New Age Islam
Fri Oct 23 2020, 09:08 PM

Urdu Section ( 5 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

We’ll Hoist the Islamic Flag on Red Fort ہم لال قلعہ پر اسلامی پرچم لہرائیں گے :طالبان کا خواب

 

  نیو ایج اسلام ایڈٹ ڈیسک

27 مئی، 2013

(انگریزی سے تر جمہ۔ نیو ایج اسلام)

"جہاں  تک قبائلیوں کے درمیان مجاہدین کی موجودگی کا تعلق ہے، حقیقت یہ ہے کہ ان کے قائدوں  کے دلوں میں ہندوستان  کے لئے  نفرت ہمیشہ کی طرح اب بھی شدید ہے۔ یہ قیادت ہندوستان  سے نفرت اور لال قلعہ پر اسلامی پرچم کشائی کے  نعرےپر پھلی پھولی ہے۔ لہٰذا  ان کے لئے ہندوستان  کے ساتھ ہاتھ ملانے کے کا تصور بھی ممکن نہیں ہے۔ اس کے برعکس ان کی حالت ایسی ہے کہ انہیں ہندوستان  میں ایک آزاد جہاد کی شدید خواہش ہے ۔ ہمارے پیاروں اور نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پیاروں کا خون ان کے گردن پر ہے۔ ہمیں کشمیر سے کیرل تک ہندوؤں کی موجودہ نسل کے ساتھ بہت سارے  حساب برابر کرنے ہیں۔ "

یہ  طالبان کے ترجمان نوائے افغان جہادکے  2013 کے شمارے میں  شائع ایک مضمون کا ایک اقتباس ہے۔ یہ پاکستانی فوج کے حالیہ بیان پر ان کا رد عمل ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ  پاکستان کا اصل دشمن دہشت گردی ہے ہندوستان  نہیں ۔ پاکستان فوج کی طرف سے اس  حقیقی خطرے کا یہ احساس طالبان کو اچھا نہیں لگا  جو یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان ہندوستان  کے خلاف ایک جارحانہ رویہ اختیار کرے  ۔ انہوں نے  پاکستان کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں (طالبان دہشت گردوں) کے قتل کو روکے اور اس کے بجائے پاکستانی فوج کے ٹینکوں کا رخ ہندوستان  کی طرف کر دے ۔ وہ  ہندوستان  کے لال قلعہ پر اسلامی پرچم لہرانے  اور کشمیر سے کیرل ہندوستان  کے ہندوؤں کے ساتھ حساب برابر کرنے کی خواہش میں جھلس رہے ہیں ۔ یہ بات بہت دلچسپ ہے کہ ایک طرف طالبان حکومت پاکستان کو کافروں  کی حکومت کہتے ہیں  لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی چاہتے ہیں کہ  وہ طالبان کو  اپنا بھائی سمجھے اور ان کے ساتھ محبت اور شفقت کا  معاملہ کرے  جبکہ وہ حکومت پر اور  پاکستان کی فوجی تنصیبات پر  مسلسل خودکش بم حملے کرتے  رہتے ہیں ۔

ترجمان رسالے  نے یہ بھی زہر اگلا کہ  سابق آرمی چیف اور آمر پرویز مشرف جنہوں نے طالبان کے خلاف دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران امریکہ کے ساتھ اتحاد کیا تھا اور مدرسہ کی طالبات  کا  قتل کرتے ہوئے  لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن کا حکم دیا تھا ۔ مصنف نے اس بات کی طرف بھی ایک  اشارہ دیا کہ جلد ہی پرویز کو نیست و نابود کردیا جائے گا :

"پرویز کا جو انجام ہونے ولا ہے اسے جلد ہی دنیا  دیکھے گی۔"

ایک اور مضمون سے اسرائیل کے خلاف طالبانی  ہیکرس کی تخریبی سرگرمیوں کا پتہ چلتا ہے ۔ اس میں ہے کہ  اپریل 7کو  'اسلامی ہیکرس ' نے ایک بہت بڑا  ہیکنگ آپریشن کیا اور اسرائیل کو پورے دن اس کے انٹرنیٹ کی سرگرمیوں کو معطل کرنے کے لئے مجبور کر دیا ۔ ہیکروں نے اسرائیل کے بہت سارے خفیہ ڈیٹا بھی ڈاؤن لوڈ کر لئے  اور اسرائیلی بینکوں سے لاکھوں ڈالر اپنے  اکاؤنٹ میں منتقل کر دئے۔

مضمون  ‘میراتھن- امریکہ میں تین دھماکے’ میں میگزین نے یہ کہتے ہوئے دو چیچن بھائیوں کے ذریعہ  امریکہ میں کئے گئے بم دھماکوں کی تعریف کی  ہے  کہ ، 'اس آپریشن کا سہرا امت کے دو بہادر بیٹوں ‘تیمور اور جوہر’ کے سر جاتا ہے۔' اس میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملوں میں حصہ لینےوالے  19 مقدس جنگجوؤں  کی بہادری کی تعریف بھی کی گئی  ہے  اور اس بات کی دھمکی بھی دی  گئی  ہے کہ مستقبل قریب میں امریکہ میں اس طرح کے بہت سے  حملوں کا مشاہدہ کیا جائے گا۔

مضمون ‘شام میں جنگجوؤں کی پیش قدمی اور ان کےفتوحات’ میں مصنف نے  دیگر 15 جہادی تنظیموں سمیت القائدہ   اور جبہۃ النصرہ  کے اتحاد کی  معلومات فراہم کی ہیں، اور یہ کہ عراق میں 'دولۃ العراق الاسلامیہ' نامی ایک خیالی  اسلامی خلافت قائم کی جا چکی ہےجس کی قیادت  امیر المؤمنین  ابو بکر الحسینی کر رہے ہیں ،(دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلام کے پہلے خلیفہ کا نام بھی ابوبکر تھا) ۔ اسی طرح کی ایک خیالی  اسلامی خلافت  صومالیہ، افغانستان، پاکستان اور یمن میں بھی قائم کی گئی ہے جہاں مقدس جنگجو اسلام کے نام پر مسلمانوں کو ان کے بچوں اور عورتوں سمیت قتل کر رہے ہیں ۔

جمہوریت اور اسلامی جمہوریت ایسے  تصورات ہیں جو ان کے نزدیک اسلامی اقدار کے خلاف ہیں اور وہ باقاعدگی سے اپنے ترجمان میں  اس نظریہ  کی مذمت کرتے ہوئے مضامین شائع کر رہے ہیں  اور انہیں  کفر پر مبنی نظام قرار دے رہے ہیں  ۔ اس شمارہ میں اسلامی جمہوریت پر ایک مضمون شائع کیا گیاہے جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی  ہے کہ وہ  تمام  لوگ جو  اسلامی جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں وہ الحادی اور سامراجی قوتوں کے   ایجنٹ ہیں  اور اسلامی اصولوں سے بے بہرہ ہیں۔ مضمون میں جمہوریت پر کچھ ہم مذاق علماء کے مبہم تصورات کا حوالہ بھی پیش  کیا گیا ہے ۔ چونکہ طالبان ایک ایسی خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں جس کی قیادت ملا  عمر کے ذریعہ کی جائے گی اسی لئے وہ  ایک ایسا نظام نہیں چاہتے جو مشاورت اور اختیارات کی تقسیم کے ایک وسیع فریم ورک پرمبنی  ہو  ۔

اسی طرح اس میں قوم پرستی کے تصور کے خلاف ایک مضمون یہ  نظریہ پیش کرتےہوئے  شائع کیا گیا ہے کہ یہ  امریکی، یورپی اور یہودیوں جیسی  شیطانی قوتوں کا نظریہ ہے  ۔ ان کی تشریح کے مطابق قوم پرستی اور مسلم اقوام کے وجود کا جدید تصور بھی اسلام مخالف ہے۔ ان کی طرف سے اس بات کی کوئی تفصیل نہیں پیش کی گئی ہے کہ پوری مسلم قوم ایک خلافت کے تحت کس طرح متحد ہو سکتی ہے  ۔ جب اقبال کے ذہن میں  بھی مسلم اقوام کی ایک خلافت کا تصور بیدار ہوا  اور انہوں نے دنیا کی مسلم حکومتوں کو اتحاد کی تجویز پیش کی  تو اسے  اس نظریہ کی بے شمار  پیچیدگیوں کی وجہ  سے شرمندۂ تعبیر نہیں کی جا سکا ۔ مسلمان مختلف زبان، مقامات ، نسلوں، نسلی گروہوں، قبائل سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ کھانے کے عادات، ثقافتی ترجیحات اور تعصبات  اور رسم و رواج اور دیگر تاریخی اور سماجی خصوصیات کے لحاظ سے سنگین اختلافات رکھتے ہیں ۔ خدا نے بھی قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ  اس نے  انسانوں کو  مختلف رنگوں، نسلوں اور قبائل میں پیدا کیا ہے۔ پاکستان کے بلوچی اپنی تاریخی اور نسلی پس منظر کو ترک کرنے اور  پاکستانی قومیت  میں خود کو ضم کر دینے  کو تیار نہیں ہیں۔ پاکستان کے بنگالی غیر بنگالی پاکستانیوں کے   ساتھ ہم اہنگی نہیں قائم  کر سکے ۔ پھر وہ کس طرح   پوری دنیا کے مسلمانوں کے تمام اقوام اور نسلی گروہوں سے اس بات کی  توقع کر سکتے ہیں کہ وہ ایک ساتھ جمع ہو سکتے ہیں اور ایک امیر المؤ منین  کی قیادت  میں زمین پر ایک واحد خلافت قائم کر سکتے ہیں  ۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے  کمال اتا ترک کے ذریعہ  خلافت عثمانیہ کی تحلیل کا خیر مقدم کیا بلکہ اسے اسلامی دنیا میں ایک نئے آغاز کے طور پر بیان کیا  اس لئے کہ   ترکی نے پرانے نظام اور خیالات کو  ختم کر دیا تھا  اور ایک جدید دنیا کی سمت میں ایک پیش رفت کی تھی  ۔ انہوں نے ہندوستان  کے اندر ہندوستان  کی مسلم اکثریت والی ریاستوں میں اتحاد  کی سفارش کی تھی  اور اس میں انہیں کچھ بھی غلط نہیں لگا ۔ پاکستان کا  پہلا نظریاتی رہنما  محمد  اسد جنہوں  نے سب  بڑے مسلم ملک کے طور پر پاکستان کی حیثیت پر  فخر کیا تھا  انہوں نے بھی اسلام مخالف یا غیر اسلامی ملک کے طور پاکستان کا کوئی نظریہ نہیں پایا ۔

نوائے افغان کے مصنف نے نوح سے لیکر  ابراہیم  اور آخری نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تک انبیاء کی زندگی کی  مثالیں قوم پرستی کے تصور کو مسترد کرنے کے لئے پیش کی ہیں ان انبیاء  نے اپنے آبائی وطن یا مادر وطن کو دین کی خاطر  چھوڑ دیاتھا ۔ یہاں تک کہ نبی محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تو  اپنے وطن  مکہ کے خلاف جنگ  بھی کی ۔ لیکن وہ اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ ان کے زمانے کی دنیا اس زمانے کی دنیا کی طرح نہیں تھی اور اس وقت تک قوم پرستی کا تصور فروغ نہیں پایا تھا ۔ کوئی بھی شخص اپنی روایتی جگہ کو چھوڑ سکتا تھا اور  زمین کے کسی بھی خطے میں  پاسپورٹ یا ویزا کی پریشانی کے بغیر  رہائش اختیار کر سکتا تھا اور اس وقت  کوئی سرحد یا حدود نہیں تھیں ۔ مسلم ممالک ایک واحد خلافت کی تشکیل کرنے کی کوشش کے  بجائے ایک دوسرے کے شہریوں کو  کسی بھی مسلم ملک میں آزادانہ طور پر سفر کرنے اور بود و باش اختیار کرنے کی اجازت دیتے ہوئے ایک لیگ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں  ۔ تمام مسلم ممالک کے مسلمانوں کو اپنے معاشروں میں مختلف نسل اور رنگ کے مسلمانوں کو قبول کرنے کی  ذہنیت بھی تیار کرنی ہو گی اور انہیں ان کی عزت، وقار اور مساوات کے ساتھ رہنے کی اجازت دینی ہو گی  ۔ لیکن دنیا بھر کے مسلمانوں کی علیحدگی پسند بقاء کی  ذہنیت کو دیکھ کر یہ ممکن نہیں لگتا۔ دنیا بھر میں مسلمان فرقہ وارانہ، سماجی، نسلی اور لسانی سطح پر  بری طرح سے منقسم ہیں ۔

ان تمام چیزوں  پر غور کرنے پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ  طالبان ایک سراب کا پیچھا کر  رہے ہیں۔ اسلامی خلافت قائم کرنے کا  ان کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہونے والا صرف ایک خواب  ہے۔ وہ  کبھی بھی حقیقت نہیں بن  سکتا ۔ سب کو شامل ایک اسلامی خلافت قائم کرنے کا ان تصور  ان کے علیحدگی پسند  نقطہ نظر کے ساتھ براہ راست متصادم  ہے۔ ان کا فرقہ وارانہ، کٹر اور متشدد نقطہ نظر  کبھی بھی سب کوشامل ایک عالمی اسلامی خلافت قائم کرنے کے قابل نہیں ہو سکتا ۔ دنیا کے  سادہ لوح مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے وہ اس طرح کے غیر حقیقی شکر کی گولیوں کا استعمال کر رہے ہیں  جیسا کہ انہوں نے افغانستان میں اقتدار حاصل کرنے سے پہلے کیا تھا ۔ وہ اپنے  ہاتھ میں قرآن مجید کے ایک نسخے کے ساتھ عام مسلمانوں کے پاس جاتے اور کہتے  کہ  ہم اس قرآن مجید پر مبنی  ایک حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں  لہٰذا ہماری حمایت کرو ، قرآن مجید پر مبنی ایک حکومت کے اس نظریہ نے  سب کو مسحور کر دیا تھا  ۔ انہوں نے سوچا کہ قرآن مجید پر مبنی حکومت ایک مثالی حکومت ہوگی  ۔ اور اس طرح کی حکومت کے تحت وہ اب مزید کسی بھی مشکل، ظلم و ستم، نا انصافی  یا امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کریں گے۔مگر طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعدانہوں نے ایک ایسی حکومت قائم کی جو  عموماًقرآنی نظریات کے خلاف تھی ۔

لہذا، ایک اسلامی خلافت کا طالبان کا نعرہ بھی حکومت کی کرسی  تک پہنچنے کے لئے، مسلم عوام کی جذباتی حمایت حاصل کرنے کے لئے ایک غیر حقیقی خواب ہے۔ ہندوستان  کے خلاف ان کی فرقہ وارانہ بیان بازی بھی اس غیر حقیقی خواب کا ایک حصہ ہے۔

URL for English article:

 http://newageislam.com/islam,terrorism-and-jihad/new-age-islam-edit-desk/we’ll-hoist-the-islamic-flag-on-red-fort-and-settle-scores-with-hindus-of-india--taliban’s-mouth-piece-spells-out-its-future-plan-for-india/d/11775

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/new-age-islam-edit-desk----نیو-ایج-اسلام-ایڈٹ-ڈیسک/we’ll-hoist-the-islamic-flag-on-red-fort---ہم-لال-قلعہ-پر-اسلامی-پرچم-لہرائیں-گے---طالبان-کا--خواب/d/11913

 

Loading..

Loading..