New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 05:22 PM

Urdu Section ( 19 Sept 2017, NewAgeIslam.Com)

The Mutashaabihat Or The Allegorical Verses Of The Quran قرآن میں آیات متشابہات

 

 

 

نصیر احمد، نیو ایج اسلام

12 ستمبر 2017

قرآن مجید میں نازل ہونے والی آیات متشابہات کیا ہیں؟ کیا وہ ہماری سمجھ سے باہر ہیں؟ کیا قرآن ہمیں ان پر گفتگو کرنے سے یا انہیں سمجھنے یا ان سے درس حاصل کرنے کی کوشش کرنے سے روکتا ہے؟ آیت 3:7 میں اس کی تفصیل موجود ہے۔

اس آیت کے وہ الفاظ جن کا اکثر غلط ترجمہ کیا جاتا ہے:

1۔ متشابہات –اس کا مطلب ایک ہی طرح کی مماثلت رکھنے والا مجازی لفظ

2۔ تشابہا –اس کا مطلب مماثل یا ایک ہی طرح کا ہونا ہے

قرآن میں ایسا کوئی لفظ نہیں ہے جس کا معنیٰ مبہم ہو اور جو لوگ "تشابہا " کا ترجمہ مبہم کرتے ہیں وہ غلط ترجمہ پیش کرتے ہیں۔ اللہ کا کوئی لفظ یا اس کی کوئی آیت مبہم اور غیر واضح نہیں ہوسکتی۔

آیت 3:7 کا درست ترجمہ

"وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری ، اس کی کچھ آیتیں واضح معنی رکھتی ہیں۔ وہ کتاب کا اہم ترین جز ہیں (امی کا معنی ماں بھی ہے ، لہٰذا، اس کا مطلب ہے کہ یہ آیات کتاب کی بنیاد یا کتاب کی ماں ہیں)۔ اور دیگر آیتیں وہ ہیں جن میں اشتباہ ہے (یعنی وہ ایسی آیتیں ہیں جن میں مماثل الفاظ کا استعمال کر کے کسی حقیقت کی وضاحت کی گئی ہے اور جو آیتیں ہماری تفہیم کے لئے خود حقیقت تو نہیں مگر ہمارے سامنے حقیقت کا ایک نمونہ پیش کرتی ہیں)۔لہٰذا، جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ شرارت اور اس کی تشریح کی تلاش میں متشابہات پر عمل کرتے ہیں۔ جبکہ اس کا معنی صرف اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں ہم ان سب پر ایمان لائے اور وہ تمام ہمارے رب کی جانب سےہیں اور صرف عقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں"۔

"تشابہا" کی ایک بہترین مثال "وجہ اللہ" ہے ، جس کا لفظی معنی "خدا کا چہرہ" ہے ، لیکن اس سے صرف اللہ کے وجود یا اس کی موجودگی کا معنیٰ یا آیت کے تناظر میں کوئی مناسب معنی اخذ کیا جاتا ہے۔ لوگوں کو ہمارے سامنے ایک ایسی حقیقت بیان کرنے کے لئے جو ہمارے تجربے اور فہم و ادراک سے باہر ہو لفظ وجہ کا استعمال نہیں کرنا چاہیے جو کہ صرف "تشابہا" کے لئے ہے ، اور نہ ہی اس لفظ کی مدد سے ہمیں یہ قیاس آرائی کرنی چاہیے کہ اللہ کا چہرہ کیسا ہے اور نہ اس کی بنیاد پر ہمیں اللہ کا کوئی تشبیہی تصور قائم کرنا چاہئے۔ لہٰذا، جو لوگ "تشابہا" کی بنیاد پر قیاس آرائیاں کرتے ہیں ان کے دلوں میں کجی ہے۔ ایسے لوگ قرآن کے ایسے حصے پر عمل کرتے ہیں جو فساد تلاش کرنے اور اس کی تعبیر تلاش کرنے کے مشابہ ہے۔ اس کا معنی اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ "اللہ کا چہرہ" دیکھنا کیا ہے اور اس جملے کا معنیٰ اللہ کے سوا کون جانتا ہے؟ تاہم، ایک مجازی اور تمثیلی آیت کا مطلب واضح اور غیر مبہم ہے۔ مندرجہ ذیل آیات کے بارے میں کچھ بھی مبہم نہیں ہے جس میں لفظ "تشابہا" کا ذکر ہے:

 ((2:115) مشرق اور مغرب سب اللہ کا ہی ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر "وجہ اللہ" خدا کی موجودگی ہے۔ بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے۔

 (28:88) اور اللہ کے سوا دوسرے خدا کو نہ پکارو۔ اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ ہر چیز فانی ہے، سوا اس کے اپنے (چہرے) کے ، حکم اسی کا ہے ، اور تم (سب) اسی کی طرف پھیر دئے جاؤ گے،

 (55:27) لیکن تمہارے رب کا (چہرہ) ہی ہمیشہ باقی رہنے والا ہے –عظمت اور بزرگی والا۔

"متشابہات" کا استعمال کرتے ہوئے جو بات ، جومعنی یا جو مقصدت پیش کرنا مقصود ہے وہ کسی بھی صورت میں مشکوک نہیں ہے اور ان پر گفتگو کی جا سکتی ہے ، ان کو سمجھا جا سکتا ہے اور ان پر عمل بھی کیا جا سکتا ہے۔

لہذا، قرآن میں آیتیں دو قسم کی ہیں –اول آیات محکمات جن میں بالکل وہی الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جن کا لغوی معنیٰ ہمیں اخذ کرنا چاہیے ، دوم آیات متشابہات جن میں "تشابہا"یا مماثل الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور مماثل یا مشابہ خود کبھی حقیقت نہیں ہوتا بلکہ حقیقت سے ملتے جلتے الفاظ کا استعمال کرتا ہے اور ہمارے سامنے وہ حقیقت پیش کرتا ہے جو ہماری فہم و فراست سے ماورا ہے۔ چونکہ آیات متشابہات میں مماثل الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے اسی لئے اس آیت کا معنی خود مبہم اور غیر واضح نہیں ہوتا ہے۔

اب ہم لفظ "روح" کی بات کرتے ہیں ۔ کیا یہ "تشابہا" ہے؟ "اللہ کا چہرہ" میں چہرہ اور "خدا کا تخت" میں تخت یہ دونوں "تشابہا" ہیں ، لیکن اگر لفظ "روح" کا استعمال خود روح کے لئے کیا جاتا ہے تو یہ "تشابہا" نہیں ہے ، اور جن آیات میں یہ لفظ موجود ہے وہ آیات متشابہات نہیں ہیں۔ قرآن خود لفظ روح کی تشریح کرتا ہے جیسا کہ میرے ایک مضمون "Islam and Mysticism: Is ‘Ruh’ Soul? (Part 2)"میں اس کی توضیح کی گئی ہے۔ میرے اس مضمون میں جو آیات شامل کی گئی ہیں وہ متشابہات نہیں ہیں اور آیات میں لفظ روح کا استعمال کسی اور لفظ سے مماثلت یا "تشابہا" کے لئے نہیں بلکہ خود روح کے لئے کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ آیتیں متشابہات نہیں بلکہ محکمات میں سے ہیں ، اسی لئے ان کا معنیٰ متعین ہے اور اس سے اس کا لغوی معنیٰ ہی مراد لیا جائے گا۔ اللہ نے جو روح کی تعریف کی ہے اس کے مطابق روح کا معنی "القائے الٰہی" ہے ، جیسا کہ مذکورہ مضمون میں اس پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ "روح" بھی آیات سے واضح ہے۔

کون سی آیات محکمات میں سے ہیں اور کون سی آیات میں متشابہات الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے اس میں کبھی کوئی شک نہیں رہا ہے۔ مثال کے طور پر، مندرجہ ذیل آیت میں متشابہ لفظ کا استعمال کیا گیا ہے اور اس میں کون سا لفظ متشابہ ہے وہ بالکل واضح ہے۔

 (24:35) اللہ نور ہے آسمانوں اور زمینوں کا، اس کے نور کی مثال ایسی جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے وہ چراغ ایک فانوس میں ہے وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے موتی سا چمکتا روشن ہوتا ہے برکت والے پیڑ زیتون سے جو نہ پورب کا نہ پچھم کا قریب ہے کہ اس کا تیل بھڑک اٹھے اگرچہ اسے آگ نہ چھوئے نور پر نور ہے اللہ اپنے نور کی راہ بتاتا ہے جسے چاہتا ہے، اور اللہ مثالیں بیان فرماتا ہے لوگوں کے لیے، اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ (ترجمہ: کنز الایمان)

آیت مذکورہ میں روشنی، طاق، چراغ، فانوس اور تیل کا استعمال مجازاً کیا گیا ہے، آیت کو سمجھنا مشکل ہے لیکن یہ آیت مبہم اور غیر واضح نہیں ہے۔ اس کا مطلب کیا ہے اور اس کا مطلب کیا نہیں میرے مندرجہ ذیل مضمون میں پیش کی گئی دوسری آیتوں کی مدد سے سمجھا جا سکتا ہے:

آیات نور کی توضیح و تشریح

خلاصہ یہ ہے کہ قرآن میں ایک بھی مبہم اور غیر واضح آیت نہیں ہے۔ بلکہ قرآن میں دو قسم کی آیتیں ہیں – ایک آیات محکمات جن میں معین الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے اور ان آیات میں ان الفاظ کا ہمیشہ لغوی ترجمہ کی کیا جائے گا ، اور دوسری وہ آیتیں ہیں جن میں "تشابہا" یعنی متشابہ اور مماثل الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ اور ان آیتوں میں لفظ کو اس کے لغوی معنیٰ میں نہیں لیا جا سکتا بلکہ اسے صرف مثال کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

اللہ نے واضح کر دیا ہے کہ کن الفاظ کا لغوی معنی کیا جائے گا اور کن الفاظ کی وضاحت کی ضرورت ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اس کتاب قرآن کو زیادہ تر غلط انداز میں سمجھا گیا ہے کیونکہ آیات محکمات کہ جن کا لغوی ترجمہ کیا جانا چاہئے تھا ان کی بھی تشریح اس انداز میں کی گئی ہے کہ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قرآن کی ایک مشترکہ تفہیم قائم ہونےکے بجائے اس کے متعلق ہر انسان کے پاس ایک الگ تفہیم اور توضیح ہے!

URL for English article: http://newageislam.com/islamic-society/naseer-ahmed,-new-age-islam/the-mutashaabihat-or-the-allegorical-verses-of-the-quran/d/112500

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/naseer-ahmed,-new-age-islam/the-mutashaabihat-or-the-allegorical-verses-of-the-quran--قرآن-میں-آیات-متشابہات/d/112585

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..