certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (21 Mar 2020 NewAgeIslam.Com)



Delhi Violence Not Riots but Planned Attack دہلی تشدد فسادات نہیں منصوبہ بند حملہ


ناز اصغر

17مارچ،2020


گزشتہ ماہ دہلی کے شمال۔ مشرق علاقے میں ہوئے فسادات کے تعلق سے بہت سے انکشافات کیے گئے ہیں۔ جس کی رُو سے اس کو بعض افراد اس کو فرقہ وارانہ فسادات کہہ رہے ہیں، لیکن کئی ایسی باتیں اس حوالے سے سامنے آئی ہیں جس سے اس کو فرقہ وارانہ فساد نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس تعلق سے ہم نے متاثر علاقہ شیو وہار کی گلیوں میں تباہ شدہ مکانات کا جو منظر دیکھا وہ خوفناک داستان بیان کرتا ہے۔ ساتھ ہی ہم نے علاقے کے لوگوں سے بات چیت کی۔ جو دہلی کے حالیہ تشدد میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، یہاں بھی نہیں بچا، اس سے زیادہ تشویش ناک او رشبہ کی بات یہ ہے کہ یہاں جو کچھ ہوا وہ فسادات نہیں تھے، بلکہ لوگوں پر منظم اور منصوبہ بند طریقے سے حملے کئے گئے۔شہریت (ترمیمی) قانون (سی ا ے اے) اور این آر سی کے خلاف ہونے والے مظاہرہ سے یہاں تناؤ کی صورت حال کافی عرصے سے تھی۔ لیکن حالیہ دنوں میں دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج کے کچھ دن بعد اس میں مزید شدت پیدا ہوگئی، جس میں بی جے پی،اردوند کجریوال کی قیادت میں عام آدمی پارٹی سے بری طرح ہارگئی۔یہاں کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آخر کار 24فروری کوپیدا کشیدگی کی صورت حال نے فسادات کی شکل اختیار کر لی جو مقامی لوگوں کے ذریعہ نہیں بلکہ باہر کے لوگوں کے ذریعہ انجام دیئے گئے۔

”اس کو فسادات کہنا مناسب نہیں ہوگا، کیونکہ ایک برادری نے یہاں صرف اپنا دفاع کیا جب کہ دوسری جانب باہر سے ہزاروں کی تعداد میں مسلح غنذے لائے گئے تھے۔ کچھ سیاسی رہنما ؤں نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ اگر پولیس نے جعفرآباد میٹرو اسٹیشن کے نیچے چل رہے سی اے اے مخالف دھرنے کی جگہ کو خالی نہیں کرایا تووہ خود اس جگہ کو خالی کرائیں گے۔ اوریہ انہوں نے کیا،“ شیووہار کے علاقے میں مقیم اقلیتی طبقے کے ایک نوجوان نے بتایا۔

”انہوں نے ایک تین منزلہ عمارت کے اوپر سے ہی پوزیشن لے رکھی تھی اور نیچے کے لوگوں پر گولیاں چلارہے تھے،جس طرح ہمارے علاقے میں لوگ ہدف بنائے گئے۔ اس سے لوگ اپنا دفاع خود کرنے پر مجبور ہوگئے، کیونکہ پولیس کو بار بار فون کرنے کے باوجود پولیس ان کی مدد کو نہیں آئی۔ ایسا ایک اقلیتی برادری کے ایک اورنوجوان نے بتایا۔

یہ علاقہ ایک ہندو اکثریتی علاقہ ہے جس میں مسلمان بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں، اور دونوں ہی برادری برسوں سے یہاں پر امن طور پر اہم آہنگی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔مسلمان اگرچہ تعداد میں کم ہیں، لیکن انہیں اپنے ہندو ہمسایوں کی طرف سے کبھی کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا، اور دونوں برادریاں ہولی اور عید پر امن طریقے سے بھائی چارے اور پیار و محبت سے مناتے چلے آرہے ہیں اور ایک دوسرے کے تہوار میں شریک ہوتے رہے ہیں۔

چنانچہ جب پچھلے مہینے کی 24تاریخ کو تشدد ہوا تو وہ بے خبرتھے۔”یہ مقامی لوگ نہیں تھے، ہمیں انداز ہ نہیں ہے۔ ان کاتعلق اس علاقے سے نہیں تھا،“ ایک مسلمان نوجوان گڈو اور اس کا ہمسایہ اجیت پال سنگھ جواس علاقے میں سڑک کے داخلی مقام پر رہتے ہیں کہ مطابق جب بلوائی علاقے کے ایک سرے پر پہنچے توان کاگھر دوسرے کنارے پر ہونے کی وجہ سے بھیڑ سے بچ کر بھاگنے میں کامیاب رہے۔ میناکشی اور لکشمی بھی گڈو کے پڑوسی ہیں، یہ نہیں سمجھ سکے کہ کس کا کیا نقصان ہوا اور ہجوم کہاں سے آیا۔ یہ مقامی لوگوں کاکام نہیں ہوسکتا۔ اور ایسا کیسے ہوسکتا تھا کیونکہ ہم اپنے مسلمان پڑوسیوں کے ساتھ اتنے سالوں سے سکون سے رہ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نہیں جانتے کہ ہجوم کہاں سے آیا ہے۔

شاکر علی جس کا مکان اور دکان جواس کی عمارت کے گراؤنڈ فلور پر ہے پیٹرول بموں او رایل پی جی سیلنڈر وں سے دھماکے سے اڑادیا گیاتھا، اس نے بتایا کہ اس حملے میں اور اس طرح کے ہتھیار جس میں مکانات کو جلایا گیا تھا سے معلوم ہوتا ہے کہ منصوبہ بند طریقے سے انجام دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ”اگر چہ ہمارے ہندو ہمسایہ اس حملے میں ملوث نہیں تھے، لیکن جس طرح اقلیتی برادری کے مکانوں کو منتخب کر کے نشانہ بنایا گیا،اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ مقامی سماج دشمن عناصر نے ہمارے گھروں کی نشاندہی کرنے میں ہجوم کی مدد کی ہوگی۔“

مقامی لوگوں کے درمیان رہ کر تبادلہئ خیال وہاں کی صورتحال پر گہری نگاہ ڈالنے سے شاکر علی اور اس کی برادری کے متعدد دیگر افراد کے دعوے کی تصدیق ہوتی ہے۔ شیو وہار میں پارکنگ والے علاقوں میں آتش زنی کے واقعات پر ایک نظر ڈالنے سے بھی یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اقلیتی فرقہ کونشانہ منصوبہ بندطریقے سے او رنشاندہی کر کے بنایا گیا ہے۔ شیووہار میں دو پڑوسی جن میں سے ایک ہندو او رمسلمان ہیں اپنے لوٹے ہوئے مکانوں کے سامنے بیٹھے ہیں۔ لوگوں کی جان بچانے میں پولیس کی ناکامی ایک عام شکایت ان دنوں دیکھنے میں آئی تھی۔ ایسی مثالیں کم دیکھنے میں آئی ہیں کہ لوگوں کی مدد کیلئے فورس بروقت آئی ہو، اور لوگوں کوبچانے کے لئے دیری کی گئی۔

”پولیس نے ہماری مدد کرنے کی بجائے، تباہی کی صورتحال میں انہوں نے سڑکیں بند کیں، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ متعدد افراد اپنے گھروں یا اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب کی حفاظت تک نہیں پہنچ سکے اور بیچ سڑک پر پھنسے رہے اور بالآخر فسادیوں کاشکار بن گئے۔ علاقے کے ایک نوجوان نے بتایا کہ کوئی پولیس اہلکار ان کی مدد کے لئے نہیں آیا۔انہوں نے کہا،”جب ہجوم نے گھروں کا جلانا شروع کیا، ہم نے پولیس کو فون کرنا شروع کیا، لیکن گھنٹوں تک انہیں بچانے کے لئے نہیں آئی جس سے کہ انہیں بچایا جاسکتا۔ او رپھر کسی طرح ہمارے ہندو ہمسایوں کی مدد سے ہم فرار ہونے میں کامیاب ہوئے اور بچ سکے۔“ وہ بزرگ خواتین نے کہا گھنٹوں فون کرنے کے بعد، تین پولیس اہلکاروں کی ایک ٹیم آئی، اور ان میں سے ایک نے ہمیں بتایا کہ ”آپ ’آزادی‘ (آزادی) کے لئے بہت رو رے تھے،لہٰذا یہ اس کا پھل ہے، حالانکہ دیگر دو پولیس اہلکار نے اپنے ساتھی کے ذریعہ ایسا کہنے سے منع کیا۔”لیکن ہم نے کب یہ آزادی طلب کی، ہم نے زندگی میں کبھی نہیں کیا، ”معاشرے کے کچھ کمزور طبقوں سے تعلق رکھنے والے طبقوں کو نا انصافی، ظلم سے نجات پانے والی ’آزادی‘ سی اے اے مخالف مظاہرین کا مقبول نعرہ تھا۔

مصطفی آباد عید گاہ امدادی کیمپ میں شیووہار سے تعلق رکھنے والی ایک غریب عورت یہ سمجھ نہیں پا رہی ہے کہ آخر اس نے ایسا کیا کیا ہے جو اس کو اس طرح نقصان پہنچا یا گیا ہے۔”آخر ہمارا کیا جرم ہے۔ ہم خواتین، شاہین باغ کی طرح پرُامن مظاہرہ کررہے تھے۔ جس کے بارے میں ہمیں پتا چلا کہ یہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہے۔ ہم کسی کو کوئی تکلیف نہیں دے رہے تھے۔ معصوموں پر کیوں حملہ کیاگیا انہیں کیوں جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔ فسادات کے مجرمین کو چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان،ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروائیں،انہیں گرفتار کریں۔ کوئی مسئلہ نہیں۔“

مصطفی آباد کے ایک نوجوان نے بتایا،”یہ وہ منظر تھا جو قیامت (قیامت کے دن) سے کم نہیں تھا،موت اور تباہی تھی، چاروں طرف بھیڑ کی تنگ گلیوں میں گھروں سے دھواں اور آگ بھڑک رہاتھا، خواتین، بچوں اور بوڑھے ہمارے علاقے سے باہر لائے جانے والے پر تشد دہجوم کے ذریعہ انہیں ماردو کے نعروں کے بیچ روتے ہوئے اپنی جان بچانے کے لئے بھاگ رہے ہیں۔شیو وہار سے متصل گوکلپوری کی مرکزی سڑک پر اقلیتی برادری کا ٹائر بازار پوری طرح سے جلا کر راکھ کر دیا گیا ہے جس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔

اسٹور جو مصطفی آباد سے متصل ہے، کو ایک ہجوم نے آگ لگادی تھی، وہ جاننا چاہتا ہے کہ ”کس کو اس جنون سے فائدہ ہوا ہے۔ اس بے وقوفانہ تشدد نے سب کو بھگدڑ میں مبتلا کردیا ہے“۔

بھگیرتھی وہار میں اس کی برادری کے لوگوں کابھی یہی رد عمل تھا جہاں روہت کی دکان اور اس کلینک کو ایک دوسری برادری کے ذریعہ کلینک کو آگ کے حوالے کردیا گیا تھا۔ دونوں برادری کی بہت ساری قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں، لیکن زیادہ تر افراد اقلیت طبقے سے تعلق رکھنے والے اس تشدد میں تھے جسے دہلی نے کبھی نہیں دیکھا، سوائے 1984کے سکھ مخالف حملوں کے۔ اگرچہ سرکاری اعداد وشمار صرف 53ہیں، غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق بہت سارے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس دورے میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ امدادی کام ناکافی ہیں۔ شیو وہار کی گلیوں میں کوئی بھی مرد او رخواتین کو اپنے جلے ہوئے گھروں کے ٹوٹے دروازے پر بیٹھے ہوئے اپنے ٹوٹے ہوئے او رجلے ہوئے برتنوں اور دیگر گھریلوں چیزوں کو نمناک آنکھوں سے دیکھتے ہوئے پایا جاسکتا ہے۔ اگرچہ، اب کئی سرکاری کارکن نقصانات کی توثیق کرنے اور فوری امداد کے طور پر کچھ نقد رقم تقسیم کرنے کے لئے گھوم رہے ہیں، لیکن اس خطے میں مسلمانوں کو جس بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی تلافی میں کئی دہائیاں لگیں گی۔

17مارچ، 2020  بشکریہ: روزنامہ میرا وطن، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/naz-asghar/delhi-violence-not-riots-but-planned-attack--دہلی-تشدد-فسادات-نہیں-منصوبہ-بندحملہ/d/121364


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism






TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content