New Age Islam
Mon Jun 14 2021, 01:24 AM

Urdu Section ( 3 Jun 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Progression from Religious Morality to Secular Laws and the Danger of Regression of Religious Morality into Bestiality مذہبی اخلاقیات سے سیکولر قوانین تک کا سفر اور ور مذہبی اخلاقیات سے بربریت کی طرف لوٹنے کے خطرے

نصیر احمد، نیو ایج اسلام

21 اپریل 2021

اخلاقیات کا مقصد دنیا میں سب کی خوشی کو فروغ دے کر خدا کو خوش کرنا ہے۔ اور اس بات کے لیے ایک وسیع لبرل تعلیم کی ضرورت ہے جس میں فلسفہ کی تعلیم بھی شامل ہو۔

اہم نکات:

قرآن مجید میں بیان کردہ محرم کے جنسی تعلقات کی ممانعت آج سائنسی معنویت رکھتی ہے۔

لوگ یہ توقع کرتے ہیں کہ میریٹل ریپ جیسے مسئلے بھی مذہب سے ہی حل کیا جائے ۔

اخلاقی اناپرستی ایک ریڈیکل نظریہ ہے جس کے مطابق انسان کی ذمہ داری صرف اپنے تئیں ہوتی ہے۔

“اخلاقی” قوانین وضع کرکے غیر مذہبی افراد سے اخلاقی برتاو کرایا جا سکتا ہے۔

وسیع پیمانے پر مسلمانوں میں جھوٹے عقائد کا رواج۔

اصطلاح میں اخلاقیات کا مطلب یا تو وہ وضاحتی ضابطہ اخلاق ہے جو کسی جماعت کے ذریعہ مقرر کیا گیا ہو جو عام طور پر مذہب ہوتا ہے۔ یا پھر وہ ضابطہ اخلاق ہے جسے سارے با عقل لوگ تسلیم کریں۔ ابتدائی مذاہب نے ایک ضابطہ اخلاق بنایا یا یوں کہیں کہ کیا کرنا چاہیے کیا نہیں کرنا چاہیے اس کی فہرست پیش کی ، لیکن یہ نہیں بتایا کہ ان ضابطہ اخلاق کے پیچھے کون سی عقلیت کام کر رہی تھی۔ اسی کو "وضاحتی" مرحلہ کہا جاسکتا ہے۔ ابتدائی مراحل کے بارے صرف اتنا پتہ ہے کہ لوگوں نے بتائے گئے اخلاقی ضابطوں پر عمل کیا لیکن اس بات کا کوئی تجرباتی ثبوت موجود نہیں کہ وہ معاشرے کی بھلائی کو فروغ دینے اور لوگوں کو برائی سے بچانے میں کتنا کارگر ثابت ہوئے۔اس وقت کی عام سمجھداری کے حساب سے تحفظ جان کے لئے جھوٹ ، دھوکہ اور قتل ضروری تھا لیکن ضابطہ اخلاق اس عام سمجھداری کے خلاف تھا ۔ جان کی حفاظت کے بارے میں سب سے پہلے سوچنا فطری ہے اور ایسی سوچ آج بھی حاوی ہے۔ قبیلوں کے بیچ کی آپسی دشمنی اور ایک دوسرے کا قتل بڑے پیمانے پر رائج تھا ، انسانوں کے ذریعہ بڑے پیمانے پر کی گئی نسل کشی کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے۔ لہذا، ضابطہ اخلاق کی پیروی کے لئے عقلی استدلال کو ملحوظ ضروری نہیں رکھا گیا ، کیونکہ اپنے قبیلے کے تحفظ کے لئے جو تجرباتی طور پر بہتر تھا وہ ضابطہ اخلاق کے خلاف تھا۔ اس لئے اس بات پر زور دیا گیا کہ لوگ ان ضابطہ اخلاق کی پیروی قانون بنانے والے یا خدا کی تعظیم میں کریں ، جو کہ خالق بھی ہے رازق بھی، جو کہ عالم الغیب ہے، قادر مطلق ہے، دنیا اور آخرت دونوں میں وہی جزا و سزا کا مالک ہے۔ ایک ایسی جماعت جس نے مذہبی فریضہ کے طور پر اخلاقی ضابطے پر عمل کرنا شروع کیا تھا آہستہ آہستہ مضبوط ہوتی چلی گئی، کیونکہ مشترکہ اقدار کی وجہ سے ان کے ما بین اعتماد اور تعاون کا جذبہ پروان چڑھتا گیا۔ اس جماعت کو وسعت دینے میں دعوت کا بڑا ہاتھ رہا ۔ جن جن جماعتوں نے ان ضابطہ اخلاق کو قبول کیا وہ داخلی جماعت بن گئے ، اور جن لوگوں نے مزاحمت کی وہ خارجی جماعت ۔ لڑائی میں ، داخلی جماعت کو آپسی اعتماد اور تعاون زیادہ حاصل تھا اور اگر تعداد میں کم بھی پڑ جاتے تو وحشیوں اور خارجی جماعت پر آسانی سے غالب آ جاتے تھے۔ یہ جماعت پھیلتی گئی اور آہستہ آہستہ اتنی مضبوط ہوگئی کہ ایک خطے میں رہنے والے سارے لوگ اخلاقی ضابطہ والے نئے مذہب میں سما گئے۔ ابتدائی انبیا حکمران بھی ہوتے تھے جو جو قانون وضع کرسکتے تھے اور اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ اس پر عمل کیا جائے ، اور قانون نہ ماننے والوں کو سخت سزائیں دیتے تھے۔ مذہبی فرائض کی حیثیت سے ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کے صدیوں کے بعد کے ملنے والے تجرباتی ثبوت سے ان ضابطہ اخلاق پر عمل پیرا ہونے کے فوائد اور عدولی کرنے کے نقصانات کا پتہ چلتاہے۔ پھر یہ ضابطے عملی اور عقل بر مبنی ہونے لگتے ہیں۔

نام نہاد ابراہیمی مذاہب میں ، تورات کے بعد قرآن تک کوئی قانون نازل نہیں ہوا تھا۔ مثال کے طور پر ، بائبل میں کوئی قانون موجود نہیں ہے اس میں صرف سابقہ صحیفوں میں آئے ہوئے قوانین کی توثیق کی گئی ہے، لیکن تمثیلوں کے ذریعے اخلاقی ضابطوں کی وضاحت ہے۔ تورات میں بیان کئے گئے اخلاقی ضابطوں کی حکمت کو بائبل میں تمثیلوں کے ذریعے سمجھا یا گیا ہے۔ قرآن میں بھی ہر اخلاقی ضابطہ کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر اس حکم کی عقلی وضاحت نہیں کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کس طرح کے رشتہ داروں کے ساتھ شادی جائز نہیں ہے ۔ اسی طرح کھانے پینے کی ممانعات کی بھی عقلی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ مذہب سے نکلی اخلاقیات کا وہ حصہ جسے ہم تجرباتی اور / یا سائنسی شواہد کی بنیاد پر فائدہ مند ثابت کر سکتے ہیں ، مذہبی فرائض کی حیثیت سے ان ضابطہ اخلاق پر صدیوں عمل کے بعد اصول اور معیاری بن گئے ہیں۔ جن ضابطوں پر لوگوں نے مذہبی فریضہ کے طور پر عمل کیا ، ان کی بنیادی دلیل آہستہ آہستہ واضح ہوئی ، اور مذہب کے باہر فلسفیوں نے اس سے پر بحث شروع کردی اور مذہب سے پیدا ہوئی اخلاقیات ہی تسلیم شدہ اصول بن گئے۔ جب یہ اخلاقی ضابطہ اصول بن گئے اور منطقی مباحث میں شامل ہونے لگے ، تو ، یہ سیکولر مطالعہ کا بھی موضوع بن گئے۔ قوانین کی ترجمانی اور سزا کے نفاذ کے لئے ، معاشروں نے واضح تحریری اصولوں ، سزاؤں ، اور عہدیداروں کے ساتھ قوانین نافذ کرنا شروع کیا ۔ متوقع طور پر ، اخلاقیات کے تحت چلنے والے طرز عمل اور قانون کے تحت چلنے والے طرز عمل کی حدیں کافی حد تک ایک دوسرے میں ملی ہوئی ہیں۔ا خلاقی بنیادوں پر اکثر قوانین کا جائزہ لیا جاتا ہے اور انھیں بدلا جاتا ہے۔ رونالڈ ڈو ورکن جیسے کچھ نظریہ سازوں کا خیال ہے کہ قانون کی ترجمانی میں اخلاقیات کا استعمال کرنا چاہئے۔

قرآن مجید میں مذکو ر خونی رشتہ داروں کے آپسی جنسی تعلقات کی حرمت آج سائنسی معنویت رکھتی ہے، لیکن اس کا ایک حصہ اب بھی بہت واضح نہیں ہے۔ قرآن نے رضائی بھائی بہنوں کی شادیوں پر پابندی عائد کی ہے جن کا آپس میں خون کا کوئی رشتہ نہیں ہوتا ہے، جبکہ چچیرے ممیرے بھائی بہنوں یعنی کزنس کے درمیان شادی کرنے کی اجازت دی گئی ہے جن کا 12.5 فی صد ڈی این اے ایک دوسرے سے ملتا ہے۔ یہ سوچنا کافی دلچسپ کہ رضائی بھائی بہنوں کی شادی کی ممانعت کی کوئی بیالوجیکل وجہ نہیں ہے بلکہ اس ممانعت کی وجہ ثقافتی / معاشرتی ہے۔ لیکن ہمارے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ قرآن صرف ثقافتی / معاشرتی عوامل پر بہت کم دھیان دیتا ہے، اس لیے ضرور کوئی بیالوجیکل وجہ ہونی چاہئے۔ ہمیں اس کے کچھ شواہد ملنا شروع ہوگئے ہیں وہ بیالوجیکل وجہ کیا ہو سکتی ہے، لیکن مزید تحقیق کے لیے مضبوط شواہد کی ضرورت ہوگی ۔

حالیہ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ بریسٹ ملک یعنی چھاتی کا دودھ ایک زندہ مادہ ہے جس میں مائکرو آر این اے جیسے جینیاتی مواد ، خلیات اور جین کی نقل اور ریگولیشن میکانزم کو متاثر کرنے والا نامیاتی مادہ شامل ہوتا ہے۔ جس مدت میں ان ساری تبدیلیوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں وہ رضاعت کے دوران دو سال سے پہلے کی مدت ہوتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں ، یہ کہ سکتے ہیں کہ اگر دودھ پینے والے بچے کی نشو نما پوری ہو چکی ہو تو اس طرح کے رشتے قائم ہی نہیں ہو سکتے ہیں۔ موجودہ علم کی روشنی میں اس حقیقت کی ممکنہ وضاحتیں یہ ہوسکتی ہیں : ابتدائی بچپن کی مدت میں جینیاتی مواد اور زچگی کے زندہ خلیوں کو مسترد کرنے کے لئے بچے کے مدافعتی نظام کی ناکافی ہوتی ہے ، دوسرے ، نشو نما کے ابتدائی دور میں انسانی جسم میں نرمی اور لچک زیادہ ہوتی ہے جو نئی تبدیلیوں کو جلد اختیار کر سکتی ہے، تیسرے ، نشو نما کے ابتدائی دور میں ایپیگینوم کی ایپیگینیٹک تبدیلیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ لہذا یہ ممکن ہے کہ ایک ہی عورت سے دودھ پینے والے دو افراد یعنی رضاعی بھائی بہن کے مابین شادی سے پیدا ہونے والے بچوں کو کچھ جینیاتی بیماریوں کا خطرہ ہو ، بالکل اسی طرح سے جیسے سگے بھائی بہنوں کی جنسیاتی رشتوں سے پیدا ہونے والے بچوں کو ہوتاہے۔

اسی طرح سور کے گوشت کھانے کی ممانعت کے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے اور یہ انساان پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ ان وجوہات کا پتہ لگائے۔ حالیہ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ انسان اور سور کے درمیان بہت سی قریبی جینیاتی مماثلت ہے۔ الینوائے یونیورسٹی کے جانوروں کے جینیات کے ماہر لارنس شوک اور جوناتھن بیور نے انسانی جینوم اور سور کےجینوم کا تقابلی مطالعہ کیا ہے اور پایا ہے کہ دونوں کے بیچ کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "ہم نے انسانی جینوم لیا ، اسے 173 ٹکڑوں میں کاٹا ، اور سور بنانے کے لئے اسے دوبارہ منظم کیا، سب کچھ بالکل فٹ بیٹھ گیا، جینیاتی طور ، سور انسان سے کافی قریب ہے " اس لئے سور کا گوشت کھانے کے بھی وہی مضر اثرات ہو سکتے ہیں جو آدم خوری کے ہیں، اس کے علاوہ سور کے گوشت میں سنترپت چربی اور کولیسٹرول کافی مقدار میں ہوتا ہے۔ گول یا لمبے کیڑے جیسی پرجیویوں کا بھی خطرہ رہتا ہے جو سور میں خوب پائے جاتے ہیں۔

جواخلاقی اصول پورے معاشرے / گروہ / مذہب کے لئے بنائے گئے تھے ان کو وضاحتی معنوں میں ہی سمجھا جاتا رہا ، خاص طور پر اس وقت جبکہ اس طرح کے کوئی معقول حالات نہیں تھے جس میں ان اصولوں کو سارے با عقل لوگ قبول کر لیں۔ اس بات کی وضاحت کیسے ہوگی کہ یہ اصول سارے مذاہب میں ایک جیسے نہیں تھے؟ خدائی قوانین کو انسان کے تشکیل کردہ اصولوں کے ساتھ گڈ مڈ کر دیا گیا ہے، اور یہ سارے اختلافات اسی انسان کے تشکیل کردہ اصولوں کے باعث ہیں۔ چھوا چھوت ، ستی، مرد / عورت کا ختنہ جیسے عمل انسانی ساختہ اصولوں کی مثالیں ہیں جو مذہب کا حصہ بن گئے ہیں۔ زیادہ تر اختلافات خدائی قانون کی گئی مختلف تعبیروں کی وجہ سے ہیں۔ مثال کے طور پر عیسائیت میں اسقاط حمل پر پابندی آپ کو قتل نہیں کرنا چاہئے جیسے اخلاقی اصول سے ماخوذ ہے۔ ۔ چھوا چھوت ، ستی، ختنہ ، حیض والی عورتوں سے امتیازی برتاو جیسے عمل طہارت اور تقدس کے قوانین اور ان کی مختلف تشریحات کی وجہ سے ہیں۔ سور کا گوشت کھانا گرچہ عیسائیت میں ممنوع ہے، لیکن عیسائیوں کی اکثریت اس پر عمل نہیں کرتی ہے، کیونکہ عیسائی مذہب کو اپنانے سے پہلے سے ہی یہ لوگ سور کا گوشت کھاتے تھے ۔ لوگ جس چیز کو بدلنا نہیں چاہتے ہیں اس کی کوئی منطقی توجیہ کر لیتے ہیں۔

مذہبی اخلاقیات اور معاشرے کے قوانین کا امتزاج وقت کے ساتھ ڈھیلا پڑ گیا ۔ پھر ان قوانین پر سوال اٹھنا شروع ہو گیا جو مذہب کے حساب سے ممنوع تھے مگر اس وقت کے سماجی قونین میں شامل ہو گئے تھےا ور کچھ قوانین میں ترمیم یا کچھ کو منسوخ کردیا گیا ۔ مثال کے طور پر ، کیتھولک ممالک میں اسقاط حمل کی ممانعت کے قانون کو ختم کردیا گیا۔ متعدد ممالک میں دو لوگوں کے بیچ رضامندی سے کی گئی جنسی تعلقات کو حتی کہ محرم کے بیچ کے بھی جنسی تعلقات کو اب جرم نہیں مانا جاتاہے۔ ہم جنس پرستی کے تعلقات کو بھی جرم کے دائرے سے نکال دیا گیا ہے ، ساتھ ہی کچھ ممالک میں اسی طرح کی شادیوں کو قانونی منظوری دے دی گئی ہے۔ کچھ مذاہب کے کچھ مذہبی رسموں کو بھی ختم کر دیا گیا ہے، بلکہ ستی اور چھوا چھوت جیسے رسموں کو قانونا جرم قرار دیا گیا ہے۔ قوانین کو سیکولر بنانے کے عمل میں مذہب کی اچھی چیزوں سے مدد لی گئی ہے اور مذہب کے ذریعہ اٹھائے گئے قدم کو آگے بڑھایا گیا ہے، جیسے غلامی پر پابندی اور نسل ، رنگ ، قومیت اور صنف وغیرہ کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو جرم بنانا مذہب کے ذریعہ اٹھائے گئے قدم ہیں جس سے سیکولر قانون سازی میں مدد لی گئی ہے۔

زنا کاری کو مذہب جرم قرار دیتا ہے اور شاید ابتدائی وضاحتی مرحلے میں اس کی کوئی عقلی وجہ بھی رہی ہو لیکن بعد کے مرحلوں میں اس کو ملک کے قوانین میں جرم نہیں مانا گیا ، یہ اس بات کی مثال ہے کہ انسان قرآن مجید جیسی صحیفوں میں طے شدہ الہی قانون کے خلاف قانون سازی کرتا ہے۔ یہی بہترین موقع ہے کہ یہ مطالعہ کیا جائے نفعیت کے مقابلے میں الہی قانون کے خلاف جانے کے کیا مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔ اگر قرآن واقعتا خدا کا کلام ہے تو ضرور اس کے مضر اثرات اس کی افادیت سے زیادہ ہوں گے ، اگر ہیں تو۔ اور یہی میرے مضمون کا موضوع ہے۔

زنا سے متعلق قرآنی قانون

قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالی آدم علیہ السلام کے بعد سے ہی اپنے رسولوں اور وحیوں کے ذریعے انسانوں کی رہنمائی کرتا رہا ہے۔ لہذا اللہ کا دین مکمل اور مسلسل ہے ۔ اللہ کا دین اگرچہ مختلف خطوں میں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے اور بیتے صدیوں میں اس نے مختلف راستے عبور کئے ہیں، لیکن ان تمام مذاہب کا ماخذ اور منبع وہی ایک واحد خدا ہی رہا ہے ۔ اور اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ تمام مذاہب کے اخلاقی ضابطہ کا بیشتر حصہ ایک ہی جیسے رہا ہے ۔ مذہبی اخلاقی ضابطے کے اس حصے کو جو اب تمام لوگوں کے لئے یکساں عقلی معنویت رکھتا ہے، "قدرتی قانون" کے نام سے جانا جاتا ہے، حالانکہ ان ضابطوں کی عدولی پر سخت سزائیں دینے کے لئے مذہب کے ذریعہ نافذ کردہ قانون میں کچھ بھی قدرتی نہیں ہے۔ یہ "فطری" ، "قدرتی " یا "اصولی تبھی بنے جب لمبے وقت تک عمل میں رہنے کے بعد عقلی بنیاد پر سب لوگوں نے تسلیم کر لیا ۔ مقبول عام اخلاقی ضابطوں میں دوسروں کو تکلیف دینے سے بچنا اور بچانا ، سچائی ، دیانتداری ، منصفانہ سلوک اور وعدوں کی پاسداری کے اصول شامل ہیں۔

 بر طرف اس کے کہ کلام پاک میں کیا لکھا ہے ، متعصب پیروکار اس بات کو نہیں مانتے ہیں کہ جس خدا نے ان کی رہنمائی کی ہے وہی خدا ہمیشہ سب کی رہنمائی کرتا رہا ہے۔ بیشتر لوگ صرف اپنے ہی مذہب کو منفرد اور واحد حقیقت مانتے ہیں، دوسرے تمام مذاہب کو باطل سمجھتے ہیں۔ تو ،پھر وہ لوگ مشترکہ اخلاقی ضابطوں میں کیسے تطبیق پیدا کرتے ہیں؟ وہ لوگ اس کی وضاحت میں یہ کہتے ہیں کہ خدا نے یہ علم ہر انسان کو ودیعت کی ہے ۔ اگر ایسا ہے تو ، پھر " قدرتی قانون" انسانی افکار کی پیداوار ہے، جبکہ موجودہ تمام شواہد اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ضابطے صرف مذہب سے ماخوذ ہیں، اور تمام مذہبی صحیفوں میں پائے جاتے ہیں ۔ ملحدین کے لئے مطابق ، تمام مذاہب انسان کی خود ساختہ ہیں اس لیے "قدرتی قانون" بھی انسان کی خود ساختہ ہیں ، اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ یہ قانون خصوصی طور پر مذہب سے ہی ماخوذ ہیں۔

اسلامی علما بھی متعصب ہوتے ہیں، جو قرآن کی بہت ساری آیات کے متعلق صرف زبانی جمع خرچ کرتے ہیں ۔ یہ کہتے وقت کہ اللہ نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک 124000 پیغامبر بھیجے ہیں، اس واضح حقیقت پر غور نہیں کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زیادہ تر مذاہب اسی ایک خدا کے الہام ہیں اور تمام مذاہب کے مابین مشترکہ باتیں اس کے ثبوت ہیں۔

تمام مذاہب میں اخلاقی ضابطوں کی مماثلت اور اشترک جس کو " قدرتی قانون" کے نام سے جانا جاتا ہے، کے صرف دو امکانات ہیں، یا تو ہر خطہ میں اسی خدا نے اس قانون کو اپنے رسولوں کے ذریعہ لوگوں پر نازل کیا ہے۔

یا پھر یہ ہو سکتا ہے کہ

 مذاہب انسان کے خود ساختہ ہوں۔ اخلاقی ضابطہ کی تشکیل کے وضاحتی مرحلہ پر غیرمعمولی بصیرت رکھنے والے لوگوں کا اثر کار فرماں تھا ، صدیوں بعد تک جن کی پیروی کی گئی اور جنہوں نے ان اخلاقی ضابطوں کی وضاحت اس وقت کے دستیاب تجرباتی ثبوت کے مطابق عقلی طور پر کی ہو گی ۔

متبادل خیال میں یہ مفروضہ مضمر ہے کہ بصیرت افروز انبیا غیر معمولی انسان تھے جنہوں نے ایک ایسا اخلاقی ضابطہ پیش کیا جس کو عملی اور عقلی طور پر تسلیم کئے جانے میں ہزاروں سال لگے تب جا کر وہ معیاری اصول بن پایا ۔ اس طرح کا نظریہ دقت سے خالی نہیں ہے ، کیونکہ اگر یہ صرف ان کی اپنی سوچ پر مبنی ہوتا تو وہ ان اخلاقی ضابطوں کے جواز میں عقلی دلیلیں پیش کیے ہوتے نہ کہ خدا اور وحی سے منسوب کرتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری تاریخ کے ابتدائی مرحلوں میں انبیاء / اوتار میں سے کسی نے بھی ان خلاقی ضابطوں کی عقلی توجیہ بیان نہیں کی۔

 دستیاب شواہد نے پہلے خیال کو درست ثابت کیا ہے۔ مختلف وجوہات کی بناء پر غیر ملحد اور ملحد دونوں اس حقیقت سے غافل رہتے ہیں ۔اپنی تعصب پسندی میں مبتلا ملحد صرف ان چیزوں کو مانتا ہے جو اسے باقیوں سے الگ کرتی ہیں، اور اس بات پر بالکل دھیان نہیں دیتا جو ہم سب کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں۔ لہذا ، وہ اللہ کی ان نشانیوں سے غافل رہتے ہیں جو ان کی تعصب کے خلاف جاتی ہیں۔ خدا کی یکتائی اور توحید کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ قدرتی قانون تمام مذاہب میں مشترک ہیں۔

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ

ترجمہ:عنقریب ہم اپنی نشانیاں انہیں کائنات میں دکھائیں گے اور خود ان کے نفس میں یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہی حق ہے، کیا ان کے رب کی یہ بات کافی نہیں کہ وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔

ہمیں یہ معلوم ہے کہ "قدرتی قانون" ابتدائی تہذیبوں سے لے کر آج تک ہر علاقے اور ہر مذہب کے ہر صحیفے کا حصہ رہا ہے، اور یہ قرآن کی اس بات کے عین مطابق ہے کہ اللہ نے ساری انسانیت کے لئے ہدایت بھیجی ہے۔ یہ خدا کی یکتائی اور توحید کا بھی ثبوت ہے ۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اصولی شکل اختیار کر چکے اخلاقی ضابطوں کا ماخذ مذہب نہ ہو ۔ کیونکہ فلسفے کی پوری تاریخ میں اخلاقی فلسفیوں کے جو بھی کارنامے ہیں وہ اخلاقی مخمصے کی تعریفیں ، نظریات اور مباحثے پر مشتمل ہیں۔ ان کی نمایاں کارناموں نے صرف یہ واضح کیاہے کہ اخلاقی ضابطوں کا فرد اور معاشرے کی فلاح و بہبود میں کتنا اہم کردار رہا ہے اور کس طرح اخلاقیات وضاحتی مرحلے سے نکل کر معیاری اصولی مرحلے تک پہونچے۔ وہ لوگ ان ضابطوں میں مضمر ان اخلاقی اصول کا بھی پتہ لگاتے ہیں، جو مختلف حالات میں ضابطہ کو عالمگیر بنانے میں مدد کرتے ہیں ۔ مستنبط اخلاقی اصول خود ضابطے کو پرکھنے اور معاشرے میں در آئے ستی ، چھوا اچھوت ، مذہب ، رنگ ، نسل ، صنف اور جنسی رجحان وغیرہ پر مبنی امتیازی سلوک جیسے نقصان دہ رسموں کو مسترد کرنے میں کافی کارآمد ہوتے ہیں ۔ اخلاقی اصولوں سے مذہب کے دائرے سے باہر رہ گئی ریپ جیسی چیزوں کے خلاف قانون بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ ریپ کیوں مذہب کے دائرے سے باہر ہے؟ ایسا اسلئے ہیں کیونکہ دوسرے قوانین سے ریپ کے قوانین آسانی سے اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ ریپ بھی زنا ہی ہے ، لیکن یہ زنا صرف ریپ کرنے والا کرتا ہے اور اس سے انسان زخمی بھی ہوتا ہے۔ لہذا ریپ کرنے والے کو زناکار کی حیثیت سے سزا دی جانی چاہئے اور زنا کار پر اس زنا کے عمل کے دوران ہوئے صدمے اور نقصان کا تاوان نافذ کرنا چاہئیے۔ ریپ جیسے جرم میں اور بھی بہت ساری پیچیدگیاں ہیں۔ ریپ کے جرم کو ثابت کرنے کے لئے چار عینی شاہدین کا حصول نا ممکن ہے۔ آجکل چار عینی شاہدین کی ضرورت فارنسک سائنس سے پوری ہو جاتی ہے، آج چار عینی شاہدین کے بدلے فارنسک سائنس یہ ثابت کر سکتا ہےکہ ملزم نے ریپ کیا ہے یا نہیں۔ ریپ کےاور دوسرے پہلو بھی ہیں ، جیسے کہ غلط الزام بھی لگا یا جا سکتا ہے، یا پھر جنسی تعلق رضامندی سے ہواہو۔ یہ ساری باتیں بھی قابل غور ہیں اور ہم انسان ہی ان سب سے نمٹ سکتے ہیں، اس کے لئے کسی مذہبی قانون کی ضرورت نہیں ہے۔ مذہب سے ماخوذ قوانین کے وسیع فریم ورک کی روشنی ، ہم ہر طرح کے جرائم کے خلاف قوانین تیار کرنے کے قابل ہیں۔

کچھ لوگ توقع کرتے ہیں کہ میریٹل ریپ یعنی ازدواجی رشتے کے اندر زبردستی کیا گیا جنسی فعل جیسے مسائل کو بھی مذہب ہی حل کرے ۔ یہ کافی مشکل موضوع ہے، لیکن میریٹل ریپ کے امکان کو روکنے کے لئے جو سب سے بہتر ہے قرآن نے وہ کیا ، یعنی شوہر کو حکم دیا کہ جنسی تعلق سے پہلے ،

 وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُم مُّلَاقُوهُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ

تر جمہ : اپنے لئے (نیک اعمال) آگے بھیجو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ تم اس سے ملنے والے ہو اور ایمان والوں کو خوش خبری سنا دیجئے 2:223

سیکس سے پہلے صدقہ کرنے سے انسان کے اندر احسان اور شفقت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے جنسی عمل اللہ کی طرف سے دیا ہوا تحفہ بن جاتا ہے ، جس کے لئے صدقہ کر کے اسے اللہ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ آخرت میں اللہ سے ہونے والی ملاقات کو یاد ر کھنے سے جبر یا ظلم و بربریت کے سارے مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔ میریٹل ریپ کی روک تھام کے لئےاس آیت پر عمل کرنے سے بہتر کوئی قانون نہیں ہو سکتا ہے۔

اصولی معیاری اخلاقیات میں بہہ جانا اور وضاحتی اخلاقیات پر مبنی احکام پر سوال اٹھانا آسان ہے ، لیکن مذہب کے وضاحتی اخلاقیات میں شامل اصولی اورمعیاری اخلاقیات کی بنیاد کو فراموش نہیں کیا جانا چاہئے۔ احکام کی سائنسی بنیادوں کی کھوج کے ذریعہ مذہب کا ہر اخلاقی ضابطہ اصول نہیں بنا ہے، لیکن اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی شواہد موجود ہیں کہ کسی دن یہ احکام بھی اصولی اور معیاری بن جائیں جب ان کی سائنسی بنیاد یں ثابت ہوجائے۔ جیسا کہ مذہب کے دوسرے بہت سے اصولوں کا معاملہ رہا ہے۔

ہمارے کچھ برتاو فطری ہوتے ہیں، جیسے کہ ماں کی محبت اور اپنے بچے کی دیکھ بھال ، اور کچھ برتاو کنڈیشنگ یعنی سماجی تربیت کا نتیجہ ہوتے ہیں، باقی صحیح غلط ، اچھے برے کے درمیان شعوری اخلاقی انتخاب کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اخلاقی برتاو تب ہوتا ہے ، جب ہم شعوری طور پر اخلاقی انتخاب کرتے ہیں ۔ اس کے برعکس جانوروں کا برتاؤ زیادہ تر فطری یا کنڈیشنگ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ جانوروں میں بھی معاشرتی برتاو عام ہے، لیکن وہ غیر اخلاقی ہیں۔ شعوری انتخاب کی عدم موجودگی کی بنا پر فطری برتاو کو غیر اخلاقی کہا جا سکتا ہے۔ جب ہم اخلاقی استدلال پر مبنی عمل کرتے ہیں تبھی ہم اخلاقی ایجنٹ کے بطور عمل کرتے ہیں، اور صرف اسی طرح کے برتاو کو اخلاقی یا غیر اخلاقی قرار دیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک اخلاقی عمل کرنے کی تحریک کی بات ہے تو اخلاقی ضابطے کی تعظیم یا خدا سے محبت یا آخرت میں ثواب کی چاہت ، یا جہنم کے خوف جیسی مذہبی محرکات الٹروئزم یعنی ایثار کے اصول کے بالکل قریب آجاتے ہیں ، کیونکہ اس کے مطابق اس دنیا میں کسی چیز کی توقع نہیں کی جاتی ہے اور نا ہی ان لوگوں سے کسی چیز کی توقع کرتے ہیں جس کی آپ مدد کریں۔ ایک سرکاری ملازم جو نہ رشوت کا مطالبہ کرتا ہے اورنہ رشوت قبول کرتا ہے ، بلکہ اپنا کام ایمانداری سے کرتا ہے وہی مثالی سرکاری ملازم ہے۔ ہم اس کو غلط نہیں سمجھتے ہیں کیونکہ حکومت اسے تنخواہ دیتی ہے۔ ہم صرف یہ امید اور دعا کرتے ہیں کہ حکومت اسے اس کی محنت کی مناسب قیمت دے۔ اسی طرح ، آخرت کی توقع سے بھی تقدیر کا تصور کو کمزور نہیں ہوتا ہے۔ صرف اس دنیا میں انعامات اور / یا نتائج کی توقع سے ہی ا لٹروئزم کا تصور کمزور ہوتا ہے۔ اخلاقی عمل کی تحریک فلسفہ کا موضوع رہا ہے اور اس کے متعلق مختلف نظریات موجود ہیں جیسے :

سائکولوجیکل ایگوئزم یعنی نفسیاتی انا پرستی : اس نظریہ کے مطابق ہر انسانی عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی خود غرضی کار فرماں ہوتی ہے۔ ہم یہ سوچ ضرور سکتے ہیں کہ ہم نیک اور ایثار و قربانی کا جذبہ رکھتے ہیں لیکن حقیقت میں ہم صرف اپنی سوچتے ہیں ۔ ہم ہر ایک عمل کی تشریح ایسے کر سکتے ہیں کہ وہ خود غرضی سے متاثر ہے۔ لہذا اس نظریہ کی تردیدناممکن ہے۔ لیکن اگر کوئی نظریہ ناقابل تردید ہو تو اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ لازمی طور پر درست بھی ہو۔

 اتھیکل ایگوئزم یعنی اخلاقی انا پرستی: اخلاقی انا پرستی ایک ریڈیکل نظریہ ہے جس کے مطابق انسان کی ذمہ داری صرف اس کی اپنی ذات ہے۔ یہ نظریہ محض یہ نہیں کہتا کہ لوگ صرف اپنے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں، بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ لوگوں ایسا ہی کرنا بھی چاہئے۔ خود غرض عمل سے ہو سکتا ہے کہ حادثاتی طور پر دوسروں کی مدد ہو جائے لیکن آپ کی توجہ کا مرکز صرف آپ ذات ہوتی ہے۔

غیر مذہبی شخص سے بھی "اخلاقی" عمل کرایا جا سکتا ہے اس کے لئے ایسے اخلاقی قوانین وضع کرنے ہوں گے جو ان کی تعمیل کرنے والوں کو جزا اور ان کو توڑنے والوں کو سزا دے اور ان کے نفاذ کے جائزہ کے لیے ایک اچھا نگرانی کا نظام نصب کیا جائے ۔ تب قانون توڑنے پر ملنے والی سزا اور جزا کو ملحوظ رکھ کر اور پکڑے جانے کے ڈر سے لوگ "اخلاقی " عمل کریں گے۔ تب پھر یہ بہت سے لوگوں کے لئے اگرپکڑ سکتے ہو توپکڑ لو " والا کھیل بن جائے گا ۔ غریب لوگ چھوٹی چھوٹی چیزوں کی خاطر آسانی سے دھوکہ دیں گے لیکن امیر لوگ زیادہ تر لین دین کے معاملے میں ایماندار ہی رہیں گےاور صرف بڑی بڑی چیزوں کے لئے ہی دھوکہ دیں گے۔ اسی وجہ سے ہمیں امیر ممالک کی عام زندگی میں زیادہ سے زیادہ ایمانداری ملتی ہے لیکن غریب ممالک میں وسیع پیمانے پر بدعنوانی پائی جاتی ہے۔ یہ صرف ڈگری کا فرق ہے نوعیت کا نہیں۔ ان کاروبار میں جن کا دارو مدار مکرر کاروبا ر پر ہوتا ہے ، ایمانداری زیادہ ہوتی ہے ، کیونکہ اس ایمانداری سے ان کو فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن سیاحتی مقامات کے کاروبار میں ایمانداری کم ہوتی ہے جہاں صارفین بہت کم مزید خریداری کے لئے دوبارہ لوٹ کر آتے ہیں۔ اس طرح کے برتاو کو مشکل سے اخلاقی برتاو کہا جا سکتا ہے۔

 البتہ مذہبی اخلاقیات مختلف ہیں۔ انسان ہر حال میں ایماندار ہوتا ہے چاہے اسے پکڑے جانے کا ڈر ہو یا نہ ہو ، چاہے لین دین کا معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا کیونکہ اس کی امیدیں اس زندگی میں ملنے والی جزا اور سزا پر نہیں ٹکی ہوتی ہیں، اس کی امیدیں تو صرف آخرت پر ٹکی ہوتی ہیں ۔ مذہبی شخص اپنے ہر عمل کو یہ سمجھ کر کرتا ہے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے اور نوٹ کر رہا ہے۔ لہذا اخلاقی برتاو صرف مذہبی شخص ہی کر سکتا ہے اور غیر مذہبی شخص صرف معاشرے کے اصولوں کی پاسداری تبھی کر سکتا ہے جب اسے ایسا کرنے سے فائدہ ہو، اگر فائدہ نہیں ہوگا تو نہیں کرے گا۔ سمجھ بوجھ نہ رکھنے والے انسان کو ، جو آنکھ بند کر کے ضابطہ اخلاق کی پیروی کرتا ہے ، آسانی سے بیوقوف بناکر اس سے غلط ضابطہ اخلاق کی پیروی کرایا جا سکتا ہے اور وہ تب معاشرے کے لئے خطرہ بن سکتا ہے جیسا کہ انتہا پسند لوگ معاشرے کے لئے خطرہ بن گئے ہیں۔

مسلمانوں میں وسیع پیمانے پر جھوٹے عقائد کا رواج

اخلاقیات کا مقصد اس دنیا میں سب کی خوشی کو فروغ دے کر خدا کو خوش کرنا ہے ، اور اس کے لئے ایک وسیع تر لبرل تعلیم کی ضرورت ہے جس میں فلسفہ کی تعلیم بھی شامل ہو۔ یہی حقیقت پسندی ہے اور یہی افادیت پسند فلسفیوں کا نظریہ بھی ہے ، لیکن بیشتر مذہبی لوگ اس بات سے بے خبر ہیں اور اسی وجہ سے وہ سماج دشمن بنیاد پرستوں کی تبلیغ کا آسانی سے شکار بن جاتے ہیں۔ خدا کی خوشنودی کی چاہ سے پہلے مذہبی لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ کچھ ایسا نہ کر بیٹھے جس سے خدا کے غضب کا شکار بن جائیں ۔ وہ لوگ خدا کے قہر سے بچ سکتے ہیں لیکن اس کے لئے انہیں خود سے یہ پوچھتے رہنا ہوگا کہ ایا ان کے اعمال سے سب کی خوشی کو فروغ مل رہا ہے یا نہیں، اور سماج مخالف حرکتوں سے بچتے رہنا ہوگا ۔ تعصب اور انتہا پسندی اتنی عام ہوگئی ہے کہ جس مذہب نے دنیا کو اخلاقیات سکھایا آج اسی کو اکثر و بیشتر غیر اخلاقیت اور بربریت سے جوڑا جاتا ہے ۔ آج مومنین کی حالت بالکل ویسی ہی بن گئی ہے جو پہلے غیر مومنین کی تھی۔

و إذا قيل لهم لا تفسدوا في الارض قالوا إنما نحن مصلحون. ألا إنهم هم المفسدون ولكن لا يشعرون۔

ترجمہ:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں ۔ سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں

قلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِٱلْأَخْسَرِينَ أَعْمَـٰلًا. ٱلَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا

ترجمہ:کہہ دیجئے کہ اگر (تم کہو تو) میں تمہیں بتا دوں کہ باعتبار اعمال سب سے زیاده خسارے میں کون ہیں ۔ وه ہیں کہ جن کی دنیوی زندگی کی تمام تر کوششیں بیکار ہوگئیں اور وه اسی گمان میں رہے کہ وه بہت اچھے کام کر رہے ہیں

نصیر احمد صاحب نیو ایج اسلام ڈاٹ کے مستقل کالم نگار پر ہیں، آپ نےآ ئی آئی ٹی کانپور سے انجینئرنگ کی ہے۔ تقریبا تین دہائیوں تک سرکاری اور نجی شعبوں میں کام کرنے کے بعد اب ایک آزاد آٹی صلاح کار طور پر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے سالوں تک بڑی گہرائی سے قرآن کا مطالعہ کیا ہے اور اس کی تفسیر میں بیش بہا بنیادی اضافے کئے ہیں۔

URL: https://www.newageislam.com/debating-islam/naseer-ahmed-new-age-islam/the-progression-religious-morality-secular-laws-danger-regression-religious-morality-bestiality/d/124720

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/religious-morality-secular-laws-bestiality/d/124929


New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism


Loading..

Loading..