New Age Islam
Sat Sep 18 2021, 10:50 PM

Urdu Section ( 18 May 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Rule Of Mahram And Helpless Women محرم اور محرومیت

 

ناستک درانی، نیو ایج اسلام

 20مئی، 2013

 الجمل کے واقعے میں حضرت عائشہ کا محرم کون تھا؟ کیا سعودیہ کی نام نہاد اسلامی پولیس کے پاس اس کا جواب ہے؟

سعودی عرب کے اخبار الیوم میں ایک خبر شائع ہوئی کہ ہیئۃ الامر بالمعروف (سعودی عرب کی مولوی پولیس) خواتین کو محرم کی موجودگی کی شرط پر سائیکل اور موٹر سائیکل چلانے کی اجازت دے گی، تاہم بعض سعودیوں نے اسے اپریل فول سمجھا، خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سعودی نے لکھا: کیا آپ لوگ مذاق کر رہے ہیں! حسِ مزاح رکھنے والوں میں یہ خبر بہت مقبول ہوئی، لوگوں نے خاصے پُر مزاح تصورات باندھنے شروع کردیے کہ سائیکل پر محرم کہاں اور کیسے بیٹھے گا، اگرچہ بعد میں ہیئۃ الامر بالمعروف نے خبر کی تردید کردی، تاہم اس سے اس امر کی نفی بہرحال نہیں ہوتی کہ سعودی معاشرے میں عورت کی ہر حرکت کے لیے محرم کی موجودگی ضروری ہے چاہے اسے سائیکل پر سوار ہونا ہو یا جہاز پر، یا پھر اپنے بچوں کے ساتھ رہنے کے لیے کوئی مکان ہی کرائے پر لینا ہو، اسے لازماً محرم درکار ہوگا جو اس کی جگہ مکان کرائے پر لے کر اسے دے یا پھر کوئی بیٹا جس کی عمر اٹھارہ سال سے زیادہ ہو چاہے کرایہ اسے ہی کیوں نہ دینا ہو، سعودی معاشرے میں محرم کا بے ہودہ قانون عورت کے لیے تو مسئلہ ہے ہی، اب یہ مردوں کے لیے بھی مسئلہ بنتا جا رہا ہے، ولی امر ہونے کے ناطے ایک سعودی کو ایک ہی وقت میں تین مختلف مقامات پر تین مختلف عورتوں کے ساتھ موجود ہونا لازمی تھا، اسے اپنی  بیوی کے آپریشن کے کاغذات پر دستخط کے لیے ہسپتال جانا تھا، بعینہ اسی وقت اسے اپنی مطلقہ بیٹی کے ساتھ عدالت میں بھی حاضر ہونا تھا کیونکہ قاضی محرم کے بغیر اس کا کیس قبول کرنے سے انکار کر رہا تھا جبکہ اسی وقت اسے اپنی دوسری بیٹی کی اعلی تعلیم کے لیے اس کے ساتھ امریکہ بھی جانا تھا!

اسے خود یہ فیصلہ لینے میں دشواری کا سامنا تھا کہ کس کے ساتھ اس کی موجودگی زیادہ ضروری تھی، مریضہ کے ساتھ، طالبہ کے ساتھ  یا مطلقہ کے ساتھ!؟ بیٹی ہو یا بیوی، وہ ولیۃ کے تمام تر معاملات کا کرتا دھرتا تھا، چاہے تو اس کا مسئلہ حل کرے اور نہ چاہے تو لٹکا دے، اس سارے فرسودہ نظام کی سرپرستی حکومت کرتی ہے جس کی جڑیں مذہب میں پیوستہ ہیں جو عورت کو مرد کا غلام بناتی ہے اور شہری ہونے کے باوجود اسے ادنی تر خدمات سے محروم کرتی ہے چاہے وہ سائیکل پر سواری جیسا فضول معاملہ ہی کیوں نہ ہو، اگرچہ پرائیویٹ سیکٹر میں اس قانون پر اس قدر عمل نہیں کیا جاتا تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ موجود نہیں، عدالتیں خواتین کا کوئی مقدمہ تب تک قبول نہیں کرتیں جب تک ان کا کوئی محرم ان کے ساتھ نہ ہو چاہے وہ شکایت محرم کی ہی درج کرانے آئی ہو، اعلی تعلیم کے حصول کے لیے بھی خواتین محرم کے بغیر بیرون ملک نہیں جاسکتیں، حکومت سمجھتی ہے کہ گھر کی عورتوں کے معاملات میں ولی کی رضا مندی اس کے بنیادی حقوق میں شامل ہے، جہاں تک بات عورت کے حقوق کی ہے تو اس کی آپ بات نہ کریں کیونکہ شریعت میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں، آخر کو عورت کی گواہی آدھی ہے اور اوپر سے وہ ناقصل العقل بھی ہے، پاگل اور سلیم العقل انسان میں عقل کا ہی تو فرق ہوتا ہے، اور شریعت عورت کو ناقص العقل قرار دے کر اسے پاگلوں کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے۔

بہترین حالات میں ولی عورت کے معاملات کی بحسن وخوبی دیکھ بھال کرتا ہے، اس کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے اور اس کے ساتھ چلتا ہے اگرچہ اس میں اس کے لیے بھی کافی مشقت اور پریشانی ہوتی ہے، لیکن زیادہ تر حالتوں میں ولی ایسا نہیں کرتا، بلکہ اس قانون کا غلط فائدہ اٹھاتا ہے اور عورت کو بلیک میل کرتا ہے، کتنی ہی بیویاں اپنی ساری تنخواہ محض اس لیے شوہر کے ہاتھ میں رکھ دیتی ہیں تاکہ وہ انہیں دفتر چھوڑنے جایا کرے، کتنے ہی باپ اپنی مطلقہ بیویوں سے بدلہ لینے کے لیے اپنی بیٹیوں کی تعلیم رکوا دیتے ہیں، کتنی ہی بہنیں چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے اپنے بھائیوں کو رشوت دیتی نظر آتی ہیں، اس بے ہودہ قانون کا بد ترین نمونہ مجھے ایک سعودی پروفیسر نے سنایا کہ ایئرپورٹ کی امیگریشن نے اسے اپنی 80 سالہ ماں کے ساتھ محض اس لیے سفر نہیں کرنے دیا کیونکہ شرعاً اس کا بڑا بھائی اس کی ماں کا ولی تھا اور سفر کے لیے اس کی رضا مندی ضروری تھی نا کہ پروفیسر صاحب کی!!

ڈاکٹر سامیہ العمودی نے ٹویٹر پر اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ: ڈاکٹر ہوں اور پچاس سے تجاوز کر گئی ہوں، تم جیسے ہزاروں میرے ہاتھوں پڑھ کر نکلے ہیں، اور ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے وہ مجھ سے میرے ولی کی رضا مندی طلب کر رہے ہیں، میرا ولی میرا بیٹا ہے جو میرے خرچ پر پلتا ہے!!

یہ سب باتین پڑھنے کے بعد ذہن میں کئی سوال اٹھتے ہیں جیسے: الجمل کے واقعے میں حضرت عائشہ کا محرم کون تھا؟ کیا سعودیہ کی نام نہاد اسلامی پولیس کے پاس اس کا جواب ہے؟

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/nastik-durrani,-new-age-islam/the-rule-of-mahram-(blood-relative)-and-helpless-women/d/11636

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam-ناستک-درانی/the-rule-of-mahram-and-helpless-women-محرم-اور-محرومیت/d/11639

 

Loading..

Loading..