New Age Islam
Sat Jun 25 2022, 02:14 PM

Urdu Section ( 8 Feb 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Harijans of Bangladesh Highlight their Plight in an Islamic Country On International Day for Elimination of Racial Discrimination بنگلہ دیش کے ہریجنوں نے نسلی امتیاز کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اسلامی ملک میں اپنی حالت زار پر روشنی ڈالی

 نیو ایج اسلام خصوصی نامہ نگار

22 مارچ 2021

نسلی امتیاز کے خاتمے کے عالمی دن (21 مارچ) پر، بنگلہ دیش کے ہریجنوں نے ایک ایسے ملک میں اپنی حالت زار کو اجاگر کیا جو مساوات اور عدم امتیاز کے اسلامی اصولوں پر مبنی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ڈھاکہ میں، بنگلہ دیش ہریجن ایکیہ پریشد کے زیر اہتمام ایک پریس کانفرنس میں، ہریجنوں نے بنگلہ دیش میں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور امتیازی سلوک کو بیان کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ہریجن برادری کے ساتھ ناانصافی اور امتیازی سلوک کو ختم کرنے کے لیے قانون بنائے۔ انہوں نے وزیر اعظم کو اپنے مطالبات کا 5 نکاتی چارٹر پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ حکومت انہیں بہتر اور باوقار زندگی فراہم کرنے کے مواقع فراہم کرے گی اور اس کے لیے سہولیات کو یقینی بنائے گی۔

بنگلہ دیش میں 5.5 ملین ہریجن رہتے ہیں۔ وہ میونسپلٹیوں، کارپوریشنوں اور سرکاری دفاتر میں چپراسی اور ضافہ صفائی کرنے والوں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ لیکن انہیں طبی سہولیات، عدالتی تعاون تک رسائی نہیں ہے اور انہیں سماجی، اقتصادی اور سیاسی سطح پر اچھوت اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ ان کے بچوں کو اسکولوں تک آسانی سے رسائی حاصل نہیں ہے۔ ہریجن خواتین کو ہراساں کیے جانے اور استحصال کا سامنا کرنے پر زیادہ امتیازی سلوک کا شکار ہونا پڑتا ہے کیونکہ بنگلہ دیش کے عدالتی نظام میں امتیازی سلوک کے خلاف کوئی مخصوص قوانین نہیں ہیں۔

2013 میں، بنگلہ دیش کے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن اور بنگلہ دیش کے لاء کمیشن نے بنگلہ دیش کی متعلقہ وزارتوں کو انسداد امتیازی سلوک بل کا مسودہ پیش کیا لیکن اس بل کو نظرثانی کے لیے NHRC کو واپس کر دیا گیا۔ تب سے یہ معاملہ زیر التوا ہے۔ اس سے ہریجنوں کے خلاف امتیازی سلوک کو ختم کرنے کے معاملے میں حکومت کے عزائم میں کمی ظاہر ہوتی ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت انسانی حقوق کے بین الاقوامی اعلامیہ، اقتصادی، ثقافتی اور سماجی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے اور شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کرنے والا ملک ہے۔ بنگلہ دیش کے آئین کا آرٹیکل 27، 28، 29 اور 31 مساوات اور عدم امتیاز کو قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن حقیقت میں اس نے ہریجنوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو ختم کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ اس لیے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:

1. ہریجنوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو ختم کرنے کے لیے قانون بنایا جائے۔

2. میونسپلٹیوں اور کارپوریشنوں میں ہریجنوں کے لیے کوٹہ طے کریں اور ان کی تنخواہ میں مساوات لائی جائے.

3. صفائی کرنے والوں کی بھرتی کے لیے امتحان کو ختم کیا جائے یا بھرتی کے عمل کو آسان بنایا جائے۔

4. رہائش کی سہولیات کو یقینی بنایا جائے

5. اسکولوں اور کالجوں میں داخلے تک رسائی کو آسان اور ان کی ترقی کے مواقع کو یقینی بنایا جائے۔

چونکہ بنگلہ دیش مساوات اور سماجی انصاف کے اصولوں پر مبنی ایک اسلامی ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اس لیے اسے ہریجنوں کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات کو دور کرنا چاہیے۔

English Article: Harijans of Bangladesh Highlight their Plight in an Islamic Country On International Day for Elimination of Racial Discrimination

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/harijans-bangladesh-highlight-their-plight/d/126332

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..