New Age Islam
Sat Oct 24 2020, 10:16 AM

Urdu Section ( 5 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

Great Islamic Civilisation Through The Prism Of Claim And Reality عظیم اسلامی تہذیب حقیقت اور دعوی کے ترازو میں

 

ناستک درانی، نیو ایج اسلام

6جون،2013

‘‘عظیم اسلامی تہذیب’’ کی واپسی کی باتوں کے سوا شاید ہی کوئی چیز اس قدر عوام کے جذبات گدگدا سکتی ہو اور ان کی عقل پر جادو کا سا اثر کر سکتی ہو جس میں مسلمان عزت ودولت اور ترقی کی بلندیوں پر تھے۔

سیاسی اسلام کے شیخ اور ان کے چمچے سادہ لوح مسلمانوں کو مریدوں کے ٹولے اور دہشت گردوں کی ایک فوج میں بدلنے کے لیے یہ منتر استعمال کرتے ہیں، وہ انہیں یہ پٹی پڑھاتے ہیں کہ اس عظیم اسلامی تہذیب کے قیام کی وجہ یہ تھی کہ پرانے مسلمان اپنے دین کی تعلیمات پر کاربند تھے اور شریعت کے احکام لاگو کرتے تھے، یوں لوگ ان شیخوں کے جال میں آسانی سے پھنس جاتے ہیں اور ان کے مضحکہ خیز فتاوی پر عمل کرتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ شاید یہ تہذیب پھر کبھی واپس آجائے۔

اگرچہ ‘‘اسلامی تہذیب’’ کی اصطلاح بذات خود انتہائی سفاکانہ ہے کیونکہ تہذیبیں مذاہب نہیں بناتیں، دنیا کی کوئی بھی تہذیب ہمارے لیے اپنا مذہب نہیں چھوڑ گئی، کیا آپ نے کبھی ‘‘ عیسائی تہذیب’’ کے بارے میں سنا ہے؟ کویت کے ترقی پسند ناقد وادیب ڈاکٹر احمد البغدادی مرحوم فرماتے تھے کہ مسلمان دنیا کی واحد قوم ہے جو تہذیب کو مذہب سے جوڑتی ہے؟!

اس میں شک نہیں ہے کہ عرب قوم نے ترقی کا ایک دور دیکھا ہے جسے آج کے شیخ کھینچ تان کر ‘‘اسلامی تہذیب’’ بنا دیتے ہیں، ہندوستان میں چین کی حدود سے لے کر سپین تک ایک بڑا علاقہ عرب خلافت کے زیرِ نگیں تھا، مگر اس تہذیب کے قیام کے اسباب کا ان باتوں سے قطعی کوئی تعلق نہیں ہے جو سیاسی اسلام کے یہ شیخ دعوی کرتے پھرتے ہیں، بلکہ وہ جو دعوی کرتے ہیں وہ اس کے اسبابِ زوال کی ایک اہم وجہ تھی۔

تہذیبیں انسانی کارنامے ہیں اور یہ تب تک قائم نہیں ہوتیں جب تک کہ ان کے قیام کے لیے مادی اور موضوعاتی اسباب دستیاب نہیں ہوجاتے، اور یہی پہلے عباسی دور کے نصف میں ہوا، جہاں مملکت وسیع ہوئی، اور حزبِ اختلاف کو کچل دینے کے بعد جنگوں اور عسکری معرکوں کی شدت کم ہوئی، مملکت کی حدود (بارڈر) متعین ہوگئیں، امن قائم ہوا اور یوں ملک مضبوط ہوا اور ہر طرف سے وسائل کی بھرمار ہوگئی، لوگ امن واطمنان سے زندگی گزارنے لگے، کسی شئے کا خوف نہیں تھا، ثقافتی تنوع کی وجہ سے آزادیء فکر کا ماحول پیدا ہوا، اس ثقافتی تنوع کی وجہ مملکت کی غیر عرب قوموں کی ضرورت تھی تاکہ قومی سلامتی کو امویوں، علویوں اور دیگر سے محفوظ بنایا جاسکے، یوں عقل کو کام کرنے کا موقع ملا کہ وہ مختلف علوم وفنون وسرگرمیوں میں اچھوتے کارنامے دکھائے، اس طرح ترقی کا ایک دور شروع ہوا اور بغداد سمیت عرب کے کئی دیگر شہر اس وقت کے عجوبے قرار دیے جاسکتے تھے۔

یہ شرطیں اور ماحول ‘‘اسلامی مملکت’’ کو پورے 140 سال میں اپنے راشدی اور اموی نُسخے میں کبھی دستیاب نہ ہو سکا حالانکہ یہ مملکت ‘‘خیر القرون’’ تھی اور ہزاروں صحابہ اور تابعین موجود تھے مگر اس کے باوجود یہ تہذیب قائم نہ ہوسکی، جب یہ شرطیں یورپ، امریکہ، جاپان اور چین میں دستیاب ہوئیں تو وہاں بھی تہذیبیں اٹھیں، اور آج بھی جب تک مسلمانوں میں یہ شرطیں دستیاب نہیں ہوں گی تو وہ کبھی کوئی تہذیب قائم نہیں کر سکیں گے چاہے مولویوں اور شیخوں کے گرد کتنا ہی جمگٹھا کیوں نہ بنا لیں اور چاہے دین پر کتنا ہی عمل کیوں نہ کر ڈالیں اور اپنی عورتوں کو برقعے پہنا کر گھروں میں ٹھونس دیں اور جس قدر چاہے اپنی داڑھیاں بڑھا لیں۔

تعجب خیز امر یہ ہے کہ جن لوگوں نے ‘‘اسلامی تہذیب’’ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا وہ آج کے وہابی اسلام کے معیار کے مطابق - جو آج مسلمانوں کے دین کا بیڑہ غرق کر رہا ہے - سرے سے مسلمان تھے ہی نہیں، بلکہ وہ کافر، فاسق وزندیق تھے، وہ حکام جنہوں نے ‘‘اسلامی ترقی’’ کے اس مرحلے کی قیادت کی جیسے الامین، المامون، المعتصم ودیگر معتزلہ تھے اور عقل کو نقل پر فوقیت دیتے تھے اور تخلیقِ قرآن کے قائل تھے، ترجمہ کی تحریک جو اس ‘‘ تہذیب’’ کی پہلی اینٹ کی سی حیثیت رکھتی ہے وہ عیسائیوں نے سر انجام دی جو یونانی اور سریانی زبانوں کے ماہر تھے، رہی بات اس ‘‘ تہذیب’’ کے مختلف شعبوں کے اہم کرداروں کی جیسے فارابی، ابن سینا، رازی، جاحظ، ابن رشد، ابو النواس، ابن الرومی، المعری ودیگر تو ان کے کافر ہونے پر اسی امت کے وڈے وڈے مشائخ نے اجماع کیا ہے جیسے غزالی، ابن الصلاح، ابن تیمیہ، ابن القیم اور ان کے نہج پر چلنے والے سلاطین اور حنابلہ کے تمام انتہاء پسند فقہاء جو آج بھی اسی آب وتاب کے ساتھ کفر کے خنجر اپنے ہاتھوں میں لیے پھرتے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ تعجب خیز امر یہ ہے کہ یہ ‘‘ اسلامی تہذیب’’ کوئی دو سو سال تک قائم رہنے کے بعد دوسرے عباسی دور کے نصف میں حنبلی مشائخ کے ہاتھوں زوال پذیر ہونا شروع ہوگئی، خلیفہ المتوکل نے ان حنبلی مشائخ کی مدد لینا شروع کردی کیونکہ مملکت کمزور ہوتی جا رہی تھی اور صرف وہی فوجوں کے ترک امیروں کے غلبے وتسلط کا سامنا کرنے کے لیے عوام کو اکٹھا کر سکتے تھے، اور اس طرح گویا مذہب کو پوری چھوٹ مل گئی، اور حنابلہ نے تہذیب کے تمام آثار کو مٹانا شروع کردیا جیسا کہ آج اسلامی ممالک میں ان کے مرید کرتے پھرتے ہیں، یہ لوگ بازاروں میں پھیل جاتے تھے اور گلیوں میں لوگوں پر حملے کرتے تھے، لوگوں پر ان کے رہن سہن اور لباس پر پابندیاں عائد کرتے تھے، اور ملزمان پر سرِ عام شرعی حدیں لاگو کرواتے تھے، متکلمین، ادباء، شعراء اور سائنسدانوں پر خصوصی حملے کرواتے تھے اور ان کی کتابیں جلاتے تھے، تمام فنون وعلوم بشمول موسیقی، گانا، فلسفہ، منطق، ریاضی وطبیعات کی تعلیم کو حرام قرار دیتے تھے، مخالف مسلک کے مذہبی رہنماؤں، اماموں اور قاضیوں کے گھروں کے محاصرے کرتے اور انہیں ملک بدر کرتے تھے، ان لوگوں نے مذہبی تعلیم کے علاوہ تمام دیگر علوم اور لوگوں کے اجتماعات پر زبردستی پابندیاں عائد کروائیں، یوں دہشت گردی کو فروغ ملا، آزادی کا خون بہا اور عقل کی موت ہوگئی، اور تہذیب کا سورج ‘‘ اسلامی دنیا’’ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔

مذاہب تہذیبیں نہیں بناتے، انسان مذہب کی پیدائش سے ہزاروں سے سال قبل تہذیب سے متعارف تھا، تہذیب اپنی آسان ترین تعریف میں علوم وفنون وآداب میں ترقی کے ذریعے انسان کی زندگی کو آسان بنانا ہے، نا ہی یہ کوئی غیبی کارنامہ ہے جو کن فیکون کی طاقت سے انجام پاتی ہو، بلکہ یہ خالصتاً ایک مادی وانسانی کارنامہ ہے جو جب جہاں ماحول پیدا ہوتا ہے پنپ اٹھتی ہے اور اس ماحول کے خاتمے پر ختم ہوجاتی ہے، خدا دنیا میں اسے ہی توفیق دے گا جو درست اسباب کا سہارا لے گا چاہے مؤمن ہو یا کافر۔

URL for English article:

http://newageislam.com/islamic-history/nastik-durrani,-new-age-islam/great-islamic-civilisation-through-the-prism-of-claim-and-reality/d/11915

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam-ناستک-درانی/great-islamic-civilisation-through-the-prism-of-claim-and-reality-عظیم-اسلامی-تہذیب--حقیقت-اور-دعوی-کے-ترازو-میں/d/11923

 

Loading..

Loading..