New Age Islam
Sat May 28 2022, 08:58 PM

Urdu Section ( 8 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

To Support Or Not To Support The Islamic State Of Iraq عراق اور شام کی اسلامی ریاست اور ابوبکر البغدادی کی اسلامی خلافت کی حمایت کی جائے یا نہ کی جائے: ہندوستانی اردو میڈیا شش و پنج کی حالت میں

 

نیو ایج اسلام ایڈٹ دیسک

8 جولائی 2014

عام  طور پر اردو پریس عراق اور شام کی اسلامی ریاست کا ہمدرد رہا ہے۔ اس کا مشاہدہ حذف و قطع اور لغزشوں کے اس کے عمل میں کیا جا سکتا ہے۔ اردو پریس نے مکمل طور پر اس خبر کو نظر انداز کر دیا کہ ISIS نے  موصل کے باشندوں سے اس بات کا مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو جنگجوؤں کے  لیے جہاد النکاح میں پیش کریں۔ اردو پریس نے 3 جولائی کو عراق سے واپس ہونے والے دو کاریگر صفدر کنہی اور محمد عباس کو تقریبا نظر انداز ہی کر دیا جنہوں نے  نجف سے فرار ہونے کے پریشان کن  تجربے کو عوام کے سامنے رکھا تھا۔ محمد عباس نے ISIS عسکریت پسندوں کو "وحشی" کہا تھا اور اس نے یہ  بھی کہا تھا کہ اس سے قبل اس نے ایسا نہ تو کبھی دیکھا تھا اور نہ ہی کبھی سنا تھا۔ اس نے کہ ‘‘ان کے تشدد کی کوئی مثال نہیں ملتی اور ان کا ظلم و ستم ناقابل برداشت ہے۔" لیکن قید سے رہائی پانے والی کیرالہ ایک نرس نے جب ان کے تئیں  ISIS عسکریت پسندوں کے اچھے رویے کی تعریف کی تو  اردو میڈیا کے ایک طبقہ میں جوش و ولولہ پیدا ہو گیا اور انہوں نے اس خبر کو حقیقت سے کہیں زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شروع کر دیا۔

لیکن ساتھ ہی ساتھ اوردو میڈیا نے اگر چہ احتیاط کے ساتھ  ہی مگر یہ خبر بھی شائع کرنا شروع کر دیا ہے کہ یہ سنی عسکریت پسند شیعہ مزارات اور مساجد کو تباہ کر رہے ہیں۔ جیسا کہ آپ اردو کے ایک اخبار، اخبار مشرق کے فرنٹ پیج کے تراشیدہ میں ایک سنگل کالم کے نیوز آئٹم میں دیکھ سکتے ہیں جو کہ کیرالہ کی نرسوں کی بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی خبر کے ساتھ ہے جس میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ:ISIS  نے عراق میں مزارات اور امام بارگاہوں  کو تباہ کر دیا۔

لیکن ISIS عسکریت پسندوں کو اچھے رویے کی سند فراہم کرنے والی  کیرالہ کی نرس کی خبریں واضح طور پر اسی اخبار بھری پڑی تھیں۔ (اخبار کا تراشیدہ ملاحظہ کریں۔) اب ہم اس کا جائزہ تفصیل کے ساتھ لیتے ہیں۔ ایک اردو اخبار، اخبار مشرق نے ایک اسٹوری کو اپنی کور اسٹوری بنائی جس کی شہ سرخی یہ تھی 'اسلامی شدت پسند ہمارے حقوق کے محافظ ہیں' اور اس کے ذریعہ نرسوں کے بیان کے حوالے سےISIS کی مثبت اور انسانیت پسند تصویر کو اجاگر کیا گیا ہے۔

ISIS کی قید سے رہا ہونے کے بعد عراق سے واپس آنے والی کیرالہ کی ایک نرس نیشنل میڈیا میں شہ سرخیوں کی زینت نبی۔ اس نے مبینہ طور پر یہ کہا تھا کہ ISIS جنگجو اچھے لوگ تھے اور انہوں نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔ انہوں نے ان کے بارے میں کوئی بھی برے ریمارکس کسنے سے گزیز کیا اور انہیں کھانا اور آرام کرنے کے لیے بستر فراہم کیا۔ وہ صرف اپنے تحفظ کے بارے میں فکر مند تھے اور انہیں دہشت گرد نہیں کہا جا سکتا۔ یہ خبر ایک نمایاں شہ سرخی کے ساتھ شائع کی گئی۔

تاہم، تقریبا تمام اردو پریس نے 3 جولائی کو عراق سے واپس ہونے والے دو کاریگر صفدر کنہی اور محمد عباس کے بیانات کو تقریبا نظر انداز ہی کر دیا جنہوں نے  نجف سے فرار ہونے کے پریشان کن  تجربے کو میڈیا کے سامنے رکھا تھا۔ محمد عباس نے کہا تھا:

‘‘تقریبا ایک ماہ تک ہم نجف میں اپنے کمرے میں ہی محبوس تھے۔ عراق اور شام کی اسلامی ریاست کے عسکریت پسند وحشی ہیں۔ اس سے قبل میں نے ایسا نہ تو کبھی دیکھا تھا اور نہ ہی کبھی سنا تھا۔ ان کے تشدد کی کوئی مثال نہیں ملتی اور ان کا ظلم و ستم ناقابل برداشت ہے۔’’

عسکریت پسندوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کنہی نے کہا تھا کہ وہ اس طرح کے بے رحم نہیں تھے۔ "وہ وحشی ہیں، لیکن انہوں نے زیادہ تر شیعہ اور ان لوگوں کو نشانہ بنایا جو عراق زیارت کے لیے گئے تھے۔ ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ انہوں نے زائرین کو اس وقت موت کے گھاٹ اتارا جب وہ نماز یا زیارت میں مشغول تھے۔ مسافروں کو قیدی بنایا گیا اور بے رحمی کے ساتھ انہیں ہلاک کر دیا گیا اور سمارا میں صورت حال انتہائی بدتر ہے۔"

واضح ہے کہ ISIS کے معاملے میں اردو میڈیا تذبذب کا شکار ہے کہ ISIS کی حمایت کی جائے یا نہیں یا اسلامی ریاست کی حمایت کی جائے یا نہیں کہ جس کے پاس اب خلیفہ بھی ہے؟

اس موقع پر آپ کو چندن کی لکڑی کا اسمگلر اور دہشت گرد ورپن کی یاد تازہ ہو سکتی ہے جس نے ایک عظیم تمل اداکار راجکمار کو اغوا کر لیا تھا۔ اپنی رہائی کے بعد اداکار نے ورپن کے اچھے رویے کی تعریف کی تھی اور جس طرح اسمگلر ورپن نے قیدی کے 108 دنوں کے دوران پوری گرمجوشی کے ساتھ ان کی خاطر داری کی اداکار نے اس کی سراہنا کی تھی۔ لیکن چونکہ وہ ایک عظیم اداکار تھے اسی لیے میڈیا نے ایک ایسے دہشت گرد کی تعریف کرنے پر ان کی تنقید کرنے کی جرأت نہیں کی جس نے اپنی زندگی میں 139 پولیس اہلکاروں اور ہزاروں کی تعداد میں عام لوگوں کے قتل کے علاوہ  جنگل کی دنیا کو تباہ کر دیا تھا۔ ان کے ذریعہ ورپن کی تعریف نے  چندن کے اسمگلر اور ایک دہشت گرد کے طور پر اس کے جرائم کی شدت اور سختی کو کم نہیں کیا۔ اپنی قیدی کے بارے مسٹر راجکمار یہ کی ذاتی رائے تھی لیکن اس سے حکومت، ورپن کے معصوم مظلومین یا عام اخلاقی اقدار کے خیالات کو متاثر نہیں ہوئی۔

زندہ بچ جانے والی دیگر نرسوں نے بھی کہا کہ ان کے اغوا کاروں نے ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا، تاہم، وہ اپنے بیان میں اس قدر پر جوش نہیں تھیں اور انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ISIS عسکریت پسندوں کو دہشت گرد نہیں کہا جا سکتا۔ ISIS کے حق میں ایک نرس کے اس بیان نے کہ ISIS کو دہشت گرد نہیں قرار دیا جا سکتا ISIS کے حامی  اردو میڈیا کے ایک طبقے کو ISIS کی انسانییت پرست تصویر پیش کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ یقینی طور پر ایک عورت ہونے کے ناطے ایک ایسے خطے میں نرسوں کو  جنسی طور پر ہراساں نہ کئے جانے پر بڑی راحت محسوس ہوئی ہو گی جہاں خاص طور خواتین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن ان کے جذبات کو ان کا ذاتی جذبہ سمجھا جانا چاہیے نہ کہ ان کی باتوں کو عسکریت پسندوں کے اخلاقی راست بازی کی سند مان لی جائے۔ اگر چہ نرسوں کو چھیڑچھاڑ نہ کیے جانے کا عمل قابل تعریف ہےلیکن ان کا یہ عمل انہیں فرشتہ صفت نہیں بناتا۔ اس کے برعکس ہمارے پاس بے شمار شواہد ہیں۔ جہاں تک ان نرسوں کی بات ہے پہلے تو ہمیں یہ نہیں معلوم کہ انہیں کیوں اور کس مخصوص گروپ نے اغوا کیا تھا اور انہیں کیوں رہا کر دیا گیا۔

نرسوں نے جو کہا اس سے ان کی اس نفسیاتی حالت کی عکاسی ہوتی ہے کہ جب قیدی باہر سے کسی مدد کی امید کھو بیٹھتاہے اور مکمل طور پر اغوا کاروں کے رحم و کرم پر منحصر ہو جاتا ہے۔ اس مصیبت کی صورت حال میں اغوا کاروں کی معمولی امداد بھی قیدی کو ایک بہت بڑی امداد لگتی ہے اور قیدی کے دل میں اغوا کاروں کے تئیں تعریف اور تشکر کا احساس پیدا ہونے لگتا ہے۔ قیدیوں کے ذریعہ اغوا کاروں کی تعریف کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ اس ذہنی کیفیت کو سٹاک ہوم سنڈروم کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے راج کمار نے جو کہا یا جمعہ کے دن اس نرس نے جو بیان دیا اس سے صرف ان کی نفسیاتی کیفیت کی عکاسی ہوتی ہے جسے سٹاک ہوم سنڈروم کہا جاتا ہے۔ اس سے زمینی حقائق کا پتہ نہیں چلتا۔

اس بات کی کذب بیانی کہ ISIS جہادی مہربان محافظ ہیں اخبار مشرق کے اگلے ہی کالم میں شائع شدہ رپورٹ سے ثابت ہوتی ہے، اگرچہ وہ رپورٹ نمایاں طور پر شائع نہیں کی گئی تھی۔ اخبار مشرق میں ISIS کے زیر تسلط علاقوں میں صوفیہ کے مزارات اور شیعہ مساجد کو ڈھائے جانے سے متعلق ملحقہ خبروں نے ISIS کے متعلق مثبت اور روشن خیال تصویر کو جھٹلا دیا جو ایک نرس کے بیان کی مدد سے اردو میڈیا کا ایک بڑا طبقہ پیش کرنے کی کوشش کر رہاتھا۔

  رپورٹ اس طرح تھی: "شہر کو تخت و تاراج کیے جانے کے بعد گزشتہ ماہ موصل کے باشندوں نے سوشل میڈیا اور ویب سائٹ پر جو خبریں اور تصاویر پوسٹ کی ہیں اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جہادیوں نے موصل اور دیگر گرد و نوح کے علاقوں میں کئی قدیم مزارات کو تباہ کر دیا ہے۔ جہادیوں کے زیر تسلط نینوا کے شمالی صوبے میں سنی عربوں اور صوفیوں کے کم از کم چار مزارات ڈھا دیے گئے اور کم از کم چھ امام بارگاہو (شیعہ مساجد) کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ موصل نینوا صوبے کا دارالسلطنت ہے۔ ISIS کی ویب سائٹ پر جو تصاویر پوسٹ کی گئی ہیں ان میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اہل سنت اور صوفیوں کے مزرات کو مسمار کیا جا رہا ہے جبکہ شیعہ مساجد دھماکہ خیز آلات کی مدد سے اڑائے جا رہے ہیں۔ ان اشاعتوں کی شہ سرخی اس طرح لگائی گئی ہے ‘‘نینوا صوبے میں مزارات اور اور بتوں (شیعہ امام بارگاہوں) کی تباہی’’۔

"باشندوں نے اس بات کی تائید کی ہے کہ عمارتیں مسمار کر دی گئی ہیں ہے اور عسکریت پسندوں نے دو کلیساؤں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ موصل کے ایک عمردراز باشدے کا کہنا ہے کہ صوفی مزارات کو تباہ ہوتا ہوا دیکھ کر مجھے بڑی تکلیف ہوئی۔ وہ مزارات ان کے آباؤ اجداد کی وراثت کا حصہ تھے۔ وہ اس شہر کے آثار تھیں۔ کلیسائے اسقف کے ایک ملازم نے کہا کہ شدت پسندوں نے اس چرچ پر قبضہ کر لیا ہے اور شامی آرتھوڈاکس کلیساؤں کو چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے چرچ سے صلیب کو ہٹا کر اس جگہ سیاہ اسلامی پرچم نصب کر دیا ہے"۔

ان کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ  ISIS جنگجوؤں نے مزارات اور شیعہ مساجد کو ڈھانے کے علاوہ شیعوں کو ہلاک بھی کیا ہے اور خاص طور پر انہوں نے ان لوگوں کو ہلاک کیا ہے جو مزارات کی زیارت کے لیے آئے ہوئے تھے۔ ان کے مطابق جو بھی شخص مزارات پر دعائیں مانگتا ہے یا فاتحہ خوانی کرتا ہے وہ مرتد ہے اور بغیر کسی جھجھک کے اسے مار دیا جانا چاہیے۔

ہم پہلے سے اس بات سے واقف ہیں کہ  ISIS جنگجوؤں کے موصل کے باشندوں سے جہاد النکاح میں اپنی بیٹیوں کو ان کے حوالے کرنے کی مطالبات کے متعلق خبروں کو اردو میڈیا میں بالکل ہی اجاگر نہیں کیا گیا۔ شاید اس کے پیچھے ان لوگو  کی اخلاقی ذلت پر شرمندگی کا احساس کارفرما ہے جنہیں وہ اپنی ہی کمیونٹی کا حصہ سمجھتے ہیں۔

کہا جا سکتا ہے اگر ISIS اقتدار میں آتا تو وہ اپنے تکفیری عقیدے اور عدم روادار نظریہ کی بنیاد پر جس کی تبلیغ و اشاعت ہمارے سخت گیر علماء نے کی ہے شیعہ یا صوفی ذہن رکھنے والے مسلمانوں یا کسی قدیم یادگار یا عراق میں آثار قدیمہ سے تعلق رکھنے والے مزار میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ وہ پہلے ہی اپنے اس عزم مصمم کا اظہار شیعوں اور مزارات پر حاضری کے لیے آنے والے لوگوں کے قتل اور مزارات اور شیعہ مساجد کو تباہ کر کے جنہیں وہ بت کہتے ہیں اور اپنے زیر تسلط کلیساؤں کو اپنے دفاتر میں تبدیل کر کے کر چکے ہیں۔

لہذا، ISIS جنگجوؤں کی تعریف میں دیے گئے نرس کے بیان کو محض اسٹاک ہوم سنڈروم کی علامت ایک علامت ہی سمجھنا چاہیے اور اسے ISIS کی اصلی تصویر سمجھنا مناسب نہیں ہوگا۔

یہ یاد  رہے کہ صرف ایک مہینے پہلے تک ISIS القاعدہ سے بھاگے ہوئے دہشت گرد تھے جو خود کش بم دھماکوں، بے تحاشہ شیعوں اور دیگر مخالفین کے قتل اور عوامی اور سرکاری عمارتوں کو تباہ کرنے میں مشغول تھے جو کہ اسلام میں سخت ممنوع ہے۔ وہ القاعدہ کے دہشت گرد کے طور پر جانے جاتے تھے۔ کس طرح ان کا سربراہ اب راتوں رات مسلمانوں کا خلیفہ بن گیا؟

اردو میڈیا عام طور پر  فرقہ وارانہ اور انتہا پسند نظریات کے اپنے تئیں نقطہ نظر میں متوازن اور سیکولر ہے اور ایک مسئلے کا دوطرفہ  پہلو پیش کر رہا ہے جیسا کہ اس کا ثبوت اخبار مشرق نے بھی دیا ہے۔ لیکن جب مذہب کی بات آتی ہے یا کسی ایسے کی بات آتی ہے جو مفروضتاً مذہبی ہو تو اردو میڈیا تذبذب کا شکار ہو جاتا ہے۔ اردو میڈیا کو ISIS جیسے مسائل سے نمٹنے اور انہیں پیش کرتے وقت اور بھی زیادہ بالغ النظر نقطہ نظر اپنانا چاہئے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ اردو پریس کے ایک طبقے کو ISIS سےہمدردی ہے۔ اس کے لیے انہیں نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ جتنی جلدی مسلمان ان کے تئیں اپنا ذہن تیار کر لیں گے اتنا بہتر ہوگا۔ سنیوں کو برگشتہ کرنے اور ایک شیعہ آمر کی طرح برتاؤ پیش کرنے کا ذمہ دار نوری المالکی ہے جب کہ اس کا جواب سنی دہشت گردوں کا ایک گرہ نہیں ہے جو عراق کے مختلف حصوں پر حکمران ابو بکر البغدادی کی اسلامی خلافت کے تئیں وفادار ہے۔

URL for English article:

https://www.newageislam.com/the-war-within-islam/new-age-islam-edit-desk/indian-urdu-media-s-dilemma--to-support-or-not-to-support-the-islamic-state-of-iraq-and-greater-syria-and-the-islamic-khilafat-of-abu-bakr-al-baghdadi/d/97979

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/new-age-islam-edit-desk/to-support-or-not-to-support-the-islamic-state-of-iraq--عراق-اور-شام-کی-اسلامی-ریاست-اور-ابوبکر-البغدادی-کی-اسلامی-خلافت-کی-حمایت-کی-جائے-یا-نہ-کی-جائے--ہندوستانی-اردو-میڈیا-شش-و-پنج-کی-حالت-میں/d/97998

 

Loading..

Loading..