New Age Islam
Fri Apr 16 2021, 04:30 PM

Urdu Section ( 28 Jan 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Misleading And Misplaced Ideas Of Punjabi Taliban's Emir On Democracy Part 2 جمہوریت سے متعلق امیر پنجابی طالبان کے جاہلانہ نظریات و خیالات ...قسط۔ 2

 

نیو ایج اسلام ایڈٹ ڈیسک

29 جنوری،   2013

اس قسط میں مولانا عصمت اللہ معاویہ  نے جمہوری نظا م حکومت کو کفر کے مترادف قرار دیا ہے  اور اسے رب سے بغاوت سے تعبیر دیا ہے۔  ان کے مطابق اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ جمہوریت کو اسلام مخالف اور کافرانہ نظام حکومت قرار دینے کے پس پشت ان کی اور ان جیسے دوسرے  اسلام پسندوں کی  یہ دلیل ہے کہ اسلام کا مجوزہ نظام حکومت  خلافت  ہے جو خلفائے راشدین نے  قائم کیا اور اسے ایک اسلامی ادارے کی حیثیت سے مستقل شکل دی۔  ان کے یقین کے مطابق قرآن و حدیث  مسلما نو ں کے لئے خلافت کے نظام کو قائم کرنے کا حکم دیتے ہیں   مگر وہ قرآن یا حدیث سے اسلامی خلافت کی طرح کے کسی بھی نظام حکومت  کے قیام کا کوئی حوالہ دینے میں ناکام رہے۔  انہوں نے اپنے  نظریاتی  رفیق العبیری کی طرح    قرآن  کی ایک  آیت کو غلط تناظر میں پیش کرکے اپنے موقف کو صحیح ٹھہرانے کی کو شش کی ہے۔ ان کے مظابق مندرجہ ذیل آیت  جمہوریت کی مخالفت میں ہے:

‘‘اور اگر آپ زمین والوں کی اکثریت کی اطاعت کریں گے ۔ تو وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے گمراہ کردیں گے۔’’ ( الا نعام : آیت 116)

مندرجہ بالا آیت میں لفظ اکثریت سے مولانا نے جمہوریت کا مطلب نکا لا ہے اور  قصداً نصف آیت نقل کی ہے۔ پوری آیت اس طرح ہے۔

‘‘اور اگر تو زمین میں (موجود) لوگوں کی اکثریت کا کہنا مان لے تو وہ تجھے اﷲ کی راہ سے بھٹکا دیں گے۔ وہ (حق و یقین کی بجائے) صرف وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور محض غلط قیاس آرائی (اور دروغ گوئی) کرتے رہتے ہیں’’۔ ( الا نعام : آیت 116) (ترجمہ طاہرالقادری)

اس کے بعد وہ ۱۴علمائے دین کی آراء پیش کر تے ہیں اور ان سے یہی نتیجہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان تمام علمائے کرام نے قرآن کی روشنی میں جمہوریت کو اسلام مخالف نظام قرار دیا ہے۔ ہم ان تمام علمائے کرام کے اقوال کا ایک ایک کر کے جائزہ پیش کرتے ہیں۔

۱۔ ۔ تفسیر روح االمانی، جلد نمبر 4 ، ص 11 پر علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

‘‘یہ خود بھی گمراہ ہونا ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنا ہے۔ اور فاسد شکوک ہیں جہاں جہالت اور اللہ تعالیٰ  پر جھوٹ گھڑنے سے پیدا ہوتی ہے ۔ (اِنْ بتَّبِعُوْن ) مِنَ الشِّرکِ و الْضَلَال ( وہ پیروی کرتے ہیں) شرک اور گمراہی کی ۔’’

Oجمہوریت شرک اور گمراہی ہے ۔ مگر یہ شرک اور گمراہی کس نقطہء نظر سے ہے اس کی کوئی تفصیل نہیں پیش کی گئی ہے۔

۲۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ  نے حجتہ اللہ البالغہ میں وَاِن تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فیِ الْاَرْض کی تشریح میں جمہوریت کار د فرمایا ہے۔

Oیعنی  شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق  اکثر  کا معنی جمہوریت ہے اور اس طرح انہوں نے جمہوریت کو گمراہ کن بتایا ہے۔

۳۔۔ فطری حکومت ، میں قاری طیب قاسمی دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں:

 ‘‘ یہ (جمہوریت ) رب تعالیٰ کی صفت ملکیت میں  بھی شرک ہے اور صفتِ علم میں بھی شرک ہے’’

واضح ہو کہ جمہوریت بذات خود کوئی  مذہب نہیں ہے   جس میں غیراللہ کی عبادت کی تعلیم دی جاتی ہو۔ یہ  تو ایک برتن کی طرح ہے جس میں آب زم زم بھی رکھ سکتے ہیں اور شراب بھی ۔ یہ تو اس کے مالک  کے ارادے پر منحصر ہے۔لہذا جمہوریت کو شرک سے تشبیہ دینا  تصور جمہوریت کی غلط تفہیم  کی بنا پر ہے ۔یہ تو کسی بھی مذہبی یا غیر مذہبی بنیاد پر حکومت  کا نظام ہے جس میں حکمرانوں کا انتخاب عوام کرتے ہیں۔ خلا فت راشدہ میں بھی خلیفہ کا انتخاب عوام کر تے تھے جن میں ایک بڑی تعداد مزدوروں کی ہو تی تھی۔

۴۔۔ مولانا ادریس  کا ندھلوی رحمۃ اللہ علیہ : عقائد اسلام ، ص 230 میں لکھتے ہیں:

‘‘ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ مزدور او ر عوام کی حکومت ہے ایسی  حکومت بلاشبہ حکومت کا فرہ ہے’’۔

کو ئی بھی  جمہوری حکومت صرف مزدوروں کی نہیں ہوتی بلکہ عوام کے ذریعہ منتخب حکمرانوں کی ہوتی ہے۔عوام کی اکثریت اگر اسلامی اقدار پر یقین رکھتی ہے تو وہ اپنے مذہبی اقدار کے مطابق صالح اور نیک حکمرانوں کا انتخاب کرے گی اور حکومت کی بنیاد اسلامی اصولوں پر ہوگی۔لہذا ، مسلمانوں کے ذریعہ قائم کی گئی  اسلامی قوانین پر مبنی حکومت اسلامی حکومت  ہوگی ،کافرہ ہرگز نہیں ہوگی۔

۵۔ حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ نے مینگور ہ سوات میں ایک وکیل کےسوال کے جواب میں فرمایا :

‘‘ ہم جمہوریت پر لعنت  بھیجتے  ہیں۔ اس میں تو دو مردوں کی آپس میں شادی کی اجازت ہے ۔ جیسا کہ برطانیہ نے اس کابل کثرت رائے سے پاس کیا  ہے’’ (اسلامی خلافت، ص 177)۔

جمہوریت پر لعنت صرف اس لئے بھیجتے ہیں کہ کسی  غیر اسلامی (عیسائی) جمہوری ملک کے عوام کی اکثریت (عیسائیوں کی اکثریت ) نے  ہم جنس شادی  کی آزادی کا بل پاس کیا ہے۔  یعنی جمہوریت کی مخالفت  کسی عیسائی اکثریت والے ملک  میں کوئی غیر اسلامی قانون پاس ہونے کی بنیا د پر ہے۔ اسلامی ملک کو یہ آزادی ہے کہ  وہ اس طرح کے بل پاس نہ کرے  اور صرف قرآن اور حدیث پر مبنی قانون ہی نافذ کرے۔

۶۔مولانا مفتی  محمود رحمۃ اللہ علیہ کے اس آفاقی  شان والے جملے کو بھلا کون بھُلا  سکتا ہے کہ ‘‘ میں اسلام کے علاوہ ہرازم کو کفر سمجھتا ہوں ’’ تو کیا جمہوریت اسلام کے مقابل ایک نیاد ین ایک نیا مذہب اور اسلام سے ایک علیحدہ ازم نہیں ہے۔

اسلام ایک آسمانی مذہب ہے جبکہ جمہوریت ، آمریت اور شہنشاہیت  سیاسی نظامہائے حکومت ہیں، مذاہب نہیں ۔ لہذا  جمہوریت کو اسلام کی ضد قرار دینا  غلط ہے۔

۷۔ مولانا محمود الحسن گنگو ہی رحمۃ اللہ علیہ ، فتاویٰ محمودیہ ، ج 20، ص 415 میں لکھتے ہیں :

‘‘ اسلام میں اس جمہوریت کا کہیں وجود نہیں (لہٰذا یہ نظام کفر ہے) اور نہ ہی کوئی سلیم العقل آدمی اس کے اندر خیر تصور کرسکتا ہے ’’۔

یہ قول بھی صرف اسی بنیاد پر ہے کہ اسلامی حکومت  کے چار   اولین  نظام حکومت سنبھالنے والوں کو خلیفہ کہا گیا۔دور خلافت میں  حکمرانوں کے انتخاب  کا اختیار عوام کے ہاتھو ں میں تھا ۔ اس میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی ضمانت دی گئی تھی،  انہیں  اپنے مذہب کے مطابق زندگی گذارنے کا حق حاصل تھا، شہریوں کو مساوی حقوق حاصل تھے  اور یہ سبھی اصول جمہوری نظام حکومت کے بھی بنیادی اصول ہیں ۔اس لئے یہ کہنا کہ اسلام میں جمہوریت کا کہیں وجود نہیں ، خود اسلام کو مطلق العنانیت، آمریت  اور ظالم شہنشاہیت کے زمرے میں لا کھڑا کرنا ہے جو اسلام کی توہین اورجمہوریت کی  غلط تعبیر ہے۔

۸۔ ملفو ظات تھانوی رحمۃ  اللہ علیہ  ، ص 252 پر حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے یہ جملے درج ہیں:

‘‘ایسی  جمہوری  سلطلنت  جو مسلم اور کافر ارکان سے مرکب ہو۔ وہ تو غیر مسلم (سلطنت کافرہ) ہی ہوگی،،۔

اس لحاظ سے ایسی جمہوری حکومت جس میں صرف مسلمان ہی ہوں اسلامی سلطنت ہوگی۔یعنی  حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اسلامی جمہوریت کے حامی ہیں۔

۹۔ احسن الفتاویٰ از مفتی رشید احمد رحمۃ اللہ علیہ  ، 6 ص 26 میں لکھتے ہیں :

‘‘ یہ تمام برگ و بار مغربی جمہوریت کے شجرہ خبیثہ کی پیداوار ہے ۔ اسلام میں اس کافرانہ نظام کی کوئی گنجائش نہیں ’’۔

‘یہ تمام برگ و بار’ کی وضاحت نہیں کی گئی ہے ۔ غالباً سماجی برائیوں کی طرف اشارہ ہے جو ہر سماج میں ہوتی ہیں اور کسی ایک نظام یا مذہب کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتیں۔  ‘مغربی جمہوریت ’کہہ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ جمہوریت مغرب کی پیداوار ہے جبکہ اس  سیاسی نظرئیے کا جنم  یونان کے  ایتھنس میں 6ویں صدی میں ہوا۔ مسلمانوں کو کسی چیز سے نفرت دلانا  مقصود ہو تو اسکا  رشتہ مغرب سے جوڑدیا جاتا ہے اور یہی  وطیرہ جمہوریت کے ساتھ اپنا یا گیا ہے۔

۱۰۔ مولانا یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے مسائل اور ان کا حل ، ج 8 ص 176 میں لکھتے ہیں :

‘‘ جمہوریت کا نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں  بلکہ وہ اسلام کے سیاسی نظریے کی ضد ہے (ظاہر ہے اسلام کی ضد کفر ہی ہے)’’۔

اوپر بیان کر دیا گیا ہے کہ اسلام کوئی سیاسی نظریہ نہیں ہے  جبکہ جمہوریت ایک سیاسی نظریہء حکومت ہے جس میں عوام کے ادنیٰ اور اعلی ٰ دونوں قبیل کے افراد کو یکساں حقوق حاصل ہوتے ہیں جو انہیں آمریت اور شہنشاہیت میں نہیں ہوتے۔ لہذا ، جمہوریت اسلامی مذہبی اصول و اقدار کی تطبیق کا ایک معاون سیاسی ہتھیار تو ہو سکتی ہے ، اس کی ضد نہیں ہو سکتی  کیونکہ جمہوریت کوئی مذہب نہیں ہے۔

۱۱۔ مولانا عاشق الٰہی  بلند شہری رحمۃ اللہ علیہ  ، تفسیر انوار البیان ، ج 1 ص 518) میں لکھتے ہیں :

‘‘ ان کی لائی ہوئی جمہوریت بالکل  جاہلانہ  جمہوریت ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق  نہیں ۔ ( جس چیز کا تعلق  اسلام سے نہ ہو تو ظاہر ہے وہ کفر ہی ہو گی)’’

انکی لائی  ہوئی سے مراد اگر مغرب کی لائی ہوئی ہے تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے کہ یہ مغرب کی لائی ہوئی نہیں ہے۔ اور اگر مغربی ممالک میں رائج جمہوریت جاہلانہ ہے تو مسلمان اسلامی ممالک میں عالمانہ  اور صالح جمہوریت قائم کر سکتے ہیں۔ کس نے روکا ہے۔(ضروری نہیں کہ جس چیز کا تعلق اسلام سے نہ ہو وہ کفر ہی ہو۔ ہوائی جہاز کی ایجاد نہ مسلمانوں نے کی  اور نہ اسلامی  ملک میں ہوئی مگرکافروں کی ایجاد ہونے کے باوجود  اس کا  سفر کفر نہیں ہے )۔

۱۲۔ فتح الملھم ، ص 284 ج 3 میں مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں :

‘‘ اسلام کا نظام سیاسی ڈیمو کریسی اور ڈکٹیٹر شپ سے جدا ہے۔ (گویا جمہوریت الگ ہے اور اسلامی نظام الگ ہے اس کا  اُس سے کوئی تعلق نہیں)’’۔

جمہوریت اور ڈکٹیٹرشپ کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کردیا گیا جبکہ مئوخرالذکر اول الذکر کی ضد ہے۔

۱۳۔ مولانا فضل محمد دامت بر کاتھم ، اسلامی خلافت، ص 117 میں لکھتے ہیں :

‘‘ اسلامی شرعی شوریٰ او رموجودہ جمہوریت کے درمیان اتنا فرق ہے جتنا آسمان او رزمین میں ، وہ مغربی آزاد قوم کی افراتفری کا نام ہے۔ جس کا شرعی شورائی نظام سے دور کا واسطہ بھی نہیں ’’

یہاں سیاسی اور سماجی افراتفری کو جمہوریت  سے منسوب کردیاگیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ جمہوری ممالک میں  افراتفری ہوتی ہے جبکہ آج مسلم ممالک جتنی افرتفری کے شکار ہیں اتنے مغربی ممالک نہیں ہیں جہاں جمہوریت قائم ہے جبکہ  بیشتر مسلم ممالک میں چاہے وہ جمہوری ہوں یا  آمریت پر مبنی، افراتفری اورلا قانونیت  مچی ہوئی ہے۔ امن و امان  اور قانون کی بالا دستی حکمرانوں کی انتظامی صلاحیت  اور اصول  پر  مبنی ہوتی ہے نہ کہ  طرز حکومت پر۔

۱۴۔ مفتی ابولبابہ شاہ منصور ، عالمی یہودی تنظیمیں ، ص 197 پر ‘‘ جمہوریت یہودی ایجاد ’’کی سرخی دینے کے بعد لکھتے ہیں :

‘‘درحقیقت یہ نظام حکومت نہ کسی عقلی  کسوٹی پر پورا اتر تاہے نہ عملاً مفید ثابت ہوا۔ نہ فطری  طور پر درست اسے یہودی دماغوں نے گڑھا ہے’’۔

‘‘ جمہوریت یہودی ایجاد ’’ کا مفروضہ ہی جمہوریت کی تاریخ اور اسکی قدروں سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔

متذکرہ بالا اقوال کا حوالہ دینے کے بعد مولانہ عصمت اللہ معاویہ یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ انہوں نے جمہوریت کے کفر  کا پردہ چاک کردیا ہے کہ جب اتنے سارے علمائے کرام نے  جمہوریت کو کفر کے مترادف قرار دیاہے تو  واقعی  یہ مبنی بر کفر نظام ہوگا مگر دراصل جمہوریت کے خلاف علمائے کرام کی جو آر ا ء ہیں وہ  جمہوریت کے کسی ایک غیر اسلامی پہلو یا جمہوریت کے مغربی یا یوروپی تناظر پر مبنی ہے اورجمہوری فلسفے یا فکر کے مجموعی مطالعے پر مبنی نہیں ہے۔

خلافت  کا لفظ قرآن میں مذکور لفظ خلیفہ سے مشتق ہے  جس کا معنی زمین پر خدا کا نائب  ہے۔اور خدا انسان کو زمین پر خدا کا نائب قرار دیتا ہے۔

‘‘اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا، میں زمین میں اپنا(خلیفہ) نائب بنانے والا ہوں۔’’ (سورہ البقرہ: ۳۰)

اس سے مراد یہ ہے کہ انسان زمین پر خود بھی خدا کے احکام کے مطابق زندگی گذارے گا اور  اور اس بات کو یقینی بنائےگا کہ دوسرے بھی اس کے احکام اور قوانین پر عمل کریں۔ لہذا  خلفائے راشدین کی حکومت کو خلافت کہا گیا۔ اس دور میں  اسلامی حکومت  پوری طرح  قرآن  اور سنت پر مبنی تھی ۔ مگر خلفائے اربعہ کے بعد اسلامی حکومت  کی نوعیت بدل گئی اور   اسی لئے خلیفہ کا لفظ صرف چار  صحابہ کے لئے مختص ہو  کر رہ گیا۔

۱۹ صدی میں جب دھیرے دھیرے نو آبادیاتی اور سامراجی نظام کا خاتمہ ہونے لگا تو مسلم ممالک کے سامنےجدید دور   کی ضروریات سے مطابقت رکھنے والے   نظام حکومت  کے تعین کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اس زمانے میں مسلم علما ء اور فلاسفہ نے اس سلسلے میں غور و فکر شروع کی اور ایک ایسے جدید نظام حکومت کے متعلق اپنی اپنی رائے پیش کی جو بیک وقت  حکومت کے اسلامی اصولوں  کا اتباع کرتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہو سکے۔ اس سلسلے میں ہندو پاک میں جہاں مولانا ابولکلام ، علامہ اقبال ، مولانا مودودی، خورشید احمد   وغیرہ نے  اسلامی حکومت کی جدید ہیئت  کے متعلق اپنی رائے پیش کی وہیں  عرب  اور دوسرے مسلم ممالک کے جدید مفکرین اور ماہرین سیاسیات  عبدالرازق، محمد اسد،  صادق سلیمان،  لوائے ایم صفی، رضوان اے مسمودی  نے بھی  اپنے افکار سے اس سمت رہنمائی  کی۔

یہاں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ برصغیر کے عظیم اسلامی اسکالر اور مفسر  قرآن  مولانا ابوالکلام آزاد نے  اسلامی جمہوریت کی اصطلاح استعمال کی  اور  اسلام کے شورٰی نظام  پر زور دیا۔ گویا  جدید اسلامی حکومت  اسلام کے شورٰی نظام  اور جمہوریت کا مرکب ہوگی۔ مولانا مودودی نے تھیو ڈیموکریسی  (اسلامی جمہوریت )کی اصطلاح استعمال کی اور خلافت کو  اس طرح کی اسلامی حکومت کی  بنیا د بتایا۔ دوسری طرف علامہ اقبال نے  روحانی جمہوریت کی اصطلاح استعمال کی اور  اس حکومت میں    اجماع اور اجتہاد  کی اہمیت  پر زور دیا۔اسی طرح جدید  مصری دانشور عبدالرازق کے مطابق جمہوریت کا تو  ویسے قرآن اور سنت میں خصوصی طور پر ذکر نہیں ہے مگر جمہوریت  اسلامی عقیدے کے عین مطابق ہے۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ خلافت سے مراد کوئی خصوصی طرز حکومت نہیں ہے بلکہ اسلامی اصول اور احکام  کے مطابق حکومت ہے ہے جو بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کے ساتھ بدل سکتا ہے۔خلفائے راشدین کے دور خلافت کے بعد مسلم دنیا میں مختلف نوع کی حکومتیں رہی ہیں جیسے ایران میں روحانی قیادت کے زیر اثر جمہوریت (یعنی مولانا مودودی کی مجوزہ تھیو ڈیموکریسی)، عرب میں بادشاہت، مصر ، لیبیا ، بحرین وغیرہ  میں آمریت، پاکستان میں اسلامی جمہوریت  اور بنگلہ دیش میں سیکولر جمہوریت  ۔ لہذا، مختلف مسلم ممالک  میں مختلف نظام حکومت رائج رہے ہیں جو اسلامی معاشرےکے  متنوع ہونے کی دلیل ہے ۔

لفظ خلیفہ سے متعلق غلط فہمیوں کے بارے میں عبدالرازق کہتے ہیں:

‘‘خلیفہ کا لقب  اور جس تاریخی  حا لات نے اس کے استعمال کو ایک مخصوص تصور عطا کیا اس سے  مسلمانوں کے درمیان یہ غلط فہمی پیدا ہو گئی کہ خلافت کوئی مذہبی ادارہ ہے۔’’2

اسلامی حکومت  کا نظام کیا ہوگا اس موضوع پر مسلم دانشوروں اور ماہرین سیاسیات کو غور و فکر اسی لیے کرنی پڑی کہ قرآن میں حکومت کے لئے کسی بھی مخصوص سیاسی نظام کا اشارہ نہیں ہے۔  قرآن  کسی بھی مسلم معاشرے میں بنیادی جمہوری  اصول جیسے  مساوات ، انسانی  حقوق، حقوق العباد، عوام کے وقار و مفادات کی حفاظت ،  امن و قانون کی بالادستی  ، شفافیت، احتساب ، اقلیتوں کے حقوق    کو یقینی بنانےکا تقاضہ کرتا ہے ، لہذا جو بھی نظام ان حقوق و فرائض  پر عملدرآمد کو یقینی بنائے وہی دراصل اسلامی  نظام ہوگا۔ لہذا، خورشید احمد کہتے ہیں:

‘‘اسلامی سیاسی نظام توحید پر مبنی ہے اور شوریٰ کے  اصول کے ذریعے سے  عوامی خلافت  کی شکل میں انسانی مساوات ، قانون کی بالادستی، انسانی حقوق بشمول اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ، حکمرانوں  کی جوابدہی، سیاسی عمل کی شفافیت اور اسکے تمام جہات ۔۔ قانونی ، سیاسی ، سماجی ، معاشی  اور بین الاقوامی ۔۔میں انصاف کی غالب فکر  کی بنیاد پر اسکے فروغ کی سعی کرتاہے۔’’3

اسلامی مفکر اور ماہر سیاسیات محمد اسد بھی انہی خیالات کا اظہار کرتے ہیں:

‘‘اسلامی شریعت  کوئی مخصوص ڈھانچہ (نظام حکومت ) پیش نہیں کرتی  جسکا اسلامی حکومت کو اتباع کرنا چاہئے اور نہ ہی  یہ کوئی دستوری نظریہ تفصیل سے پیش کرتی ہے۔  بہرحال،  قرآن اور سنت کے تناظر میں ابھرنے والا   یہ سیاسی قانون کوئی خیالی تصور نہیں ہے۔ یہ ایک نہایت واضح اور ٹھوس  تصور ہے جو ایک سیاسی اسکیم کا خاکہ ہمیں پیش کرتا ہے  جو انسانی زندگی کے ماتحت تمام حالات اور تمام ادوار میں عملی شکل اختیار کرنے کی اہلیت رکھتا  ہے۔لیکن چونکہ یہ سیاسی تصور تمام حالات اور تمام ادوار کے لیے مقصود تھا  اسلئے  اسکا صرف ایک خاکہ پیش کردیا گیا اور تفصیل نہیں دی گئی۔ انسان کی  سیاسی، سماجی اور معاشی ضروریات   وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں اسلئے  یہ تغیر پذیر ہیں۔  اسلامی شریعت چونکہ  ایک الٰہی فرمان ہے اسلئے  اس نے دستور سازی ،طرز حکومت   اور روزمرّہ کی قانون سازی کا معاملہ دور مخصوص کے اجتہادی عمل پر چھوڑ دیا ہے’’4

اس طرح دیکھا جائے تو  ‘‘مسلم دانشوروں نے بدلتے ہوئے حالات کے تحت چھٹی صدی میں یونان میں جنم لینے والی  جمہوری طرز حکومت  کی ترقی یافتہ شکل کو چند تبدیلیوں اور اصلاحا ت کے ساتھ اسلامی حکومت  کے لئے موزوں قراردیا ہے اور تقریباً تمام دانشوروں  اور نظریہ سازوں نے اسلامی جمہوریت کی اصطلاح کو  قابل قبول قراردیا ہے اور وہ  خلافت، شوریٰ، اجماع اوراجتہاد جیسے  دیرینہ اداروں، تصورات اور روایات  کے استعمال پر مبنی ایک  حقیقی اور قابل عمل  اسلامی جمہوریت  کی تشکیل میں مصروف ہیں’’۔5

لہذا،یہ واضح ہے کہ  جمہوریت کی مخالفت کرنے والے علماء  کا ایک طبقہ جمہوریت کے اسلامی تصورات سے ناوقفیت کی بنا پر ہی اسے ایک مغربی اور کافرانہ نظام حکومت سے تعبیر دیتا ہے جبکہ اسلامی مفکرین کا ایک بڑا طبقہ  اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ عصری دنیا  کے حالات کے تحت  جمہوریت اسلام کی ایک ضرورت ہے۔

1-.Al Baqarah: 30

2-.Islam and Democracy

Eliane Ursula Ettmueller

3.-Global Muslim voices on Islam-Democracy Compatibility and Co-existence by Tauseef Ahmad PARRAY

4-.ibid

5-.ibid

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/new-age-islam-edit--desk/misleading-and-misplaced-ideas-of-punjabi-taliban-s-emir-on-democracy-part-2-جمہوریت-سے-متعلق-امیر-پنجابی-طالبان-کے-جاہلانہ-نظریات-و-خیالات-قسط۔-2/d/10189

 

Loading..

Loading..