/d/124219


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..