New Age Islam
Sat Oct 16 2021, 11:14 PM

Urdu Section ( 25 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Rulers of Ummah امت کے حکمران

 

 ناستک درانی،  نیو ایج اسلام

26اگست، 2013

تاتاریوں کے وڈیرے ہلاکو خان نے 1258ء میں مسلمانوں کے خلیفہ المستعصم باللہ کو ایک خط لکھا جس میں اس نے اپنے سفارتکاروں کی بغداد میں ”خواری” پر غم وغصہ کا اظہار کیا جو اس وقت کے سفارتکاری کے اصولوں کے نہ صرف برخلاف تھا بلکہ اس سے منگولوں اور خاص طور سے ان کے وڈیرے ہلاکو کی شان وہیبت میں کمی واقع ہوئی تھی..
المستعصم باللہ نے ہلاکو کو عربی طرز کا ایک دھمکی آمیز جواب لکھا جس میں کہا گیا کہ ”ان جيوش الخليفة سوف تلعن سنسفيل هولاكو” یعنی خلیفہ کی فوج ہلاکو کی ایسی تیسی کردے گی اور ہم یہ اور وہ کردیں گے وغیرہ وغیرہ جیسا کہ ہمارے حکمران جنگوں سے قبل اور بعد اپنی پرجوش تقاریر میں دھمکیاں ٹکایا کرتے ہیں حالانکہ ان میں بزور طاقت اپنی دھمکی پر عمل درآمد کرنے کی ذرا سی بھی سکت نہیں ہوتی بالکل جس طرح ہمارے ہر دلعزیز لیڈر جمال عبد الناصر نے جون 1967ء کی جنگ سے ایک ہفتہ قبل اپنے ایک فوجی ہوائی اڈے میں ایک تڑتڑاتی ہوئی تقریر کرتے ہوئے اسرائیل کو دھمکی پلائی تھی کہ ” إذا أردتم الحرب فأهلاً وسهلاً ” یعنی اگر تم جنگ چاہتے ہو تو ہم تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں.. اسرائیل نے ان کی دعوت پر لبیک کہا اور صرف چند گھنٹوں میں عبد الناصر کے نہ صرف تمام ہوائی اڈے تباہ کردیے بلکہ سیناء اور جولان پر بھی قبضہ کرلیا مگر عبد الناصر کی فوج ان پر ایک گولی تک نہ چلا سکی!؟
ہلاکو کو المستعصم کے بدتمیزانہ جواب پر سخت غصہ آیا چنانچہ وہ تقریباً دس لاکھ کی نفری پر مشتمل تین فوجی دستوں کے ہمراہ بغداد کی طرف نکل کھڑا ہوا..
المستعصم باللہ کی انٹیلی جینس کو اس بات کی بھنک پڑ گئی اور انہوں نے بغداد میں اعلی قیادت کو اس بات سے بر وقت آگاہ کردیا، خلیفہ کے پیارے وزیر ابن العلقمی نے ایک قومی کانفرس بلائی جس میں جنرل سلیمان شاہ بھی تھا، سلیمان شاہ نے خلیفہ کو تجویز دی کہ وہ بغداد کے دفاع کے لیے خصوصی فوجی دستہ تیار کریں، خلیفہ نے تجویز مان لی اور سلیمان شاہ نے لاکھوں مسلمانوں کو فوج میں بھرتی کرنے کا کام شروع کردیا مگر پھر اچانک خلیفہ یہ کہہ کر اپنی بات سے پھر گیا کہ خلافت کا خزانہ خالی ہے اور وہ اتنی بڑی فوج کے اخراجات اور تنخواہیں برداشت نہیں کر سکتے، چنانچہ سارے فوجی اپنے گھروں کو چلے گئے اور بغداد کی حفاظت کے لیے صدامی طرز کا 
 الحرس الجمہوری” رہ گیا جس کا اصل کام صرف خلیفہ کے محلوں کی حفاظت کرنا تھا.
ہلاکو کی ساری فوج بیک وقت بغداد پہنچی اور شہر کی حدود پر خیمہ زن ہوکر شہر کی فصیلوں پر منجنیقوں سے اتنے وار کیے کہ ایک برج حملے کی تاب نا لاکر ڈھے گیا اور ہلاکو کے کمانڈوز شہر کی مشرقی فصیلوں پر قابض ہوگئے اور اس طرح بغداد ان کے رحم وکرم پر آگیا..
خلیفہ المستعصم باللہ نے جب یہ صورتحال دیکھی تو اس کی اکڑ اور عقل دونوں ٹھکانے پر آگئیں، اس نے اپنے بیٹے اور ولی عہد کو ہلاکو سے مذاکرات کرنے بھیجا، ہلاکو نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور خلیفہ کی ساری فوج غیر مسلح ہوکر بغداد سے نکل کر ان کے پاس آجائے تو انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا، جب ایسا ہوا تو ہلاکو اپنی بات سے پھر گیا اور ہزاروں افسروں اور فوجیوں کو اہل بغداد اور ولی عہد معظم کی آنکھوں کے سامنے قتل کردیا..
اس کے بعد ہلاکو خان بڑے مزے سے چاکلیٹ کھاتے ہوئے بغداد میں داخل ہوا، خلیفہ کو گرفتار کروا کر اپنے پاس بلایا، پہلے ہی تھپڑ پر خلیفہ نے محل کے دالان میں خالص سونے سے بھرے ایک حوض کی موجودگی کا اعتراف کرلیا.. ہمذانی اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں: ” مختصر یہ کہ جو کچھ بنی عباس کے خلیفوں نے پانچ صدیوں میں جمع کیا تھا منگولوں نے اسے ایک دوسرے کے اوپر رکھا تو وہ ایسا لگ رہا تھا جیسے پہاڑ کے اوپر پہاڑ ”
دولت کے اس ڈھیر کے بعد ایک اور ڈھیر بھی دریافت کیا گیا، ہلاکو نے خلیفہ کی بیویاں شمار کرنے کا حکم دیا تو پتہ چلا کہ ظلِ الہی کی فقط 750 بیویاں ہیں جبکہ خادماؤں کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہے..!!
ہلاکو نے یہ ساری عورتیں اپنے افسروں اور فوجیوں میں تقسیم کیں اور خلیفہ المستعصم باللہ کا سر کاٹ کر اپنے فوجیوں کے حوالے کردیا جنہوں نے دجلہ کے کنارے اس سے فٹبال کھیلا.. اس کے بعد ہلاکو نے بغداد میں تین دن تک خون کی ہولی کھیلی اور کوئی اسی لاکھ انسانوں کو بغداد کی گلیوں میں لقمہ اجل بنایا.. تین دن کے بعد ہلاکو خان اور اس کی فوج کو بغداد سے مجبوراً نکلنا ہی پڑا.. ڈر کے مارے نہیں.. سڑی ہوئی لاشوں سے اٹھتے تعفن کی وجہ سے..!!
حق تو یوں ہے کہ ہمارا حکمران بے چارہ معذور ہے.. جس شخص کی 750 بیویاں ہوں اسے بیویوں کی اس فوج کے ساتھ سونے اور ہمبستر ہونے سے فرصت ہی کہاں ملے گی کہ وہ کسی اور چیز کے بارے میں سوچے.. اور پھر یہ کہاں کی خرد مندی ہے کہ پانچ صدیوں تک جمع کی گئی باپ داداؤں کی دولت بغداد کو بچانے کے لیے فوجیوں میں تقسیم کردی جائے؟! چنانچہ ہلاکو بغداد میں اس طرح داخل ہوا جس طرح اسرائیل فلسطین میں داخل ہوا تھا.. ایک بھی پٹاخہ چلائے بغیر.. یہاں مجھے ایک بے چارے صحافی کا قصہ یاد آرہا ہے جس نے اردن کے شاہ حسین سے یہ پوچھنے کی جسارت کی تھی کہ: آپ اپنی کھربوں کی دولت میں سے صرف ایک فیصد روٹی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے سبسڈی کیوں نہیں دیتے؟ ظلِ الہی نے جواب دیا: یہ عوامی نہیں شاہی خاندان کی دولت ہے !! ظلِ الہی نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ دولت کہاں سے آئی اور کیونکر جمع ہوئی جبکہ ان کا دادا عبد اللہ مکہ سے بھاگ کر گدھے پر عمان داخل ہوا تھا !! بہر حال اس کے بعد وہ صحافی پھر کبھی نظر نہیں آیا.. اس کے کچھ ہی عرصہ بعد خلیجی ممالک سے مالی مدد کے سلسلے میں شاہ حسین خلیج کے دورے پر تھے جبکہ ملکہ نور پیرس میں شاپنگ فرما رہی تھیں.. کویت کے ایک اخبار نے سرخی لگائی ” شاہ بھیک مانگتا پھر رہا ہے اور ملکہ شاپنگ کر رہی ہے ”.
اللہ ہمارے حکمرانوں اور ان کی بیویوں پر رحم فرمائے اور ہلاکو پر اپنا عذاب نازل کرے کیونکہ اس نے ایسے گھر تباہ کیے جنہیں المستعصم باللہ اسلام اور مسلمانوں کے نام پر فتح کرتا !!

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam--ناستک-درانی/the-rulers-of-ummah-امت-کے-حکمران/d/13206

 

Loading..

Loading..