New Age Islam
Sun Oct 25 2020, 04:45 AM

Urdu Section ( 7 Jan 2013, NewAgeIslam.Com)

Seven Virtues of the Believers مومنین کی سات صفات

نسیم اختر شاہ قیصر

4 جنوری ، 2013

قرآن کریم آنے والے زمانے اور گزرے ہوئے وقت کے احوال بھی بیان کرتا ہے ان لوگوں کے بارے میں بھی بتاتا ہے جنہوں نے اطاعت اور فرماں برداری کاثبوت دیا اور ان افراد کابھی ذکر کرتا ہے جو اللہ کے باغی اور نافرمان بنے  پچھلی امتوں کی واقعات اور قصص موعظت و عبرت کے لیے نقل کئے گئے ہیں مایوسیوں کے اسباب کی نشاندہی کی گئی ہے امیدوں کے  جڑ پکڑ نے کے  بنیادیں بھی واضح کردی گئی ہیں ہر دو صورت میں یقینی  صورت حال کو کھول کھول کر بتادیا گیا ہے۔ اہل جنت جن انعامات و اکرامات سے سرفراز ہوں گے ان کو بھی اور اہل جہنم جن اذیتوں اور تکالیف سے دو چار رہیں گے ان کو بھی پوری وضاحت کے ساتھ سمجھا دیا گیا ہے صفات مومنین بھی درج کردی گئی ہیں اور عادات مشرکین بھی ضبط تحریر میں لائی گئیں ہیں منشاء ان سب کا یہ ہے کہ انسان اس فرض منصبی سے سرموا نحراف نہ کرے  جس کا اسے مکلّف کیا گیا ہے، پارہ نمبر اٹھارہ میں سورۂ مومنون کا آغاز ہی مومنین کی صفات سے کیا گیا ہے یہ وہ صفات ہیں جو اللہ کو بے حد پسند ہیں اور جن کی بناء پر ایک مومن کو رضائے الہٰی  اور پروانہ نجات ملتا  ہے ۔ شاہ عبدالقادر ابن شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نور اللہ مرقدہ اس سورت کی ابتدائی آیات کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں:

‘ کام نکال لے گئے ایمان والے جو اپنی نماز میں نوے ہیں اور نکلتی بات پر دھیان نہیں دیتے اور جوز کوٰۃ دیا کرتے ہیں ۔ اور جو اپنی شہوت کی جگہ تھامتے ہیں مگر اپنی عورتوں پر یا اپنے ہاتھ کے مال پر سوان پر نہیں اُلاہنا ، پھر جو کوئی ڈھونڈ ے اس کے سوا وہی ہیں حد سے بڑھنے والے اور جو اپنی امانتوں سے اور اپنے اقرار سے خبردار ہیں اور جو اپنی نماز سے خبردار ہیں’۔ قرآن نے مومنین کی اس جگہ پر کل سات صفات بیان کی ہیں جس میں اوّل صف خشوع ہے  کہ مومن  اپنی نماز میں خشوع و خضوع اور عجز و انکساری کرتا ہے وہ اپنے قلوب میں اللہ کی عظمت وہیبت رکھتے ہیں اور ان کا ادب ان کے ظاہر پر بھی دکھائی دیتا ہے کیوں کہ وہ لرزاں و ترساں رہتے ہیں، گویا کہ وہ اپنی آنکھوں سے اللہ کو دیکھ رہے ہیں جو لوگ نمازیں اس طرح ادا کرتے ہیں کہ حالتِ نماز میں خشوع کا  پیکر بن جاتے ہیں اور ان کو ہر لمحہ یہ احساس رہتا ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک کے سامنے سر جھکارہے  ہیں تو ان کی حالت ایسی ہوتی ہے جس کے اثرات ان  کے ظاہر پر بھی نظر آتے ہیں دوسری صفت مومنین کی یہ بیان کی گئی  کہ بیکار اور لغو باتوں سے وہ کوئی تعلق نہیں رکھتے  اور ان چیزوں او رکاموں کے قریب نہیں جاتے  جس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہ ہو۔ منشاء یہ ہے کہ ان کاموں کو انجام دینے میں تو انہیں دلچسپی  ہے جن کا حکم اللہ نے دیا  ہے اور ان امور کے قریب سے بھی وہ نہیں گزر تے جن کو نا پسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔

 تیسری صفت مومنین کی یہ ذکر کی گئی کہ وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں یعنی مالی حقوق کی ادائیگی  میں بھی ان کے یہا ں کوئی کوتاہی نہیں ہوتی زکوٰۃ کا حکم مکہ مکرمہ میں آگیا تھا لیکن اس کی مقدار اور نصاب کا تعین  مدینہ منورہ میں ہوا۔ چوتھی صفت عفت و عصمت بیان کئی گئی کہ مومنین اپنی صفت و عصمت کی حفاظت کرنے والے ہیں اپنی بیویوں اور باندیوں سے ہی قضائے حاجت میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ شہوتِ نفسیانی کیوجہ سے دوسری جگہوں اور مقامات کا رخ بھی نہیں کرتے ۔ دوسروں کی عزت عصمت اور عفت پر نگاہِ غلط نہیں ڈالتے جو لوگ اپنی نفسانی خواہش کی تکمیل دوسری جگہوں سے کرتے ہیں وہ سراسر حرام کے مرتکب ہوتے ہیں جب اللہ نے ایک انسان کو جائز حدود میں رہ کر اپنی ضرورت کی تکمیل کا راستہ دکھایا اور جگہ بتادی تو اس کے بعد اوروں کی طرف چلنا  حرام کی طرف چلنا ہے۔

پانچویں  صفت کا بیان اس طرح سے کیا گیا کہ وہ امانتوں کی حفاظت کرنے والے ہیں چاہے اس امانت کا تعلق اللہ سے ہو یا بندوں سے وہ کسی خیانت کے مرتکب نہیں ہوتے یہاں تک کہ یہ ہاتھ ، یہ پاؤں ، یہ آنکھیں ، یہ دل، یہ دماغ، یہ بھی اللہ کی امانتیں  ہیں جن کا وہ غلط استعمال نہیں کرتے نہ کسی کو ستاتے اور نہ طاقت و قوت کے زعم میں کسی کی جان کے درپے ہوتے مومن کی یہ صفت یہ بھی ہے جس کا قرآن کریم نے خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا کہ وعدے کی پابندی  اور ایفائے عہد ان کا امتیاز ہے کبھی  وعدہ جھوٹا نہیں کرتے او رکبھی  عہد نہیں  توڑتے ایک اور صفت جو ساتویں  صفت کے ذیل میں آتی  ہے وہ نمازوں کی پابند ی ہے کہ وہ نماز وں کو ادا کرتے ہیں اور اپنے وقت میں ہی ادا کرتے ہیں نماز کے سلسلے میں ان کے یہاں کوئی کوتاہی اور غفلت نہیں ہوتی ۔

ان صفات کے تناظر میں ہمیں اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہئے کہ قرآن کریم مومنین کی جن صفات کا ذکر کررہا ہے ان میں سےکون سی صفات کے ہم حامل ہیں اور قرآن کریم کے بیان کے مطابق ہماری زندگی اور حدود میں داخل بھی ہے یا نہیں  جن حدود کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے اپنی زندگی کو دنیا و آخرت میں آباد کرنے ، بسانے او رنمونۂ عمل بنانے کے لیے قرآن کریم کی یہ مختصر آیتیں جن کا ترجمہ ماقبل میں ہم دے چکے ہیں ایک مسلمان اور ایک مومن  کے لیے ایک ایسا ضابطہ اور طریقہ حیات ہے جس پر عمل کرنے والوں کو کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرناہوتا اس دنیا میں بھی وہ راحت و آرام کے ساتھ رہتا ہے اور اس دنیا میں  بھی کہ جب ہر جانب سے انسان مایوسیوں او رمحرومیوں میں گرفتار ہوگا او رکوئی جائے پناہ  اس کے لیے نہیں  ہوگی ا س کی یہی  صفات اور اس کا یہی عمل اسے کامیابیوں سے اور کامرانیوں سے ہمکنار بھی کرے گا او رمسرت و خوشی کے لمحات بھی بخشے گا ۔ آج ہم کہاں  کھڑے ہیں اور قرآن کے مطابق ہمارا وقت بھی گزر رہا ہے یا نہیں  اس کا جائزہ باریک بینی  او راپنے آپ سے ہمدردی  کے جذبات کے ساتھ لینا چاہئے اس لیے کہ جو لوگ اپنا محاسبہ کرتے رہتے اور اپنا جائزہ لیتے رہتے ہیں  اور پھر صراط مستقیم کی طرف رخ کر لیتے ہیں اگر ان سے اپنے ماضی  میں کچھ غلطیاں بھی ہو ئی ہو ں او رکچھ کمزوریاں  بھی رہی ہوں تو ان کا ازالہ ممکن ہے اور مستقبل کو تابناک بنانے کے امکانات ہر لمحہ موجود ہیں۔

4 جنوری ، 2013  بشکریہ : روز نامہ ہندوستان ایکسپریس ، نئی دہلی  

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nasim-akhtar-shah-qaisar-نسیم-اختر-شاہ-قیصر/seven-virtues-of--the-believers-مومنین-کی-سات-صفات/d/9911

 

Loading..

Loading..