New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 05:58 PM

Urdu Section ( 26 Jan 2014, NewAgeIslam.Com)

History of Namaz in Islam: Friday Sermon and Namaz e Eidan (18) (اسلام میں نماز کی تاریخ - جمعہ کا خطبہ اور نمازِ عیدین (18

 

ناستک درانی ، نیو ایج اسلام

 

27جنوری، 2013

 

سیرت واخبار کی کتابوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے خطبہ جمعہ کے متن کو نقل کیا ہے جو آپ نے مسجد بنی سالم میں اپنی پہلی نمازِ جمعہ پڑھاتے وقت پڑھا تھا، میں نے مذکورہ مصادر میں اس خطبہ کے متن کا مطالعہ کیا ہے اور میں نے پایا ہے کہ یہ ہر جگہ مختلف ہے، کسی مصدر میں یہ طویل ہے تو کسی میں مختصر ہے مزید برآں اس کا متن بھی ہر جگہ مختلف ملتا ہے، طبری نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خطبہ کو یوں نقل کیا ہے:

الحمد للہ احمدہ واستعینہ واستغفرہ واستہدیہ واؤمن بہ ولا اکفرہ، واعادی من یکفرہ، واشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وان محمدا عبدہ ورسولہ، ارسلہ بالہدی والنور والموعظۃ علی فترۃ من الرسل وقلۃ من العلم وضلالۃ من الناس وانقطاع من الزمان ودنو من الساعۃ وقرب من الاجل، من یطع اللہ ورسولہ فقد رشد، ومن یعصہما فقد غوی وفرط وضل ضلالاً بعیداً، واوصیکم بتقوی اللہ فان اخیر ما اوصی بہ المسلم المسلم ان یحضہ علی الآخرۃ وان یامرہ بتقوی اللہ فاحذروا ما حذرکم اللہ من نفسہ ولا افضل من ذلک نصیحۃ ولا افضل من ذلک ذکراً، وان تقوی اللہ لمن عمل بہ علی وجل ومخافۃ من ربہ عون صدق علی ما تبغون من امر الآخرۃ، ومن یصلح الذی بینہ وبین اللہ من امرہ فی السر والعلانیۃ لا ینوی بذلک الا وجہ اللہ یکن لہ ذکراً فی عاجل امرہ وذخراً فیما بعد الموت حین یفتقر المرء الی ما قدم وما کان من سوی ذلک یود لو ان بینہا وبینہ امداً بعیداً، ویحذرکم اللہ من نفسہ، واللہ رؤوف بالعباد، والذی صدق قولہ وانجز وعدہ لا خلف لذلک فانہ یقول عز وجل ما یبدل القول لدی وما انا بظلام للعبید، فاتقوا اللہ فی عاجل امرکم وآجلہ، فی السر والعلانیۃ فانہ من یتق اللہ یکفر عنہ سیئاتہ ویعظم لہ اجراً ومن یتق اللہ فقد فاز فوزاً عظیماً، وان تقوی اللہ یوقی مقتہ، ویوقی عقوبتہ، ویوقی سخطہ، وان تقوی اللہ یبیض الوجوہ، ویرضی الرب، ویرفع درجۃ، خذوا بحظکم ولا تفرطوا فی جنب اللہ، قد علمکم اللہ کتابہ، ونہج لکم سبیلہ لیعلم الذین صدقوا ویعلم الکاذبین، فاحسنوا کما احسن اللہ الیکم، وعادوا اعداءہ، وجاہدوا فی اللہ حق جہادہ، ہو اجتباکم وسماکم المسلمین لیہلک من ہلک عن بینۃ ویحیا من حی عن بینۃ ولا قوۃ الا باللہ، فاکثروا ذکر اللہ واعملوا لما بعد الیوم فانہ من یصلح ما بینہ وبین اللہ یکفہ اللہ ما بینہ وبین الناس ذلک بان اللہ یقضی علی الناس ولا یقضون علیہ ویملک من الناس ولا یملکون منہ، اللہ اکبر ولا قوۃ الا باللہ العظیم“ 1۔

دیگر راویوں کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد بنی سالم میں پہلا خطبہ جمعہ اس طرح تھا:

حمد للہ، واثنی علیہ بما ہو اہلہ، ثم قال: اما بعد، ایہا الناس، فقدموا لانفسکم، تعلمن واللہ لیصعقن احدکم ثم لیدعن عنمہ لیس لہ داع، ثم لیقولن لہ ربہ لیس لہ ترجمان ولا حاجب یحجبہ دونہ، الم یاتک رسولی فبلغلک؟ وآتیتک مالاً وافضلت علیک؟ فما قدمت لنفسک؟ فلینظرون یمیناً وشمالاً فلا یری شیئاً ثم لینظرون قدامہ فلا یری غیر جہنم، فمن استطاع ان یقی وجہہ من النار ولو بشقۃ من تمرۃ فلیفعل، ومن لم یجد فبکلمۃ طیبۃ، فان بہا تُجزی الحسنۃ عشر امثالہا الی سبع مئۃ ضعف، والسلام علی رسول اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“ 2۔

ابن القیم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج کل کے خطیبوں کا جیسے فیشن ہے مثلاً بڑے بڑے رومال سر پر باندھنا اور پشت اور گردن پر لٹکا لینا آپ ایسا نہ کرتے، آپ کے منبر کی تین سیڑھیاں تھیں، جب آپ اس پر تشریف رکھتے اور لوگوں کی طرف چہرہ انور کر لیتے تو مؤذن کہتا اور آپ اذان سے پہلے کچھ نہ فرماتے اور نہ بعد میں کچھ بات کرتے، پھر جب آپ خطبہ پڑھتے تو مؤذن یا کوئی اور آدمی کوئی بات نہ کرتا، جب آپ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ عصائے مبارک لے لیتے اور آپ منبر پر کھڑے کھڑے اس کا سہارا لیتے، ابو داؤد نے ابن شہاب سے اس طرح روایت کیا ہے اور تینوں خلفاء بعد میں اس طرح خطبہ دیتے رہے ہیں اور کبھی آپ کمان پر سہارا لگا لیتے، یہ معلوم نہیں کہ آپ نے تلوار پر بھی ٹیک لگائی ہے یا نہیں، بعض جاہل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ منبر پر بیٹھ کر تلوار ہاتھ میں لے لیتے اور یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ دین تلوار سے قائم کیا گیا، یہ واضح قسم کی جہالت ہے اور اس کے دو اسباب ہیں ایک تو یہ کہ حدیث میں صاف آتا ہے کہ آپ عصا اور کمان پر ٹیک لگاتے اور دوسری بات یہ ہے کہ دین تو وحی کے ذریعہ قائم ہوا، ہاں تلوار مشرکین اور گمراہ لوگوں کو مٹانے والی ہے اور مدینہ منورہ تو صرف قرآنِ پاک ہی سے فتح ہوچکا تھا یہاں تو تلوار کی ضرورت ہی لاحق نہ ہوئی تھی 3۔

خطیب کا عصا یا کمان پر ٹیک لگانا ایک قدیم عرب روایت ہے، جاہلیت میں خطیب ٹیک لگانے والے کسی عصا کے بغیر خطاب نہیں کرتے تھے، وہ کمانوں سے ٹیک لگاتے تھے اور عصا یا نیزے سے اشارہ کیا کرتے تھے، کچھ صلح کے خطبوں میں عصا کا استعمال کرتے اور جنگوں کے خطبوں میں کمانوں کا استعمال کیا کرتے تھے 4۔

جاہلیت میں عرب سردار جب لوگوں میں کسی فیصلہ کے لیے بیٹھتے تو عصا کا استعمال کرتے اور بیٹھنے کے لیے منبر کا، ربیعہ بن مخاشن یا اس کے والد ”مخاشن“ کو ذی الاعواد یعنی چھڑیوں والا کہا جاتا تھا، اہل اخبار کہتے ہیں کہ انہیں ایسا اس لیے کہا جاتا تھا کہ وہ سب سے پہلے لوگ تھے جو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے منبر پر بیٹھے تھے۔

ہم نے اکثر یہ عبارت پڑھی ہے ”وہو ممن قرعت لہ العصا“ (وہ ان میں سے ہے جن کے لیے عصا بجایا گیا) اور ”ان العصا قرعت لذی الحلم“ (عصا صاحب فہم کے لیے بجایا گیا) اور ”سب سے پہلے عصا عامر بن الظرب العدوانی کے لیے بجایا گیا“ 5، ہم نے پایا ہے کہ اس کا ذکر سرداروں کے ذکر کے ساتھ منسلک رہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ یا لوگوں کے کسی معاملہ پر غور کے دوران عصا یا کمان کا استعمال عربوں کی ایک قدیم عادت تھی ناکہ تلوار اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد جو راشدین آئے انہوں نے عصا پر ٹیگ لگائے تلواروں پر نہیں۔

نمازِ عیدین

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عید، عیدگاہ میں یوم الفطر کو خطبہ سے پہلے پڑھی، نمازِ عید یوم الاضحی میں (خطبے سے پہلے) پڑھی اور قربانی کا حکم دیا، آپ عید کی نماز خطبے سے پہلے بغیر اذان واقامت کے پڑھا کرتے تھے، آپ کے آگے ایک ٹیڑھی موٹھ کی لکڑی (سترہ کے لیے) اٹھا کر لگا دی جاتی تھی (کہ گزرنے والوں کا نماز میں سامنا نہ ہو) یہ لکڑی زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کی تھی جس کو وہ ملک حبشہ سے لائے تھے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی تھی 6۔

عیدگاہ مدینہ کے مشرقی دروازہ کے پاس تھی، اس میں کوئی عمارت یا دیوار نہیں تھی، عیدین کی نماز پڑھنے کے لیے آپ عیدگاہ چل کر جاتے، مسجد میں آپ نے صرف ایک مرتبہ نماز عید پڑھی جب بارش ہوگئی تو آپ نے مسجد میں نمازِ عید پڑھائی، جاتے وقت آپ سب سے بہترین لباس زیب تن فرماتے، آپ کے پاس ایک لباس تھا جسے عیدین اور جمعہ کے موقع پر زیبِ تن فرماتے، ایک بار آپ نے دو سبز چادروں اور ایک بار سرخ چادر کا استعمال فرمایا لیکن یہ چادر شوخ سرخ نہ تھی 7، آپ نمازِ عید الفطر کے لیے جانے سے قبل چند کھجوریں تناول فرما لیتے، آپ انہیں وتر (طاق عدد) میں کھاتے، البتہ عید الاضحی کے موقع پر عید گاہ سے واپس آجانے تک کچھ نہ کھاتے، واپسی کے بعد آپ اپنی قربانی سے کھاتے 8۔

دونوں عیدوں کی نماز سے قبل آپ غسل فرماتے اور پیدل تشریف لے جاتے، نیزہ آپ کے آگے آگے لے جایا جاتا، جب عیدگاہ میں پہنچتے تو آپ کے سامنے نصب کردیا جاتا تاکہ اس کی آڑ بنا کر نماز پڑھ سکیں، آپ عید الفطر کی نماز میں تاخیر فرماتے اور عید الاضحی کی نماز میں تعجیل فرماتے 9۔

طبری نے ذکر کیا ہے کہ ہجرت کے دوسرے سال ٹیڑھی موٹھ کی لکڑی عید گاہ لے جائی گئی جو نماز کے لیے آپ کے آگے لگائی گئی، یہ زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کی تھی جسے نجاشی نے انہیں تحفتاً دی تھی، عیدوں میں یہ آپ کے آگے آگے لے جائی جاتی، آج یہ لکڑی جیسا کہ مجھے علم ہوا ہے مدینہ میں مؤذنین کے پاس ہے 10۔

طبری نے ذکر کیا ہے کہ نمازِ عید ہجرت کے دوسرے سال پڑھائی گئی 11، یہ بھی آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں دس سال قیام کیا اور وہ ہر سال قربانی کیا کرتے تھے 12، اور یہ کہ ماہِ رمضان کے روزے قبلے کے کعبہ کی طرف بدلنے کے ایک ماہ بعد فرض ہوئے 13۔

یہ بھی مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر کے دون دن پہلے لوگوں سے خطاب فرمایا اور انہیں زکاۃ الفطر سکھائی، اور عید کے دن عیدگاہ کی طرف گئے اور عید الفطر پڑھائی 14، اس طرح زکاۃ الفطر اسی نماز کے ساتھ فرض ہوئی۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز مکمل کر لیتے تو فارغ ہونے کے بعد لوگوں کے مقابل کھڑے ہوجاتے، لوگ صفوں پر بیٹھے ہوتے، آپ ان کے سامنے وعظ کرتے، وصیت کرتے اور امر ونہی فرماتے اور اگر لشکر بیھجنا چاہتے تو اسی وقت بھیجتے یا کسی بات کا حکم کرنا ہوتا تو حکم فرماتے، عیدگاہ میں کوئی منبر نہ تھا جس پر چڑھ کر وعظ فرماتے ہوں نہ مدینہ کا منبر یہاں لایا جاتا بلکہ آپ زمین پر کھڑے ہوکر تقریر کرتے، آپ لوگوں کو اپنے خطبہ میں صدقے کی تلقین کرتے اور کہتے: صدقہ کرو، یہ سن کر اکثر عورتیں مختلف اشیاء، انگوٹھی اور بندوں کا صدقہ کرتیں 15۔

جب آپ قربانی کرنا چاہتے تو دو مینڈھے خریدتے جو خوب فربہ سینگ والے اور چربی والے ہوتے، جب آپ نماز وخطبہ پڑھ لیتے تو ان میں سے ایک کو لایا جاتا، مقامِ نماز پر کھڑے کھڑے اسے اپنے ہی دستِ مبارک سے چھری سے ذبح فرماتے تھے، پھر فرماتے تھے کہ اے اللہ یہ میری اس تمام امت کی طرف سے ہے جو تیری توحید اور میری رسالت کی گواہی دے، پھر دوسرے کو لایا جاتا، اسے آپ اپنی طرف سے اپنے ہی ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد کی طرف سے ہے، ان دونوں میں سے آپ اور اہلِ بیت نوش فرماتے تھے اور مساکین کو بھی کھلاتے تھے، آپ (محلہ) طرف الزقاق کے قریب مکانِ معاویہ کے پاس ذبح فرماتے تھے 16۔

حوالہ جات:

1- الطبری 394/2۔

2- المقریزی، امتاع الاسماع 46/1، زاد المعاد 99/1 مقریزی کی امتاع الاسماع کے متن سے بعض مقامات پر متن مختلف ہے۔

3- زاد المعاد 48/1۔

4- بلوغ الارب 153/3۔

5- بلوغ الارب 316/1، الیعقوبی 299/1، اللسان 316/4، تاج العروس 440/2، Becker, I, S., 458. ff۔

6- طبقات ابن سعد 248/1، المقریزی امتاع الاسماع 103/1، ابن سید الناس، عیون الاثر 239/1۔

7- ابن قیم الجوزیہ، زاد المعاد 121/1۔

8- زاد المعاد 121/1۔

9- زاد المعاد 121/1۔

10- الطبری 418/2۔

11- الطبری 418/2 دار المعارف۔

12- طبقات ابن سعد 248/1۔

13- ابن سید الناس، عیون الاثر 238/1۔

14- المقریزی، امتاع الاسماع 103/1، ابن سید الناس، عیون الاثر 238/1۔

15- زاد المعاد 122/1۔

16- طبقات ابن سعد 249/1۔

URL for Part 1:

http://www.newageislam.com/urdu-section/history-of-namaz-in-islam--part-1-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نماز-(1/d/14330

 

URL for Part 2:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam-ناستک-درانی/history-of-namaz-in-islam--part-2-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نماز-(2/d/34490

 

URL for Part 3:

http://www.newageislam.com/urdu-section/history-of-namaz-in-islam-part-3--(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ-–-نماز-کی-شکل-اور-با-جماعت-نماز-(3/d/34528

 

URL for Part 4:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam--ناستک-درانی/history-of-namaz-in-islam--part-4--(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نماز-کے-اوقات-اور-ان-کی-تعداد-(4/d/34567

 

URL for Part 5:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namaz-in-islam--part-5-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---اسلام-میں-نماز-(5/d/34616

 

URL for Part 6:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam-ناستک-درانی/history-of-namaz-in-islam--part-6-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---اسلام-میں-نماز--(6/d/34778

 

URL for Part 7:

http://newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namaz-in-islam-part-7--performing-tahajjud-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---رات-كا-قيام-(7/d/34836

URL for Part 8:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namza-in-islam-(part-8)--namaz-of-two-reka-ats-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---دو-رکعت-کی-نماز-(8/d/34896

 

URL for Part 9:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam--ناستک-درانی/history-of-namza-in-islam-(part-9)--first-ever-offered-namaz--(اسلام-مں--نماز-کی-تاریخ---پہلی-نماز۔-حصہ-(9/d/34960

 

URL for Part 10:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namza-in-islam-(part-10)--namaz-of-a-traveller-and-that-of--a-settled-person-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---مقیم-اور-مسافر-کی-نماز-(10/d/35015

 

 URL for Part 11:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namza-in-islam-(part-11)--azaan-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ-–-اذان-(11/d/35032

 

 URL for Part 12:

http://www.newageislam.com/urdu-section/history-of-namaz-in-islam-(part-12)--minaret-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---مینار-(12/d/35071

 

URL for Part 13:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namaz-in-islam-(part-13)---purification,-ablution-and-tayammum-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---طہارت-وضوء-اور-تیمم-(13/d/35144

 

URL for Part 14:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-islam--qiblah-(part-14)-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---قبلہ-(14/d/35182

 

URL for Part 15:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namaz-in-islam--the-arch,-reciting-surah-e-fatiha-and-speaking-during-namaz-(15)-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---محراب،-نماز-میں-فاتحہ-پڑھنا-اور-بولنا-(15/d/35248 

URL for Part 16:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namaz-in-islam--namaz-and-prohibition-of-alcohal-(part-16)-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نماز-اور-شراب-کا-حرام-قرار-دیا-جانا-(16/d/35352

URL for Part 17:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namaz-in-islam--friday-namaz-(17)-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نمازِ-جمعہ-(17/d/35376

 

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namaz-in-islam--friday-sermon-and-namaz-e-eidan-(18)-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---جمعہ-کا-خطبہ-اور-نمازِ-عیدین-(18/d/35461

 

Loading..

Loading..