New Age Islam
Fri Oct 23 2020, 02:56 PM

Urdu Section ( 23 Aug 2017, NewAgeIslam.Com)

Ulema Should not Twist the Truth (Part-5) (علماء حق کے ساتھ باطل کو ملا کر پیش نہ کریں: پیر سید نصیر الدین نصیر (رحمہ اللہ

 

نیو ایج اسلام، ایڈیٹ بیوریو

22 اگست 2017

سوال: چونکہ آج کل خود مسلمانوں کے درمیان آپسی نفرتیں کافی بڑھ رہی ہیں۔ اور اس بنیاد پر آج کل ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی مسجدوں میں نماز نہیں پڑھتے۔ چونکہ یہ جو مہینہ اور یہ دن گزر رہے ہیں ان کی نسبت حضرت پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے ہے، اور آپ اس خانوادہ کے نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی تعلیمات آج کی نوجوان نسل پر بڑا اثر رکھتی ہیں۔ آپ کا ڈاکوؤں والا واقعہ بڑا مشہور ہے، جس میں ڈاکوؤں نے آپ سے پوچھا کہ تم نے ہمیں سچ کیوں بتایا تو آپ نے فرمایا کہ سچ بولنے کے لئے میری ماں نے کہا تھا ۔ آپ اس پر کچھ روشنی ڈالیں کیوں کہ پیران عظام اور شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کو بھی ماننے والے بہت سارے لوگ اس طرح کی تفرقہ بازی میں ملوث ہیں، اس کو کس طرح سے ختم کیا جا سکتا ہے؟

پیر سید نصیر الدین نصیر (رحمہ اللہ): عظیم صاحب آپ نے بڑی عظیم بات کہہ دی اور آپ نے بڑا عظیم حوالہ دیا حضرت پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کا، اور یہ مہینہ بھی آپ کی وفات کا ہے ۔ اس میں قابل توجہ امر یہ ہے کہ حضرت پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے بچپن کے عالم میں سچ بولا اور یہ واقعہ تو ہم بیان کرتے ہیں کہ لوگوں! حضرت پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے پچپن میں ڈاکوؤں کے سامنے سچ بولا اور ڈاکوؤں نے آپ کے سچ سے متاثر ہو کر توبہ کر لیا ۔ میرا یہ کہنا ہے کہ حضرت پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے بچپن میں سچ بولا اور ساری عمر آپ نے سچ ہی بولا لیکن آپ کی عمر ساٹھ سال ہے لیکن آپ سچ نہیں بولتے اور سچ نہیں سنتے۔ وہ کہتے ہیں ریڈیو بند کر دو اور ٹی وی بند کر دو، لیکن غوث پاک کا یہ واقعہ بیان کرتے ہیں؛ کیوں کہ محفل غوث پاک کی ہے اور لوگوں سے داد لینے کے لئے ان کو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن غوث پاک کی تعلیم پر کون عمل کر رہا ہے؟ کوئی عمل نہیں کر رہا ، اور بہت کم ایسے خوش نصیب لوگ ہیں۔ ہم نے صرف گیارہویں منانے کے لئے غوث پاک کو محدود رکھا ہے کہ گیارہویں شریف مناؤ، کھاؤ پکاؤ اور گیارہویں شریف کی محفل کرو۔ غوث پاک تمام اولیاء اللہ اور تمام سلاسل طریقت کے بادشاہ ہیں، یہاں تک کہ جو صوفیاء کو ماننے والے نہیں ہیں انہوں نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے، یہ ایسی شخصیت ہیں۔ میں یہ باتیں اس لیے نہیں کہہ رہا ہوں کہ میں ان کی اولاد میں سے ہوں، بلکہ میں اگر بالکل غیر جانب دار نظر سے بھی دیکھتا ہوں تو یہی پاتا ہوں۔ امام ابن تیمیہ جنہوں نے اپنے دور میں عظیم کارنامے انجام دئے۔ لوگ ان کے ساتھ اختلاف بھی کرتے ہیں، لیکن ہمارے پیر مہر علی شاہ صاحب نے بھی ان کی دینی خدمات کا بھی اعتراف کیا ہے۔ اور انہوں نے اپنے دور میں بدعات کی جو غلط تشریح کی اس کا سدباب بھی کیا۔ امام ابن تیمیہ نے بھی تمام اولیاء کی کرامتوں کا انکار کیا اور کہا کہ یہ سب ایسے ہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی دوکانیں چمکائیں۔ میں یہ بھی بتا دوں کہ امام ابن تیمیہ حضور غوث پاک کے پوتے کے ہم عصر ہیں۔ لہٰذا، جب غوث پاک کی بات آئی تو اپنے دور میں دمشق سے تقریباً 30 یا 40 اونٹ سامان لاد کر امام ابن تیمیہ بھی بغداد شریف حضرت پیران پیر کے مدرسہ میں آپ کے طلبہ اور آپ کے مہمانوں کے لئے سامان بھیجتے تھے، اور یہ بڑی مستند روایت سے ثابت ہے۔لہٰذا، جن کے بارے میں عام طور پر یہی مشہور ہے کہ یہ صوفیوں کے خلاف ہیں اور دوسرے مسلک کے پیشواء ہیں، اس جیسا انسان بھی حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کی شخصیت کو تسلیم کئے بغیر نہ رہ سکا۔ اور ابن تیمیہ نے سب کی تردید کرنے کے بعد لکھا کہ "صرف شیخ عبد القادر جیلانی ایسی شخصیت ہیں جن کی کرامات تواتر کی حد تک ثابت ہیں کہ جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا"۔ میں پوچھتا ہوں کہ یہ کس بنیاد پر ہے، اس کی بنیاد ان کی تعلیمات ہیں۔ اس لئے کہ توحید کا جو درس انہوں نے دیا ہے اور توحید کا وہ راسخ عقیدہ جو قرآن و سنت سے براہ راست چل کر حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام، صحابہ کرام، اہل بیت عظام، تابعین و تبع تابعین، فقہاء، ائمہ مجتہدین سے چلتا ہوا جو غو ث پاک تک پہنچا وہ اللہ کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا وہ خالص عقیدہ توحید ہی آپ کا اصل پیغام تھا۔ آپ غوث پاک کی فتوح الغیب پڑھیں، اس کتاب کو کوئی پیر نہیں پڑتھا، کوئی شیخ نہیں پڑھتا، قادری بھی نہیں پڑھتے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اتنا سخت درس ہے اپنے اخلاق کو سنوارنے کا، انسان کو انسان بنانے کا، اور ان باتوں کو کوئی نہیں پڑھتا۔ ہر طرف صرف آپ کی کرامات کا ذکر ہوتا ہے۔ آپ نے مجھ سے سوال کیا ایسی لیے میں ان سب باتوں کو عرض کر رہا ہوں کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ حالآنکہ ہمارے خطیب اسٹیجوں پر دوسری چیزیں پڑھتے ہیں اسی لئے انہیں یہ بھی بیان کرنا چاہئے، اور اہل علم حضرات کی ذمہ داری ہے کہ وہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کی تعلیمات براہ راست لوگوں تک پہنچائیں۔ اور دوسری کتاب آپ کی فتوح الغیب ہے جو حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کے ان مستند خطبات کا مجموعہ ہے جس کی صداقت کا اعتراف پیر مہر علی شاہ صاحب نے بھی اپنی کتاب میں کیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ یہ انہیں کے خطبات ہیں اور حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے اس کی شرح لکھی ہے۔

سوال: ان ساری تعلیمات کو نوجوان نسلوں تک کیسے منتقل کیا جائے۔ چونکہ یہاں یوروپ میں بچوں پر زیادہ سختی نہیں کر سکتے اس لئے کہ یہاں اس کے خلاف قانون ہے۔ اور یہاں والدین کا بچوں کے اوپر زیادہ کنٹرول بھی نہیں ہوتا ۔ لہٰذا، پیر صاحب ہمیں یہ فرمائیں کہ آج بچوں کو اس کی تعلیم کیسے دی جائے؟

 پیر سید نصیر الدین نصیر (رحمہ اللہ): عظیم صاحب یہ بھی بڑا مسئلہ ہے، پہلے والدین خود پیغمبر ﷺ کے طریقے پر چلیں گے اس کے بعد بچے انہیں دیکھیں گے کہ ان کی زندگی اور ان کے معاملات اسوہ حسنہ کے مطابق ہے یا نہیں ۔ لہٰذا، اگر ان کی زندگی اسوہ حسنہ کے مطابق ہوگی تو اولاد ضرور متاثر ہو گی۔ لیکن اگر والدین کا ہی طور طریقہ گھر کے اندر کچھ اور باہر کچھ اور ہے اور ان کا معاملہ ٹھیک نہیں ہے تو اولاد متاثر نہیں ہوگی۔ وہ تو یہ کہیں گے کہ ان کا ظاہر اور ہے اور باطن اور ۔ اسی لئے ایسا کرنے کے لئے ذاتی کردار بہت ضروری ہے۔ والدین خود نمونہ بنیں اولاد کے لئے۔اور وہ نمونہ بن جائیں تو میں نہیں سمجھتا کہ ان کی اولاد خراب ہو گی۔ اور پھر ان ممالک میں تو آزادی ہے ہر طرح کی اور ایسے ماحول میں تو انسان کو اپنا کردار پاکیزہ بنانے کا اور بھی موقع ملے گا۔

سوال: آپ کی بہت سی تصانیف ہیں جن میں آپ نے نوجوان نسل کے لئے بہت ساری چیزیں لکھی ہیں، اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ مسائخ کیسے ہونے چاہیے۔ اور آپ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں لوگوں کی تربیت بھی کی ہے۔ لہٰذا، آپ کوئی رباعی سنائیں تاکہ ناظرین محظوظ ہوں۔

پیر سید نصیر الدین نصیر (رحمہ اللہ): یہ میری کتاب ہے جس میں میں نے رباعیات کہنے کی کوشش کی ہے۔ آپ نے ابھی حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کا ذکر کیا اسی لئے انہیں کی شان میں رباعیات پیش خدمت ہیں۔

اتنا کوئی حق پذیر دیکھا نہ سنا

ایسا کوئی دستگیر دیکھا نہ سنا

ائے ابن حسن نہیں کوئی تیری مثال

اس شان کا ہم نے پیر دیکھا نہ سنا

ہم نے یہ ایسے ہی نہیں کہہ دیا بلکہ ہم نے بہت غور و فکر کرنے کے بعد کہا ہے۔

اب چار یار کی شان میں رباعیات پیش خدمت ہیں ملاحظہ فرمائیں:

مینار ہیں یہ عظمت انسانی کے

حامل ہیں تجلیات قرآنی کے

بو بکر و عمر، حضرت عثمان و علی

یہ چار عناصر ہیں مسلمانی کے

پنج تن کی خدمت میں عرض ہے:

قائم ہو بدن سے جب کفن کی نسبت

چہرے سے عیاں ہو پنج تن کی نسبت

یا رب میری تقدیر میں لکھ دے تا حشر

زہرا و حسین و حسن سے نسبت

 اور میں نے اپنی طرف سے تو یہی کوشش کی ہے کہ جو صوفیاء سلف کے درگاہی نظام کو جو میں نے بزرگوں کی تعلیمات سے سمجھا ہے اسے اس کے اصلی رنگ میں پیش کیا جائے۔ اگر چہ یہ ایک تلخ انداز ہے۔ کیوں کہ ہم اس ڈگر پر چل چکے ہیں کہ اب یہ تلخ نظر آتا ہے۔ اور آج سے سو سال پہلے یہی چیزیں میٹھی تھیں۔

جاری.....

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/new-age-islam,-edit-bureau/ulema-should-not-twist-up-the-truth-(part-5)--(علماء-حق-کے-ساتھ-باطل-کو-ملا-کر-پیش-نہ-کریں--پیر-سید-نصیر-الدین-نصیر-(رحمہ-اللہ/d/112306

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..