New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 07:49 AM

Urdu Section ( 6 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

Paucity of Scientific achievements among Muslims سویرے سویرے

 

 

نذیر ناجی

دی نیوز کے  ایک کالم نویس  نے گزشتہ روز اسلامی  تاریخ  کے حوالے سے کچھ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے چند  سوال اٹھائے ہیں ۔ قارئین  کی دلچسپی  کے لئے بعض  مسلمان سکالر وں کے عظیم کارناموں  کی جھلکیاں پیش کی ہیں ۔ خوار زوں  کو مغرب میں ‘‘فاردآف الجبرا ’’ تسلیم کیا جاتا ہے۔ الجبر ا کا لفظ  بھی انہی  کی ایک تصنیف  سے نکالا گیا ہے ۔ الفر غانی  نے زمین  کی ساخت  اور سائز  کو دریافت  کیا ہے۔ چاند کے گڑھے الفرغانس  کا نام اسی عظیم  شخصیت   کے نام سے موسوم ہے ۔ ابن سینا  فزیشن  ، سائنسدان اور فلاسفر تھے ۔ انہوں نے 450 کتابیں  تصنیف کیں ۔ انہیں ‘‘ فادر آف ماڈرن  میڈیسن ’’ کہا جاتا ہے ۔ عمر خیام  عظیم حساب  دان ، ماہر علم نجوم، رائج سائنسی معتقدات  کے بانی  اور معروف  شاعر تھے ۔ انہوں نے مختلف  اجسام فلکی  کی پیمائش  متعین  کیں۔ افلاک میں ستاروں کی پوزیشن  کے نقشے  بنائے اور دنیا کو بتایا کہ مکعبی مساوات (Cubic Equations ) کے سوالات کیسے حل کئے جائیں ؟ عمر خیام  کا فلسفہ رائج الوقت اسلامی اعتقادات  سے مختلف  تھا ۔ وہ یہ تسلیم نہیں کرتا تھا کہ روزمرہ  کے واقعات  میں مداخلت  ربانی کا سلسلہ  جاری رہتا  ہے۔ وہ بعد  از حیات  کے سزاو جزا کے رائج تصورات  کوبھی تسلیم نہیں کرتاتھا ۔ وہ کہتا تھا کہ خالق کائنات نے تمام سیاروں اور ستاروں  کو ایک نظام  کے تحت  کردیا ہے۔ دنیا میں آج  بھی اس کے نام پر یادگاریں قائم کرنے  کا سلسلہ جاری  ہے۔ الفرغانی 833، الخوارمی 850، ابن سینا 1037، اور عمر خیام 1123ء میں فوت ہوئے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ا سکے بعد والے 882 سالوں میں مسلمانوں  نے علم اور سائنس  میں کون سا کارنامہ  انجام دیا ہے؟ ۔ ایک بھی نہیں ۔ مسلمان دنیا کی کل آبادی کا 22 فیصد  کے قریب ہیں ۔ جو 1.4ارب بنتی ہے ۔ یہودیوں  کی آبادی میں ہمارے کالم نویس دوست غلطی کرگئے ۔ انہوں نے دنیا بھر میں یہودیوں کی آبادی  راولپنڈی شہر کے برابر 1.4 ملین لکھی ہے ، جب کہ  ان کی آبادی 19 ملین کے قریب ہے ۔ جن میں سے قریباً 7 ملین  ایشیاء میں ، سو ادو ملین یوروپ میں اور سو ا چھ ملین اسرائیل  میں رہتےہیں ۔

اب یہودیوں کی اس قلیل  اور مسلمانوں کی اس کثیر تعداد کے علمی  اور سائنسی  کارناموں کاموازنہ کریں تو صورت حال یوں سامنے آتی  ہے۔ عمر خیام کی موت کے بعد 882 سالوں میں فزکس ، کیمسٹری ، میڈیسن ، لٹریچر اور اکنامکس  میں کوئی کام نہیں کیا۔ ایک صدی سے زیادہ ہوا کہ نوبل پرائز دیا جارہا ہے 1.4 ارب کی آبادی  کے مسلم ممالک  میں صرف تین  ایسی شخصیات  سامنے آئیں جنہیں  اس ایوارڈ  کا مستحق  سمجھا گیا ۔ نجیب محفوظ  کو لٹریچر ، احمد ردیل کو کیمسٹری ، اور ڈاکٹر عبدالسلام کو فزکس  میں نوبل پرائز ملے  ہیں۔ ان تینوں  نوبل پرائز یافتہ  شخصیات  کے ساتھ ہم  نے جو سلوک  کیا وہ یہ ہے ۔ احمد ردیل نے اپنی سائنسی  خدمات کے لئے امریکہ  کا انتخاب کیا، ڈاکٹر عبدالسلام کو برطانیہ  اور اٹلی  میں خدمات  انجام دینی پڑیں ۔ نجیب محفوظ  کو ایک مصری مولوی  نے قتل کردیا ، ڈاکٹر عبدالسلام کو ان کے اہل وطن  اعتقاد  کی بناء پر قبول کرنے سے انکار ی ہیں اور یہودی  جو دنیا بھر میں صرف 19 ملین کے قریب  ہیں ان  میں سے 166 افراد نے نوبل  پرائز  حاصل کئے ۔ خوارزنی  ، فرغانی اور ابن سینا  تینوں اسلامی تہذیب  کی پیداوار ہیں، انہوں نے بھی وہی قرآن پڑھا جو  ہم پڑھتے ہیں ، انہی  احادیث  کا مطالعہ  کیا جو ہمیں پڑھائی جاتی ہیں، وہیں سے رہنمائی  حاصل کی جہاں سے ہم حاصل کرتےہیں ۔ اور اس کے علاوہ  غیر مسلموں  کی علمی  اور سائنسی  تخلیقات  سےبھی وہ استفادہ کرتے رہے۔ غیر مسلموں  کے سائنسی اور علمی  تحقیقات  کے خزانے ہمیں ان کے مقابلے  میں زیادہ  آسانی سے دستیاب  ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ 882 سالوں  کے طویل  عرصہ  میں ہم ایک بھی ایسی شخصیت  پیدا نہ کرسکے جس  نے کسی بھی شعبہ  میں انسانیت کی اتنی بڑی خدمت کی ہو جسے  عمر خیام  اور ابن سینا  کی طرح ساری  دنیا تسلیم کرے۔ ان 882 سالوں  کے دوران  ہمارے مدرسوں  کی تعداد  میں بھی اضافہ  ہوا، عالمانِ  دین بھی کثرت سے پیدا ہوئے ۔ دنیا کے  مختلف  علوم تک رسائی  کے ذرائع  بھی وسیع  ہوئے، کتابوں  کی اشاعت  عام ہوئی،  مدرسوں  کی تعداد  میں سینکڑوں  گنا اضافہ ہوا، صرف ہمارے پاکستان میں  بیس ہزار  سے زیادہ  مدرسے دو سے زیادہ نسلوں  کو تعلیم  و تربیت سے آراستہ  کرچکے ہیں  ،اگر ہم اپنے ملک کو دیکھیں تو ان ہزاروں  مدرسوں  نے عالمی یا علاقائی  سطح کے محقق ، عالم، موجد اور سائنسدان پیدا کرنا تو درکنار  ملکی سطح  کا کوئی نمایاں  فرد بھی  پیدا نہیں کیا ۔ مدرسے کا تعلیم یافتہ ڈاکٹر ایک بھی ایسا  نہیں ہے جس  سے خود ہمارے علماء کرام  علاج کراتے ہوں ۔ ایک بھی انجینئر ایسا نہیں  جس نے کوئی چیز  تعمیر کی ہو۔ کوئی سائنسدان مدرسے کا تعلیم  یافتہ نہیں  کوئی دو ا مدرسے کے طالب علم نے ایجاد نہیں کی،  کوئی بینکار مدرسے کا پڑھا ہوا نہیں ۔

آج کی دنیا میں  معاشرے  کو چلانے اور آگے بڑھانے کے جتنے ہنر علوم  اور مہارتیں  درکار ہیں مدرسوں میں، ان کی ابجد  بھی نہیں پڑھائی جاتی۔ لیکن دعوے  دنیا کو تسخیر  کرنے کےکئے جاتےہیں ۔ جہاد کےلئے جو کمپیوٹر استعمال کئے جاتےہیں وہ غیر مسلموں  کی تخلیق ہیں۔ انٹر نیٹ  غیر مسلموں  کی تخلیق ہے ۔ کلاشن کوف غیر مسلموں  کی تخلیق ہے ۔ سٹیلائٹ  ٹیلی فوج  غیر مسلموں  کی تخلیق ہے اور دعویٰ  یہ ہے کہ ہم دنیا کو چلانے  کی بہترین  صلاحیت رکھتے ہیں ۔ جس ٹیکنولوجی اور جن ہتھیارو ں کو غیروں  نے بنایا ہو  ان کے ذریعے  دنیا پر چھا جانے  کے خواب  دیکھناکہاں کی دانشمندی ہے؟  اور کون سا اسلام  ایسی تعلیم  دیتاہے جس  کے ماننے والے علم و تخلیق  اور ایجادات میں سبقت  حاصل کرنا تو دور کی بات ہے دوسروں کی ہم سر ی بھی  نہ کرسکیں۔

جولائی، 2014 بشکریہ: ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nazeer-naji/paucity-of-scientific-achievements-among-muslims--سویرے-سویرے/d/98450


 

Loading..

Loading..