New Age Islam
Mon Dec 06 2021, 07:24 PM

Urdu Section ( 20 Sept 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Is Jihad in The Sense of Qital Permanent and Applicable to All Contexts? کیا جہاد بالقتال ہر حالت اور ہمیشہ نافذ العمل ہے؟


نیو ایج اسلام ایڈیٹ ڈیسک

ستمبر 202016

جہاد کی مکمل تھیولوجی عصر جدید سے قبل ایک ایسے دور میں  نشو و نما پائی جب ہر طرف  جارحیت کا رواج تھا ۔یہ وہ دور تھا جب جارحیت کی بنیاد پر زمین پر قبضہ کر لینا جائز سمجھا جاتا تھا ، لیکن آج کے اس نئے دور میں صورت حال مختلف ہے ۔تقریبا تمام ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کیے ہیں جو عالمی امن کو یقینی بناتا ہے۔ اقدامی جہاد کے ایام ختم ہو چکے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلم علمائے کرام بھی اس کو تسلیم کریں اور جارحانہ جہاد کے تصور کا عدم جواز پیش کریں۔یہ  جارحانہ جہاد  خلفا کے نام پر  عرب اور ترک بادشاہوں کی سامراجی جبلت کا جواز پیش کرنے کے لئے تھا۔ آئیے ہم اپنے زمانے اور اس کے لازمی تقاضوں کے مطابق اسلام کی ایک نئی تھیولوی  تیار کریں۔

-------

     دہشت گردی اسلامی نظریہ جہاد کا تقریبا مترادف ہوچکا ہے۔ ریاست اور بین الاقوامی سلامتی اس صورتحال  کے تعلق سے کافی  تشویش ہے۔ بین الاقوامی دہشت گردی کے سلسلے میں علاقائی ، عالمی اور ریاستی تعلقات اور پالیسیوں کو نئی شکل دی جارہی ہے۔ 'القاعدہ' ، 'تحریک طالبان' ، 'داعش' ، 'جیش محمد' اور 'لشکر طیبہ' جیسے نام نہاد اسلامی گروہوں کے ذریعہ کی جانے والی متعدد دہشت گردی کی سرگرمیوں نے اسلام کے تصور جہاد کو  ایک منفرد پہچان دی ہے۔ اس کے نتیجے میں ، جہاد بالنفس جو کہ جہاد اکبر ہے، اسے  بھلا دیا جا چکا ہے اور جب بھی لفظ جہاد کا تلفظ کیا جاتا ہے تو پہلا معنی جو ہم عام انسانوں کے ذہن میں آتا ہے وہ جہاد بالقتال ہے ۔

جہاد کے دو مشہور تصورات ہیں۔  ایک جہاد بالقتال ہے تو دوسرا جہاد بالنفس ہے ۔ پہلی وحی جس میں جہاد بالقتال کی اجازت دی گئی وہ یا تو سورہ بقرہ کی آیت ۱۹۰ ہے یا سورۃ حج کی آیت ۳۹ ہے جو مدنی دور کے آخری دور میں نازل ہوئی ۔ان آیات کے نزول سے قبل مکی دور اور مدنی دور کے ابتدائی حصوں میں اپنی دفاع میں جنگ لڑنے کی بھی اجازت نہ تھی ۔اسلام کے ابتدائی دور میں  وہ آیات جن میں مسلمانوں کو جہاد القتال کرنے سے روکا گیا وہ یہ ہیں: 23:96، 5:13، 73:10، 16:82، 88: 21-22، 50: 45۔

قرآن کریم کی ان آیات کا اردو ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

‘‘برائی کو اس طرح دور کیجیے جو بہت اچھا ہو ، آپ کے متعلق یہ جو باتیں بناتے ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں’’ (۲۳:۹۶)

‘‘آپ ان کو معاف کیجیے اور در گزر کیجیے ، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ’’ (۵:۱۳)

‘‘اور کافروں کی باتوں پر صبر کریں اور ان سے خوش اسلوبی سے دور ہو جائیں’’ (۷۳:۱۰)

‘‘پھر اگر یہ رو گردانی کریں تو آپ کا کام صرف وضاحت کے ساتھ (اللہ کے احکام کو) پہنچا دینا ہے ’’ (۱۶:۸۲)

‘‘سو آپ نصیحت کرتے رہیں ، آپ ہی نصیحت کرنے والے ہیں۔آپ ان (کافروں ) کو جبرا مسلمان کرنے والے نہیں’’ (۸۸:  ۲۱،۲۲)

‘‘ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ (کفار) کہہ رہے ہیں، اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں، پس آپ اس کو قرآن سے نصیحت فرمائیں جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہو ’’ (۵۰:۴۵)

سورہ بقرہ کی آیت ۲۹۰ یا سورہ حج کی آیت ۳۹ کے نزول کے بعد جہاد بالقتال کی اجازت صرف  دفاع  کے لیے دی گئی  مگر صرف ان لوگوں کے خلاف جو انسانی سماج کی امن وشانتی کے دشمن تھے  ، جو مذہب کی بنا پر ظلم وبربیت کا پہاڑ توڑتے تھے ، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے مسلمانوں پر حملہ کرنے میں پہل کی تھی ۔قرآن کریم نے بخوبی اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے :

‘‘اور اللہ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور حد سے تجاوز نہ کرو ، بے شک اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ’’ (سورہ بقرہ آیت ۲)

جہاد کی فرضیت کا سبب کیا ہے ؟ اسلام کے تقریبا چودہ سے پندرہ  ابتدائی سالوں  تک مسلمانوں پر ظلم وستم کا پہاڑ ٹوٹتا رہا ۔انہیں طرح طرح سے اذیتیں دی جاتیں، زخموں سے لہو لہان کیا جاتا ،  ظالموں نے  ان پر تشدد کے ہر طرح کے حملے کیے  اور مسلمانوں کا حال یہ تھا کہ وہ ان ظلم وستم اور بربریت واذیت کا سامنا صبر وتحمل کے ساتھ کرتے ۔ جب   کفار عرب کے ظلم وتشدد نے اپنی انتہا پار کر لی تو اللہ تعالی نے مسلمانوں کو اپنی جان ودین کی حفاظت میں ہتھیار اٹھانے اور جنگ لڑنے کی اجازت دی ۔اسی جنگ کو جہاد بالقتال کے نام سے موسوم کیا گیا ۔اگر جہاد کی فرضیت کے سیاق اور پس منظر کا بنظر عمیق مطالعہ  کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردی یا شہریوں کے قتل عام کرنے کے لیے  اس جہاد کا استعمال ہرگز نہیں کیا جا سکتا ۔

آج کل  جہاد کے نام پر جس  نام نہاد‘جہاد’ کا نعرہ دہشت گرد تنظیموں ، مثلا القاعدہ ، داعش  اور طالبان کے ذریعے لگایا جاتا ہے وہ جہاد نہیں بلکہ ایک دہشت گردانہ عمل ہے جس کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔آج کے حالات میں جہاد نافذ العمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے شرائط نہ پالیے جائیں۔ہمیں نصوص  اور اسباب وشرائط کو سمجھنے کے لیے بھی  عقل ونظر کی درکار ہوتی ہے ۔شرائط کے بغیر تو اسلام کے دیگر متعدد فرائض بھی لازم نہیں ہوتے ۔دوسرے لفظوں میں یوںسمجھیں کہ اسلام میں ہر وہ چیز جو فرض ہے اس کے لزوم کے لیے شرائط کا پایا جانا ضروری ہے  اگر شرائط  کی تکمیل نہ ہو تو فرائض بھی مقبول  نہیں۔

مثال کے طور  پر ، اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ‘‘زکوۃ ادا کرو ’’ کا حکم دیا ۔سوال یہ ہے کہ یہ کون لوگ ہیں جن پر زکوۃ فرض ہے ؟ کیا زکوۃ اس دور کے غلاموں پر بھی فرض تھا ؟ کیا یہ بچوں ، پاگلوں ، اور ان مسلمانوں پر بھی فرض ہے جو صاحب نصاب نہیں؟ صورت حال مختلف ہے ۔زکوۃ اللہ تعالی نے فرض کیا ہے ہر اس مسلمان پر جو آزاد ، عاقل ، بالغ اور مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب نصاب بھی ہو یعنی زکوۃ فرض ہونے کی جتنی ملکیت شریعت نے مقرر کی ہے اتنا مال والا ہو  اور اس مال پر حولان حول بھی ہوا ہو یعنی اس پر ایک سال گزر بھی گیا ہو ۔اب مجھے بتائیے کیا ان شرائط کے بغیر زکوۃ کی فرضیت ادا کرنے کا لزوم ہو سکتا ہے ؟

‘‘ادوا الزکوۃ ’’ یعنی زکوۃ اداکرو کا حکم اگر چہ ہر ایک مومن کو عام ہے مگر صرف ان لوگوں اس کی ادائیگی لازم ہے جو عاقل ، آزاد، بالغ ،اور صاحب نصاب مسلمان ہیں۔زکوۃ کی فرضیت کے اسباب وشرائط کا علم ہمیں قرآن وسنت سے ہوتا ہے ۔اس لیے زکوۃ کی فرضیت کو ہر اس شخص پر لازم کردینا جو غیر عاقل ہو ، جو بچہ ہو ، جو پاگل یا مجنون ہو ، جو صاحب نصاب نہ ہو، یہ سراسر جہالت اور ناخواندگی کا نتیجہ ہے ۔یہیں سے ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ زکوۃ کی فرضیت کی ادائیگی کے لیے کچھ شرائط متعین ہیں جن کی تکمیل کے بغیر یہ زکوۃ ان لوگوں پر فرض نہیں ہوتا  جو عقل، بلوغ ، آزادی اور نصاب کی شرائط پر پورا نہیں اترتے ۔

اسی طرح جہاد  بالقتال کی فرضیت کی ادائیگی کے لیے بھی کچھ شرائط متعین ہیں۔اس کی ایک شرط تو یہ ہے کہ جہاد اسلامی ریاست کے حاکم کی ذمہ داری  پر موقوف ہے ان کے خلاف جو  ظالم وبربر ہیں۔یہ جہاد  کسی ایسے ملک کے خلاف نہیں لڑی جا سکتی جس کے ساتھ امن وشانتی سے رہنے کا معاہد ہ ہے ۔ تو وہ مسلم ممالک جنہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کیے ہیں وہ ہجومی جہاد کسی بھی ایسے ملک کے خلاف نہیں کر سکتے جنہوں نے اسی چارٹر پر دستخظ کیا ہو اہو ۔بلاشبہ ، جہاد کا سوال ہی نہیں اٹھتا  کہ اپنے ہی ملک  اور اس کے منتخب حکومت کے خلاف  جہاد کیا جائے کیونکہ آئین ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان ایک معاہدہ ہے ۔ 

ایک دوسری مثال نماز کی لیجیے ۔اللہ تعالی کے فرمان ‘‘اقیموا الصلوۃ’’ یعنی نماز قائم کرو سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے ۔لیکن نماز قائم کرنے کے لیے نماز کے شرائط کو ادا کرنا ضروری ہے  جن کے بغیر نماز مانی نہیں جا سکتی ۔نماز  پورا ہونے کے  چھ شرائط ہیں:  ۱) طہارت ، ۲) ستر عورت کا ڈھکنا ، ۳) قبلہ کی طرف منھ کرنا  ، ۴) اوقات یعنی وقت سے پہلے نماز پوری نہیں ہو سکتی ، ۵) نیت ، اور ۶) تکبیر مثلا اللہ اکبر پڑھنا ۔

کوئی شخص یہ سوال کر سکتا ہے کیا نماز پڑھنے کا عمل کوئی ایک مرتبہ کرے تو کیا اس سے زندگی بھر کی فرضیت ادا ہو سکتی ہے ۔مثلا اللہ کے حکم ‘‘نماز پڑھو ’’ سے ہم یہ معنی لیں کہ ہم پر صرف ایک مرتبہ اسے ادا کرنا لازم ہے ۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ تکرار نماز کی فرضیت کا سبب یہ  حکم یا آیت نہیں بلکہ اسباب کی تکرار  کی وجہ ہے ۔خلاصہ یہ کہ جب جب نماز کا وقت ہوگا تبھی نماز فرض ہوگا، وقت سے پہلے نماز  کی ادائیگی کا لزوم فرض نہیں۔

تو جس طرح حج ، زکوۃ اور نماز کے کچھ شرائط ہیں اسی طرح جہاد کے بھی کچھ شرائط ہیں۔نماز  کی تکرار اپنے اسباب کی وجہ سے فرض ہوتی ہے اور مقبول تبھی ہوگی جب اس کی ادائیگی شرائط کے ساتھ کی جائے ۔اسی طرح جہاد بھی تبھی قبول ہوگا جب اس کی ادائیگی اس کے شرائط واسباب کے ساتھ کی جائے ۔جیساکہ پہلے بیان ہوا کہ جہاد کی ایک شرط یہ ہے کہ یہ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے اور دوسری شرط یہ ہے کہ  چونکہ مسلم ریاستوں نے امن وشانتی کے ساتھ رہنے کا معاہدہ کیا ہوا ہے ، لہذا اس کی ادائیگی  اس  حالت میں نہیں ہو سکتی ۔ 

جہاد کی مکمل تھیولوجی عصر جدید سے قبل ایک ایسے دور میں  نشو و نما پائی جب ہر طرف  جارحیت کا رواج تھا ۔یہ وہ دور تھا جب جارحیت کی بنیاد پر زمین پر قبضہ کر لینا جائز سمجھا جاتا تھا ، لیکن آج کے اس نئے دور میں صورت حال مختلف ہے ۔تقریبا تمام ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کیے ہیں جو عالمی امن کو یقینی بناتا ہے۔ جارحانہ جہاد کے ایام ختم ہو چکے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلم علمائے کرام بھی اس کو تسلیم کریں اور جارحانہ جہاد کے تصور کا عدم جواز پیش کریں۔یہ  جارحانہ جہاد  خلفا کے نام پر  عرب اور ترک بادشاہوں کی سامراجی جبلت کا جواز پیش کرنے کے لئے تھا۔ آئیے ہم اپنے زمانے اور اس کے لازمی تقاضوں کے مطابق اسلام کی ایک نئی تھیولوی  تیار کریں۔

URL for English: https://www.newageislam.com/islamic-q-and-a/new-age-islam-edit-desk/is-jihad-in-the-sense-of-qital-permanent-and-applicable-to-all-contexts/d/122869

URL for Urdu: https://www.newageislam.com/urdu-section/is-jihad-sense-qital-permanent/d/122899


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..