New Age Islam
Mon Sep 20 2021, 10:44 PM

Urdu Section ( 3 Jul 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Arabs Need a New Islam عربوں کو ایک نئے اسلام کی ضرورت ہے

 

ناستک درانی، نیو ایج اسلام

4 جولائی ، 2013

جب اسلام چودہ صدیاں قبل عربوں کے ہاں آیا تو انہیں اس کی اشد ضرورت تھی، اگر انہیں اس نئے مذہب سے یہ خطرہ نہ ہوتا کہ اس کی وجہ سے ان کا امن تباہ ہوسکتا ہے، ان کی تجارت اور مذہبی سیاحت ختم ہوسکتی ہے جو بتوں کی مرہونِ منت تھی اور غلام بدک جائیں گے تو وہ اس میں پہلے ہی لمحے جوق در جوق داخل ہوجاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرہ سال مکہ میں تبلیغ جیسا کٹھن کام نہ کرنا پڑتا جس کے نتیجہ میں صرف 150 لوگ ہی مسلمان ہو پائے، خاص طور سے جبکہ اسلام سے قریش قبیلے کو بالخصوص سب سے زیادہ فائدہ پہنچتا جو واقعتاً بعد میں پہنچا بھی، قبیلہ امیر ہوا، قریشیوں کے گھر، سڑکیں اور تجارت قیدیوں اور دولت سے بھر گئے اور مشرق سے مغرب تک اس نے ایک بڑی سلطنت پر چھ سو سال (632- 1258) مسلسل حکمرانی کی۔

تاہم دولت کے علاوہ قریش اور اس کے پیچھے عربوں نے اسلام سے تہذیبی اور ثقافتی فائدہ بھی اٹھایا کیونکہ مسلسل چھ صدیوں تک اسلامی سلطنت پر صرف عرب مسلمان قریشی ہی حکمران رہے، یاد رہے کہ یہ صرف عربی ہی نہیں بلکہ ایک ‘‘ اسلامی سلطنت’’ بھی تھی جس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی غریب پرساں حال شخص اس کا حکمران بن سکتا تھا بشرطیکہ وہ حکمرانی کے قابل ہوتا تاہم معلوم ہوتا ہے کہ قریشیوں کے علاوہ کوئی بھی شخص حکمرانی کے لیے اہل نہیں تھا، یہی بات دو سال پہلے تک عرب دنیا پر لاگو ہوتی تھی اور شاید اب بھی کسی حد تک لاگو ہوتی ہے جہاں قابل حکمران نا پید ہیں اور جو ہیں وہ انتہائی کم ہیں لہذا ایک ہی شخص دسیوں سالوں تک مسندِ اقتدار پر براجمان رہتا ہے۔

اسلام میں ایسی قومیں داخل ہوئیں جو تہذیبی، ادبی، فنی اور علمی طور پر ترقی یافتہ تھیں، اس کے نتیجے میں ‘‘ اسلامی تہذیب’’ وجود میں آئی، تاہم اسلام سے پہلے قائم ان تہذیبوں کے لیے اسلام ایک روحانی چادر تھی جو انہوں نے اوڑھ لی تھی، ان تہذیبوں نے مختلف تاریخی حالات کے پیشِ نظر ‘‘اسلامی تہذیب’’  کے سائے تلے رہنا قبول کر لیا تھا اور بعد میں جو بھی سائنسدان، مفکر، شاعر، فلسفی، زبان دان وغیر پیدا ہوئے وہ زیادہ تر انہی قوموں سے تعلق رکھتے تھے۔

عربوں نے اسلام کو قبول کر کے اسے خوش آمدید کہا اور اس سے چمٹے رہے کیونکہ یہ زندگی میں ایک ‘‘ خزانہ’’  ہونے کے ساتھ ساتھ ‘‘ تہذیبی چابی’’ اور ‘‘اقتدار کا مصدر’’ بھی تھا، اسی نے انہیں اقتدار اور دولت دی تھی لہذا اس سے چمٹے رہنا ضروری تھا ورنہ وہ بھوکوں مرجاتے اور زمین پر آوارہ گھومتے پھرتے کیونکہ دولت کے لیے ان کے پاس کوئی صنعت نہیں تھی اور پیٹ بھرنے کے لیے کوئی زراعت نہیں تھی، زمین کے پیٹ میں بھی کوئی قدرتی دولت نہیں تھی جو ان کا حال بدل سکتی لہذا رزق کے حصول کا صرف ایک ہی ذریعہ رہ گیا تھا اور وہ تھا جزیہ اور جنگوں کا مالِ غنیمت۔

جدید دور میں دوسری قوموں پر عسکری چڑھائی کرنے کے لیے اسلام کا ہتھیار کارگر نہیں رہا کیونکہ اسلام سے زیادہ طاقتور اور جدید زمینی نظریات وافکار موجود ہیں، جبکہ عالمی طاقتیں بھی موجود ہیں جو عربوں سے مذہباً نہیں بلکہ عسکری، علمی، صنعتی، ابلاغی اور فکری طور پر زیادہ طاقتور ہیں۔

مزید برآں مسلمان عرب دوسری قوموں پر چڑھائی کرنے کے لیے عسکری قوت تیار کرنے کے قابل نہیں رہے تاکہ ان کی زمینوں پر قبضہ کر سکیں اور نئے مذہب کی تبلیغ کے لیے والی مقرر کر سکیں، اس کے برعکس وہ اپنی چھینی ہوئی زمینیں واپس حاصل کرنے میں بری طرح ناکام اور قاصر ہیں۔

جدید دور میں عربوں کے نہ صرف نعرے انحطاط کا شکار ہوگئے بلکہ وہ علمی، اقتصادی اور معاشرتی طور پر بھی انحطاط کا شکار ہیں اور ان کی قیمت دو کوڑی کی بھی نہیں رہی، اقوامِ متحدہ کی طرف سے 2002 سے 2011 تک کی شائع ہونے والی ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ میں جب عربوں نے اپنا گھناؤنا چہرا دیکھا تو اسے تسلیم کرنے سے ہی انکار کردیا اور رپورٹ تیار کرنے والوں کو (جو کہ عرب ہی تھے اور انتہائی اعلی تعلیم یافتہ اور اہل لوگ تھے) یہودیوں اور امریکیوں کا ایجنٹ قرار دیا اور رپورٹ کو عربوں اور اسلام کے خلاف ایک نئی سازش قرار دیا۔

ایک طویل عرصہ تک عرب محکوم نہیں حاکم رہے تھے، مقبوض نہیں قابض تھے، ملزم نہیں قاضی تھے، مظلوم نہیں ظالم تھے۔۔ مگر اس جدید دنیا میں ان کی حالت یکسر الٹ ہے، قوموں کی فہرست میں ان کا نام سب سے آخر میں ہے، اس سے نیچے اب افریقہ کا جنوبی صحراء ہی رہ گیا ہے۔

اب خواب میں ہی سہی عربوں کو ماضی کی عظمتِ رفتہ واپس حاصل کرنے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟

انہیں اسلام کو اغواء کرنا ہوگا جو ان کی واحد ملکیت ہے، اور اسے افغانستان کے پہاڑوں میں دفن کرنا ہوگا اور ایک نیا اسلام لانا ہوگا جس کا دنیا میں دوسروں کے اسلام سے کوئی تعلق نہ ہو جو عالمِ اسلام کی 81 فیصد جبکہ عرب صرف 19 فیصد نمائندگی کرتے ہیں۔

اور شاید یہ کام بھی اب عربوں کے بس کا نہیں رہا۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam--ناستک-درانی/arabs-need-a-new-islam--عربوں-کو-ایک-نئے-اسلام-کی-ضرورت-ہے/d/12424

URL for English article:

http://newageislam.com/the-war-within-islam/nastik-durrani,-new-age-islam/arabs-need-a-new-islam/d/12426

 

Loading..

Loading..